ایک اندازے کے مطابق دنیا میں پیدا ہونے والی ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے
دنیا میں ہر سال تقریباً ایک اعشاریہ تین ارب ٹن کے برابر کھانا ضائع ہو جاتا ہے اور اس کا بڑا حصہ کوڑا کرکٹ کے گڑھوں میں پھینک دیا جاتا جس سے موسمیاتی تبدیلی کا عمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔
نیویارک کے مشہور شیف تباخ میکس لامنا کے بقول آج انسانیت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک ’بہت بڑا مسئلہ خوارک کا ضیاع ہے۔‘
میکس نے ’زیادہ پودے، کم ضیاع‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے اور درج ذیل مضمون میں ایسی تجاویز دیتے ہیں جن کی مدد سے ہم اور آپ اس روش کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
خوراک کا ضیاع آج انسانیت کو درپیش مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں بنائے جانے والے تمام کھانے میں سے ایک تہائی ضائع ہو جاتا ہے۔
کھانا ضائع ہونے کا مطلب صرف کھانا ضائع ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیسے، پانی، توانائی، زمین اور ذرائع آمد ورفت، ہر چیز ضائع ہوئی ہے۔
یہاں تک کہ اگر آپ کھانا پھینک رہے ہیں تو اس سے موسمیاتی تبدیلی پر بھی اثر پڑ رہا ہے، کیونکہ یہ کھانا اکثر کوڑا کرکٹ کے گڑھوں میں پھینکا جاتا ہے جہاں وہ گلتا سڑتا رہتا ہے جس سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جو آب و ہوا پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔
اگر کھانے کے ضیاع کو ہم ایک ملک تصور کریں تو امریکہ اور چین کے بعد آلودگی پھیلانے والی (گرین ہاؤس) گیسیں پیدا کرنے والا یہ تیسرا بڑا ملک ہوتا۔
کیا آپ کھانے کے ضیاع کو کم کرنے کے لئے کوئی تجویز دے سکتے ہیں؟؟
No comments:
Post a Comment