Ad3

ٹراؤٹ مچھلی

ٹراؤٹ مچھلی
وادی کاغان میں جو ندی نالے پائے جاتے ہیں ان کی تہہ پتھریلی ہے، پانی کا بہاؤ تیز ہے، پتھروں کے ساتھ پانی کے ٹکراؤ سے اضطراب آمیز نغمہ پھوٹتا ہے۔ دریائے نین سکھ یا دریائے کنہار سڑک کے ساتھ ساتھ کسی سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا، مست اونٹ کی طرح جھاگ دیتا ہوا اور ہاتھی کی طرح چنگھاڑتا ہوا بہہ رہا ہے۔ اگر کوئی انسان بدقسمتی سے اس میں گر پڑے تو لاش تو کیا اس کا نشان تک بھی نہ ملے۔ کیا ایسے تند و تیز دریا اور ندی نالوں کی خوفناک موجوں میں نباتات اور حیوانات کی زندگی ممکن ہے؟
یقین جانیئے کہ ایسا ہے، بعض حیوانات اور پودے ان ندی نالوں اور دریا میں بڑے سکون کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر ان کو میدانی علاقوں کے ندی نالوں اور دریا میں رکھا جائے تو یہ زندہ نہیں رہ سکتے۔
ان علاقوں میں جو مچھلیاں پائی جاتی ہیں ان مچھلیوں کی جسمانی ساخت اور فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ نہ صرف یہ پانی کی مخالف سمت میں بڑی تیزی سے تیر سکتی ہیں بلکہ پتھروں کے ساتھ چمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ اس طرح پتھروں کی موجودگی ان مچھلیوں کیلئے بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہاں کے ندی نالوں میں عام قسم کے پودے پیدا نہیں ہوتے۔ کائی کی بعض قسمیں ایسی ہیںجو پتھروں کیساتھ چمٹ جاتی ہیں اور پانی اپنی پوری قوت کے باوجود انہیں علیحدہ نہیں کر سکتا۔ اکثر مچھلیاں اسی کائی پر گزارا کرتی ہیں، مگر بعض مچھلیاں پتنگوں کے کِرم بھی کھاتی ہیں۔ یہ خاص قسم کے کِرم پتھروں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔
کاغان کی مچھلیوں میں سب سے خوبصورت اور طاقتور ”ٹراؤٹ مچھلی“ ہے ۔ آج سے بیسیوں سال پہلے یہ مچھلی یورپ سے کشمیر لائی گئی، پھر کشمیر سے اس کی افزائش نسل وادی کاغان میں شروع کر دی گئی۔ اب پاکستان کے دوسرے پہاڑی علاقوں میں بھی اس کی پرورش کی جا رہی ہے۔ یہ مچھلی تقریباً 10 سے 16 انچ لمبی ہوتی ہے۔ سر کے علاوہ باقی جسم چھوٹے چھوٹے چانوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ پشتی پنکھوں، سر اور جسم کے بالائی حصوں پر سرخ سیاہ دھبے ہوتے ہیں، جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جسم کے زیریں حصے کا رنگ خاکستری ہوتا ہے۔ منہ میں تیز دانت ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ دوسری مچھلیوں کے علاوہ چھوٹی ٹراؤٹ مچھلیوں کو بھی ہڑپ کر جاتی ہے۔ اس وجہ سے اب اس کا وجود کاغان کی قدیم مچھلیوں کیلئے بلائے ناگہانی بن چکا ہے۔
اس کے جسم میں کانٹے بہت کم ہوتے ہیں۔ ذائقہ نہایت ہی لذیذ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر شکاری لوگ اسے باقی مچھلیوں پر ترجیح دیتے ہیں اور مزے لے لے کر اس کا گوشت کھاتے ہیں۔
ٹراؤٹ مچھلی اپنی عادات و اطوار کے لحاظ سے بڑی عجیب و غریب ہے۔ بڑی مچھلیاں اپنا ایک چھوٹا سا احاطہ منتخب کرتی ہیں۔ اس احاطے میں کسی دوسری مچھلی کا داخل ہونا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ پانی کے بہاؤ کے خلاف برق رفتاری سے سفر کرنے والی یہ طاقتور مچھلی جب دریا کی تہہ میں پتھروں پر جلوہ فگن ہوتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی شاہسوار گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر بیٹھا ہو۔
جب مادہ مچھلی کا انڈے دینے کا موسم قریب آتا ہے تو اس کے نر کا رنگ قدرتی طور پر زیادہ چمکدار ہو جاتا ہے۔ مادہ دریا کے کنارے پتھروں میں چھوٹا سا گڑھا یا گھونسلا اپنی دم کی مدد سے تعمیر کرتی ہے۔ اس گھونسلے کا قطر 8 سے 12 انچ تک ہوتا ہے۔ مادہ مچھلی اس میں انڈے دیتی ہے، نر ان انڈوں پر تولیدی مادہ چھڑک دیتا ہے اس کے بعد وہ انڈوں کی حفاظت شروع کر دیتا ہے. کسی دوسری مچھلی کو ان کے پاس پھٹکنے نہیں دیتا، حتیٰ کہ ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں جب یہ بچے ذرا بڑے ہو جاتے ہیں تو نر مچھلی کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اگر نر ایسا نہ کرے تو عین ممکن ہے کہ دوسری مچھلیاں ان انڈوں اور مچھلیوں کو کھا جائیں۔ یوں کہنا چاہیئے کہ قدرت نے نر کے دل میں پدرانہ شفقت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے اور ان بچوں کا کافی حد تک اسی پدرانہ شفقت پر انحصار ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...