Ad3

مسلم حدیث نمبر 6265

 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لَهَا، وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَايْمُ اللهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ - يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ - وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ، فَأُوصِيكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيكُمْ»

 سالم نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما   )  سے روایت کی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا اور ( اس وقت )  آپ منبر پر تھے :   اگر تم اسکی امارت پر اعتراض کررہے ہو آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے تھی ۔ تو اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر ( بھی )  اعتراض کرچکے ہو ۔   اللہ کی قسم! وہ بھی امارت کا اہل تھا  ۔ اللہ کی قسم! وہ سب لوگوں سے بڑھ کر مجھے محبوب تھے۔ اللہ کی قسم! یہ بھی امارت کا اہل ہے۔ آپ کی مراد حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے تھی ۔۔اللہ کی قسم!اس کے بعد  یہ بھی مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ میں تمھیں اس کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمھارے نیک ترین لوگوں میں سے ہے ۔

 Salim reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said on the pulpit:

You object to the command of Usima b. Zaid as you had objected before to the command of his father (Zaid). By Allah, he was most competent for it and, by Allah, he was dearest to me amongst people and, by Allah, the same is the case with Usama b. Zaid. He is most dear to me after him and I advise you to treat him well for he is pious amongst you. 

    

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...