Ad3

بخاری حدیث نمبر 6886

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ :    لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، فَقَالَ : لَا تُلِدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ    .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں  ( مرض الوفات کے موقع پر )  آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔

Narrated `Aisha: We poured medicine into the mouth of the Prophet during his ailment. He said,   Don't pour medicine into my mouth.   (We thought he said that) out of the aversion a patient usually has for medicines. When he improved and felt better he said,   There is none of you but will be forced to drink medicine, except Al-`Abbas, for he did not witness your deed.


No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...