Ad3

حرمل بوٹی

حرمل کی بوٹی ایک جھاڑی کی طرح ہوتی ہے۔جو ایک فٹ سے تین فٹ بلند ہوتی ہے۔اسکی جڑ سے بہت سی گھنے پتوں والی شاخیں نکلتی ہیں۔پتے دو انچ لمبے اور
نوکیلے اور پھنے ہوئے ہوتے ہیں۔
پھول۔
لگ بھگ گول جس میں تین خانے ہوتے ہیں۔جن میں چھوٹے سیاہی مائل بھورے تخم بھرے ہوتے ہیں۔پھول چھوٹااورکنگرے دار اورپھل چنے کے برابر ہوتاہے۔
تخم سیاہ کو اسپند سوختنی کہا جاتاہے۔تخموں کوجلانے سے خاص قسم کی بو آتی ہے۔اوریہ نظر اتارنے اور خوشبو کے لیے آگ پر جلاتے ہیں۔
مقام پیدائش۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب صوبہ سرحد ،سندھ،جبکہ ہندوستان میں دہلی ،یونی،دکن اور عموماًقبرستان میں خودرو ہے اورکسی جگہ کاشت کرتے ہیں۔
بو۔
تیز اور باگوار۔
ذائقہ۔
بدمزہ کسیلا۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ دوم بعض کے بقول گرم درجہ سوم درجہ دوم۔
افعال۔
تخم مزمل کو زیادہ تر تقویت باہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔دمہ کھانسی بلغم کو خارج کرتاہے۔عصبی اور دماغی امراض مثلا صرع لقوہ ،جنون،نسیان،عرق النساء
میں اور اعضاء کو گرمی پہنچانے کی غرض سے مستعمل ہے۔
بہرے پن میں تخم اسپند کوروغن زیتون میں جوش دے کر کان میں قطور کرنے سے بہرہ پن دور ہوتاہے۔
ادارا حیض ۔
حرمل کے بیجوں کاسفوف سوئے کے جو شاندہ یاعرق کے ہمراہ دن میں تین بارکھلانے سے خون حیخ کھل کر آجاتاہے۔تخم حرمل کی دھونی دانت درد اور نظر بد
خیال کی جاتی ہے۔
اچھا نسخہ ۔
حرمل کے پرانے گڑ کے ساتھ بقدرے ایک گولی ایک گرام بنالیں۔اور ایک یادو گولی ہمراہ پانی صبح وشام دیں توادرار حیض کے علاوہ گنٹھیا میں مفید ہے۔
فعف کے ہمراہ صبح وشام دودھ کے ساتھ دیں بے حد مفید ہے۔
تخم اسپند کے خسیاندہ میں سیسہ کو دیں بار بجھا دیں پھر اس کے نغدہ میں رکھ دس سراپلوں کی آگ دیں پھر اس کی رس سے ٹکیہ بناکر سیراپلوں کی آگ چارباردیں۔
عمدہ کشتہ تیار ہوگا۔
مفع خاص۔
امراض باردہ ۔
مضر۔
مصدع ،مکرب منشی،
مصلح۔
ترش اشیاء اور سکنجین ۔
مقدار خوراک۔
دو سے چار گرام(ماشہ)
کیمیاوی اجزاء۔
اس میں چار فیصدی تک تین الکائیڈ پائے جاتے ہیں۔
ا۔
ہرمین۔2۔ہرمالین۔3۔ہرمالول،الکائیڈٖ کی مجموعی مقدار میں ہرمالین دو تہائی ہوتاہے۔اور ہرمالول برائے نام اس میں ایک قسم کا تیل بھی پایاجاتاہے۔
مشہورمرکبات۔
معجون اسپند سو ختنی،حب اسپبد وغیرہ ،
مدت اثر۔
اس کی قوت چار سال تک باقی رہتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...