Ad3

26 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1492ء عظیم مہم جو کرسٹوفر کولمبس نے نئی دنیا میں پہلی اسپینی نوآبادی قائم کی۔

 1782ء ٹیپو سلطان اپنے والد حیدر علی کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا۔

 1805ء آسٹریلیا اور فرانس نے پرس برگ معاہدہ کیا۔

 1862ء منی سوٹا میں بیک وقت 38 لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا امریکی تاریخ میں اس طرح کا یہ سے بڑا واقعہ تھا۔

 1904ء دہلی اور ممبئی کے درمیان ملک کی پہلی بین الاقوامی کار ریلی کا افتتاح ہوا۔

 1906ء دنیا کی پہلی فیچر فلم، دی اسٹوری آف دی کیلی گینگ کا آسٹریلیا میں پریمئر ہوا۔

 1907ء کل ہند کانگریس کا کلکتہ میں راس بہاری بوس کی صدارت میں 23 واں کنونشن جس میں کانگریس کی تقسیم عمل میں آئی۔

 1908ء امریکہ کے جیک جیکسن عالمی ہیوی ویٹ خطاب جیتنے والے پہلے سیاہ فام باکسر بنے۔ انہوں نے کناڈا کے ٹامی برنس کو ہرایا۔

 1925ء ترکی نے عیسوی تقویم اختیار کی۔

 1925ء کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا۔

 1926ء ہیرو ہتو جاپان کے حکمراں بنے۔

 1932ء چین کے کانسو میں بھیانک زلزلے سے 70 ہزار لوگوں کی موت ہو گئی۔

 1933ء ایف ایم ریڈیو کو پیٹینٹ کرایا گیا۔

 1943ء دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی بحری جنگی جہازوں نے جرمن جہاز ’ اسکارن ہورسٹ‘ کو ڈبو دیا۔

 1944ء سوویت فوج نے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کا محاصرہ کیا۔

 1973ء سویت خلا جہاز سویوز 13 زمین پر لوٹا۔

 1978ء اندرا گاندھی جیل سے رہا۔

 1982ء ٹائمس میگزین نے پرسنل کمپیوٹر کو مین آف دی ائر قرار دیا۔ پہلی بار کسی غیر انسان کو یہ اعزاز دیا گیا تھا۔

 1982ء سوویت یونین نے مشرقی قزاخستان میں جوہری تجربہ کیا۔

 1986ء بھارت میں صارفین حقوق قانون پاس کیا گیا۔

 1986ء عراقی ایرویز کا اغوا شدہ طیارہ بوئنگ 737 سعودی عرب میں حادثہ کا شکار، 62 افراد کی موت ہو گئی۔

 1990ء گیری کاسپوروف نے شطرنج کے چیمپئن شپ میں اناتولی کارپورروف کو مات دی۔

 1991ء سویت جمہوریہ کو باقاعدہ ختم کر دیا گیا۔

 1996ء جنوبی کوریا میں تاریخ کی سب سے طویل ہڑتال شروع ہوئی۔

 2002ء ایران نے سزائے موت کے لئے سنگساری کو ختم کر دیا۔

 2003ء ایران کے بام شہر میں 8۔6 شدت والے زلزلہ سے 31 ہزار لوگوں کی موت ہو گئی اور 70 فی صد شہر کی عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔

 2004ء انڈیا، سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائشیا، مالدیپ اور بحرہند کے کئی دیگر علاقوں میں 15ء9 کی شدت والے زلزلہ سے آئے ساحلی طوفان سونامی سے تین لاکھ سے زائد لوگوں کی موت ہو گئی اور 43 ہزار لاپتہ ہو گئےسونامی سے انڈونیشیا کا صوبہ آچے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا اور یہاں ایک لاکھ 70 ہزار افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

ولادت :
۔""""""

 1194ء فریڈرک دوم، مقدس رومی شہنشاہ ، قرون وسطیٰ میں (1220ء تا 1250ء) مقدس رومی سلطنت کا سب سے زیادہ طاقتور شہنشاہ تھا۔ (وفات: 1250ء)

 1791ء چارلس ببیج ، انگریز ریاضی دان، کمپیوٹر سائنس دان، موجد، ماہر معاشیات، فلسفی، پروفیسر، انجینئر ، چارلس ببیج ڈیجیٹل پروگرام ایبل کمپیوٹر (programmable computer) كے تصور کے خالق تھے۔ بعض لوگ انہیں کمپیوٹر کا باپ کہتے ہیں۔ انہوں نے ہی پہلا میکانی کمپیوٹر ایجاد کیا جو الیکٹرونک کمپیوٹر کی بنیاد بنا۔ جدید کمپیوٹر کا تصور ببیج کے اینالیٹکل انجن (analytical engine) ہی کے مطابق ہے ۔ (وفات: 1871ء)

 1872ء رالف نورمن اینجل ، نوبل امن انعام (1933ء) یافتہ انگریز لیکچرر، صحافی، سیاست دان، ماہر تعلیم، مصنف، ماہر معاشیات ، لیبر پارٹی یو کے سے منسلک پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے ۔ (وفات: 1967ء)

 1885ء ڈاکٹر عبدالستار صدیقی، بھارت سے تعلق رکھنے والے نقاد، ماہرِ لسانیات، محقق و معلم اور ان چند محققین میں شمار ہوتے ہیں جو جدید لسانیات، املا، الفاظ کے ماخذ و اشتقاقیات، تحقیقی طریقہ کار اور تاریخ سمیت قدیم اور جدید زبانوں پر مہارت رکھتے تھے۔ (وفات: 1972ء)

 1893ء ماؤزے تنگ ، چینی مارکسی عسکری و سیاسی رہنما ، (23 اگست 1945ء تا 9 ستمبر 1976ء) کرسی نشین مرکزی عسکری کمیشن کیمونسٹ پارٹی چین اور (27 ستمبر 1954ء تا 27 اپریل 1959ء) پہلا صدر چین (وفات: 1976ء)

1914ء۔۔مرلی دھر دیوی داس آمٹے عرف بابا آمٹے ، شعبۂ انسانی حقوق کا اقوام متحدہ انعام (1988ء) یافتہ بھارتی سماجی کارکن،  صحافی،  وکیل (وفات: 2008ء)

 1914ء ڈاکٹر سشیلا نیر، بھارتی سماجی مصلح اور گاندھی وادی

1921ء نورالحسن، بھارتی ماہر تعلیم

 1924ء ایلی کوہن ، شام میں اسرائیلی جاسوس ، اسرائیلی وزیر اعظم نے 1965 میں ایلی کوہن کے لیے ہی پہلی بار ون مین آرمی کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ (وفات: 1965ء)

 1926ء ڈاکٹر محمد حنیف فوق ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ماہرِ لسانیات، نقاد، محقق، شاعر، سابق مدیر اعلیٰ اردو لغت بورڈ اور سابق پروفیسر و چیئرمین شعبۂ اردو کراچی یونیورسٹی تھے۔ (وفات: 2009ء)

 1940ء ایڈوارڈ سی پرسکوٹ ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (2004ء) یافتہ امریکی ماہر معاشیات و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام ناروے کے ماہر اقتصادیات فن ای۔ کائڈلینڈ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔

 1949ء جوز ریموس ہورٹا، نوبل امن انعام  (1996ء) یافتہ مشرقی تیموری وکیل ، استاد جامعہ و سیاستدان ، (20 مئی 2007ء تا 20 مئی 2012ء) صدر مشرقی تیمور

 1955ء داؤد ابراہیم ، بھارتی شہری جسے بھارت دہشت گرد کہتا ہے ۔

 1962ء مرینہ خان ، پاکستانی اداکارہ ، ہدایت کارہ , تخلیق کارہ۔تنہائیاں فیم۔

 1986ء ہیوگو لوریس یا مقامی تلفظ اوگو یوریس ، فرانسیسی پیشہ ورانہ فٹبالر 

 1989ء سفیان فاغولی ، الجزائر فٹبال کھلاڑی

 1990ء دینیس دمیتریوچ چیریشف ، ہسپانوی نژاد روسی فٹبال کھلاڑی

 1666ء گووند سنگھ، سکھوں کے 10ویں گرو

 1899ء ادھم سنگھ بھارتی تحریک آزادی کا کردار ۔ادھم سنگھ پنجاب کاایک غیور اور دلیر انسان تھا۔ وہ جلیانوالہ باغ کاالمیہ فراموش نہ کرسکا۔ یہ واقعہ اس کے سینے میں کانٹے کی طرح پیوست ہوگیا۔ اس نے عزم کرلیا کہ وہ جلیانوالہ باغ کے قاتل ڈائر سے بدلہ لے کر ہی دم لے گا اور اس نے جلیانوالہ باغ کے شہیدوں کی قیمت اس وقت چکائی جب سرمایہ دار قومی نیتا آزادی کے نام پر برطانوی سامراج سے سودا بازی کرنے میں مصروف تھے۔ اُدھم سنگھ کو اپنا عزم پورا کرنے کاموقع جلیانوالہ باغ واردات کے بیس سال بعد 1940 میں ملا جب کی لندن میں ایک شام کیگسٹن ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر (Michael O'Dwyer)، سانحہ امرتسر کا جلاّد، جسے بیس سال پہلے برطانوی سرکار ہندوستانی عوام کے غضبناک احتجاج کے پیش نظر محض دکھاوے کے لئے لندن کی عدالت میں مقدمہ چلاکر بری کرچکی تھی۔ اگلی صف میں بڑے اطمینان اور سکون سے براجمان تھا۔ اس کو معلو م نہیں تھا کہ اُدھم سنگھ کے روپ میں اس ہال میں کچھ فاصلے پر موجود ہے۔جونہی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور کچھ وقفہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر کا نام نشر ہونے پر وہ اسٹیج پر تقریر کرنے کےلئے کھڑا ہوا۔ تقریب کی جگہ پستول کی گولیوں سے گونج اُٹھی اورجلیا نوالہ باغ کا جنرل ڈائڑ اسٹیج پر ڈھیر ہوگیا۔ حاضرین کی صفوں میں اودھم سنگھ پستول ہاتھ میں لئے کھڑا تھا اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک جھلک تھی اسے گرفتار کرلیا گیا ۔ اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہاکہ وہ جلیانوالہ باغ میں مارے گئے نہتوں کا انتقام لینے کےلئے ہندوستان سے آیا تھا اور اس نے جوکچھ کیا ہے اس پر اسے فخر ہے۔31 جولائی 1940 کو انگریزوں نے اُدھم سنگھ کو لندن کی ایک جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا،اس طرح سرفروشوں کی فہرست میں ایک سرفروش کا اضافہ ہوگیا۔ انہیں پھانسی دینے کے بعد جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا ۔ گاندھی نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور اسے ایک جذباتی قدم قرار دے دیا لیکن کانگریس کے پنجاب سیکشن نے اس کی مذمت میں پیش کی جانے والی قرارداد کی مخالفت کر دی تھی . 1974 میں ایک سکھ ممبر اسمبلی کی قرارداد پر اودھم سنگھ کی باقیت کو اپنے ملک واپس لایا گیا ..جلیانوالہ باغ میں ایک میوزیم ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ان کے ہتھیار جس میں ایک چاقو اور گولی بھی شامل تھی ان کی ڈائری سمیت سکاٹ لینڈ کے بلیک میوزیم کا حصہ ہے 31 جولائی جو کہ ان کی پھانسی کا دن ہے اس دن پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں پبلک ہالیڈے ہوتی ہے 

 1914ء ڈاکٹر سشیلا نیر، بھارتی سماجی مصلح اور گاندھی وادی

 1921ء نورالحسن، بھارتی ماہر تعلیم

 1940ء ایڈوارڈ سی پرسکوٹ، نوبل انعام یافتہ امریکی ماہر معیشت

 1949ء جوز ریموس ہورٹا، نوبل انعام یافتہ مشرقی تیموری سیاستدان

 1950ء راجہ پرویز اشرف، سابق پاکستانی وزیر اعظم.راجہ پرویز اشرف (پیدائش: 26 دسمبر 1950) پاکستان کے پچیسویں وزیر اعظم ہیں۔ 22 جون 2012 کو قلمدان وزارت سنبھالا۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان یوسف رضاگیلانی کی کابینہ میں مارچ 2008 سے فروری 2011 تک وفاقی وزیر آب و بجلی بھی رہ چکے ہیں۔ نیز ضلع راولپنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما میں ان کا شمار ہوتا ہے۔راجہ وزارت آب و بجلی کے زمانہ میں کرائے پر چلائے جانے والے بجلی کارخانے لگانے کے کاروبار میں کڑوروں روپے کے غبن کی وجہ سے بدنام ہوئے اور راجہ رینٹل کے عرف سے مشہور ہوئے۔ان کے زمانہ میں بجلی کی بندش بعض مقامات پہ 22 گھنٹہ روزانہ تک پہنچ گئی تھی ۔

*وفات*

 1530ء ظہیر الدین محمد بابر، منگولی بادشاہ، مغلیہ سلطنت کا بانی، آگرہ کے دھول پور میں انتقال کر گیا (پیدائش: 1483ء)

 1831ء ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو ، ہندوستانی شاعر، ہندو کالج، کلکتہ کے معاون صدر مدرس، انقلابی مفکر اور ان اولین ہندوستانی معلمین میں سے تھے جنہوں نے نوجوانان بنگال کو مغربی تعلیم اور سائنسی علوم سے روشناس کرایا۔ (پیدائش: 1809ء)

 1858ء جیمز گیڈسڈن ، امریکی فوجی، کسان، سفارت کار، کارجو، سیاست دان ، جس کے نام پر گیڈسڈن خرید، جو ایک علاقہ تھا جسے ریاستہائے متحدہ امریکا نے میکسیکو سے خریدا۔ (پیدائش: 1788ء)

 1942ء سکندر حیات خان ، ہندوستانی سیستدان ،  آپ یونیونسٹ پارٹی کے صدر، متحدہ پنجاب کے (19 جولائی 1932ء تا 19 اکتوبر 1932ء) اور (15 فروری 1934ء تا 9 جون 1934ء) گورنر ، (1937ء تا 1942ء) اور وزیر اعلیٰ پنجاب، ہندوستان ریزرو بنک آف انڈیا کے ڈپٹی گورنر رہے ہیں۔

 1972ء ہیری ٹرومن، امریکی فوجی افسر، سیاست دان، منصف، کاروباری شخصیت، ریاست کار ، (20 جنوری 1945ء تا 12 اپریل 1945ء) 32ویں  امریکی نائب صدر اور (12 اپریل 1945ء تا 20 جنوری 1953ء) 33ویں امریکی صدر۔ (پیدائش: 1884ء)

 1974ء فرید الاطرش ، سوری موسیقار، گلوکار اور اداکار ، جو مصر میں رہتے تھے۔ انہیں مصری اور عربی موسیقی کے چار بڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جن میں عبد الحلیم حافظ، ام کلثوم، محمد عبدالوہاب اور فرید الاطرش شامل ہیں (پیدائش: 1910ء)

 1989ء کیشو شنکر پلئی، پدم بھوشن اعزاز یافتہ بھارتی کارٹونسٹ، مصور، مصنف

 1992ء قیصر بارہوی ، پاکستانی شاعر م مرثیہ نگار (پیدائش: 1928ء)

 1999ء شنکر دیال شرما، بھارتی سیاستدان ، (3 اپریل 1986ء تا 2 ستمبر 1987ء) گورنر مہاراشٹر ، (3 ستمبر 1987ء تا 25 جولا‎ئی 1992ء) آٹھویں نائب صدر بھارت اور (25 جولا‎ئی 1992ء تا 25 جولا‎ئی 1997ء) 9ویں صدر بھارت  (پیدائش: 1918ء)

 2005ء کیری پیکر، آسٹریلوی ناشر اور تاجر (پیدائش: 1937ء)

 2006ء جیرالڈ فورڈ، امریکی کمانڈر، وکیل،  آپ بیتی نگار، ریاست کار اور سیاست دان، (6 دسمبر 1973ء تا 9 اگست 1974ء) 40ویں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکا اور (9 اگست 1974ء تا 20 جنوری 1977ء) 38ویں صدر ریاستہائے متحدہ امریکا (پیدائش: 1913ء)

 2012ء پروفیسر عبدالغفور احمد ، ممتاز دانشور، سیاست دان اور نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان (پیدائش: 1927ء)

26 دسمبر 1989ء کو پاکستان کے عظیم انقلابی رہنما دادا امیر حیدر خان راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ دادا امیر حیدر خان2 مارچ 1900ء کو موضع سہالیاں عمر خان تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نہایت کم عمری میں تلاش معاش کی فکر میں گھر سے نکلے اور 1914ء میں بمبئی میں برٹش مرچنٹ نیوی میں ملازم ہوگئے۔ 1918ء میں وہ امریکا پہنچے جہاں ان کی ملاقات غدر پارٹی کے جلاوطن رہنمائوں سے ہوئی ، اس ملاقات نے دادا امیر حیدر خان کی ذہنی کیفیت بدل دی اور وہ کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے۔ بعدازاں وہ کسی طرح سوویت یونین پہنچے جہاں وہ اپنی نظریاتی تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آگئے۔ انہیں ان کی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی کو منظم کرنے میں مصروف ہوگئے۔ یہاں بھی ان کی زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزرا۔ ان کی سوانح عمری Chains to Lose کے نام سے انگریزی میں اور دادا کے نام سے اردو میں شائع ہوچکی ہے۔ وہ کالیاں سہالیاں نزد کلر سیداں، راولپنڈی میں آسودۂ خاک ہیں۔

 1994ء پروین شاکر، ٭26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیزرفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔ پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں: 
یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے 
زخم ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے 
شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
 آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے  

2006ء منیر نیازی۔26 دسمبر 2006ء کواردو اور پنجابی کے صف اوّل کے شاعر منیر نیازی لاہور میں وفات پاگئے۔ منیر نیازی 9 اپریل 1923ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اردو کے 13 اور پنجابی کے 3 شعری مجموعے یادگار چھوڑے جن میں اس بے وفا کا شہر‘ تیز ہوا اور تنہا پھول‘ جنگل میں دھنک‘ دشمنوں کے درمیان شام‘ سفید دن کی ہوا‘آغاز زمستاں میں دوبارہ،  سیاہ شب کا سمندر‘ ماہ منیر‘ چھ رنگین دروازے‘ ساعت سیار، پہلی بات ہی آخری تھی، ایک دعا جو میں بھول گیا تھا، محبت اب نہیں ہوگی اور ایک تسلسل کے نام شامل ہیں جبکہ ان کی پنجابی شاعری کے مجموعے چار چپ چیزاں‘ رستہ دسن والے تارے اور سفردی رات کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔انہوں متعدد فلموں کے نغمات بھی تحریر کئے جو بے حد مقبول ہوئے۔ منیر نیازی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔وہ لاہور میں قبرستان ماڈل ٹائون کے بلاک میں آسودۂ خاک ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...