قرآن حکیم ہی ایک ایسی کتاب ہے جو صحیح اور عوامی طریق پرغذاکھانے کاانسان کوصحیح طریقہ بتاتی ہے۔میںیہ بات اپنے مذہب ،ایمان اور عقیدہ کی بناء پر نہیں کہتابلکہ علم وفن اور سائنس کومدنظر رکھ کر کہتاہوں جس کومیری اس بات میں مبالغہ معلوم ہو اس کوچیلنج ہے کہ قرآن حکیم کے سیدھے سادے اوریقینی طریق غذاکے استعمال کو دنیا کی کسی طبی یا سائنسی کتاب سے نکال کردکھادے میں اس شخص کی عظمت کوتسلیم کرلوں گا۔ایک بات میں یہاں اور بیان کر دوں گاکہ میں نے گذشتہ تیس سالوں میں کسی اسلامی قا نون کواس وقت تک تسلیم نہیں کیا جب تک اس کی حکمت وسائنس اورنفسیات کے قانون کوپرکھ نہیں لیا۔البتہ بعض مقامات پردنیا کی حکمت وسائنس اور نفسیات کے اصول غلط ہوجاتے ہیں لیکن قرآن حکیم کے قوانین اور سنت الہیہ میں فرق نہیں آتا۔ کیونکہ حقیقت ہی قانون ہے اور قرآنِ حکیم سرتاپا حقیقت ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔
کلو وشرابوولاتسریفو
ترجمہ:کھاؤپیو مگربغیر ضرورت کے صرف نہ کرو
کتنی سادگی سے تین باتیں کہہ دی ہیں اور اس میں کھا نے پینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جس قدر جس کادل چاہے کھائے پئے کوئی کمی بیشی کی مقدار مقرر نہیں کی گئی ۔زیادہ کھانے والے بھی ہوتے ہیں اور کم کھانے والے بھی۔ہرایک کو کھلی اجازت ہے مگر تاکیدہے کہ بغیر ضرورت کھاناپینا منع ہے۔ اس ضرورت کا اندازہ کون لگائے۔اس کیلئے ہمارے سامنے پیٹ کی طلب ہے یعنی جوکچھ وہ مانگ رہاہے وہ اس کی ضرورت ہے اس کو بھوک ہے یا جوکچھ کھایاپیاجارہاہے وہ صرف ایک خواہش کے تحت کھایاجارہاہے ۔اگربھوک پیاس کے بغیر صرف خواہش اور لذت کیلئے کھایاپیاجارہاہے تو پھریہ اصراف ہے ۔اس کوقرآن منع کرتاہے۔بھوک اورپیاس کا کون اندازہ لگائے ۔اس کاآسانی سے اندازہ روزوں سے لگایاجاسکتاہے کہ بھوک اور پیاس کیاہوتی ہے اور اس وقت کتناکھایاپیا جاسکتاہے۔گویاصحیح بھوک اور پیاس کے اندازکے مطابق بھوک پیاس ہے تو کھایاپیاجاسکتاہے ورنہ اس سے کم بھوک اورپیاس میں کھاؤپیوگے تویہ خواہش اور لذت ہوگی ضرورت نہیں۔
مقدارغذاکااندازہ: مقدار غذاجوایک وقت کھانی چاہیے اور شدید بھوک پر ۔بھوک کا اندازہ چاہے وہ تیسرے روزہی کیوں نہ لگے پیٹ بھرنے سے کرسکتاہے۔مثلاً شدید بھوک میں انسان اپنے علاقہ ومقام اور معمول کے مطابق تین عدد روٹیاں یاچپاتیاں یا اتنی تھالیاں بھرکر کھاسکتاہے توپھرانسان پرلازم ہے کہ جب تک اس قدر کھانے کی ضرورت نہ ہو غذا کو ہاتھ نہ لگائے ۔جولوگ کم غذاکھاتے ہیں۔ ان کے پیٹ میں پہلے ہی غذاپڑی ہوئی خمیر بن رہی ہوتی ہے ۔اس لئے وہ تھوڑی غذاکھاتے ہیں اور وہ بھی پیٹ میں غذاسے مل کر خمیر بن جاتی ہے۔اس طرح خمیر کے ساتھ تبخیر کاسلسلہ جاری رہتاہے جوبڑھ کر زہرکی صورت اختیار کرلیتاہے جس کا نتیجہ مرض ا ور ضعف کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔
بلاضرورت غذاضعف پیداکرتی ہے: عام طورپر اس قول وفعل اوربات و عمل پر سوفیصد یقین پایاجاتاہے کہ ضرورت وبےضرورت غذا کھالی جائے تووہ جسم انسان کے اندرجاکریقینا طاقت پیداکرے گی۔اسی یقین کے ساتھ کمزوری اور مرض کی حالت میں بھی یہی کوشش کی جاتی ہے اور مریض کو مقوی غذادی جاتی ہے لیکن یہ نظریہ اور یقین حقیقت میں غلط ہے کیونکہ بلاضرورت غذاہمیشہ ضعف اور مرض پیدا کرتی ہے۔جولوگ صحت اور طاقت کے متلاشی ہیں ان کو بلاضرورت کھانا تورہاایک طرف اس کوہاتھ لگانے اوردیکھنے سے بھی دور رہنا چاہیے۔کیونکہ ہر غذاکودیکھنے اور چھونے سے بھی جسم میں لطف ولذت پیداہوتی ہے۔اس کابھی جسم پراثرہوتاہے جیسے ترشی کو دیکھ کرمنہ میں پانی آجاتاہے۔
ہضم غذا:جوغذاہم کھاتے ہیں اس کا ہضم منہ سے شروع ہوتاہے۔لعاب دہن اور منہ اور دانتوں کی حرکات ودبا اس کی شکل وکیفیت کوبدل کراس کو ہضم کرنے کی ابتداشروع کردیتے ہیں ۔ جب غذامعدہ میں اترجاتی ہے تو اس میں ضرورت کے مطابق رطوبت معدی اپنااثر کرکے اس کوایک خاص قسم کا کیمیائی محلول بنادیتی ہے اوراس کااکثرحصہ ہضم ہوکرخون میں شامل ہوجاتاہے۔ اور باقی خوراک آنتوں میں اتر جاتی ہے۔معدہ کے فعل وعمل میں تقریباًتین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔چھوٹی آنتوں میں پھراس کی رطوبت اور لبلبہ کی رطوبت اورجگرکا صفراباری باری اوروقتاً فوقتاً شریک ہوکراس میں ہضم ہونے کی قوت پیداکرتے ہیں ۔اس عمل وفعل میں تقریباًچارگھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ پھر کہیں جاکرغذاپورے طورپر جگرکے ذریعے پختہ ہو کر خون میں شامل ہوتی ہے۔
ظاہر میں توایسا معلو م ہوتاہے کہ غذاہضم ہوگئی ہے کیونکہ وہ خون میں بن جاتی ہے لیکن طب قدیم میں صحیح معنوں میں غذااس وقت تک ہضم نہیں ہوتی جب تک وہ خون سے جداہوکر جسم پر مترشح نہ ہواور پھر طبیعت اس کوجذب کرکے جزوبدن نہ بنادے ۔غذاکوخون بننے تک اگرگیارہ گھنٹے صرف ہوتے ہیں توجزوبدن ہونے تک تین چارگھنٹے اور خرچ ہوجاتے ہیں۔
غذاکادرمیانی وقفہ: ظاہرہ تویہ معلوم ہوتاہے کہ جب تک ایک وقت کی کھائی ہوئی غذاخون بن کرجزوبدن نہ بن جائے اس وقت تک دوسری غذانہیں کھانی چاہیے کیونکہ جوغذاہضم ہورہی ہے اس کی طرف پورے جسم وروح اور خون اور طوبت کی توجہ ہے۔جب بھی اس ہضم کے دوران میں غذاکھائی جائے گی توجوتوجہ اول غذاکی طرف ہے وہ یقینا نئی غذاکی طرف لگ جائے گی۔اس طرح اول غذاپوری طرح ہضم ہونے سے رہ جائے گی اور جہاں وہ رہ گئی ہے وہاں پڑی رہنے سے متعفن ہوجائے گی۔اور یہ تعفن باعث امراض ہوگااور یقینا طاقت پیداکرنے کی بجائے ضعف پیداکرے گی۔ اگر طبیعت دوسری غذاکی متوجہ نہیں ہوگی تو یقیناوہ بغیر ہضم ہوئے پڑی رہے گی اور متعفن ہوجائے گی۔اب اصولاًاور فطرتاً پندرہ سولہ گھنٹے اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے۔اس لئے اطباء اور حکماء نے اس وقت کو زیادہ اہمیت دی ہے جس وقت ہضم میں تیزی اور طبیعت کی توجہ زیادہ ہو یہ صورت اس وقت تک قائم رہتی ہے ۔جب تک غذاچھوٹی آنتوں سے بڑی آنتوں میں اترجائے اس عرصہ میں تقریباً پانچ سات گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔دوسرے معنوں میں اس طرح سمجھ لیں کہ جب تک غذاکے ہضم میں خون کی مختلف رطوبات شامل ہوتی رہتی ہیں اس وقت تک دوسری غذانہیں کھانی چاہیے کیونکہ اس طرح وہ رطوبات جو ہضم غذامیں شامل ہوتی رہتی ہیں رک جاتی ہیں اور اس طرح وہ خراب اور نامکمل رہ جاتی ہیں ۔گویا چھ سات گھنٹے وقفہ ہر غذا کے درمیان لازمی اور یقینی امر ہے ورنہ صحت کا قائم رہناناممکن ہے ۔
روزہ اور وقفہ غذا: اسلام میں روزہ فرض ہے۔ہرسال پورے ایک ماہ کے روزے ہر بالغ اور صحیح الدماغ انسان پر فرض ہیں۔ہر روزہ کی ابتدا صبح سورج نکلنے سے تقریباً ڈیرھ گھنٹہ پہلے شروع ہوتاہے اور سورج غروب ہونے کے ساتھ ختم ہوجاتاہے۔اس حساب سے روزے کاوقفہ تیرہ چودہ گھنٹے سے پندرہ سولہ گھنٹے بن جاتاہے ۔اس وقفہ پراگرغورکیاجائے توپتہ چلتاہے کہ ہرسال میں ایک ماہ کے روزے رکھنا ہضم غذا کے مکمل نظام کوچلانااور قائم کرناہے۔ اس طرح سارے جسم کی مکمل صفائی ہوجاتی ہے اور خون کیمیائی طورپرمکمل ہوجاتاہے اور تمام اعضاء کے افعال اور انسجہ درست ہوجاتے ہیں ۔
روزہ اور کنٹرول غذا: روزے میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ وقت مقررہ کے بعد نہ روزہ رکھاجاسکتاہے اور نہ ہی وقت مقررہ سے پہلے کھولاجاسکتا ہے ۔گویا روزہ رکھ لینے کے بعد ہرقسم کاکھاناپینا بالکل بندبلکہ کھانے پینے کی چیزوں کودیکھنا بھی اچھاخیال نہیںکیاجاتا۔اس لئے دوسروں کو تاکید ہے کہ روزہ دار کے سامنے کھانااور پینا نہیں چاہیے ۔گویاماہ رمضان میں غذا پورے طورپر کنٹرول ہوجاتی ہے البتہ مسافر اور مریض کوغذاکی اجازت ہے اور ان کوتاکید ہے کہ وہ اپنے روزوں کی گنتی سکون اور صحت کے زمانے میں پوری کرسکتے ہیں۔
اگراس حقیقت کوسامنے رکھاجائے کہ قرآن حکیم کانزول ماہ رمضان میں ہواتو تسلیم کرناپڑے گاکہ اسلام کی ابتداکنٹرول غذاسے ہوتی ہے اور جولوگ کنٹرول غذاکرتے ہیں ا ن کو متقی اور پرہیزگارکہتے ہیں جیسے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔
روزے تم پر فرض ہیں جیسے پہلے لوگوں پر فرض تھے تاکہ تم متقی اور پرہیزگاربن جاؤ
جولوگ جائز اوراپنی حلال کی کمائی اللہ تعالیٰ کی مرضی(کنٹرول)کے بغیر نہیں کھاتے وہ دوسروں کی دولت کی طرف کیسے آنکھ اٹھاکر دیکھ سکتے ہیں۔بس یہی تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔
اس تقویٰ اور پرہیزگاری اور اطاعت ورضاالہیٰ کومدنظررکھیں اور اس طرف غورکریں کہ
ان اللہ لایحب المسرفین
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ بلاضرورت خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ جوتمام طاقتوں کاخالق ہے جس سے ان کی محبت نہ رہے گی توپھر اس کوطاقت کیسے حاصل ہوسکتی ہے۔اس لئے غذا میں ضرورت کا احساس اور تصور انتہائی ضروری بات ہے اور عین حقیقت وفطرت ہے۔ باقی رہاغذا کاتوازن یعنی کس قسم کی غذاکھانی چاہیے۔اس کیلئے مزاج و ماحول اور قوت کومدنظررکھنا پڑتاہے۔یہ سب کچھ بالاعضاء ہی تسلی بخش طریق پر عمل میں آسکتاہے جس کی تحقیقات علم الغزا میں بیان کی جا سکتی ہیں۔البتہ اس حقیقت کو مدنظررکھیں کہ کسی قسم کی غذاہواس لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ حلال اورطیب ہو جیسے قرآن حکیم میں لکھاہے۔
کلوحلال طیب
ترجمہ:حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔
جس سے مراد اللہ تعالیٰ کانام لیاگیاہویااللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق حاصل کی گئی ہو۔طیب سے مراد ہے کہ اس شے میں نہ صرف خوشبو ہوبلکہ اس میں تازگی کی بھی خوشبوہو۔یہاں پر یہ مقام قابلِ غور ہے کہ طیب شے کوحلال کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔یعنی اگر وہ شے طیب نہیں ہے تو یقینا نجس ہے جس کا درجہ حرام کے بالکل قریب ہے۔
ہضم غذا: زندگی کے لازمی اسباب جن کواسباب ستہ ضروریہ کہاجاتاہے ان کی عملی حیثیت تین ہے جیسا کہ لکھاگیاہے اس کی اول صورت جسم کیلئے غذاحاصل کرنا ہے جیسے ہوا، روشنی اور ماکولات ومشروبات وغیرہ۔ان کی دوسری عملی صورت جسم میں غذاکوہضم کرکے جزو بدن بنانے کے لوازم زندگی ہیں۔یہ اسباب ضروری ہضم غذامیں اس لئے لازمی ہیں کہ اگر حرکت وسکون جسمانی، حرکت سکون نفسانی اور نیندو بیداری اعتدال پرنہ رہیں تونہ صرف م غذامیں فرق پڑجاتاہے بلکہ صحت میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔
حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا: حرکت ایک ایسی صفت کانام ہے جس سے کوئی جسم یاشے کسی خاص وضع(قیام وسکون)سے فعل میں آئے۔در حقیقت اس دنیا میں سکون مطلق کاوجود نہیں ہے البتہ جب اس کاذکرکیاجاتاہے تواس سے مراد حرکت سکون نسبتی ہوتاہے یعنی جب کوئی جسم بلحاظ دوسرے جسم کے کسی خاص وضع یاحالت میں فعل میں آتاہے تو اس کوحرکت کہتے ہیں۔بہرحال یہ نسبتی حرکت وسکون اپنے خواص واثرات رکھتے ہیں جب کوئی جسم حرکت میںآتاہے تو اس کے ساتھ ہی جسم کاخون حرکت میں آتاہے اور جسم کے جس حصے کی طرف سے حرکت کی ابتداہوتی ہے اس طرف روانہ ہوجاتاہے۔پھر طبیعت اس کو سارے جسم میں پھیلادیتی ہے۔اس طرح خون کی تیزی اور شدت بدن کوگرم کردیتی ہے ۔اس لئے کہاجاتا ہے کہ حرکت جسم میں گرمی پیداکرتی ہے اور اس کی زیادتی جسم کوتحلیل کردیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سکون جسم میں سردی پیداکرتاہے۔اس سے خون کی حرکت سستی اور رطوبت میں زیادتی ہوجاتی ہے گویا نسبتاً ہر حرکت ہرسکون کے مقابلہ میں گرمی وخشکی اور تیزی کاباعث ہواکرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی خون جسم کے جس حصہ میں پہنچتاہے ۔وہاں پر اپنی حرارت سے وہاں کے اعضاء میں تیزی اور گرمی پیداکرکے وہاں کی غذاکو ہضم کرتاہے اور مواد کوتحلیل کرکے خارج کرتاہے اور اپنی تیزی سے وہاں کی رطوبات خشک کرتاہے۔
حرکت کاتعلق عضلات سے ہے: اس امرکوذہن نشین کرلیں کہ جسم انسان میں ہرقسم کی احساسات اعصاب کے ذمہ ہیں جن کامرکز دماغ ہے اور ہرقسم کی حرکات جوجسم میں پیداہوتی ہیں ان کاتعلق عضلات سے ہے جن کا مرکزقلب ہے۔اسی طرح جسم کوجوغذاملتی ہے اس کا تعلق غدد سے ہے جن کامرکز جگر ہے اوریہی اعضائے رئیسہ ہیں۔جب جسم میں یا اس کے کسی عضومیں حرکت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی قلب کے فعل میں تیزی آجاتی ہے۔اس کے فعل میں تیزی کے ساتھ ہی وہ جسم کے خون کوجسم میں تیزی کے ساتھ روانہ کرناشروع کر دیتاہے جس کے ساتھ ہی جسم میں حرارت بڑھنی شروع ہوجاتی ہے۔جس کے نتیجہ میں ریاح کااخراج ہوناشروع ہوجاتاہے اور جہاں جہاں پر غیر ضروری رطوبات اور مواد جمع ہوتے ہیں طبیعت ان کو تحلیل کرناشروع کردیتی ہے۔اس کے ساتھ ہی دوران خون کی تیزی کے ساتھ اس کادباؤغدد کی طرف بڑھ جاتاہے اور وہ جسم کوزیادہ سے زیادہ غذا حرارت کی صورت میں دینا شروع کردیتے ہیں جواس میں شریک ہوتی ہے،ساتھ ہی بھوک بڑھ جاتی ہے اور غذازیادہ سے زیادہ ہضم ہوتی ہے جس کا لازمی نتیجہ خون کی زیادتی وصفائی اور طاقت میں ظاہر ہوتاہے۔ ان حقائق سے ثابت ہواکہ حرکت جسم میں حرارت وخون اور قوت وصفائی پیداکرتی ہے اور اس کے برعکس سکون سے جسم میں سردی اور کمی خون اور کمی قوت اور زیادتی مواد کاپیداہونا لازمی امرہے۔بس یہی دونوں صورتوں کابین فرق ہے۔
حرکت اور حرارت غریزی: جاننا چاہیے کہ بدن انسان کایہ کام ہے کہ جوچیز بدن انسان میں از قسم اغذیہ واشربہ وغیرہ خارج سے اور رطوبت و مواد اوراخلاط وغیرہ داخل بدن سے کسی بے محل جگہ یاغیر طبعی حالت سے کسی عضوبدن میں وارد ہوں اس میں حرارت غریزی اپنا فعل کرتی رہتی ہے۔ چونکہ اس دوام فعل اور محنت سے حرارت غریزی میں ضعف پیداہوجانایقینی امرہے اور ضعف وکسل وغیرہ افعال کے لاحق ہونے سے اس کے فضلات کی تحلیل سے عاجزومجبورہوتی ہے۔اس وجہ سے تھوڑاتھوڑامواداور فضلہ جمع ہوکر کافی مقدارمیں حرارت غریزی کومغلوب کردیتاہے۔اس لئے حرکات کی طلب ضروری ہوجاتی ہے تاکہ اس سے ایک دوسری گرمی پیداہواور اس کی مدد سے طبیعت مواد اور فضلات کو تحلیل کردے۔اگرچہ مواد اور فضلات قے واسہال اور پسینہ کے ذریعہ سے خارج ہوسکتے ہیں مگران طریقوں سے ان کا اخراج ضعف جسم کاباعث ہوتاہے۔دوسری طرف متعلقہ اعضاء میں قوت اخراج کوفطری طورپرکمزورکردیتاہے اور یہ مسلسل عمل ہمیشہ کیلئے انسا ن کوہلاکت کے قریب کردیتاہے۔اس لئے اس کاعلاج حرکات جسم کو متوازن کرنالازمی امرہے ۔یہی حرکات کااحتیاج ہے گویاحرکت جسم حرارت غریزی کیلئے بہترین مددگار ہے اورمحافظ صحت وقوت ہے۔
تحریک قدرت کافطری قانون ہے: خداوندحکیم کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ضرورت بدن انسان کیلئے ایک تحریک پیداکی گئی ہے مثلاًغذاکیلئے بھوک،پانی کیلئے پیاس اور نیند کیلئے اونگھ وغیرہ۔چونکہ انسانی طبیعت کااعتدال پر قائم رہنامشکل ہے اس لئے ان تحریکات میں اکثر کمی ہوتی رہتی ہے اس سے ماکولات ومشروبات اور آرام میں بے اعتدالی پیداہوجاتی ہے۔بس انہی ضروریات کوقائم رکھنے کیلئے یہ تحریکات پیداکی گئی ہیں۔پس محرکات فطری طورپرقدرت کی طرف سے پیدانہ کئے جاتے تولازمی امر تھا کہ انسان اپنی مطلوبہ ضروریات مذکورہ سے غافل ہوجاتاجس کانتیجہ لازمی طورپریہ ہوتاکہ بدن انسان میں خلل واقع ہوجاتا۔اس سے ہلاکت تک کی نوبت پہنچ سکتی تھی۔اس لئے جب انسان کی ان تحریکات میں خلل واقع ہوجائے تواس کوصحت کی خرابی سمجھناچاہیے اور ان تحریکات کواعتدال پرلانے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے نہ صرف صحت قائم رہتی ہے بلکہ طاقت بھی پیداہوتی ہے۔
حرکات کی فطری صورت: ضروریات زندگی خصوصاً ماکولات ومشروبات کیلئے انسان میں جو احتیاج پیداکی گئی ہے اس کیلئے انسان کولازمی طورپر بھاگ دوڑاور جدوجہد کرناپڑتی ہے۔بس یہی کوشش اس میں فطری طورپراس کی تحریکات کوبیداررکھتی ہے لیکن افراد کواپنی ضروریات زندگی کیلئے یہ جدوجہدکرنی پڑتی ہے ۔بس یہی کوشش اس میں فطری طورپراس کی تحریکات کو بیداررکھتی ہے لیکن افراد کواپنی ضروریات زندگی کیلئے یہ جدوجہد اور کوشش نہیں کرناپڑی۔بہرحال ان تحریکات کوتیزکرنے کیلئے حرکات کاکرنالازمی امرہے۔اس مقصد کوحاصل کرنے کیلئے حکماء نے ریاضت اور ورزش کی مختلف صورتیں پیداکی ہیں تاکہ انسان اپنی تحریکات اور صحت کو قائم رکھ سکیں جوزندگی کیلئے لازم ہیں۔
ریاضت کی حقیقت: ریاضت انسان کیلئے ایک اختیاری حرکت کانام ہے جیسے ورزش ودوڑ،کھیل کود،سیروگھوڑسواری،کُشتی لڑنا اور کَشتی چلانا۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں کی مختلف پے درپے حرکات سے ریاضت کی صورتیں پیداکی جاتی ہیں اگرچہ عوام وخواص بلکہ ورزش ماسٹر بھی اس علم سے واقف نہیں ہیں کہ مختلف اقسام کی ورزشیں اور ریاضت سے کس قسم کے اعضاء متاثرہوتے ہیں۔کس عضو کی تقویت کیلئے کس قسم ورزش اور ریاضت ضروری ہے کیونکہ لوگ افعال الاعضاء اور تشریح انسانی سے واقف نہیں ہوتے۔بہرحال عمومی طورپر ریاضت اور ورزش بے حد مفیدعمل ہے۔اگرورزش یا ریاضت کے متعلق یہ پتاچل جائے کہ کس قسم کے کھیل ہمار ے جسم پرخاص طورپراعصاب و دماغ،عضلات وقلب اور جگر وگردوں پراثرانداز ہوسکتے ہیں توایسی ریاضت اور ورزش بہت مفیدہوتی ہے۔
حرکت وسکون نفسانی: نفس کی ایسی حرکت جوضرورت کے وقت کبھی جسم کے اندراور کبھی جسم کے باہرظاہرہوجس کے ساتھ حرارت جسم بھی کبھی اندر کی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی باہر کی طرف ظاہرہوتی ہے۔اس کو حرکت وسکون نفسانی کہتے ہیں۔نفس سے مراد نفس انسانی ہے جس کونفس ناطقہ کہتے ہیں جس کا تعلق اور ربط انسان کے قلب سے ہے جو اپنے معانی جزئیہ اورمفہومات کو بذریعہ مختلف قوتوں کے ادراک کرتاہے۔پھر اس کی تین صورتیں ہیں نفس امارہ(غیرشعور)،نفس لوامہ(نیم شعور)اور نفس مطمعنہ(شعور)۔
حرکت وسکون نفسانی کی ضرورت: یہ محال ہے کہ کوئی نفس انسانی اس عالم میں فکر زندگی اور آخرت یا ضرورت معاش و معاشرت یا محبت اولاد یا عمل حبیب یا لطف ولذت سے رغبت یا موذی مرض کاخوف یا دشمن سے خطرہ ونفرت وغیرہ کیفیات و عوارض کے ردعمل اور انفعلات سے متاثرنہ ہوچنانچہ یہی تقاضے نفس انسانی کے ضروریات کے حصول ودفع کی غرض سے باعث حرکت بدن ہوتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اگر عوارض مذکورہ کا عارض ہونا ضروری ہے تو ا ن کے رد عمل سے متاثر ہونا بھی یقینی امرہے ۔اس سے روح قلب کو تحریک دے گی اورقلب کی تحریک کے ساتھ خون میں گردش شروع ہوجائے گی جس سے وہ خون شعوری یا غیر شعور ی طورپر اپنا شوق اور دفع پوراکرے گا۔پس جو عوارض و کیفیات اس کیلئے نافع اور بہتر ہوں گے ان کاوہ طالب ہوگااور ان کا وہ شوق کرے گااور وہ جو اس کیلئے مضر اور تکلیف کا باعث ہوں اس سے وہ بھاگے گااور ان کو دفع کرتارہے گا۔ بس انسان کی ان طلب وفرار اور شوق ودفع حرکات ہی سے ہوسکتی ہے بس انہی کیفیات و عوارض کے ردعمل کا نام حرکت وسکون نفسانی ہے ۔
نفس بذات خود متحرک نہیں ہے: کہا تو یہ جاتاہے کہ ’’حرکت و سکون نفسانی‘‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ نفس بذاتِ خود متحرک نہیں ہے بلکہ حرکت قویٰ کو ہی لاحق ہوتی ہے جو بذریعہ ارواح محرکہ ظہورمیں آتے ہیں۔اس لئے قویٰ متحرک ہیں اورارواح محرک ہیں۔ ان کے اعمال سے جن جذبات کا اظہار ہوتاہے انہی کوہی حرکت وسکون نفسانی کہتے ہیں۔مگر یہ امربھی یہاں ذہن نشین کرلیں کہ ارواح (یہاں روح سے مراد روح طبی ہے جس کا حامل خون ہے)کوحرکت بھی بذاتِ خود نہیں ہوتی بلکہ حسبِ ضرورت اور ارادہ نفس ناطقہ سے ہوتی ہے جس طرح کوئی مشین خودبخود متحرک نہیں ہوتی جب تک کہ اس کوحرکت دینے والاکوئی نہ ہواس لئے یہاں حرکت وسکونِ کالفظ مجازاً ہی استعمال کیاجاتاہے۔
نفس میں حرکت وسکون کی صورتیں: نفس ضرورت کے وقت کبھی جسم کے اندرکبھی جسم کے باہر حرکت کرتاہے جس کے ساتھ خون اور اس کی حرارت بھی کبھی اندرکی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی باہر کی طرف نمایاں طورپرظاہر ہوتی ہے۔پھراس کی تین صورتیں ہیں۔(۱)حرکت کادفعتاًاور یک لخت اندریا باہر کی طرف جانا۔(۲)نفس کابیک وقت کبھی اندراور کبھی باہرحرکت کرنا۔(۳)آہستہ آہستہ اندریاباہر کی طرف جانا۔یہ بات یادرکھیں کہ نفس جس طرف حرکت کرتاہے وہاں پر دورانِ خون تیزہوکرحرارت پیداکرتاہے جہاں سے حرکت کرکے جاتاہے وہاں پر دورانِ خون کی کمی ہوکرسردی پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ امرذہن نشین کرلیں کہ حرکت وسکون نفسانی دراصل نفس کی حرکت وسکون نہیں ہے کیونکہ نفس اپنامفاد نہیں بدلتاایسا صرف مجازاً کہا جاتاہے۔در حقیقت نفس کے تاثرات اور انفعالات (رد عمل )روح طبعی اور خون میں حرکت پیداکردیتے ہیں۔باالفاظِ دیگر یہ تاثرات اور انفعالات صالح اور فطرت کے مطابق ہوں تو حامل قوت و صحت اور باعثِ نشووارتقائے جسم ہوتے ہیں۔انہی کواسلام لفظ دین سے تعبیر کرتاہے۔
یہ حرکت سکون نفسانی بدن کیلئے ویسی ہی ضروری ہے جیسی حرکت سکون بدن کیونکہ بدنی حرکات کادارومدار ہواوہوس اور خواہشات و جذبات نفسانیہ پر ہے۔جیسے شوق کے وقت طلب کی حرکت ، نفرت کے وقت بیزاری کی صورت غصے کے وقت چہرے کا سرخ ہوجانا۔یہ سب کچھ روح اورخون کے زیر اثررہتے ہیں اور اس کے برعکس نفسانی سکون کی ضرورت اس لئے ہے کہ روح اور خون کو نسبتاً آرام حاصل ہوکہ ان میں کمی واقع نہ ہواور جسم کو تحلیل ہونے سے بچایاجائے۔
جانناچاہیے کہ نفس جب کسی مناسب یامخالف شے کاادراک حاصل کرتاہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مناسب کوحاصل کرنا اورمخالف سے بچنا چاہتا ہے ۔اس وقت وہ اپنی نفسانی قوتوں کوحرکت میں لاتاہے اگراس حرکت وسکون میں تسلسل قائم رہے تو باعث مرض وضعف اور رفتہ رفتہ باعث موت ہے اور بعض اوقات ان کی یک بارگی شدت دفعتاً زندگی ختم کردیتی ہے۔جیسے شادی مرگ اورغم مرگ کی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔انسان کے انہی تاثرات اور انفعالات اور خواہشات وجذبات کامطالعہ اور نتائج سے جو صورتیں پیداہوتی ہیں اس کو علم نفسیات کہتے ہیں۔
نفسانی جذبات کی حقیقت: نفسانی جذبات کو سمجھانے کیلئے اور انتہائی سہولت کی خاطر جس کاذکر قدیم وجدیدبلکہ ماڈرن نفسیات میں بھی نہیں ہے۔ہم نے ان کو طب مفرد اعضاء کے تحت اعضائے رئیسہ کے مطابق تین حصوں میں تقسیم کردیاہے۔ہر مفردعضو(نسیج)کیلئے دوجذبے مخصوص کر دئیے ہیں۔ان جذبوں میں ایک عضوانبساط سے پیداہوتاہے اور دوسراانقباض سے۔ان کی ترتیب یہ ہے۔
۱۔دل: عضلات میں انبساط سے مسرت اور انقباض سے غم پیداہوتاہے۔
۲۔دماغ:اعصاب میں انبساط سے لذت اور انقباض سے خوف پیداہوتاہے۔
۳۔جگر:غددمیں انبساط سے ندامت اور انقباض سے غصہ پیداہوتاہے۔
لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جب دل،دماغ اورجگر(عضلات،اعصاب اور جگر)کے کسی ایک نسیج (ٹشو)میں کسی خاص قسم کی تحریک پیداہوگی تو باقی دو اعضاء میں بھی کوئی نہ کوئی حالت ضرورپائی جائے گی۔ مثلاًاگر اعصاب میں تحریک ہوگی تویہ ضروری بات ہے کہ غددمیں تحلیل اور دل میں تسکین ہوگی۔گویااس امرکالحاظ رکھنا ضروری ہے کہ جب کسی جذبہ کے تحت کسی عضو کامطالعہ مقصودہوتوباقی اعضاء کونظر اندازنہ کیاجائے۔اس طرح تمام جسم کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔یہ وہ علمِ نفسیات ہے جس کے علم سے ماڈرن سائنس اور جدیدعلم نفسیات بھی بے خبر ہے۔
نفسیاتی اثرات: جسم انسانی پر نفسیاتی اثرات اور انفعالات کی تین مقابل صورتوں کے کل چھ جذبات ہیں۔(۱)مسرت(۲)غم(۳)لذت(۴) خوف(۵)غصہ(۶)شرمندگی۔یہ چھ بنیادی جذبات ہیں ان کے تحت ہی باقی دیگر جذبات پائے جاتے ہیں۔ان کی مختصرتفصیل درج ذیل ہے۔
۱۔مسرت میں نفس بغرض حصول مرغوب شے قلب سے بدن کی طرف رفتہ رفتہ متحرک ہوتی ہے۔بشرطیکہ بے انتہاخوشی کی کیفیت نہ ہوورنہ یکدم متحرک ہوگی۔خوشی کاحالت میں چہرہ سرخ ہوجائے گا۔
۲۔غم میں نفس موذی پر قادرنہ ہونے کی وجہ سے رفتہ رفتہ داخل بدن یعنی دل کی طرف حرکت کرتاہے اور چہرے کارنگ زرد ہوجاتاہے۔
۳۔لذت کی حالت میں بغرض قیام مرغوب شے نفس رفتہ رفتہ کبھی اندراور کبھی باہرکی طرف حرکت کرتاہے۔
۴۔خوف میں نفس موذی کے مقابلے میں ناامیدہوکر یکبارگی داخل جسم رجوع کرتاہے۔کمی خوف میں یہ عمل رفتہ رفتہ ہوتاہے اور چہرہ سفیدہوجاتاہے
احتباس واستفراغ: اسباب ستہ ضروریہ کی جوتین صورتیں ہیں یعنی( اول)جسم کیلئے غذائیت مہیاکرناجیسے ہوااورروشنی اورماکولات و مشروبات۔ (دوم)جسم میں غذائیت کوہضم کرکے جزوبدن بناناجیسے نیندو بیداری اورحرکت وسکون جسمانی اورسکون نفسانی۔(سوم)جسم کے اندرغذائیت کا ایک مقررہ وقت تک رکے رہناتاکہ ہضم ہوکرجزوبدن بن جائے اورجب اس کی ضرورت نہ ہوتوفضلات کی صورت میں خارج کردینا۔اس کواحتباس واستفراغ کہتے ہیں۔
استفراغ کے معنی ہیں مواداورفضلات کااخراج پانااور طبی اصطلاح میں لفظ استفراغ سے ان چیزوں کابدن سے خارج کرنامرادہے تاکہ اگروہ چیزیں باقی رہ جائیں توبدن میں طرح طرح کے فساد پیداہوکر افعال انسانی سلیم طورسے صادرنہ ہوں۔اس کے برعکس احتباس کے معنی ہیں غذائی اجزاءاور فضلات کاجسم میں رکنااوربوقت ضرورت اخراج نہ پانادراصل یہ ایک دوسرے فعل کی ضدکااظہارہے ورنہ دونوں میں سے کسی ایک لفظ کاہوناہی کافی ہے۔کیونکہ قادرمطلق نے طبیعت مدبرہ بدن پیداکی ہے۔لہٰذاحسب طاقت وہ مناسب راستوں سے فضلات مذکورہ دفع پرہمیشہ سرگرم رہتی ہے لیکن بعض اوقات ایسی رکاوٹیں پیش آجاتی ہیں کہ اس کے دفع فضلات اور مواد میں کمی بیشی واقع ہو جاتی ہے گویااستفراغ اوراحتباس کااعتدال صحت ہے اور ان میں کمی بیشی کاہونامرض میں داخل ہے۔
فضلات کی حقیقت: فضلا ت دراصل اضافی لفظ ہے۔حقیقت میں اس کائنات اورزندگی میں فضلات کوئی شے نہیں ہیں۔جن موادکی کسی جسم کیلئے ضرورت نہیں ہوتی تووہ اس کیلئے فضلات بن جاتے ہیں۔ اکثرایساہی ہوتاہے کہ جسم کے اندر غیرضروری غذائی اجزاء یامفید مواد جن کوطبیعت قبول نہیں کرتی یاطبیعت کوجن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ سب فضلات میں شامل ہیں۔فضلات سے مراد فاضل سے ہے یعنی جوچیززائدیافالتوہو۔
جوغذاکھائی جاتی ہے تندرستی کی حالت میں جسم کاایک خاص حصہ جذب کرکے جزوبدن بنادیتاہے اورباقی کوفضلات کی شکل میں خارج کر دیتاہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ فضلات میں جسم انسان کیلئے غذائیت باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جس قدراچھی صحت ہوتی ہے اوراعضاء مضبوط ہوتے ہیں اسی قدر زیادہ غذائی اجزاءجذب اور جزوبدن بنتے ہیں اور فضلات کم خارج ہوتے ہیں یابعض اعضاء میں اس قدرتیزی ہوتی ہے کہ وہ غذا کو پورے طورپرہضم کئے بغیر خارج کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جن مریضوں کے اعضاء میں افراط وتفریط اور ضعف ہوتاہے وہ جتنی بھی زیادہ سے زیادہ غذاکھائیں ان کے اندر طاقت اور خون کی مقدار میں زیادتی نہیں ہوتی۔سوال غذاکی قلت اور کثرت اوراعلیٰ وادنیٰ کانہیں ہے بلکہ اعلیٰ درجہ کی صحت اور مضبوط اعضاء کاہے جس سے خودبخودزیادہ غذاہضم ہوتی ہے اور جزو بدن بنتی ہے جس کانتیجہ خون کی کثرت اورطاقت کی زیادتی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بدن کے وجود اور اس کی طاقت کادارومدارغذاپر ہے کیونکہ خون کی تعمیراورتکمیل صرف غذاپرہوتی ہے دواسے نہیں ہوتی کیونکہ دواجزو بدن نہیں ہوتی اورنہ ہی خون کاجزوہے۔دواصرف اعضائے جسم میں تحریک اور شدت کاباعث ہوتی ہے۔جس سے اعضائے جسم اپنے مفیداجزاءخون میں شامل کرکے اس میں تعمیراورتکمیل کرتے ہیں لیکن غذاکوئی بھی ایسی نہیں ہے جوساری کی ساری جزوبدن جائے اور اس کا فضلہ نہ بنے۔پھر اگریہ فضلہ باقی رہے اور اس کااخراج نہ ہوتوبدن میں فاسدمادے اکھٹے ہوجاتے ہیں جن مواد کوفضلات کی صورت میں خارج ہوناچاہیے تاکہ اس کی جگہ نیا موادبنے یاموادسے اس راہ گذرمجراری کوغذائیت اور تقویت حاصل ہو۔اس لئے استفراغ کی انتہائی ضرورت ہے اور احتباس کی ضرورت اس لئے ہے کہ غذاکچھ عرصہ جسم میں ٹھہرے تاکہ اس جوہر طبیعت حاصل کرلے۔
استفراغ واحتباس کا اعتدال صحت اور طاقت کیلئے نہایت ضروری اور مفیدہے۔استفراغ کی زیادتی بدن میں خشکی پیدا کرتی ہے اور احتباس کی زیادتی جسم میں فضلات کی زیادتی کی وجہ سے اس کو بوجھل بنادیتی ہے جس سے اکثر سدے اور تعفن پیداہوتاہے۔
استفراغ کی صورتیں: جسم انسان سے استفراغ کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں ۔(۱)طبعی فضلات۔(۲)غیرطبعی فضلات۔ (۳) مفیدفضلات۔
طبعی فضلات: طبعی فضلات وہ ہیں جوہمارے مجاری اور اعضاء سے طبعی طورپرضرورت کے مطابق خارج ہوتے ہیں مثلاً نزلہ،زکام،کان کامیل،آنکھ کے آنسو،لعاب دہن،بلغم،بول وبراز،حیض اورمنی وغیرہ۔ان کے اخراج ایک طرف مجاری اور اعضاء جہاں سے وہ گزرتے ہیں ان کونرم رکھتے ہیں دوسرے وہاں کی سوزش وغیرہ کودورکرتے ہیں۔اگر ان کے اخراج میں کمی بیشی واقع ہوجائے توباعث امراض ہوتے ہیں۔جب ان میں کمی واقع ہوتی ہے تو ذیل کی صورت اختیارکرجاتی ہے ۔
۱: بذریعہ دست آورادویات ناقص اخلاط، مواداور متعفن فضلات کاانسانی بدن سے خارج کرنا۔اس کی دو اقسام ہیں (۱)بذریعہ ادویہ مشروبہ یعنی کھانے پینے کی ادویہ(۲)بذریعہ حقنہ اور عمل احتقان (بذریعہ)پچکاری۔
۲۔مدرات: پیشاب آورادویات اور آلات وغیرہ کے ذریعے مواداور فضلات کااخراج۔
۳۔تصریحات: بذریعہ پسینہ،حمام یابھپارہ اور دیگر اعمال سے براہ مسامات بدن سے متعفن اخلاط ومواداور فضلات کااخراج۔
۴۔مقیات: قے آورادویات یادیگر اعمال کے ذریعے مواداورفضلات کاجارج از جسم کرنا۔
۵۔حجامت: شگاف رگ،پچھنے اورنشتروغیرہ کے ذریعے ردی اخلاط ومواد اورفضلات بدن کاانسان کے بدن سے خارج کرنا۔
۶۔انزال: جماع کے ذریعے غیرمفیداور ردی موادوفضلات کابدن سے خارج کرنا وغیرہ۔
غیرطبعی فضلات: ایسے ناقص مواد ہیں جوخون سے پیداہوجاتے ہیں جن سے خون کامزاج اور اخلاط یا اس کے عناصر میں کمی بیشی واقع ہو جاتی ہے یا خون رگوں کے اندریاباہر متعفن ہوجاتاہے۔جب ایسے غیرطبعی فضلات رک جاتے ہیں توان کے اخراج کی صورت بھی مندرجہ بالاطریق پرکی جاتی ہے البتہ ضرورت کے مطابق ادویات بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment