Ad3

دل کا درد

یه درد اکثر 40 سال کی عمر کےبعد هوا کرتاهےمردوں کی نسبت عورتیں اس میں زیاده مبتله هوا کرتی هیں. اگر هم انگریزی کتب سےمندرجه بالاعنوان پر یورپی محققین کےنظریات وخیالات کا مطالعه کریں تو معلوم هوگا که فرنگی طب نے اسے سمجھنےکی کوشش هی نهیں کی اور اکثر متضاد باتیں بیان کی هیں بلکه هر مرض مرض کے بارےمیں یهی حال هے درد هو یا کوئی اورمرض اس کے وقوع پزیر هونے کےچند ظاهری اسباب لکھنےکےسوا کچھ بیان نهیں کیا نه عضو مخصوص کی کیمیاوی وفعلی صورتیں لکھی هیں اور نه هی انکےافعال' افراط تفریط اور ضعف' تحریک' تسکین اور تحلیل کو مدنظر رکھاگیا البته علاج کیلئے مخلتف متضاد قسم کے نسخه جات لکھ دئیے جاتےهیں چاهئیے تو یه تھا که هرقسم کےدرد اور دیگر علامات کو سمجھنےکیلئے حیاتی مفرد اعضاء کے افعال کو سمجھنےکی کوشش کی جاتی اور دیکھاجاتاکه کس مفرد عضو میں تیزی هے اور کس کے فعل میں سستی هے اور کس فعل میں ضعف هے بس جو عضو سست هو اسکے فعل کو تیز کرکے تحریک دےکر مرض پر فوری قابو پایا جاسکتاهے اس طرح دنیا کے هر مرض پر قابو پانا آسان هو سکتاتھا.
افعال القلب: اس وقت همارے پیش نظر افعال القلب اور پیدائش مرض و علامات پر روشنی ڈالنا هے قلب بذات خود مسکولرٹشوز سے بناهواهے جس پر دو پردےهیں اول غشائی غدی پرده. دوم عصبی پرده . امراض قلب کو ایک مرکز پر لانےاور تعین مرض کےلئے همیں یه جاننا هوگا که اسوقت قلب کی کیا حالت هے یعنی تیزی(تحریک). سستی(تسکین). ضعف(تحلیل) هےاگر قلب کے فعل میں تیزی هوتو یه ریاح کی زیادتی سے هوگی اور قلب میں انقباض(سکیڑ)هوگا. اگر قلب کےفعل میں سستی(تسکین) هوتو یه رطوبات کی زیادتی سے هوگی رطوبات سے دل پھول جاۓگا. اگر قلب کےفعل میں ضعف(تحلیل) هوتو وهاں اجتماع الدم کی وجه سے غلبه حرارت هوگی دل عضوی طور پر حرارت سے پھول جاۓگا.
اسباب:
اول یه بات ذهن نشین کرلیں که هر مقام و سکون پر بلغم رطوبات کا اجتماع هوگا یه حقیقت تسلیم شده امر هے که جهاں رطوبت هوگی وهاں درد نهیں هوگا جس مقام یا عضو کی طرف خون تیز هوگا وهاں خون کی حرارت سے کسی قسم کا درد باقی نهیں هوگا اور نه هی اس عضو میں سکیڑ هوگا بلکه وهاں تحلیل هوگی.
تیسری صورت تحریک, تیزی, سکیڑ و انقباض کی هے جس سے قلب میں ریاح کی کثرت سے شریانیں سکڑ جاتی هیں, کیمیاوی طور پر خون میں ترشی و تیزابیت اور سوداوی اجزاء کی زیادتی هے جس سے خون کےقوام میں گاڑھاپن پیدا هوجاتاهےجو شریانوں میں بآسانی گردش نه کرسکنے سےتکلیف کاسبب بنتاهے اب یهی ریاح کی کثرت یا خون کی غلظت درد دل یا وجع القب کاسبب بنتی هے شراب کےعادی اس مرض میں زیاده مبتله هوتےهیں اور ترشی و تیزابیت کی کثرت بھی اس مرض کے حمله آور هونے کا سبب بنتی هے.
علامات:
دوره سے پهلے مریض قدرے بےچینی محسوس کرتاهےمقام قلب اور بائیں کندھے اور کبھی چھاتی اور پستان کے نیچےچبھن سی محسوس هوتی هے پھر دفعتأ شدید درد شروع هوجاتاهے جو صرف چند منٹ هی رهتاهے چونکه دل کو دوران خون جاری رکھنے کیلئے بار بار حرکت کرنی پڑتی هے اسلئے درد ٹیسوں کی صورت میں هوتاهے آهسته آهسته دوران خون پھپھڑوں میں بھی کم هوجاتاهے جس سے پھپھڑوں کی حرکات کم هوکر سخت دم کشی کی صورت پیدا هوجاتی هے شدید تکلیف سے مریض کا رنگ فق هوجاتاهے جسم پسینه سےتر باتر اور کبھی قے بھی شروع هوجاتی هے سخت گھبراهٹ اور بے چینی کی حالت میں مریض کا انتقال هوجاتاهے. نبض عضلاتی اعصابی ریاح سے پر اور حرکت میں تیز هوتی هے قاروره (پیشاب) کا رنگ سرخ اور سرخ سفیدی مائل هوتاهے جوکچھ دیر پڑا رهتےسےسرخی میں تبدیل هوجاتاهے.
علاج:
فرنگی طب نے جسم کے تیسرے حصے کے امراض کا ذکر کیاهے وه بھی کسی منظم طریقےسےنهیں کیا بےقاعده اور بے کلیه هے فرنگی طب نے صرف اعصابی امراض کا ذکر کیاهے وه بھی بے ڈھبه پن سے هی کیاهے. باقی دو حصے غدی اور عضلاتی امراض کا ذکر تک نهیں هے همارے زیربحث مضمون هی کو لیجئے اسکےباب میں نزله, زکام, ذیابیطس, غم, بدهضمی, دیگر عصبی امراض کا ذکر کیاهے جوکه سراسر غلط هے.
یاد رکھیں که دل کا دوره صرف انقباض قلب وعضلات اور ترشی و تیزابیت سے هوتاهے جب هم اسکاعلاج کرتےهیں تو فزیالوجیکل لائٹ اور قانون فطرت کی پیروی کرتے هوۓ ترشی و تیزابیت کو سوڈیم یا الکلی میں تبدیل کردیتےهیں جس سے مرض کلی طور پر ختم هوجاتاهے اس کےبرعکس آلوپیٹھی میں مریضوں ایسڈ استعمال کرواتےهیں حالانکه مریض پهلے هی ایسڈ کی زیادتی کا شکار هوتاهے ایسے علاج سے اکثر مریض تلف هوجاتےهیں درد دل کا شافی علاج صفراءکی پیدائش کو بڑھاناهے.
اگر کچھ بھی میسر نه آۓ تو اجوائن کاقهوه شهد ملاکر پلادیں اور گرم پانی کی بوتل بھر کر مقام قلب پر گھماتےرهیں دوا کے طور پر هر غدی عضلاتی یا غدی اعصابی دوا دی جاسکتی هے اور غذا بھی یهی دی جاۓ تو مریض کو کلی صحت هوگی ان شاءالله.
غذائی علاج:
صبح: مکھن کھلاکر اوپر سے نیم گرم دودھ شهد سے میٹھا کرکےپلائیں. حلوه بادام بھی کھلایاجاسکتاهے.
دوپهر : کدو, پیٹھا, ٹنڈے, توری, گاجر, مولی, شلجم, مونگرےکی پھلی, دال مونگ, بکرے کا شوربه.
مصالحه جات:
ادرک, لهسن, کالی مرچ, سفید زیره و سیاه زیره, هلدی, دھنیا, الائچی وغیره
رات:
دوپهر والا سالن کھاکر اوپر سے دودھ گھی نیم گرم پلاسکتےهیں

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...