Ad3

27 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 537ء ایاصوفیہ مکمل ہوا۔ ایاصوفیہ (Church of Holy Wisdom یا موجودہ ایاصوفیہ عجائب گھر) ایک سابق مشرقی آرتھوڈوکس گرجا ہے جسے 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کر دیا۔ 1935ء میں اتاترک نے اس کی گرجے و مسجد کی حیثیت ختم کرکے اسے عجائب گھر بنادیا۔ ایاصوفیہ ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے اور بلاشک و شبہ دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لاطینی زبان میں اسے Sancta Sophia اور ترک زبان میں Ayasofya کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں کبھی کبھار اسے سینٹ صوفیہ بھی کہا جاتا ہے۔

1911ء کلکتہ کے کل ہند کانگریس کنونشن میں پہلی بار رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیق ‘جن من گن’ بھارت کا قومی ترانہ گایا گیا۔

 1934ء پرشیا کے شاہ نے اعلان کیا کہ پرشیا کو اب ایران کے نام سے جانا جائے گا۔

 1936ء جواہر لال نے کل ہند کانگریس کے پچاسویں کنونشن کی صدارت کی۔

1939ء ترکی میں آئے زلزلہ کی وجہ سے پچاس ہزار لوگوں کی موت ہو گئی۔

 1943ء جرمن جنگی جہاز اسکارن ہوسٹ بیرنٹس سمندر میں ڈوبا۔

1945ء بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) 29 ممالک کی طرف سے ایک معاہدے پر دستخط کے ساتھ آغاز کیا گیا۔

 1945ء ورلڈ بینک کا قیام عمل میں آیا۔

1949ء پاکستان نے انڈونیشیا کو ایک آزاد ملک تسلیم کیا۔

 1960ء فرانس نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔

 1961ء بیلجیئم اور کانگو نے سفارتی تعلقات بحال کئے۔

 1962ء کشمیر کے معاملے پر پاک بھارت بات چیت کا آغاز کیا۔

 1968ء خلائی جہاز اپولو 8 زمین پر لوٹا۔

 1974ء سوویت یونین نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔

 1975ء بہار کی ایک کان میں دھماکہ ہونے سے 372 مزدور ہلاک ہو گئے۔

 1977 کانگریس پارٹی میں تقسیم ہو گئی۔ ایک گروپ نے اندرا گاندھی کی حمایت شروع کی اور دوسرے گروپ نے اس کی مخالفت کی۔

 1979ء سوویت یونین کی فوج نے افغانستان پر حملہ کر کے صدر حفیظ اللہ امین کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

 1992ء بھارتی حکومت نے اجودھیا میں منتازعہ زمین کو ایکوائر کیا۔

 1996ء بنگلہ کی مشہور مصنفہ مہا شویتا دیوی کو گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 2001ء صدر جارج بش نے چین کو مستقل تجارتی مرتبہ دینے کا اعلان کیا۔

2002ء۔۔عشرت العباد سندھ کے گورنر مقرر ہوئے۔

27 دسمبر 1980 کو پوسٹ کارڈ سروس کی صد سالہ سالگرہ پر ڈاک ٹکٹ کا اجراء ہوا۔

 27دسمبر 1994ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے لاہور عجائب گھرکے قیام کی سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جس پر اس کی عمارت کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرانگریزی میں  1894 1994 اورCENTENARY LAHORE MUSEUMکے الفاظ تحریرتھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت چار روپے تھی اور اسے عبداللہ صدیقی نے ڈیزائن کیا تھا۔

ولادت 
1571ء جان کیپلر ، جرمن ریاضی دان، ماہر فلکیات، طبیعیات دان، موسیقی کا نظریہ ساز اور منجم (وفات: 1630ء)

 1654ء جیکب برنولی ، سوئیٹزر لینڈ کے برنولی خاندان سے تعلق رکھنے والے ریاضی دان، طبیعیات دان  طبیب، استاد جامعہ (وفات: 1705ء)

 1809ء مصطفٰی خان شیفتہ ، جہانگیر آباد ہندوستان کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد ، انھی نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857 میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا "جرم" معاف ہو گیا اور پنشن مقرر ہوئی۔ (وفات: 1869ء)

 1822ء لوئی پاسچر، فرانسیسی کیمسٹ ، ماہر خرد حیاتیات و استاد جامعہ ، جس نے کتے کے کاٹے کا اعلاج دریافت کیا اور یہ ثابت کیا کہ بہت سی بیماریاں ازخود نہیں جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ خمیر کے بارے میں اس کی تحقیقات سے جرثومیات کا نیا علم وجود میں آیا، اور متعدی امراض کے اسباب اور ان کی روک تھام کے بارے میں تحقیقات سے عضویات میں ایک نئے شعبے کا اضافہ ہوا۔ پاسچر نے چڑیوں ، جانوروں اور حیوانوں میں متعدی امراض پھیلانے والے جراثیم کو بھی مطالعہ کیا۔ اُسے معلوم ہوا کہ مویشیوں کا بخار اور مرغیوں کی بیماری ’’چکن کالرا‘‘ مختلف جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اس نے جنون سگ گزیدگی ’’ ریبیز ‘‘ کے مرض کا مطالعہ کیا اور اس بیماری کا ایک ٹیکا ایجاد کیا۔ دودھ کو حرارت پہنچا کر بیکٹریا سے محفوظ کرنے کا عمل اسی کی ایجاد ہے۔ اور اسی کے نام سے موسوم ہے۔ پاسچر کی تحقیقات اور خدمات کے اعتراف میں پیرس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا۔ جس میں ہیضہ ، میعادی بخار اور دوسری بیماریوں کے ٹیکے تیار کیے جاتے ہیں۔ (وفات: 1895ء)

 1901ء مارلین ڈائٹرچ، جرمن نژاد امریکی اداکارہ و گلوکارہ (وفات: 1992ء)

 1905ء سید محمد جعفری ، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان کے نامور مزاح گو شاعر (وفات: 1976ء)

 1919ء میجر جنرل چارلس ڈبلیو سوینی ، امریکی جنرل و پائلٹ ، دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی ایئر فورسز کا ایک افسر تھا اور 9 اگست، 1945ء کو جاپانی شہر ناگاساکی پر فیٹ مین ایٹم بم لے جانے والے ہوائی جہاز بوکسکار (Bockscar) کا پائلٹ تھا۔ (وفات: 2004ء)

 1947ء پروفیسر عبد اللہ مگسی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے مشہور ادیب، پروفیسر، محقق اور مؤرخ (وفات: 1993ء)

 1965ء عبد الرشید سلیم سلمان خان بمعروف سلمان خان، بھارتی فلمی اداکار و فلم ساز 

 1985ء عادل رامی ، فرانسیسی فٹبال کھلاڑی

 1995ء عمران بٹ ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی

 1797ء مرزا اسد اللہ خان غالب، اردو و فارسی زبان کے عظیم شاعر بمقام آگرہ ہندوستان (وفات: 1869ء)٭27 دسمبر 1797ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ پیدائش ہے۔ مرزا غالب آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آبائو اجداد کا پیشہ تیغ زنی اور سپہ گری تھا۔ انہوں نے اپنا پیشہ انشاء پردازی اور شعر و شاعری کو بنایا اور ساری عمر اسی شغل میں گزار دی۔ 13 برس کی عمر میں، دہلی کے ایک عظیم دوست گھرانے میں شادی ہوئی اور یوں غالب دلی چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ساری عمر بسر کردی۔ غالب نے اپنی زندگی بڑی تنگدستی اور عسرت میں گزاری مگر کبھی کوئی کام اپنی غیرت اور خودداری کے خلاف نہ کیا۔ 1855ء میں ذوق کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے جن کے دربار سے انہیں نجم الدولہ دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔ جب 1857ء میں بہادر شاہ ظفر قید کرکے رنگون بھیج دیئے گئے تو وہ نواب  یوسف علی خاں والیٔ رام پور کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں سے انہیں آخر عمر تک وظیفہ ملتا رہا۔ غالب فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے عظیم شاعر تھے جتنی اچھی شاعری کرتے تھے اتنی ہی شاندار نثر لکھتے تھے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ غالب سے پہلے خطوط بڑے مقفع اور مسجع زبان میں لکھے جاتے تھے انہوں نے اسے ایک نئی زبان عطا کی اور بقول انہی کے ’’مراسلے کو مکالمہ بنادیا‘‘۔ 15 فروری 1869ء کو مرزا غالب نے دہلی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

 1918ء مصلح الدین صدیقى، پاکستانی  عالم دین ۔قاری مصلح الدین کی ولادت11 ربیع الاول 1336ھبمطابق 27 دسمبر 1918ء کو ضلع ناندھیڑ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد شرفائے دکن میں سے تھے اور صدیوں سے اسلامی تعلیم و تعلم سرانجام دیتے آرہے تھے۔ آپ نے والد مولانا غلام جیلانی سے قرآن حکیم حفظ کیا۔ تقریبا سترہ برس کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر مدرسہ مصباح العلوم مبارک پور اعظم گڑھ میں علوم اسلامیہ کی تحصیل کا آغاز کیا اور حافظ عبدالعزیز مبارکپوری کی زیر نگرانی آٹھ برس میں تکمیل کی اس کے بعد مفتی محمد امجد علی اعظمی سے بیعت ہوئے اور پھر کچھ عرصہ بعد امجد علی اعظمی نے آپ کو تمام سلاسل طریقت میں اجازت و خلافت دی۔ تحصیل علم کے بعد آپ نے ناگپور کی جامع مسجد میں امامت و خطابت فرمائی نیز جامعہ عربیہ ناگپور میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ کچھ عرصہ سکندر آباد حیدرآباد دکن کی جامع مسجد میں بھی خطابت فرمائی۔سقوط حیدرآباد دکن کہ جس میں سات لاکھ مسلمان ہلاک ہوئے) کے بعد 1949ء میں آپ پاکستان چلے آئے اور اخوند مسجد کھارادر میں خطیب و امام رہے۔ اخوند مسجد کی امامت کے دوران آپ نے علامہ سردار احمد لائل پوری‘ عارف اﷲ شاہ صاحب‘ پیر صاحب دیول شریف‘ علامہ سید احمد سعید کاظمی کی خواہش اور ایماء پر ڈیڑھ سال جامع مسجد واہ کینٹ راولپنڈی میں امامت و خطابت کی۔ نیز دارالعلوم مظہریہ آرام باغ اور اس کے بعد دارالعلوم امجدیہ میں وصال سے پہلے تک تدریسی اور علمی خدمات انجام دیتے رہے۔آپ کا انتقال 23 مارچ 1983 کو ہوا

 1939ء سحر انصاری، شاعر اور ادیب ۔اردو زبان کے ممتاز نقاد، جدید اردو غزل کے اہم شاعر اور ادیب پرفیسر سحر انصاری اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ 1973 میں بلوچستان یونیورسٹی سے بہ طوراستاد پیشہ وارانہ سرگرمی کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ تدریس سے وابستگی اختیار کی ۔ پہلی کتاب نمود 1976 میں شایع ہوئی جسے بے حساب پزیرائی حاصل ہوئی۔ خدا سے بات کرتے ہیں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

 1971ء سید مصطفی کمال، سربراہ پاک سرزمین پارٹی۔مصطفی کمال کراچی کے سابقہ ناظم ہیں۔ آپ کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا۔سید مصطفی کمال 17 اکتوبر 2005ء سے فروری 2010ءتک کراچی کے  27ویں میئر (ناظم) رہے۔2013 میں انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ چھوڑ دیا اور 3 مارچ، 2016ء میں اپنی نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

1958.ءشاہد خاقان عباسی 27 دسمبر 1958 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ عباسی پاکستان میں 2013ء تا 2017ء تک وزیر پٹرولیم رہے۔ جب کہ اس سے پہلے گیلانی وزارت میں 2008ء میں وزیر تجارت رہے۔ یکم اگست  2017ء کو آپ پاکستان کے  وزیراعظم منتخب ہوئے۔ عباسی کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے ہے

*وفات*

 1325ء جمال الدین حسن بن یوسف بن مطہر حلّی بمعروف علامہ حِلِّی ، عراق سے تعلق رکھنے والے اثناعشری فقیہ، مجتہد اور مرجع و متکلم (پیدائش: 1250ء)

 1925ء سرگیئی الیکساندرووچ یسینن ، روسی غنائی شاعر و مصنف (پیدائش: 1895ء)

 1936ء محمد عاکف ارصوی، ترکی کے معروف شاعر، ادیب، دانشور، رکن پارلیمان اور ترکی کے قومی ترانے "استقلال مارشی” کے خالق تھے۔ اپنے وقت کے بہترین دانشوروں میں شمار کیے جانے والے ارصوی ترکی زبان پر اپنے عبور اور حب الوطنی اور ترک جنگ آزادی میں مدد کے باعث بھی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا تخلیق کردہ ترانہ ترکی کے ہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کی دیوار پر، ترکی کے قومی پرچم، بابائے قوم مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصویر اور نوجوانوں سے کی گئی ایک تقریر کے متن کے ساتھ، آویزاں کیا جاتا ہے۔ بردور میں ان کے نام سے ایک جامعہ بھی قائم ہے۔ ارصوی کی تصویر اور قومی ترانہ 1983ء سے 1989ء تک 100 ترک لیرا کے بینک نوٹ پر موجود رہی۔ (پیدائش: 1873ء)

 1972ء لسٹر پیرسن، نوبل امن انعام (1957ء) یافتہ کینیڈین فوجی افسر، مؤرخ اور سیاستدان، (1952ء) آٹھویں صدر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی ، (22 اپریل 1963ء تا 20 اپریل 1968ء) چودہویں وزیر اعظم کینیڈا (پیدائش: 1897ء)

 1976ء یشپال، ‘جھوٹا اور سچ’، ‘دیویا’ ناول کے مصنف

 1978ء محمد بوخا روبہ حواری بومدین، الجزائر کرنل اور سیاستدان، دوسرے صدر الجیریا (پیدائش: 1932ء)

 1979ء حفیظ اللہ امین ، افغان کمیونسٹ سیاست دان ، (1 مئی 1978ء تا 28 جولائی 1979ء) وزیرِ خارجہ افغانستان ، (27 مارچ 1979ء تا 27 دسمبر1979ء) چیئرمین افغانستان وزرا کونسل (14 ستمبر 1979ء تا 27 دسمبر 1979ء) چیئرمین افغانستان انقلابی کونسل (پیدائش: 1929ء)

2013ء فاروق شیخ ، ہندوستانی اداکار، انسان دوست شخصیت اور ٹیلی ویژن کے مہمان دار  (پیدائش: 1948ء)

 ٭27 دسمبر 1977ء کو اردو کے ایک خوش بیان شاعر فرید جاوید نے کراچی میں وفات پائی۔ فرید جاوید 8 اپریل 1927ء کو سہارن پور میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور یہاں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ ان کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد ’’سلسلہ تکلم کا‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔ ان کے مجموعے کا یہ نام ان کے اس ضرب المثل شعر سے اخذ کیا گیا تھا: گفتگو کسی سے ہو، تیرا دھیان رہتا ہے ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے، سلسلہ تکلم کا فرید جاوید کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

2007ء بینظیر بھٹو، پاکستانی سیاستدان،٭27 دسمبر 2007ء کو پاکستان پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن، پاکستان کے سابق صدر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی، ملک میں دوبارہ وزارت عظمیٰ کے لئے منتخب ہونے والی سیاسی قائد، عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے بعد ایک سفاک دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بن گئیں۔ انہیں راولپنڈی جنرل اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں سے جاں بر نہ ہوسکیں اور شام 5 بجکر 10 منٹ پر اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرگئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے کراچی، اوکسفرڈ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 4 اپریل 1979ء کو جب ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی تو وہ 25 برس کی عمر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن بنیں، فوجی حکومت نے کئی سال تک انہیں نظر بند رکھا اور پھر جبری طور پر جلاوطن کردیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی میں اپنی پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔ ملک سے مارشل لاء کے خاتمے اور سیاسی حکومت کے قیام کے بعد 10 اپریل 1986ء کو وہ وطن واپس آگئیں۔ 18 دسمبر 1987ء کو ان کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی، 17 اگست 1988ء کو ان کے سب سے بڑے حریف جنرل ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ 16 نومبر 1988ء کو ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ انہوں نے مہاجر قومی موومنٹ، فاٹا اور چند آزاد امیدواروں کے تعاون سے مخلوط حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کی اور یوں 2 دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کی وزیراعظم بن گئیں۔ وہ عالم اسلام کی پہلی خاتون تھیں جو اس عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ ان کی یہ حکومت 20 ماہ تک جاری رہی۔ 6 اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام عائد کرکے انہیں وزارت عظمیٰ سے برطرف کردیا۔ 1990ء سے 1993ء تک وہ قائد حزب اختلاف کا فریضہ انجام دیتی رہیں اور 1993ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وہ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے بعد وہ دوسری شخصیت تھیں جو دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔ 5 نومبر 1996ء کو انہی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر پاکستان سردار فاروق احمد لغاری نے ان کی حکومت کو بدعنوانی کے الزام میں برطرف کردیا۔ 1997ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کو ملک کی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 15 اپریل 1999ء کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں نواز شریف حکومت کے قائم کردہ مقدمات میں پانچ سال کی سزا سنائی۔ اس وقت وہ دبئی میں مقیم تھیں اس لئے ان سزائوں سے محفوظ رہیں۔ 2002ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے نام سے انتخابات میں حصہ لیا اور ملک میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تاہم چونکہ ان کی پارٹی کی نشستوں کی تعداد، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی نشستوں سے کم تھی، اس لئے انہوں نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اس دوران مستقل دبئی میں ہی مقیم رہیں۔ 14 مئی 2006ء کو انہوں نے ملک میں آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے لئے اپنے دیرینہ حریف میاں محمد نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کئے۔ 18 اکتوبر 2007ء کو وہ آٹھ برس بعد وطن واپس لوٹیں لیکن ان کے جلوس پر ایک خودکش حملہ ہوا جس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر دبئی واپس چلی گئیں۔ 3 نومبر 2007ء کو ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد وہ وطن واپس آگئیں۔ وہ جنوری 2009ء میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں (جو ان کی شہادت کے بعد ملتوی ہوگئے تھے) اپنی پارٹی کی قیادت کا فریضہ انجام دے رہی تھیں اور ملک کے مختلف شہروں میں جلسہ عام سے خطاب کررہی تھیں کہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والے جلسہ عام کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ جان کی بازی ہارگئیں۔ اگلے روز انہیں آہوں اور سسکیوں میں ان کے والد اور بھائیوں کے پہلو میں گڑھی خدا بخش، لاڑکانہ میں سپردخاک کردیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھال لی اور محترمہ کے شوہر آصف علی زرداری پارٹی کے شریک چیئرمین بن گئے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...