6 جنوری 1930:
کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بلے باز سر ڈان بریڈ مین نے سڈنی کرکٹ گراونڈ پر نیو ساوتھ ویلز کی طرف سے کھیلتے ہوئے کوئنز لینڈ کے خلاف 452 ناٹ آوٹ کی اننگز کھیلی تھی۔ یہ اس وقت کسی ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ تھا۔اب یہ ریکارڈ برائن لارا کے پاس ہے جنہوں نے 1994 میں وارکشائر کی طرف سے کھیلتے ہوئے ڈرہم کے خلاف 501ناٹ آوٹ بنائے تھے۔
6 جنوری 1984:
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ میں آج کا دن گریگ چیپل، ڈینس للی اور راڈنی مارش تین بڑے ٹیسٹ کرکٹرز کا آخری دن تھا۔یہ وہی سیریز ہے جس میں محسن خان نے پاکستان کی طرف سے آسٹریلیا میں 390 رنز بنائے تھے۔ یہ ریکارڈ 05 جنوری 2017 کو اظہر علی نے توڑا ۔گریگ چیپل کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے آخری ٹیسٹ میں مین آف دی میچ بھی رہے جبکہ مین آف دی سیریز کا اعزاز حاصل کرنے والے جیف لاسن پاکستان کے کوچ بھی رہ چکے ہیں۔
6 جنوری 2004:
اسٹیو وا کا ٹیسٹ کرکٹ میں آخری دن تھا۔ کھیل کے بڑے کپتانوں کا جب بھی ذکر آئے گا اسٹیو وا اس لسٹ میں اوپری سطروں میں موجود ہوں گے۔ ان کی زیر نگرانی آسٹریلیا نے مسلسل 16 ٹیسٹ میچز جیت کر 1984 میں بنایا گیا ویسٹ انڈیز کا مسلسل گیارہ ٹیسٹ فتوحات کا ریکارڈ توڑا تھا۔ وہ 1999 کا ورلڈ کپ جیتنے والی آسٹریلین ٹیم کے کپتان بھی تھے۔
6 جنوری 1959:
بھارتی کھلاڑی کپل دیو پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت انڈیا نے 1983 کا ورلڈ کپ جیتا۔ بعد میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ انہوں نے سر رچرڈز ہیڈلی کا 431 وکٹوں کا ریکارڈ توڑا تھا۔ 434 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے کپیل دیو کھیل کے چار بڑے آل راونڈررز میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان آل راونڈرز میں ای این بوتھم، عمران خان اور سر رچرڈز ہیڈلی شامل ہیں۔ وہ انڈین کرکٹ لیگ کے بھی روح رواں تھے اور لیگ بعد میں انڈین پریمیئر لیگ شروع کرنے کا محرک ثابت ہوئی۔
6 جنوری 2008:
رکی پونٹنگ کی زیر قیادت آسٹریلوی ٹیم نے دوسری بار مسلسل 16 ٹیسٹ جیتنے کا کارنامہ مکمل کیا تھا لیکن انڈیا کے خلاف میچ ہربھجن سنگھ اور اینڈریو سائمنڈ کے مابین نسلی تفریق پر مبنی جملے کسنے کے معاملے نے اس بڑے کارنامے کو دھندلا دیا۔ ہربھجن سنگھ پر 3 میچز کی پابندی لگی جو بعد میں اپیل پر 50فیصد میچ فیس کی کٹوتی پر منتج ہوئی۔
6 جنوری 2006:
رکی پونٹنگ اپنے 100ویں ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچری کرنے والے دنیا کے واحد بلے باز بنے تھے۔
No comments:
Post a Comment