حرمل کی بوٹی ایک جھاڑی کی طرح ہوتی ہے۔جو ایک فٹ سے تین فٹ بلند ہوتی ہے۔اسکی جڑ سے بہت سی گھنے پتوں والی شاخیں نکلتی ہیں۔پتے دو انچ لمبے اور
نوکیلے اور پھنے ہوئے ہوتے ہیں۔
پھول۔
لگ بھگ گول جس میں تین خانے ہوتے ہیں۔جن میں چھوٹے سیاہی مائل بھورے تخم بھرے ہوتے ہیں۔پھول چھوٹااورکنگرے دار اورپھل چنے کے برابر ہوتاہے۔
تخم سیاہ کو اسپند سوختنی کہا جاتاہے۔تخموں کوجلانے سے خاص قسم کی بو آتی ہے۔اوریہ نظر اتارنے اور خوشبو کے لیے آگ پر جلاتے ہیں۔
مقام پیدائش۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب صوبہ سرحد ،سندھ،جبکہ ہندوستان میں دہلی ،یونی،دکن اور عموماًقبرستان میں خودرو ہے اورکسی جگہ کاشت کرتے ہیں۔
بو۔
تیز اور باگوار۔
ذائقہ۔
بدمزہ کسیلا۔
مزاج۔
گرم خشک درجہ دوم بعض کے بقول گرم درجہ سوم درجہ دوم۔
افعال۔
تخم مزمل کو زیادہ تر تقویت باہ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔دمہ کھانسی بلغم کو خارج کرتاہے۔عصبی اور دماغی امراض مثلا صرع لقوہ ،جنون،نسیان،عرق النساء
میں اور اعضاء کو گرمی پہنچانے کی غرض سے مستعمل ہے۔
بہرے پن میں تخم اسپند کوروغن زیتون میں جوش دے کر کان میں قطور کرنے سے بہرہ پن دور ہوتاہے۔
ادارا حیض ۔
حرمل کے بیجوں کاسفوف سوئے کے جو شاندہ یاعرق کے ہمراہ دن میں تین بارکھلانے سے خون حیخ کھل کر آجاتاہے۔تخم حرمل کی دھونی دانت درد اور نظر بد
خیال کی جاتی ہے۔
اچھا نسخہ ۔
حرمل کے پرانے گڑ کے ساتھ بقدرے ایک گولی ایک گرام بنالیں۔اور ایک یادو گولی ہمراہ پانی صبح وشام دیں توادرار حیض کے علاوہ گنٹھیا میں مفید ہے۔
فعف کے ہمراہ صبح وشام دودھ کے ساتھ دیں بے حد مفید ہے۔
تخم اسپند کے خسیاندہ میں سیسہ کو دیں بار بجھا دیں پھر اس کے نغدہ میں رکھ دس سراپلوں کی آگ دیں پھر اس کی رس سے ٹکیہ بناکر سیراپلوں کی آگ چارباردیں۔
عمدہ کشتہ تیار ہوگا۔
مفع خاص۔
امراض باردہ ۔
مضر۔
مصدع ،مکرب منشی،
مصلح۔
ترش اشیاء اور سکنجین ۔
مقدار خوراک۔
دو سے چار گرام(ماشہ)
کیمیاوی اجزاء۔
اس میں چار فیصدی تک تین الکائیڈ پائے جاتے ہیں۔
ا۔
ہرمین۔2۔ہرمالین۔3۔ہرمالول،الکائیڈٖ کی مجموعی مقدار میں ہرمالین دو تہائی ہوتاہے۔اور ہرمالول برائے نام اس میں ایک قسم کا تیل بھی پایاجاتاہے۔
مشہورمرکبات۔
معجون اسپند سو ختنی،حب اسپبد وغیرہ ،
مدت اثر۔
اس کی قوت چار سال تک باقی رہتی ہے۔
Ad3
حرمل بوٹی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...
No comments:
Post a Comment