Ad3

مسلم حدیث نمبر 6268

 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا - أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ:    كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ، فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ، ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ   

 ابو معاویہ نے عاصم احول سے  ، انھوں نے مورق عجلی سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے آتے تو آپ کے گھر کے بچوں کو  ( باہر لے جاکر )  آپ سے ملایا جاتا ، ایک بار آپ سفر سے آئے ، مجھے سب سے پہلے آپ کے پاس پہنچا دیاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا دیا  ، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک صاحبزادے کو لایا گیا تو انھیں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے بٹھا لیا ۔ کہا : تو ہم تینوں کو ایک سواری پر مدینہ کے اندر لایا گیا ۔

 Abdullah b. Ja'far reported that when Allah's Messenger (may peace be, upon him) came back from a journey, the children of his family used to accord him welcome. It was in this way that once he came back from a journey and I went to him first of all. He mounted me before him. Then there came one of the two sons of Fatima and he mounted him behind him and this is how we three entered Medina riding on a beast.


No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...