آج کل آئے دن کوئی نہ کوئی کمپنی اپنا نۓ سے نۓ ماڈل کے بہترین اسمارٹ فون مارکیٹ میں متعارف کرا رہی ہے اور اس صورتحال میں ٹیکنالوجی سے ناواقف ایک عام صارف کے لئے یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے کہ آخر وہ کس فون کا انتخاب کرے اسمارٹ فونز کے اس دور میں سب سے ذیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے کہ کون سا موبائل فون خریدنا چاہیئے اور اس ضمن میں کن باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے.آج ہم آپکو اس سلسلے میں معلومات فراہم کرتے ہوۓ بتائیں گے کہ ایک مخصوص بجٹ کی رینج میں رہتے ہو ئے اگر اسمارٹ فون کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہو تو کن فیچرز کو ترجیح دینی چاہیے اور کن کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
1) فلیگ شپ سیریز
سب سے پہلے جس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے کسی بھی کمپنی کی فلیگ شپ سیریز کو ہی ترجیح دیں۔ فلیگ شپ سیریز کسی بھی کمپنی کی پریمیئم لائن اپ کو کہتے ہیں جیسا کہ سام سنگ کی ایس سیریز اور نوٹ سیریز، واوے (ہواوے) کی میٹ سیریز، ون پلس کی ٹی سیریز اور سونی کی ایکسپیریا وغیرہ کیونکہ ایسی سیریز میں ہر کمپنی اپنی حد تک سب سے بہترین ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر کا کمبینیشن دیتی ہے۔
2) سات اہم فیچرز
بنیادی طور پہ کسی بھی اسمارٹ فون کے سات اہم فیچرز ہو سکتے ہیں اور ان اہم فیچرز کے علاوہ باقی کمپونینٹس یا فیچرز ثانوی درجے میں آتے ہیں۔یہ سات اہم فیچرز درج ذیل ہیں
1. آپریٹنگ سسٹم
ان میں سب سے پہلا نمبر اسمارٹ فون کے سافٹ وئیر یعنی آپریٹنگ سسٹم کا ہے۔دنیا میں اس وقت دو آپریٹنگ سسٹم اینڈورائیڈ اور آئی او ایس (ایپل) کے فونز دستیاب ہیں.آئی فون کے علاوہ دیگر تمام اسمارٹ فونز اینڈورائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں صارف کو سب سے پہلے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کرنا چاہتا ہے اگر تو صارف کو آپریٹنگ سسٹم سے کوئی سروکار نہیں ہے تو آئی او ایس (ایپل) اسمارٹ فون پھر ایک ہی صورت میں قابل موازنہ ٹھہرے گا بشرطیہ صارف کی قوت خرید اسے اسکی اجازت دے. اس حوالے سے عام طور پہ کم قوت خرید کے حامل صارفین کے لیے آئی فون مناسب آپشن نہیں ہے چاہے پرانا ماڈل نسبتا سستا ہی کیوں نہ مل رہا ہو
اسے کسی بھی کمپنی کا اینڈورائیڈ موبائل فون خریدنا چاہئے مگر یہاں بھی اسے فلیگ شپ سیریز کو ہی فوقیت دینی چاہیے۔
2. ااسمارٹ فون کا پروسیسر
دوسرے نمبر پر کسی بھی موبائل کا سب سے اہم کمپونینٹ اس کا پروسیسر ہوتا ہے۔بنیادی طور پہ کسی بھی موبائل کی پرفارمنس کا انحصار اس کے پراسیسنگ یونٹ پر ہوتا ہے۔اس وقت دنیا میں سب سے ذیادہ استعمال ہونے والے پراسیسرز کوالکم نام کی امریکی کمپنی کے ہیں۔ایپل کے علاوہ دنیا کی ہر کمپنی کوالکم کے پراسیسرز کو استعمال کرتی ہے گو کہ سام سنگ، ہواوے سمیت چند اور کمپنیز اپنے پراسیسرز بھی بناتی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ وہ ان کا استعمال بھی اپنے نئے آنے والے فونز میں بڑھاتی چلی جا رہی ہیں تاھم ایک عام صارف کو کم رینج میں رہتے ہوئے کوالکم سنیپ ڈریگن 835 اور درمیانی رینج میں رہتے ہوئے کم از کم سنیپ ڈریگن 845 کےبرابر یا اس سے بہتر پرفارمنس کا حامل پراسیسر والا فون خریدنا چاہیے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اس سال 2019 میں متعارف کروائے گئے تقریبا تمام کمپنیوں کی فلیگ شپ سیریز کے اسمارٹ فونز میں کوالکم 755، ہواوے990 Kirin، سام سنگ 9825 Exynos یا ان کے برابر پرفارمنس دینے والے پراسیسرز کا استعمال کیا گیا ہے۔دوسری طرف ایپل نے اپنے آئی فون میں اے 13 بائینک چپ کا استعمال کیا ہے یاد رہے کہ ان تمام پراسیسنگ یونٹس کے حامل اسمارٹ فونز تھوڑے بہت فرق کے ساتھ بہترین پرفارمنس دینے کے قابل ہوتے ہیں۔
3. میموری
تیسرا اہم فیچر فون میموری ہے
اسمارٹ فونز میں دو طرح کی میموری ہوتی ہے جنہیں بالترتیب ریمRAM اور اسٹوریج کہتے ہیں یہاں ریم پراسیسنگ یونٹ کا ایک طرح سے حصہ.ہوتی ہے اور فون کی پرفارمنس ریم کی کیپسٹی کے راست متناسب ہوتی ہے لیکن یہاں پھر ایک مرتبہ کمپنی کے سافٹ وئیر کی پرفارمنس کا بہت ذیادہ دخل ہوتا ہے کہ وہ ریم کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔عام طور پر تمام اینڈورائیڈ فونز میں چار جی بی GB1 سے بارہ جی بی12 GB تک کی ریم دستیاب ہوتی ہے۔ عام صارف کے لیے کم اور درمیانی رینج میں رہتے ہوئے تین سے چھ جی بی ریم والے فون کا انتخاب کرنا چاہئے۔دوسری طرف اسٹوریج میموری چونکہ ماسواۓ چند موبائل فونز کے علاوہ تمام اینڈرائیڈ فونز میں میموری کارڈز کے ذریعے بآسانی بڑھائی جاسکتی ہے اس لیے اچھا موبائل کم اسٹوریج کے ساتھ سستا خریدنا بنسبت زیادہ اسٹوریج کے ساتھ کم کوالٹی والے سے زیادہ بہتر ہے۔
4. ڈسپلے
ایک اور اہم فیچر کسی بھی موبائل میں اس کا ڈسپلے ہے OLED کے آنے سے پہلے تمام کمپنیز ایل سی ڈی ڈسپلے کا ہی استعمال کرتی تھیں اور یہ ڈسپلے ابھی تک بہت سے موبائل فونز بشمول آئی فون 11 میں استعمال ہورہا ہے۔یہ آئی پی ایس -ایل سی ڈی ڈسپلے ہے جو ایل سی ڈی ٹیکنالوجی کا سب سے پریمئم ورژن ہے لیکن OLED کے آنے کے بعد ہر بڑی کمپنی نے اپنے فونز بالخصوص فلیگ شپ سیریز میں اس کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے OLED اسکرین والے فونز ایل سی ڈی ڈسپلے والے فونز سے نسبتا مہنگے ہوتے ہیں لیکن اگر آپ اچھی ریزولیوشن کے ساتھ آئی پی ایس
ایل سی ڈی والا فون لیتے ہیں تو آپ کو OLED کے مقابلے میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوگا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہو گا کہ اگر کم قیمت کا فون خریدنا مقصود ہو تو ڈسپلے کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ ایک 720 ایچ ڈی ڈسپلے 4.7 انچ تک کے فونز میں بصری لحاظ سے ایک عمدہ ڈسپلے ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ 1080 سے ذیادہ ریزولیوشن کے حامل فونز اگر 4.7 انچ سے چھوٹے سائز کے ڈسپلے کے ساتھ آتے ہیں تو 720 اور 1080 والے دونوں ڈسپلے کے مقابلے میں ان کے بصری تاثر میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ انسانی آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیت محدود ہے اور یہ ایک خاص سطح پہ جا کر زیادہ ریزولیوشن کے باوجود یکساں تاثر ہی دیتی ہے.علاوہ ازیں اسکرین کا ریفریش ریٹ اور Number of Nits بھی ڈسپلے کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔ سام سنگ، ایپل اور ہواوے سمیت تمام کمپنیوں کے فونز 60ہرٹز کے ریفریش ریٹ کے ساتھ آتے ہیں البتہ مارکیٹ میں اس وقت چند کمپنیز (Asus, OnePlus, Oppo,Google) نے 90اور 120ہرٹز کے ڈسپلے کے ساتھ بھی فونزمتعارف کروائے ہیں جنہیں بیٹری بھی ڈیڑھ سےدوگنا درکار ہوتی ہے۔
5. کیمرہ
موبائل فون میں کیمرہ ایک اہم کمپونینٹ سمجھا جانے لگا ہے موبائل کمپنیز عموما ذیادہ میگا پکسل دکھا کر اپنے فون کے کیمرے کو بہتر باور کروانے کی کوشش کرتی ہیں حالانکہ یہ سب اتنا سادہ نہیں ہے اور کم میگا پکسل والا کیمرہ بعض اوقات زیادہ میگا پکسل والے کیمرے کی نسبت اچھا رزلٹ دے سکتا ہے.عام کیمرے کی طرح موبائل کیمرے کو استعمال کرنے کے لیے بھی آپ کو تصویر کھنچنے کے بنیادی اصولوں سے واقف ہونا ضروری ہے البتہ نسبتا مہنگے اور جدید فونز میں سافٹ وئیر کی مدد سے صارف کو کافی مدد مہیا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے فوٹو گرافی کے اصولوں سے نابلد شخص بھی ایک اچھی تصویر لے سکتا ہے لیکن یہاں اس بات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ فون کیمرے کے دو بنیادی کمپونینٹ ہارڈ ویئر اور سافٹ وئیر ہیں۔ ہارڈ وئیر میں لینزکی استعداد اور معیار زیربحث ہوتا ہےجبکہ سافٹ وئیر اس لینز سے لی جانے والی تصاویر کو پراسس کرنے کے طریقہ کار سے متعلق ہوتا ہے اور کئی مرتبہ ایک کمپنی اپنے موبائل فون میں اچھا لینز استعمال کرنے کے باوجود اچھا رزلٹ نہیں دے پاتی کیونکہ وہ سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کی باہمی تعلق میں مار کھا جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس دوسری کمپنی نسبتا سستا اور کم استعداد کا حامل لینز استعمال کر کے اپنے سافٹ وئیر کی عملا بہتر پرفارمنس سے اچھا نتیجہ دے سکتی ہے۔ ڈی ایس ایل آر وغیرہ کی نسبت موبائل فون کے کیمرہ کے رزلٹ میں سافٹ وئیر کا کرداد بہت ذیادہ ہوتا ہے۔
6. بیٹری لائف
موبائل فونز کا ایک اور اہم ترین فیچر اس کی بیٹری لائف ہے اسمارٹ فونز جس قدر ذیادہ خصوصیات کا حامل ہوگا اسے اتنی ہی الیکٹرک پاور بھی درکا ر ہوگی جو کہ اسے بیٹری سے حاصل کرنی ہے۔ اچھی ریزولیوشن، ہائی اسپیڈ نیٹ ورک، بہتر ساؤنڈ سسٹم اور ہائی فریم ریٹ ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے بیٹری بھی اسی تناسب سے درکار ہوتی ہے۔مثال کے طور پہ اگر ایک4.7 انچ اسکرین والے فون کی اسکرین ایچ ڈی ہو اور دوسرااسی سائز کا فون 4K ریزولیوشن کے ساتھ ہو تو دونوں کا بصری تاثرتو آپ کی آنکھ کے لیے یکساں ہو گا جبکہ موخرالذکر کو ڈبل کے قریب بیٹری درکار ہوگی اس لیے بیٹری لائف کا اندازہ صرف اس کی کیپیسٹی (جو ملی ایمپئیر میں ناپی جاتی ہے) سے نہیں لگایا جا سکتا۔کسی فون کے ہارڈوئیر مختلف ہونے کی صورت میں اس کی 2500 ملی ایمپئر کی بیٹری یکساں استعمال کے باوجود دوسرے فون میں موجود 3500-3000 ملی ایمپئیر کی بیٹری کے برابر چل سکتی ہے۔
7. نیٹ ورک
نیٹ ورک کسی بھی موبائل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن عام طور پہ یہ اس وجہ سے زیر بحث نہیں آتا کیونکہ نیٹ ورک کی جنریشن روزانہ تبدیل نہیں ہوتی کسی نئی جنریشن (جیسا کہ آج کل فائیو جی متعارف ہوئی ہے) کے آنے کے ایک دو سال کے دورانیے میں تو اس کی بنیاد پہ فونز کا انتخاب کیا جاتا ہے لیکن بعدازاں چونکہ ذیادہ تر موبائل میں نئی جنریشن کے نیٹ ورک کی سپورٹ مہیا کر دی جاتی ہے جیسا کہ آج کل کم قیمت فونز میں بھی فور جی نیٹ ورک استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔جبکہ 2014 سے پہلے تک ایسا نہیں تھا اسی طرح آج کل چند موبائل فونزمیں ہی فائیو جی استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو کہ اچھے خاصے مہنگے بھی ہیں جب کہ ایک دو سال کے بعد یہ سہولت عام اور سستے فونز میں بھی دستیاب ہو گی۔
اس کے علاوہ ساؤنڈ ،فاسٹ چارجنگ، کنکٹویٹی ٹائپ وغیرہ چند ثانوی فیچرز اور بھی ہیں لیکن بنیادی فیچرز وہی ہیں جن کی وضاحت اوپر کی گئی ہے اسکے علاوہ اگر آپ نیا اسمارٹ فون خریدتے وقت سب سےپہلی ترجیح نیٹ ورک اور پراسیسر، دوسرے نمبرپہ میموری اور پھر آخر میں بالترتیب بیٹری، کیمرہ، ڈسپلے اسٹوریج، فاسٹ چارجنگ، کنکٹویٹی ٹائپ اور اسپیکرز کو بھی دیں تب بھی آپ اپنی رینج میں رہتے ہوئے ایک اچھے فون کا انتخاب کر سکتے ہیں .
No comments:
Post a Comment