Ad3

اشیاء کی درجن کے حساب سے فروخت کیسے شروع ہوئی !!

اکثر انڈوں اور پھلوں میں مالٹے یا کیلے درجن کے حساب سے بکتے دیکھ کر ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ آخر کچھ چیزوں کو درجن میں کیوں فروخت کیاجاتا ہے.دراصل درجن میں اشیاء کی فروخت کے پیچھے ایک کہانی ہے جس کے مطابق پندھرویں اور سولہویں صدی میں برطانیہ کے زیر تسلط علاقوں سے یہ درجن انڈے والی روایت شروع ہوئی دراصل اس زمانے میں برطانوی علاقوں میں شلنگ کا سکہ چلتا تھا جس میں 12پینی ہوتے تھے۔اب کیونکہ اس زمانے میں انڈے کی قیمت ایک پینی تھی اس لیے ایک شلنگ میں 12 پینی ہوتی تھی اور یہیں سے یہ انڈے کو درجن میں فروخت کرنے کی روایت شروع ہو گئی اس زمانے کی ایک اور روایت کے مطابق ایک ہاتھ کی انگلیوں میں 12جوڑ ہوتے ہیں تو ایک دن کو 12-12 گھنٹوں پر مشتمل دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے سال میں 12 مہینے اور 12 ہی مکمل چاند ہوتے ہیں لہذا کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ 12 کی بہتر تقسیم ہے جو 10کی صورت میں ممکن نہیں  10چیزوں کی تقسیم کرنے کے لیے 2اور 5 کو ضرب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن 12کو 3 اور 4 یا 2اور 6 کی ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ گو کہ دنیا کے کئی ممالک میں انڈے ایک یا زیادہ تعداد میں خریدے جاسکتے ہیں لیکن بڑے اسٹورز بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں انہیں درجن کے پیکٹ میں ہی فروخت کیا جاتا ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں یہ کم تعداد میں بھی مل جاتے ہیں لیکن اس کا حساب کتاب پھر بھی درجن پر ہی منحصر ہے۔ بیکری و دیگر دکانوں پر آپ نے ضرور انڈے رکھنے والی خاص  پیکنگ ڈش دیکھی ہو گی جس میں موجود خانے میں اسے ٹوٹنے سے محفوظ رکھا جاتا ہےکہا جاتا ہے کہ اس پلیٹ کا استعمال 1911 ءمیں کینیڈا سے شروع ہوا۔ آخر میں درجن سے متعلق ایک دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ اردو میں درجن، فارسی میں دوجین اور انگریزی میں Dozen فرانسیسی لفظ Douzalne سے اخذ کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فرانسیسی زبان میں یہ لفظ 12 کے لیے استعمال ہونے والے لا طینی لفظ Duodclm سے بنایا گیا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...