Ad3

30 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1906ء ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔

 1919ء لندن کی معروف درس گاہ لنکنز اِن نے پہلی خاتون طالب علم کو داخلہ دیا۔

 1922ء یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلک کا قیام عمل میں آیا۔

 1953ء پہلا رنگین ٹیلی ویژن سیٹ فروخت کیا گیا۔

1959ء پاکستان کے دوسرے پنج سالہ منصوبہ کا اعلان ہوا۔
۔

 1967ء جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر کرسچن برنارڈ نے دنیا کا پہلا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن کیا۔

 1985ء پاکستان سے مارشل لا اٹھا لیا گیا اور 1973ء کے آئین کو کئی ترامیم کے ساتھ بحال کر دیا گیا۔

 1990ء حکومت پاکستان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی تشکیل دی۔

 1992ء سلامتی کونسل نے صومالیہ کے قحط زدگان کی امداد کے لئے امریکی سربراہی میں فوجی مشن کی منظوری دی۔

 1993ء اسرائیل اور ویٹی کن کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

 30دسمبر 1997ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے کراچی گرامر اسکول کے قیام کی ایک سو پچاس ویں  سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جس پر اس اسکول کا لوگو اوراسکول کی عمارت کی ایک تصویرشائع کی گئی تھی اورانگریزی میں KARACHI GRAMMER SCHOOL 1847-1997 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت دو روپے تھی اور اس کا ڈیزائن فیضی امیر صدیقی نے تیارکیا تھا۔

30دسمبر2004ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے خیبر میڈیکل کالج، پشاورکے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ کیا جس پر اس کالج کا لوگو اور عمارت کی تصویر شائع کی گئی تھی اورانگریزی میں   50 Years 1954 2004 GOLDEN JUBILEE KHYBER MEDICAL COLLEGE  کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت  پانچ روپے تھی اور اس کا ڈیزائن خیبر میڈیکل کالج نے فراہم کیا تھا۔

 2005ء حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے عہدے کے لئے پہلی خاتون، ڈاکٹر شمشاد اختر کو نامزد کیا۔

30دسمبر2006ء کومسلم لیگ کے قیام کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے  آٹھ یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن میں سے ہر ڈاک ٹکٹ کی مالیت چار روپے تھی۔ ان ڈاک ٹکٹوں پرتحریک پاکستان کے مختلف ادوار کی نمائندہ تصاویر بنی تھیں اور انگریزی میں ہر تصویر کا کیپشن اور CENTENARY CELEBRATIONS MUSLIM LEAGUE 1906 2006 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن جناب عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

 2008ء آصف علی زرداری کی پریس کانفرنس۔ حکومت پہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگایا۔ بلاول زرداری کا نام تبدیل کر کے بلاول بھٹو زرداری رکھا گیا اور جماعت کا سربراہ نامزد کیا گیا۔

ولادت :
۔""""""

 39ء تیتوس یا ٹائٹس ، (23 جون 79ء تا 13 ستمبر 81ء) رومی شہنشاہ ۔ جس کے زمانہ حکومت میں ہیکل سلیمانی منہدم ہوا اور یہودیوں کو جلاوطن کیا گیا۔ 79ء میں ایک آتش فشاں کے باعث ہلاکتیں ہوئیں اور کولوزیئم کی تعمیر مکمل ہوئی۔ کولوزیئم (Colosseum) دنیا بھر میں روم کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ یہ اکھاڑہ 80 بعد از مسیح میں رومن بادشاہ ٹائٹس نے اٹلی کے دارلحکومت روم میں تعمیر کرایا اور اس کے افتتاح کے بعد 100 دن تک رومی باشندوں نے ان خونی کھیلوں کا مظاہرہ کیا جس میں غلاموں کو لڑایا جاتا تھا جنہیں Gladiators کہا جاتا تھا۔ اس عرصے میں تقریباً 9 ہزار جانور اور انسان موت کی بھینٹ چڑھے۔ اس اکھاڑے میں 50 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جس میں بادشاہ، امرا، مصاحبین، عام شہری اور غلاموں کے لیے الگ الگ درجہ بندی ہے۔ اس اکھاڑے کی زمین پر ریت کی دبیز تہ بچھائی جاتی تھی تاکہ خون جذبے ہو سکے۔ اکھاڑے کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والے لفظ ARENA کے معنی ہی ریت کے ہیں۔ یہ اکھاڑہ 500 سالوں تک استعمال کیا جاتا رہا اور یہاں آخری "کھیل" چھٹی صدی میں کھیلا گیا۔ متعدد زلزلوں اور چوروں کے ہاتھوں کولوزیئم کو شدید نقصان پہنچا تاہم اس کے چند حصے اب بھی بہتر حالت میں موجود ہیں۔ کولوزیئم روم کی علامت اور رومی طرز تعمیر کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اس کا نظارہ کرنے کے لئے اطالوی دار الحکومت آتے ہیں۔ (وفات: 81ء)

 1190ء ابن ابی الحدید ، خلافت عباسیہ کے اواخر عہد کے مشہور شاعر، مصنف، محقق اور مؤرخ ۔ اُنہیں سقوطِ بغداد تک اپنی علمی و اَدبی خدمات کے حوالے سے عباسی حکومت میں نمایاں درجہ حاصل تھا۔ ابن ابی الحدید کی وجہ شہرت اُن کی مشہور تصنیف شرح نہج البلاغہ ہے۔ (وفات: 1258ء)

 1490ء ابوسعود آفندی ، سلطنتِ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والے حنفی عالم، مفسر قرآن اور شیخ الاسلام (وفات: 1574ء)

1673ء احمد ثالث ، سلطنتِ عثمانیہ کا (28 دسمبر 1703ء تا 20 ستمبر 1730ء) 23واں سلطان ، عثمانی سلطان محمد رابع کا بیٹا ۔ ان کی والدہ سلطان یونان کی ایمت اللہ رابعہ تھی (وفات: 1736ء)

 1865ء رُڈیارڈ کپلنگ، نوبل انعام برائے ادب (1907ء) یافتہ انگریز مختصر کہانی نویس، ناول نگار، شاعر، صحافی (وفات: 1936ء)

 1884ء ڈاکٹر راجندر پرشاد، بھارتی وکیل و سیاستدان ، (26 جنوری 1950ء تا 14 مئی 1962ء) پہلے صدر بھارت (وفات: 1963ء)

 1919ء پروفیسر ڈاکٹر ریاض الاسلام ، پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور مؤرخ، کراچی یونیورسٹی کے چیئرمین شعبۂ تاریخ اور پروفیسر ایمرٹس (وفات: 2007ء)

 1920ء مولانا غلام محمد گرامی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور شاعر، ادیب، صحافی اور سندھی ادبی بورڈ کے رسالے سہ ماہی مہران کے مدیر (وفات: 1976ء)

1928ء مرزا عظیم بیگ چغتائی بمعروف  شبنم رومانی پاکستانی شاعر۔٭اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور کالم نگار شبنم رومانی  30 دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے تھے۔ شبنم رومانی کا اصل نام مرزا عظیم بیگ چغتائی تھا- قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ان کے شعری مجموعے مثنوی سیر کراچی، جزیرہ، حرف نسبت، تہمت اور دوسرا ہمالا کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک روزنامہ مشرق میں ہائیڈ پارک کے نام سے ادبی کالم تحریر کرتے رہے تھے، ان کے کالموں کا مجموعہ اسی نام سے اشاعت پذیر بھی ہوا تھا۔ شبنم رومانی نے 1989ء میں ادبی جریدہ اقدار جاری کیا تھا جو اپنے خوب صورت لوازمے اور دیدہ زیب پیشکش کی وجہ سے ادبی حلقوں میں بے حد مقبول ہوا تھا۔ 17 فروری 2009ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور کالم نگار شبنم رومانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

1930ء مرزا ظریف بیگ بمعروف ابن حنیف، اردو کے ممتاز ادیب، ماہرِ آثار قدیمہ، محقق اور مؤرخ ، جو اپنی کتب مصر کا قدیم ادب،سات دریاؤں کی سرزمین، دنیا کا قدیم ترین ادب اورجنوبی پنجاب کے آثار ِ قدیمہ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ (وفات: 2004ء)

1930ء سلطان بن عبد العزیز آل سعود ، آلِ سعود سے تعلق رکھنے والے سعودی شہزادہ اور سیاستدان ، (13 جون 1982ء تا 1 اگست 2005ء) دوسرے ڈپٹی وزیرِ اعظم سعودی عرب اور  (1 اگست 2005ء تا 22 اکتوبر 2011ء) ساتواں ولی عہد سعودی عرب (وفات: 2011ء)

 1930ء تو یویو ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2015ء) یافتہ چینی کیمیادان، موجد، استاد جامعہ، ماہرِ دوا سازی ، انھوں نے ملیریاء کے خلاف استعمال ہونے والی ایک چیز ارٹیمسنن دریافت کی ۔

 1948ء رینڈی شیک مینایک ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2013ء) یافتہ امریکی خلیائی حیاتی کیمیا دان، طبیب، استاد جامعہ 

 1950ء بیان سٹروسٹروپ ، ڈنمارک  کمپیوٹر سائنس دان، پروگرامنگ انجینئر، مصنف، استاد جامعہ ، جو سی++ پروگرامنگ زبان کی تخلیق اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کولمبیا یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر ہیں اور نیویارک میں مورگن سٹینلی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
 

30 دسمبر 1925ء مشہور پہلوان یونس پہلوان کی تاریخ پیدائش ہے۔ یونس پہلوان، رستم ہند رحیم پہلوان سلطانی والا کے شاگرد تھے۔ وہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلا دنگل 1941ء میں لڑا اور فیض گوجرانوالیہ اور یکہ پہلوان کو یکے بعد دیگرے شکست دی، اگلے برس انہوں نے رستم پنجاب چراغ نائی پہلوان کوہرا کر رستم پنجاب کا خطاب حاصل کیا۔ پھر انہوں نے کیسر پہلوان، ہزارہ سنگھ، گنڈا سنگھ، پورن پہلوان اور کئی دوسرے پہلوانوں کو یکے بعد دیگرے شکست دی۔ 1948ء میں انہوں نے منٹو پارک لاہور میں بھولو پہلوان سے مقابلہ کیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 1949ء میں کراچی میں یہ دونوں پہلوان ایک مرتبہ پھر نبرد آزما ہوئے مگر اس مرتبہ بھی بھولو  پہلوان کا پلہ بھاری رہا اور وہ یونس پہلوان کو شکست دے کر رستم پاکستان بن گئے۔ یونس پہلوان کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے ستارۂ پاکستان کا خطاب عطا کیا تھا۔ ان کا انتقال 6جون 1964ء کو 38 برس کی عمر میں ہوا، وہ گوجرانوالہ کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

وفات :
۔"""""

 1072ء امام ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری نیشاپوری شافعی المعروف بہ امام قشیری، انہیں ابو القاسم قشیری اورصاحبِ رسالہ القشیریہ بھی کہا جاتا ہے ، خلافتِ عباسیہ سے تعلق رکھنے والے نیشا پوری مصنف و فلسفی (پیدائش: 976ء)

 1916ء راسپوٹین ، روس کا متصوف، سیاست دان ، 1905 تا 1916ء روس پرعملاً اسی کی حکومت تھی۔ اس نے اپنے ٹونے ٹوٹکوں سے ولی عہد الیکسس کو سیلانِ خون کے مرض سے نجات دلائی۔ جس کے بعد اسے زار کے دربار میں رسوخ حاصل ہوا۔ بالخصوص زارینہ اس کی بہت معتقد تھی۔ اسی کی سفارش پر راسپوٹین کو روسی چرچ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ زار کے خاندان پر اس کا اتنا اثر تھا کہ اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں اسی کے مشورے سے کی جاتی تھیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جرمن ایجنٹ تھا۔ اس نے پہلی جنگ عظیم میں روس کی شمولیت کی پر زور مخالفت کی۔ بالآخر چند روسی معززین نے جن کا قائد شہزادہ یوسو یوف اور گرینڈ ڈیوک یالووچ تھے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ (پیدائش: 1869ء)

1935ء روفس ڈینیل آئزکس ، برطانوی بیرسٹر، قانون دان، سفارتکار و سیاستدان اور (25 اگست 1931ء تا 5 نومبر 1931ء) سرکاری لبرل پارٹی کا آخری رکن بطور سیکرٹری خارجہ اور ہاؤس آف لارڈز کا سربراہ ۔ وہ (2 اپریل 1921ء تا 3 اپریل 1926ء) 39ویں وائسرائے و گورنر جنرل ہند (پیدائش: 1860ء)

 2006ء صدام حسین، عراقی  فوجی افسر و سیاست دان ، (16 جولا‎ئی 1979ء تا 9 اپریل 2003) پانچواں عراقی صدر اور (16 جولائی 1979ء تا 23 مارچ 1991ء) 57ویں وزیرِ اعظم عراق دورِ اول اور (29 مئی 1994ء تا 9 اپریل 2003ء) 61ویں وزیر اعظم عراق دورِ ثانی (پیدائش: 1937ء)

 2012ء ریٹالیوی - مونٹلسینی ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1986ء) یافتہ اطالوئی خاتون عصبیات دان، حیاتی کیمیا دان، طبیبہ، سیاست دان ، (1 اگست 2001ء تا 30 دسمبر 2012ء) تا حیات امریکی سینیٹر (پیدائش: 1909ء)

 2017ء خالد شمیم وائیں (پیدائش؛28 اگست1953ء) پاکستانی فوجی ، پاکستانی مسلح افواج کے اعلیٰٰ ترین عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (8 اکتوبر 2010ء تا 7 اکتوبر 2013ء) پر فائز 14ویں آفیسر (پیدائش: 1953ء)

 30 دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں۔ کوثر پروین اداکارہ آشا پوسلے اور رانی کرن کی چھوٹی بہن اور معروف موسیقار اختر حسین کی شریک حیات تھیں۔ انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں لاتعداد فلموں کو اپنی آواز سے یادگار بنایا۔ خصوصاً 1954ء میں سید عطا اللہ شاہ ہاشمی کی بنائی ہوئی فلم نوکر میں سورن لتا پر فلم بند ہونے والی مشہور لوری میری اکھیوں کے تارے میں تو واری واری جائوں، کوثر پروین کی شناخت بن گئی۔ کوثر پروین کے دیگر مقبول نغموں میں کب تک رہوگے اجی دور دور ہم سے(فلم: چھوٹی بیگم)، اومینا، نہ جانے کیا ہوگیا (فلم: قاتل)، ہر قدم پہ ستم (فلم: حمیدہ)، باربار ترسے مورے نیناں (فلم:وعدہ) اور ستمگر مجھے بے وفا جانتا ہے (فلم: سات لاکھ) کے علاوہ سلیم رضا کے ساتھ گائے ہوئے متعدد دو گانے شامل ہیں۔

 30 دسمبر 2007ء کو موسیقی کے موضوع پر لکھنے والے پاکستان کے مشہور ادیب سعید ملک لاہور میں وفات پاگئے۔ سعید ملک کی تصانیف میں دی میوزک ہیری ٹیج آف پاکستان، دی مسلم گھراناز آف میوزیشنز، لاہور: اٹس میلوڈی کلچر، لاہور اے میوزیکل کمپینئن اور ان سرچ آف جسٹس شامل ہیں۔ سعید ملک نے تین سال تک لاہور آرٹس کونسل کی الحمرا میوزک اکیڈمی کے فیکلٹی ممبر کی حیثیت خدمات انجام دیں اور اس کی گورننگ کونسل کے رکن رہے۔ انہوں نے 26 سال تک مختلف اخبارات اور جرائد میں موسیقی کے موضوع پر مسلسل کالم لکھے جو پاکستان میں موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہیں۔ سعید ملک لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

2009ء۔۔افضل توصیف اردو اور پنجابی کی شاعرہ اور ادیبہ، افضل توصیف 18 مئی 1936ء کو ہوشیار پور (بھارت) میں پیدا ہوئیں۔ تصانیف میں زمیں پر لوٹ آنے کا دن، شہر کے آنسو، سوویت یونین کی آخری آواز، کڑوا سچ، غلام نہ ہوجائے مشرق، شہر کے آنسو، لیبیا سازش کیس، ٹاہلی میرے بچڑے، ہتھ نہ لاکسمبڑے، تہنداناں پنجاب، پنجیواں گھنٹا، من دیاں وستیاں، امن ویلے ملاں گے اور گزرے تھے ہم جہاں سے کے نام شامل ہیں۔ افضل توصیف نے 30 دسمبر 2014ء کو لاہور میں وفات پائی۔ ان کے فن کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

تعطیلات و تہوار :
۔""""""""""""""""

 1992ء اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ معذور افراد کا عالمی دن منایا

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...