Ad3

کوس مینار

جہانگیر بادشاہ نے 1619ء میں آگرہ اور لاہور کے درمیان ہرکوس پر ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہر تین کوس کے فاصلے پر مسافروں کی سہولت کے لیے کنوئیں بھی کھدوائے۔ ا نہیں کوس مینار بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مینار لاہور سے واہگہ جاتے ہوئے دائیں سمت باٹا پور سے پہلے کھیتوں میں موجود ہیں۔ یہ عمودی اور چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔ ایک مینار جو کہ جسامت میں ان میناروں سے بہت بڑا ہے ریلوے شیڈ کے پاس سے ایک سڑک سیدھی ریلوے پھاٹک سے گزرتی ہوئی سیدھی گڑھی شاہو کی طرف جاتی ہے۔ یہ مینار ریلوے لائن کے پاس موجود ہے۔ اگر بڑے کوس مینار کو دوسرے کوس مینار سے ملایا جائے تو مقبرہ علی مردان خان، گلابی باغ، باغ مہابت خان، بیگم پورہ، انگوری باغ اور شالامار باغ سب ایک طرف رہ جاتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کوس مینار جسامت میں بہت بڑا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا چوک ہوگا اوریہاں سے سڑک مڑ کر ان سے عمارات کے درمیان میں سے گزری ہوگی۔
_____________
لاہور سے دہلي کا راستہ بتانے والا يہ تاريخی  کوس مينار جو کبھی  ہر دو کوس کے فاصلہ سے چاروں اطراف کے مُسافروں کے لئے نشان راہ تھا، آج بمشکل اپنے وجود کو بچائے گڑھی شاہوکے قريب آبادی کے اندر گھرا ہوا ہے(تصویر میں یہ کھیتوں کے درمیان آج موجود ہے)
________________
برِ صغیر پاک و ہند کی تاریخ میں گذشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ 1001 عیسوی کا آغاز ہندوستان میں محمود غزنوی کے حملوں سے ہوا۔ ہندوستان کی اس ہزار سالہ تاریخ میں غزنوی، لودھی، تغلق، مغل خاندانوں کی حکومتیں آئیں، اور پھر آخر میں برطانوی راج جس کا انجام ہندوستان کی تقسیم پر ہوا۔

سولہوویں صدی میں جب شیر شاہ سوری نے جب ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی تو اس کی ترجیحات میں 2500 کلومیٹر طویل قدیم سڑک جی ٹی روڈ کی تعمیرِ نو تھی، جو کابل سے لے کر کلکتہ تک پھیلی ہے، تاکہ سرکاری پیغام رسانی اور تجارت کو مؤثر اور تیز تر بنایا جائے۔

اس سڑک کے بارے میں روایت ہے کہ اس کا پہلے نام جرنیلی سڑک تھا جو بعد میں انگریزوں کے دور حکمرانی میں بدل کر جی ٹی روڈ یعنی گرینڈ ٹرنک روڈ رکھا گیا۔ سینکڑوں سال قدیم اس سڑک کا گزر کابل سے ہوتا ہوا پہلے لاہور پھر دہلی سے ہو کر بالآخر کلکتہ جا کر ختم ہوتا ہے۔ کابل افغانستان میں حکومتوں کا مرکز رہا دہلی مغل بادشاہوں اور پھر کلکتہ انگریز سرکار کی حکومت کا ہیڈ کوارٹر بنا۔

یہ جرنیلی سڑک اٹھارویں صدی تک نقل و حمل اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی۔ جرنیلی سڑک کا گزر دو ہزار سال سے بھی زائد قدیم تہذیبی مرکز ٹیکسلا سے بھی ہوتا ہے۔ اس سڑک کے کناروں پر مسافروں کی سہولیات کی خاطر جگہ جگہ سرائے بنائے گئے اور سائے کے لیے درختوں سے سجایا گیا۔(تصویر میں یہ کوس مینار بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں دیکھایا گیا ہے)

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...