پیروں اور ایڑی کی صفائی ہر موسم اور ہر صورت میں ضروری ہے،سرد موسم میں جلد کی نمی کم ہوجاتی ہے تیز ہوائیں جلد کو خشک بنا دیتی ہیں پاؤں کھردرے اور ایڑیاں پھٹنے لگتی ہیں اگر ان پر توجہ نہ دی جائے تو یہ پھٹی ہوئی ایڑیاں زخم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں.ایڑی جسم کا سب سے مضبوط اور سخت حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ انسان کے سارے وجود کا وزن برداشت کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ افراد جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے انہیں ایڑیوں کے درد کے مسائل کا بھی اتنا ہی زیادہ سامنا رہتا ہے۔یوں تو ایڑی کے در د کی بے شمار وجوہات اب تک سامنے آچکی ہیں لیکن کچھ وجوہات اتنی عام ہیں کہ اگر ان پر ذرا سی توجہ دی جائے تو ان سے بہت حد تک نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔خاص طور پر سردیوں کے موسم میں لوگوں کو ایڑیوں کے درد کا زیادہ سامنا رہتاہے۔
ایڑیوں کے درد کی علامات :
1) ایڑی کے درد کے باعث چلنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور چال متاثر ہوتی ہے جو دیکھنے والے کو اچھی محسوس نہیں ہوتی۔
2) ایڑی کی جلد بہت زیادہ خشک ہونے لگتی ہے اور اس میں کریکس یعنی لمبی اور گہری لکیریں نظر آنے لگتی ہیں۔
3) ننگے پیر چلتے ہوئے ایڑی کی کھال سے نکلنے والی باریک نوکیں جرابوں کارپیٹ اور ابھری ہوئی دریوں سے الجھنے لگتی ہیں۔
4) ایڑیوں میں اکثر سنناہٹ محسوس ہوتی ہے ایڑیوں کا سُن ہوجانا اور پیروں کی سوجن بھی ایڑی کے درد کا اشارہ ہوتاہے
ایڑیوں میں درد کی وجوہات :
1) موسم سرما میں خشک ہوائوں اور ٹھنڈ زیادہ ہونے کی صورت میں درد بڑھنے لگتاہے۔
2) پانی میں بہت زیادہ وقت گزارنے سے پاؤں گیلے رہتے ہیں کھال میں نمی آجاتی ہے جس کی وجہ سے ایڑیوں میں درد پیدا ہوتا ہے۔
3) ایڑیوں میں درد کا ہونا اور ایڑیوں کا پھٹنا مورثی بیماری بھی ہوسکتی ہےاگر فیملی کا کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہے تو اس کا مکمل علاج کروا کے خاندان کے دیگر افراد کو بچایا جاسکتاہے
4) ضرورت سے زیادہ اونچی ہیل کا جوتا پہننے سے ایڑیوں کا درد پیدا ہوتا ہے، ماہرین کے مطابق بالکل فلیٹ چپل پہننے سے بھی ایڑیوں کا درد ہوتا ہےلہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے جوتے کا انتخاب کیا جائے جو درمیانی ہیل کا ہو۔
5) جسم میں پانی کی کمی جلد کی نمی کو ختم کردیتی ہے جس کے نیتجے میں جلد خشک اور کھردری ہوجاتی ہے اور خاص طور پر اس کا اثر ایڑیوں میں درد کی شکل میں سامنے آتا ہے
6) ایسے جوتے جو بہت زیادہ تنگ ہوں اور ان میں ہوا کے گزرنے کی بھی گنجائش نہ ہو ان سے بھی ایڑیوں کا درد جنم لیتا ہے ۔
7) ایڑیوں میں درد، خشکی سنسناہٹ اور زخم کا ہونا شوگر کی وجہ تصور کی جاتی ہے ایسے افراد جو شوگر کے مریض ہیں ان کو ایڑیوں کے درد کا سامنا اکثر رہتاہے۔
8) ایڑیوں کے درد کی ایک وجہ ضرورت سے زیادہ اور بے آرام جوتا پہن کر بہت زیادہ چلنا بھی ہے
9) مٹی, دھول اور گردو غبار پیدل چلنے والوں کی ایڑیوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہےجس کے نتیجے میں اکثر انفیکشن بھی ہوجاتا ہے اور ایڑیوں کا درد زور پکڑ لیتاہے۔
10) ایڑیوں کے اندر موجود ٹشوز پھٹنے کے باعث درد کی شدت میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب جلد بہت زیادہ خشک ہونے لگتی ہے
11) کسی ایک جگہ پر دیر تک کھڑے رہنے سے بھی ایڑیوں میں درد ہونے لگتا ہے وہ لوگ جو کسی ایسے پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں جہاں ان کا کام بیٹھنے کی بجائے کھڑے رہناہو تو ان کو ایڑیوں کے درد کا سامنا رہتاہے۔
12) بہت زیادہ وزن یا موٹاپا بھی ایڑیوں کے درد کا سبب بنتا ہے کیوں کہ ایڑیوں سارے جسم کا وزن برداشت کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ایڑی جسم کا سب سے سخت حصہ شمار کیا جاتاہے۔
ایڑیوں کے درد سے بچنے کی احتیاطیں :
1) ایسی خواتین جو گھروں میں کام کے دوران چپل نہیں پہنتی انھیں چاہیے کہ وہ بغیر چپل پہنے خاص طور پر موسم سرما میں اس طرح کام کرنے سے گریز کریں
2) گھروں میں بچھے ہوئے کارپٹ اور کھردرے فرش پر ننگے پاؤں کام کرنے کی بجائےجرابیں یعنی موزے پہن کر کام کریں۔
3) اگر آپ کی ایڑیاں خشک ہیں تو رات کو سونے سے پہلے ان کو اچھی طرح صاف کریں اور ان پر کریم یا لوشن لگائیں تا کہ خشکی سے بچا جا سکے۔
4) ایڑی کا درد زیادہ ہوجانے کی صورت میں شوگر ٹیسٹ کروائیں تاکہ ایڑیوں میں درد کی اصل وجہ سامنے آسکے۔
ایڑی کے درد میں فوری اور موثر علاج :
1)پاؤں اور ایڑیوں کو روزانہ رات میں پابندی سے نیم گرم پانی سے دھوئیں۔
2) خشک موسم میں ایڑیوں اور پاؤں پر رات کو سونے سے قبل ویسلین لگائیں۔
3) ایڑیوں پر پڑنے والے کریکس یعنی دراڑیں زخم کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہیں لیکن اگر ان پر کوئی معیاری کریم لگائی جائے تو بہت حد تک ان کریکس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
4) خشک موسم میں پھٹی ہوئی ایڑیوں اور پاؤں کی حفاظت کے لیے دودھ کی ملائی جادوئی اثر رکھتی ہے۔ ملائی میں لیموں کے چند قطرے شامل کر کے ایڑیوں پر لگائیں ایڑیاں پھٹنےاور درد سے محفوظ رہیں گی۔
5) نیم گرم پانی میں نمک اور ملائی ملا کر پاؤں کچھ دیر تک اس میں ڈبو کے رکھنے سے ایڑیاں نرم اور صاف ہوجاتی ہیں۔
6) پیڈی کیور اس کے لیے بہت ہی موثر اور جامع علاج ہے۔
7) پگھلے ہوئے موم کے قطرے ایڑیوں کی دراڑیں بھرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور اس عمل سے ایڑیوں کے درد میں کمی واقع ہوتی ہے۔
8) ہاتھوں، پیروں اور پھٹی ہوئی ایڑیوں پر گلیسرین لگانے سے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔
9) ایڑیوں پر ایسی کریم استعمال کریں جس میں یوریا شامل ہو کیونکہ یوریا جسم کی چکنائی میں اضافہ کر کے اس کی خشکی اور الرجی کو کم کرتا ہے اور جلد کو ہموار بناتا ہے اور درد کو کھینچ لیتا ہے۔
10) زیادہ سے زیادہ پانی پئیں تاکہ جلد کو نمی حاصل ہو اور خاص طور پر موسم سرما میں کوشش کرکے دن میں کم سے کم چھ گلاس پانی ضرور پئیں
11) ایڑیوں کو پھٹنے اور درد سے بچانے کے لیے رات کو ناریل کا تیل لگا کر اسے کپڑے سے ڈھانپ کر سوجائیں اس عمل سے پیروں کی خشک جلد نرم و ملائم ہوجائے گی اور ایڑیوں کا درد بھی غائب ہوجائےگا۔
No comments:
Post a Comment