336ء روم میں پہلی بار عیسیٰ۴ ابن مریم کا مبینہ یوم ولادت (کرسمس) منایا گیا۔
597ء انگلینڈ نے جولین کیلینڈر اپنایا۔
1000ء ہنگری کے اسٹیفن کنک نے ایک مسیحی ریاست کے طور پر مملکت مجارستان (ہنگری) کی بنیاد رکھی کئی۔
1025ء میشکا دوم لیمبرٹ کی بطور بادشاہ پولینڈ تاجپوشی ہوئی۔
1000ء اسٹیفن اول نے عیسائی ریاست کے طور پر ہنگری کی بنیاد ڈالی۔
1130ء مملکت صقلیہ کے پہلے بادشاہ کے طور پر صقلیہ کے راجر دوم کو تاج پہنایا گیا۔
1643ء بحر ہند میں جزیرہ دریافت ہوا، جس کا نام کرسمس جزیرہ رکھا گیا۔
1771ء مغل بادشاہ شاہ عالم دوئم دہلی میں تخت نشیں ہوئے۔
1894ء سوامی وویکا نند نے کنیا کماری میں سمندر کے درمیان میں ایک چٹان پر تین دن تک قیام کیا۔
1921ء کلکتہ میں ’پرنس آف ویلس‘ کی آمد پر ان کے استقبال کے لئے منعقد تقریب کا بائیکاٹ کیا گیا۔
1924ء پہلا اکھل بھارتیہ لیفٹسٹ سیمنار کانپور میں منعقد ہوا۔
1926ء ہیرو ہوتی جاپان کے شاہ بنے۔
1941ء ہانگ کانگ میں جاپان نے برطانوی اور کناڈا کے فوج کے سامنے خودسپردگی کی۔
1943ء جاپانی بمباروں نے چٹ گاؤں (اب بنگلہ دیش میں) پر بمباری کی۔
1947ء چین میں آئین نافذ ہوا۔
1953ء نیوزی لینڈ کے ریپیڈو آتش فشاں میں دھماکہ سے 150 افراد مارے گئے۔
25 دسمبر 1954ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے دنیا کی دوسری اور پاکستان کی بلند ترین پہاڑی چوٹی مائونٹ گڈون آسٹن‘ جو عرف عام میں کے ٹو کہلاتی ہے کی تسخیر کی خوشی میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا۔ اس یادگاری ڈاک ٹکٹ پر مائونٹ گڈون آسٹن کی تصویر شائع کی گئی تھی‘ یہ دس لاکھ کی تعداد میں چھاپا گیا تھا اور اس کی قیمت 2 آنہ تھی۔
25دسمبر 1963ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ملتان تھرمل پاور اسٹیشن کی تکمیل پر 13پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ یہ تھرمل پاور اسٹیشن ملتان سے چار میل دور پیران غائب کے مقام پر بنایا گیا ہے ۔
1964ء بحر ہند میں ہری کین (طوفان) سے سری لنکا میں چار ہزار اور چنئی میں تین ہزار لوگوں کی موت ہو گئی۔
25دسمبر 1965ء کوپاکستان کے محکمہ ڈاک نے جنگ ستمبر میں مسلح افواج کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تین یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جس پر پاکستان برّیہ کو سلام، پاکستان بحریہ کو سلام اور پاکستان فضائیہ کو سلام کے الفاظ درج تھے۔ یہ خوبصورت ڈاک ٹکٹ بالترتیب پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے تین مصوروں سلیم غوری، نصیر الحسن رضوی اور اشفاق غنی نے ڈیزائن کیے تھے۔ پاکستان برّیہ کے ڈاک ٹکٹ میں ایک غلطی یہ تھی کہ برّیہ کے مونوگرام میں چاند کا رخ الٹابنا ہوا تھا۔
25 دسمبر 1966ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نوے ویں یوم پیدائش کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے دو ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جو ان کی تصویر سے مزین تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب بابائے قوم کی تصویر پاکستان کے ڈاک ٹکٹوں پر شائع ہوئی البتہ اس قبل قائداعظم کی تصویر بہاول پور کے ایک ڈاک ٹکٹ پر شائع ہوچکی تھی۔ 25 دسمبر 1966ء کو جاری ہونے والے ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن اشفاق غنی نے بنایا تھا اور ان کی مالیت 15 پیسے اور 50 پیسے تھی۔
1968ء تامل ناڈو کے کلاوینمانی گاؤں میں 42 دلتوں کو زندہ جلایا گیا۔
25 دسمبر 1971ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اردن کی سلطنت ہاشمیہ کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنر فضل کریم نے تیار کیا تھا
1974ء بھارتی طیارہ جمبو 747 کا اغوا کر کے روم لے جایا گیا۔
1976ء قائداعظم کا صد سالہ یوم پیدائش شایان شان طریقے سے منایا گیا اور یادگاری سکہ جاری کیا گیا۔
25 دسمبر 1976ء کو محکمہ ڈاک نے قائداعظم کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت 10 روپے تھی۔ ڈاک کے اس یادگاری ٹکٹ کی طباعت فرانس میں خصوصی سلک اسکرین پروسیس کے ذریعہ کی گئی تھی اور ہر ٹکٹ میں 23/24 قراط کا 25 ملی گرام سونا استعمال کیا گیا۔ اس ٹکٹ کا ساز 60X40 ملی میٹر تھا اور اس پر ابھرے ہوئے سنہری الفاظ میں قائداعظم محمد علی جناح اور صد سالہ سالگرہ 1976ء تحریر تھا۔
1990ء ورلڈ وائڈ ویب (www) کا پہلا کامیاب تجربہ ہوا۔
1991ء میخائل گوربارچیف نے سوویت یونین کے صدر کے عہدے سے استعفی دیا۔
25 دسمبر 1993ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ایک سو سترہویں یوم پیدایش کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جو ان کی جائے پیدایش وزیر مینشن کی تصویر سے مزین تھا اور انگریزی میں WAZIR MANSION BIRTH PLACE اورQUAID E AZAM MUHAMMAD ALI JINNAH 25 DEC.1876 - 11 SEP.1948 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے بنایا تھا اور اس کی مالیت ایک روپیہ تھی
2000ء وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے ’گرام سڑک یوجنا‘ اور غریبوں کے لئے سستے اناج کی ’انتودے یوجنا‘ کا افتتاح کیا۔
2001ء۔۔ قائد اعظم کی ایک سو پچیسویں سالگرہ کے حوالے سے 2001ء کو قائد اعظم کا سال قرار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر 25دسمبر 2001ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے چار چار روپے مالیت کے پانچ یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا۔ ان ڈاک ٹکٹوں پرقیام پاکستان کے بعدقائد اعظم کی زندگی کے مختلف پہلو تصاویر کے ذریعے اجاگر کیے گئے تھے اور انگریزی میں ہر تصویر کے کیپشن کے ساتھQUAID YEAR 2001 125th BIRTH ANNIVERSARY CELEBERATIONS کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔یہ ڈاک ٹکٹ جناب فیضی امیر صدیقی اورمسعود الرحمٰن نے ڈیزائن کیے تھے۔
2003ء صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملہ، سولہ افراد ہلاک، پچاس زخمی ہوئے۔
2003ء بیروت جا رہے بوئنگ 727 طیارہ بحر اٹلانٹک میں گرا اور 138 مسافروں کی موت ہو گئی۔
ولادت :
1642ء سر آئزک نیوٹن ، انگریز طبیعیات دان، ریاضی دان، ماہر فلکیات، فلسفی اور کیمیادان ، 1687ء میں چھپنے والی ان کی کتاب " قدرتی فلسفہ کے حسابی اصول " (لاطینی: Philosophiæ Naturalis Principia Mathematica) سائنس کی تاریخ کی اہم ترین کتاب مانی جاتی ہے جس میں کلاسیکی میکینکس کے اصولوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی کتاب میں نیوٹن نے کشش ثقل کا قانون اور اپنے تین قوانین حرکت بتائے۔ یہ قوانین اگلے تین سو سال تک طبیعیات کی بنیاد بنے رہے۔ نیوٹن نے ثابت کیا کہ زمین پر موجود اجسام اور سیارے اور ستارے ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ اس نے اپنے قوانین حرکت اور کیپلر کے قوانین کے درمیان مماثلت ثابت کر کے کائنات میں زمین کی مرکزیت کے اعتقاد کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور سائنسی انقلاب کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔ اور آئزک نیوٹن نے مسیحیت کے مشهور ٹرینیٹی کے نظریے کو رد کر دیا - (وفات 1726ء)
1861ء مدن موہن مالویہ، بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی۔
1876ء ایڈولف اٹو رائن ہولڈ ونڈاؤس، نوبل انعام برائے کیمیا (1928ء) جرمن کیمیا دان و استاد جامعہ ، جس نے سٹیرول اور وٹامن پر کھوج کیا۔ وہ ایڈلف بوتنانت کے پی ایچ ڈی کا ایڈوائزر تھا، جنھیں 1939 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔ (وفات 1959ء)
1876ء قائد اعظم محمد علی جناح بمعروف بابائے قوم ، پاکستانی وکیل و سیاستدان ، بانیِ پاکستان (11 اگست 1947ء تا 11 ستمبر 1948ء) اسپیکر ایانِ زیریں پاکستان ، صدر پاکستانی آئین ساز اسمبلی اور پہلے گورنر جنرل پاکستان (وفات 1948ء)
1899ء مولانا سید ابو الخیر مودودی ، عربی زبان و ادب کے نامور عالم، مصنف اور مترجم تھے۔ وہ مشہور عالم دین مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کے بڑے بھائی (وفات 1979ء)
1900ء اللہ بخش یوسفی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مؤرخ، صحافی، مصنف، تحریک خلافت اور تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ انہیں صوبہ خیبر پختونخوا کا بابائے صحافت بھی کہا جاتا ہے۔ (وفات 1968ء)
1901ء شہزادی ایلس ، ملکہ برطانیہ کی آنٹی۔ انہیں ’دی ڈو واگر ڈچز آف گلسٹر‘ کا اعزاز دیا حاصل رہا۔ شہزادی ایلس نے شاہ جارج پنجم کے تیسرے بیٹے پرنس ہینری سے 1935ء میں شادی کی۔ وہ 1995 سے کینزنگٹن پیلس میں مقیم رہیں۔ جس کے بعد انہیں بہت کم محل سے باہر دیکھا گیا۔ اور 101 برس کی عمر تک پہنچنے کے بعد وہ شاہی خاندان کی ضعیف ترین شخصیت تھیں۔ اتنی طویل عمر پانے کے بعد ان کا انتقال کینزنگٹن پیلس میں ہوا۔ (وفات 2004ء)
1904ء لویس ٖفیڈریکو لیلوئر ، نوبل انعام برائے کیمیا (1971ء) یافتہ جرمن نژاد کینیڈین ماہر فلکیات، طبیعیات دان، کیمیادان و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ انکی جانب سے مالیکیولز کے الیکٹریکل ساخت خصوصاََ آذاد ریڈیکلز کا پیش کیا جانا تھا۔ (وفات 1999ء)
1905ء سید محی الدین قادری زور ، بھارت سے تعلق رکھنے والے ادیب، عالم، شاعر، افسانہ نگار، ادبی اور لسانی نقاد، تاریخ دان اور معاشرتی مصلح (وفات 1962ء)
1906ء ارنسٹ رسکا ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1986ء) یافتہ مغربی جرمنی کے طبیعیات دان و استاد جامعہ ۔ یہ انعام انھیں اپنے ہم وطن سائنس دان گرڈ بنگسوئزرلینڈ کے سائنس دان ہنرچ رورر کے ہمراہ سکیننگ ٹنلنگ مائکروسکوپ کے ڈزائن تخلیق کرنے کی وجہ سے ظاہر کرنے پر ملا۔ (وفات 1988ء)
1916ء احمد بن بیلا ، الجزائر کا ایک سوشلسٹ فوجی اور انقلابی سیاستدان ، (15 ستمبر 1963ء تا 19 جون 1965ء) الجزائر کا پہلا صدر (وفات: 2012ء)
1918ء انور سادات، نوبل امن انعام (1978ء) یافتہ مصری فوجی افسر (فیلڈ مارشل)، مصنف و سیاستدان ، (19 دسمبر 1969ء تا 14 اکتوبر 1970ء) نائب صدر مصر اور (28 ستمبر ● 1970ء تا 6 اکتوبر 1981ء) تیسرے صدر مصر (وفات 1981ء)
1919ء سید شرافت علی بمعروف صہبا لکھنوی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ماہنامہ افکار کے مدیر٭ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہنامہ افکار کے مدیر صہبا لکھنوی کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا تاہم وہ 25 دسمبر 1919ء کو ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کئے اور 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ افکار کے ساتھ ان کی یہ وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی اور یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔ صہبا لکھنوی کے شعری مجموعے ماہ پارے اور زیر آسماں کے نام اشاعت پذیر ہوئے جبکہ ان کی نثری کتب میں میرے خوابوں کی سرزمین (سفرنامہ مشرقی پاکستان)، اقبال اور بھوپال، مجاز ایک آہنگ، ارمغان مجنوں، رئیس امروہوی فن و شخصیت اور منٹو ایک کتاب شامل ہیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو: تنہائی کا کرب سہنے والو تنہائی انجمن تو دیکھو ٭30 مارچ 2002ء کو صہبا لکھنوی کراچی میں وفات پا گئے۔
1919ء نوشاد علی نوشاد، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ یافتہ بھارتی فلمی ہدایت کار، موسیقار (وفات: 2006ء)
1921ء بیگم زیب النسا حمید اللہ ، پاکستان سے تعلق رکھنے والی انگریزی زبان کی ممتاز مصنفہ، شاعرہ، صحافی، پبلشر اور مشہور انگریزی جریدے مرر کی ایڈیٹر تھیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ایڈیٹر ہونے کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔ (وفات: 2000ء)
1921ء شکیل احمد ضیا ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو، ہندی، فارسی زبان کے ممتاز شاعر، ادیب اور محقق تھے۔ (وفات: 1999ء)
1922ء محمد الیاس خان بمعروف ڈاکٹر الیاس عشقی ستارہ امتیاز (2000ء) یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے فارسی اور اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، مترجم، براڈکاسٹر اور نقاد ۔ (وفات: 2007ء)
1924ء اٹل بہاری واجپائی، بھارتی شاعر صحافی و سیاستدان ، (16 مئی 1996ء تا 1 جون 1996ء) اور (19 مارچ 1998ء تا 19 مئی 2004ء) دسویں وزیراعظم بھارت (وفات: 2018ء)
1926ء دھرم ویر بھارتی، ’گناہوں کا دیوتا‘ اور ’سورج کا ساتواں گھوڑا‘ کے مصنف اور ’دھرم یگ‘ رسالہ کے ایڈیٹر
1927ء رام نارائن ، بھارتی سارنگی نواز
1931ء احمد عطا بمعروف احمد محمود ، ایرانی مصنف، ناول نگار (وفات: 2000ء)
1936ء اسماعیل مرچنٹ، بھارتی فلم ساز اور ہدایت کار بمقام ممبئی (وفات: 2005ء)
1939ء غلام احمد بلور، پاکستانی سیاستدان ، وہ (1 جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے حلقہ این اے۔1 سے قومی اسمبلی کے رکن رہے۔
1939ء رابرٹ میکل ہینی "باب" جیمز ، امریکی پیانو نواز, موسیقار, ریکارڈ پروڈیوسر
1940ء محمد منور بمعروف منور ظریف ، پاکستانی مزاحیہ اداکار، گلو کار (وفات: 1976ء)
1945ء اسد جہانگیر خان ، پاکستانی سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور سینئر پولیس افسر
1946ء گوستاوو گاویریا کولمبیا سے تعلق رکھنے والے منشیات اسمگلر ، پابلو اسکوبار کا چچا زاد بھائی اور منشیات کا اسمگلر (وفات: 1990ء)
1948ء افضال احمد ، پاکستان کے سابق کرکٹ کھلاڑی اور امپائر تھے۔ انہوں نے 1994ء میں ایک ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں امپائرنگ کی۔ (وفات: 2015ء)
1949ء میاں محمد نواز شریف، پاکستانی وکیل، کرکٹ کھلاڑی اور سیاستدان ، (9 اپریل 1985ء تا 13 اگست 1990ء) دسواں وزیرِ اعلیٰ پنجاب ، (19 اکتوبر 1993ء تا 5 نومبر 1996ء) بارہواں قائد حزب اختلاف (پاکستان) اور (6 نومبر 1990ء تا 18 اپریل 1993ء) اور تین بار (17 فروری 1997ء تا 12 اکتوبر 1999ء) اور تیسری بار (5 جون 2013ء تا 28 جولائی 2017ء) وزیر اعظم پاکستان
1952ء فرخ فتح علی خان ، پاکستانی موسیقار، گلو کار، قوال ، ان کا تعلق پاکستان کے مشہور قوال گھرانے سے تھا۔ وہ عظیم گلوکار و موسیقار نصرت فتح علی خان کے چھوٹے بھائی، استاد فتح علی خان کے بیٹے اور مشہور گلوکار راحت فتح علی خان کے والد تھے۔ (وفات: 2003ء)
1954ء پروفیسرفریدہ فیض اللہ ،پاکستان سے تعلق رررکھنے والی نابینا معلم، مفکر، ماہرِ تعلیم اور شاعرہ ہیں ۔
1957ء منصور اختر ، سابق پاکستانی کرکٹر ہیں جنھوں نے 19ٹیسٹ اور 41ایک روزہ میچز کھیلے۔
1963ء عبدالمجید خان خانان خیل ، پاکستانی سیاست دان ، وہ (1 جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) پنجاب کے حلقہ این اے۔73 (NA-73 (Bhakkar-I) میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی رہے ۔
1964ء یوناس سیوستدت ، سویڈنی سیاست دان ، جو 2012ء سے لیفٹ پارٹی کے قائد ہیں، وہ پہلے ایک فلزکار تھے۔ یوناس 2010ء سے سویڈنی پارلیمان (رکسداگ) کے رکن
1970ء بیگم تبسم حسن ، بھارتی سیاستدان ۔ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرتی ہے اور 31 مئی 2018 سے رکن پارلیمان برائے کیرانہ ہیں ، وہ اترپردیش سے واحد مسلم رکن پارلیمینٹ ہے۔
1971ء جسٹن پیری جیمز ٹروڈو ، کینیڈین معلم، صحافی، حامی حقوق نسواں اور سیاستدان اور وزیر اعظم کینیڈا
1974ء نگما ، بھارتی فلمی اداکارہ
1986ء منصور امجد ، سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کرکٹ کھلاڑی، جنھوں نے ابتک 1 ایک روزہ کرکٹ کھیلے ہیں ۔
1989ء شاہ زیب حسن، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی جنھوں نے ابتک 2 ایک روزہ کرکٹ کھیلے ہیں ۔
٭ تحریک آزادی کے نامور رہنما چوہدری خلیق الزماں 25 دسمبر 1889ء کو لکھنو میں پیدا ہوئے تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرنے کے بعد انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ سیاست کی ابتدا انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے کی مگر بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ ہوئے اور اس جماعت سے ان کا یہ تعلق مرتے دم تک برقرار رہا۔ چوہدری خلیق الزماں آل انڈیا مسلم لیگ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ 15 اگست 1947ء کو انہوں نے مسلمانان ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے ہندوستانی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور مسلمانان ہند اور پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ دسمبر 1947ء میں وہ پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ وہ مشرقی پاکستان کے گورنر بھی رہے اور انڈونیشیا اور فلپینز میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے جدوجہد آزادی کے موضوع پر Pathway to Pakistan کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا اردو ترجمہ ’’شاہراہ پاکستان‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ 18 مئی 1973ء کو چوہدری خلیق الزماں کراچی میں انتقال کرگئے اور میوہ شاہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
1926ء۔۔سنتوش کمار ٭۔ سنتوش کمار کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ ان کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا اور وہ 25 دسمبر 1926ء کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر اپنے ایک دوست کے اصرار پر ایک فلم میں ہیرو کے رول کی پیشکش کو قبول کرلیا۔ انہوں نے بمبئی کی فلمی صنعت کی دو فلموں ’’اہنسا‘‘ اور ’’میری کہانی‘‘ میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے جہاں انہوں نے مسعود پرویز کی فلم ’’بیلی‘‘ سے اپنے پاکستانی سفر کا آغاز کیا۔ منٹو کی کہانی پر بنائی گئی اس فلم میں صبیحہ نے سائیڈ ہیروئن کا کردار ادا کیا تھا۔ ’’بیلی’’ باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی تاہم اس کے بعد بننے والی فلموں ’’دو آنسو‘‘ اور ’’چن وے‘‘ نے سنتوش کمار کے کیریئر کو بڑا استحکام بخشا۔ بعدازاں شہری بابو، غلام، قاتل، انتقام، سرفروش، عشق لیلیٰ، حمیدہ، سات لاکھ، وعدہ، سوال، مکھڑا اور موسیقار نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا اداکار بنادیا۔ اسی دوران ان کی شادی صبیحہ خانم سے ہوئی۔ یہ شادی بھی پاکستان کی فلمی صنعت کی کامیاب اور قابل رشک شادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سنتوش کمار کی دیگر اہم فلموں میں دامن، کنیز، دیور بھابی، تصویر، شام ڈھلے، انجمن، نائیلہ، چنگاری، لوری، گھونگھٹ اور پاک دامن کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 92 فلموں میں کام کیا جن میں 10 پنجابی فلمیں بھی شامل تھیں۔ انہوں نے 3 مرتبہ (وعدہ، گھونگھٹ اور دامن میں) بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ 11جون 1982ء کو پاکستان کے نامور اور اپنے زمانے کے مقبول ترین فلمی اداکار سنتوش کمار دنیا سے رخصت ہوئے۔سنتوش کمار لاہور میں مسلم ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
وفات :
1289ء الحسن علا الدین علی بن ابی الحزم بمعروف ابن النفیس ، ایوبی سلطنت اور مملوک سلطنت سے تعلق رکھنے والے عربی طبیب اور فلسفی (پیدائش: 1210ء)
1763ء سورج مل جاٹ، بھرت پور کے راجہ جس نجیب الدولہ کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوا۔
1921ء ولادیمیر کورولینکو ، یوکرینی افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن (پیدائش: 1853ء)
1926ء شہنشاہ تايشو، اس کا ذاتی نام یوشیہیتو تھا اسی لئے اسے شہنشاہ یوشیہیتو بھی کہا جاتا ہے۔ جاپان میں فوت شدہ شہنشاہوں کو ان کے بعد از مرگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ (30 جولائی 1912ء تا 25 دسمبر 1926ء) جاپان کا ایک سو تئیسواں شہنشاہ (پیدائش: 1879ء)
1961ء اوٹو لوئی ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1936ء) یافتہ جرمن نژاد امریکی ماہر ادویات ونفسیات و استاد جامعہ (پیدائش: 1873ء)
1972ء چکرورتی راج گوپال اچاریہ بمعروف راجاجی اور سی آر ، بھارتی وکیل، ماہرِ لسانیات، مترجم، نغمہ ساز، مصنف، جنگ مخالف کارکن ، (14 جولائی 1937ء تا 9 اکتوبر 1939ء) اور (10 اپریل 1952ء تا 13 اپریل 1954ء) دو بار وزیر اعلیٰ مدراس ، (15 اگست 1947ء تا 21 جون 1948ء) گورنر مغربی بنگال ، (21 جون 1948ء تا 26 جنوری 1950ء) بھارت کےآخری گورنر جنرل (پیدائش: 1878ء)
1973ء عصمت انونو، ترک فوجی افسر، سیاست دان، سفارت کار ، (20 مئی 1920ء تا 3 اگست 1921ء) چیف آف جنرل اسٹاف سلطنتِ عثمانیہ ترکی ، (26 اکتوبر 1922ء تا 21 نومبر 1924ء) وزیر خارجہ ترکی، (1 نومبر 1923ء تا 22 نومبر 1924ء) اور (4 مارچ 1925ء تا 25 اکتوبر 1937ء) اور تیسری بار (20 نومبر 1961ء تا 20 فروری 1965ء) وزیر اعظم ترکی ،(11 نومبر 1938ء تا 22 مئی 1950ء) دوسرے صدر ترکی (پیدائش: 1884ء)
1977ء سر چارلز سپینسر چیپلن بمعروف چارلی چیپلن، برطانوی مزاحیہ اداکار و فلم ہدایت کار بمقام سوئٹزرلینڈ (پیدائش: 1889ء)
1979ء جوآن بلونڈیل، امریکی اداکار و گلوکار (پیدائش: 1906ء)
1985ء۔۔مسعود کھدر پوش ٭ 25جون1916ء پاکستان کے نامور سول سرونٹ اور دانش ور مسعود کھدر پوش کی تاریخ پیدائش ہے۔ مسعود کھدر پوش لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1941ء میں وہ انڈین سول سروس سے وابستہ ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد سندھ کے ہاریوں کے بارے میں لکھی گئی مشہور ہاری رپورٹ میں اختلافی نوٹ لکھنے کی وجہ سے شہرت پائی۔ 1972ء میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لئے بہت کام کیا۔ اپنا ذاتی ماہنامہ ’’حق اللہ‘‘ جاری کیا اور پنجابی ادبی بورڈ کے صدر رہے۔ وہ اردو میں نماز پڑھانے کی تحریک کے حامی تھے اور اسی باعث علمأ کے معتوب رہے۔ اعلیٰ سول سرونٹ ہونے کے باوجود سادہ زندگی گزارتے تھے اور ہمیشہ کھدر کا لباس پہنتے تھے اسی باعث انہیں محترمہ فاطمہ جناح نے ’’کھدر پوش‘‘ کا خطاب دیا جو ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ مسعود کھدر پوش 25 دسمبر 1985ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
25 دسمبر 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار بابا جی اے چشتی، لاہور میں وفات پاگئے۔ بابا چشتی کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا اور وہ 1905ء میں گانا چور ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ بابا چشتی نے اپنی زندگی کا آغاز آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے کیا۔ ان کی وفات کے بعد وہ ایک ریکارڈنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے جہاں انہوں نے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے چند ریکارڈ تیار کئے۔ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم دنیا تھی جو 1936ء میں لاہور میں بنی تھی۔ بابا چشتی نے کچھ وقت کلکتہ اور بمبئی میں بھی گزارا۔ 1949ء میں جب وہ پاکستان آئے تو اس وقت تک وہ 17 فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے جن میں فلم سوہنی مہینوال، شکریہ اور جگنو کے نام سرفہرست تھے۔ پاکستان میں بابا چشتی کی پہلی فلم شاہدہ تھی یہاں انہوں نے مجموعی طور پر 152 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور 5000 سے زیادہ نغمات تخلیق کئے۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، مندری، لارے، گھبرو، بلو، سسی، پتن، نوکر، دلا بھٹی، لخت جگر، ماہی منڈا، مس 56، یکے والی، گمراہ، خیبر میل، مٹی دیاں مورتاں، سہتی، رانی خان، عجب خان، ڈاچی، چن مکھناں، ماں پتر، قادرا، چن پتر، بھائی چارہ، رب راکھا، غیرت تے قانون، چن تارا اور قاتل تے مفرور شامل ہیں۔ بابا چشتی نے جن گلوکاروں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا ان میں ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، سلیم رضا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، مالا، مسعود رانا اور پرویز مہدی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شاگرد موسیقاروں میں رحمن ورما اور خیام کے نام سرفہرست ہیں۔بابا چشتی لاہور میں قبرستان سوڈے والی، ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔
1994ء گیانی ذیل سنگھ، بھارتی سیاستدان ، (25 جولائی 1982ء تا 25 جولائی 1987ء) ساتویں صدر بھارت، اور (12 مارچ 1983ء تا 6 ستمبر 1986ء) سیکرٹری جنرل غیر وابستہ ممالک کی تحریک (پیدائش: 1916ء)
2004ء احمد بشیر ، تمغائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستانی دانشور ، صحافی، فلم ہدایت کار، ادبی تنقید نگار ، ان کی دو بیٹیاں سنبل اور نیلم بشیر مصنفہ ہیں جبکہ ان کی ایک بیٹی بشریٰ انصاری ٹی وی کی معروف فنکارہ ہیں۔ (پیدائش: 1923ء)
2006ء جیمز براؤن، امریکی گلوکار
2018ء علی رضا عابدی ، متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان ، جسے کراچی میں نا معلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
تعطیلات و تہوار :
۔"""""""""
یوم کرسمس ، بیشتر مسیحیوں کا تہوار ہے ۔ مسیحی عقیدہ کے مطابق 25 دسمبر حضرت عیسیٰ 04 عیسوی کی تاریخ پیدائش ہے۔ کچھ مسیحی 6 جنوری، 7 جنوری اور 18 جنوری کو بھی کرسمس مناتے ہیں۔
یوم قائد اعظم، پاکستان
یوم خوش نظمی، بھارت
No comments:
Post a Comment