Ad3

وقت احمد ندیم قاسمی

سربرآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں
چاند بلّور کی ٹوٹی ہوئی چوڑی کی طرح اٹکا ہے
دامنِ کوہ کی اک بستی میں
ٹمٹماتے ہیں مزاروں پہ چراغ
آسماں سرمئی فرغل میں ستارے ٹانکے
سمٹا جاتا ہے، جھکا آتا ہے
وقت بیزار نظر آتا ہے!
سربرآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں
صبح کی نقرئی تنویر رچی جاتی ہے
دامنِ کوہ میں بکھرے ہوئے کھیت
لہلہاتے ہیں تو دھرتی کے تنفّس کی صدا آتی ہے
آسماں کتنی بلندی پہ ہے اور کتنا عظیم
نئے سورج کی شعاعوں کا مصفّا آنگن
وقت بیدار نظر آتا ہے!
سربرآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں
آفتاب ایک الاؤ کی طرح روشن ہے
دامنِ کوہ میں چلتے ہوئے ہل
سینۂ دہر پہ انسان کے جبروت کی تاریخ رقم کرتے ہیں
آسماں تیز شعاعوں سے ہے اس درجہ گداز
جیسے چھونے سے پگھل جائے گا
وقت تیار نظر آتا ہے!
سربرآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں
زندگی کتنے حقائق کو جنم دیتی ہے
دامنِ کوہ میں پھیلے ہوئے میدانوں پر
ذوقِ تخلیق نے اعجاز دکھائے ہیں لہو اُگلا ہے
آسماں گردشِ ایّام کے ریلے سے ہراساں تو نہیں
خیر مقدم کے بھی انداز ہوا کرتے ہیں
وقت کی راہ میں موڑ آتے ہیں، منزل تو نہیں آ سکتی

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...