Ad3

15 جنوری 1875یوم پیدائش عبد العزيز بن عبد الرحمن

15 جنوری 1875
یوم پیدائش عبد العزيز بن عبد الرحمن بن فيصل بن تركي بن عبد الله بن محمد ابن سعود

سعودی عرب کا بانی

نجد کا سعودی خاندان انیسویں صدی کے آغاز میں جزیرہ نمائے عرب کے بہت بڑے حصے پر قابض ہو گیا تھا لیکن مصری حکمران محمد علی پاشا نے آل سعود کی ان حکومت کو 1818ء میں ختم کر دیا تھا۔ سعودی خاندان کے افراد اس کے بعد تقریباً 80 سال پریشان پھرتے رہے یہاں تک کہ 15 جنوری 1875 کو  اسی خاندان میں ایک اور زبردست شخصیت پیدا ہوئی جس کا نام عبد العزیز بن عبد الرحمن تھا جو عام طور پر سلطان ابن سعود کے نام سے مشہور ہیں۔

ابن سعود انیسویں صدی کے آخر میں اپنے باپ کے ساتھ عرب کے ایک ساحلی شہر کویت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ بڑے با حوصلہ انسان تھے اور اس دھن میں رہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آبا و اجداد کی کھوئی ہوئی حکومت دوبارہ حاصل کر لیں۔ آخر کار 1902ء میں جبکہ ان کی عمر تیس سال تھی، انہوں نے صرف 25 ساتھیوں کی مدد سے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی نجد بھی فتح کر لیا۔ 1913ء میں ابن سعود نے خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء پر جو عثمانی ترکوں کے زیر اثر تھا، قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد یورپ میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے دوستانہ تعلقات قائم رکھے اور ترکوں کے خلاف کارروائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد شریف حسین نے خلیفہ بننے کا اعلان کر دیا تو ابن سعود نے حجاز پر بھرپور حملہ کر دیا اور چار ماہ کے اندر پورے حجاز پر قبضہ کر لیا اور 8 جنوری، 1926ء کو ابن سعود نے حجاز کا بادشاہ بننے کا اعلان کر دیا۔ سب سے پہلے جس ملک نے ابن سعود کی بادشاہت کو تسلیم کیا وہ روس تھا۔ روس نے 11 فروری، 1926ء کو حجاز و نجد پر سعودی حکومت کو تسلیم کیا لیکن برطانیہ نے تاخیر سے کام لیا اور معاہدہ جدہ کے بعد تسلیم کیا۔ اس طرح سعودی مملکت اپنے زوال کے ایک سو سال بعد ایک بار پھر پوری قوت سے ابھر آئی اور عرب کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔

مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر قبضے کے بعد ابن سعود نے خلیفہ بننے کی کوشش نہیں کی بلکہ حجاز کا انتظام سنبھالنے اور جدید دور کے مسائل کو حل کرنے کے لیے انہوں نے 13 تا 19 مئی 1926ء کے درمیان ساری دنیا کے مسلمان رہنماؤں پر مشتمل ایک موتمر اسلامی طلب کی جس میں تیرہ اسلامی ملکوں نے شرکت کی۔ موتمر میں اسلامی ہند کے ایک وفد نے بھی شرکت کی جس کی سب سے ممتاز شخصیت مولانا محمد علی جوہر تھے۔ اگرچہ یہ موتمر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن اتحادِ اسلامی کی تحریک میں اس کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کا پہلا بین الاقوامی اجتماع تھا جسے ایک سربراہ مملکت نے طلب کیا تھا۔

1930ء میں ابن سعود نے عسیر اور نجران کے علاقوں کو بھی سعودی مملکت میں شامل کر لیا۔ یہ دونوں علاقے چونکہ یمن کی سرحد پر واقع تھے اور ان پر یمن کا بھی دعویٰ تھا اس لیے سعودی عرب کا یمن سے تصادم ہو گیا۔ سعودی عرب کی فوجوں نے جو یمن کی فوجوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور دینی جذبے سے سرشار تھیں، یمن کو بھی شکست دے دی اور 1934ء میں یمن کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا لیکن اسی سال بعض ممتاز مسلمانوں کی کوششوں سے جن میں امیر شکیب ارسلان کا نام قابل ذکر ہے، طائف میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان 20 مئی 1934ء کو ایک معاہدہ ہو گیا اور سعودی فوجوں کو یمن سے واپس بلا لیا گیا۔ سعودی افواج نے اس سے پہلے اردن کو بھی اپنے دائرۂ اقتدار میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انگریزوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اگر ابن سعود اردن اور یمن کی مہمات میں کامیاب ہوجاتے تو پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے تحت آجاتا لیکن اس وقت بھی ابن سعود کی حکومت رقبے کے لحاظ سے ایشیا میں سب سے بڑی عرب حکومت تھی اور یمن، عمان اور بعض ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر پورے جزیرہ نمائے عرب پر سعودی بالادستی قائم تھی۔

22 ستمبر 1932ء کو نجد و حجاز کی اس نئی حکومت کو سعودی عرب (عربی نام : المملكة العربیة السعودیة) کا نام دیا گیا۔

ابن سعود کا 51 سالہ دور حکومت 09 نومبر 1953ء  کو ان کے انتقال کے ساتھ ختم ہوا۔ وہ سعودی حکومت کے بانی تھے اور انہوں نے ایک پسماندہ اور بے وسائل ملک کو جس طرح ترقی کے راستے پر ڈالا۔

عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد میں سلمان بن عبدالعزیز آج بھی سعودی عرب میں بادشاہ ہے۔اس کی اولاد کی تعداد کم و بیش 89 تھی۔جن کے نام درج ذیل ہیں۔

بیٹے

سعود بن عبدالعزیز،  و فیصل بن عبدالعزیز آل سعود،  و خالد بن عبد العزیز،  وفہد بن عبدالعزیز،  وعبداللہ بن عبدالعزیز،  وسلمان بن عبدالعزیز،  وترکی اول بن عبدالعزیز آل سعود،  ومحمد بن عبدالعزیز آل سعود،  وناصر بن عبدالعزیز آل سعود،  وسعد بن عبدالعزیز آل سعود،  ومنصور بن عبدالعزیز آل سعود،  ونائف بن عبدالعزیز آل سعود،  ولطیفہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وبندربن عبدالعزیز آل سعود،  ومشعل بن عبد العزیز آل سعود،  وصیتہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وممدوح بن عبدالعزیز آل سعود،  والجوہرہ بنت عبد العزیز آل سعود،  والبندری بنت عبد العزیز آل سعود،  وعبد الالہ بن عبدالعزیز آل سعود،  ومشہور بن عبدالعزیز آل سعود،  وفواز بن عبدالعزیز آل سعود،  وبدر بن عبدالعزیز آل سعود،  وہذلول بن عبدالعزیز آل سعود،  وعبدالمجید بن عبدالعزیز آل سعود،  وترکی ثانی بن عبدالعزیز آل سعود،  وطلال بن عبدالعزیز آل سعود،  واحمد بن عبدالعزیز آل سعود،  وسلطان بن عبدالعزیز،  وعبدالرحمان بن عبدالعزیز آل سعود،  ومتعب بن عبدالعزیز آل سعود،  ومقرن بن عبدالعزیز آل سعود،  وسطام بن عبدالعزیز آل سعود،  ونواف بن عبدالعزیز آل سعود،  ومساعد بن عبدالعزیز آل سعود،  وثامر بن عبدالعزیز آل سعود،  وحمود بن عبدالعزیز آل سعود،  وعبد المحسن بن عبدالعزیز آل سعود،  وماجد بن عبدالعزیز آل سعود،  و مشاری بن عبدالعزیز آل سعود، 

بیٹیاں۔
 وھیا بنت عبد العزیز آل سعود،  ولؤلؤہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وسلطانہ بنت عبد العزیز آل سعود،  وخالد بن فیصل،  وانود بنت عبد العزیز۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...