Ad3

بخاری حدیث نمبر 6004

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا ، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا .

مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آتا تھا جتنا خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھا حالانکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے شادی سے تین سال پہلے وفات پا چکی تھیں۔ ( رشک کی وجہ یہ تھی ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں کثرت سے ان کا ذکر کرتے سنتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک خولدار موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بکری ذبح کرتے پھر اس میں سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو حصہ بھیجتے تھے۔

Narrated `Aisha: I never felt so jealous of any woman as I did of Khadija, though she had died three years before the Prophet married me, and that was because I heard him mentioning her too often, and because his Lord had ordered him to give her the glad tidings that she would have a palace in Paradise, made of Qasab and because he used to slaughter a sheep and distribute its meat among her friends.


No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...