آج سال کا 158 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 207 دن باقی ہیں ۔
1099ء یروشلم میں پہلے صلیبی پہنچنا شروع ہوئے۔
1413ء یپلس کے بادشاہ لیڈی سلائے نے روم پر قبضہ کیا۔
1539ء چوسا کی جنگ میں افغان حکمراں شیرشاہ سوری نے مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دی۔
1546ء انگلینڈ نے اسکاٹ لینڈ / آئرلینڈ کے ساتھ آندریس امن سمجھوتہ کیا۔
1557ء برطانیہ نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1654ء لوئی چودھویں فرانس کے بادشاہ بنے۔
1692ء کیریبین ملک جمائیکا کے پورٹ رائل میں آئے شدید زلزلے سے سولہ ہزار افراد ہلاک اور تین ہزار زخمی ہوئے۔
1700ء لندن کے کیتھولک مخالف فساد میں 100 لوگوں کی موت ہوئی۔
1780ء لندن میں کیتھولک مخالف فسادات میں سینکڑوں افراد موت کا شکار بنے۔
1863ء فرانسیسی فوج نے میکسکو سٹی پر قبضہ کیا۔
1864ء ابراہم لنکن صدارتی عہدے کے لئے دوسری مرتبہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے امیدوار منتخب ہوئے۔
1893ء مہاتما گاندھی نے پہلی بار جنوبی افریقہ میں سول نافرمانی تحریک کا آغاز کیا۔
1929ء ویٹیکن سٹی خود مختار مملکت بنا۔
1939ء جارج ہشتم اور الزبتھ برطانیہ کے پہلے بادشاہ اور ملکہ بنے جنہوں نے امریکہ کا دورہ کیا۔
1948ء چیکو سلواکیہ پر کمیونسٹوں کا پوری طرح قبضہ ہو گیا۔
1979ء بھارت کے دوسرے سیٹلائٹ بھاسکر۔1 کو سوویت یونین کے بیرس لیک سے چھوڑا گیا۔
1981ء اسرائیل نے ایف سولہ طیاروں کے ذریعے عراق کا نیوکلیئر رئیکٹر تباہ کیا۔
1989ء بھارتی میںشیتل پانڈیا نے رولنگ اسکیٹنگ میں 1600 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے ریکارڈ بنایا۔
7 جون 1962ء کو پاکستان نے اپنا پہلا راکٹ فضا میں روانہ کیا جو بالائی فضا میں کرہ ارض سے 80 میل کی بلندی تک پہنچا۔ یہ راکٹ شام 7 بجکر 53 منٹ پر کراچی سے 35 میل دور سون میانی کے مقام سے چھوڑا گیا اس راکٹ کو جسے ’’رہبر اول‘ کا نام دیا گیا تھا پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئرز نے کسی بیرونی مد دکے بغیر خود تیار کیا تھا البتہ اس کا سوڈیم کا ایندھن جیو فزکس کارپوریشن آف امریکا سے خریدا گیا تھا۔ اس موقع پر جاری ہونے والے پریس نوٹ میں بتایا گیا تھا کہ رہبر اول موسمیاتی راکٹ ہے اور اس کی مدد سے پاکستان کے سائنس دانوں کو یہ معلوم ہوسکے گا کہ بحیرہ عرب کے ساحلی علاقے میں ہوائوں کا رخ اور فضا کی کیفیت کیا ہے۔ ان معلومات سے سائنس دانوں کو بادلوں‘ طوفان اور موسم کا اندازہ لگانے میں بھی مدد ملے گی۔ پاکستان خلائی دوڑ میں شامل ہونے والا دنیا کا دسواں‘ ایشیا کا تیسرا اور عالم اسلام کا پہلا ملک تھا۔ اس وقت تک جو ممالک فضا میں راکٹ روانہ کرچکے تھے ان میں امریکا‘ روس‘ برطانیہ‘ فرانس‘ سوئیڈن‘ اٹلی‘ کینیڈا‘ جاپان اور اسرائیل شامل تھے۔
7 جون 1972ء کو جاری ہونے والے جماعت اسلامی کے اعلامیہ کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سید ابوالااعلیٰ مودودی نے آج نماز ظہر کے وقت قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن مکمل کرلی۔ اعلامیہ کے مطابق مولانا نے بین الاقوامی شہرت کی حامل یہ تفسیر تیس سال چار ماہ میں مکمل کی۔ یہ 1942ء سے ماہنامہ ترجمان القرآن میں قسط وار شائع ہورہی تھی۔ تفسیر کی پانچ جلدیں‘ جو چار ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تھیں‘ پہلے ہی شائع ہوچکی تھیں۔
1979ء بھارت کے دوسرے سیٹلائٹ بھاسکر۔1 کو سوویت یونین کے بیرس لیک سے چھوڑا گیا۔
7 جون 1962ء کو پاکستان نے اپنا پہلا راکٹ رہبر اول فضا میں روانہ کیا تھا جو بالائی فضا میں کرئہ ارض سے 80 میل کی بلندی تک پہنچا۔پاکستان خلائی دوڑ میں شامل ہونے والا دنیا کا دسواں، ایشیا کا تیسرا اور عالم اسلام کا پہلا ملک تھا۔ اس وقت تک جو ممالک فضا میں راکٹ روانہ کرچکے تھے ان میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، سوئیڈن، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور اسرائیل شامل تھے ۔ اس واقعے کی بیسویں سال گرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 7 جون 1982ء کو ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کا موضوع خلا میں امریکا کے اپالو اور سوویت یونین کے سویوز خلائی جہازوں کا ملاپ تھا ۔ اپالو، سویوز ملاپ واقعے کی مختصر تفصیل کچھ یوں تھی کہ 15جولائی 1975ء کو امریکا نے اپالو نامی اور سوویت یونین نے سویوز 19 نامی خلائی جہاز خلا میں روانہ کیے، جن میں بالترتیب تین اور دو خلا باز سوار تھے۔ دو دن بعد 17 جولائی 1975ء کو جب یہ دونوں خلائی جہاز بحر اوقیانوس کے اوپر پرتگال سے 625 میل جنوب میں محو پرواز تھے، دونوں خلائی جہاز ایک دوسرے کے نزدیک آگئے اور ایک دوسرے سے متصل ہوگئے۔ پھر امریکی خلائی جہاز سے بریگیڈیئر جنرل ٹامس اسٹیفرڈ اور روسی خلائی جہاز سے کرنل الیکسی لیوناف باہر نکلے، انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور تحائف کا تبادلہ کیا۔ دونوں خلائی جہاز 43 گھنٹے 47 منٹ تک آپس میں جڑے رہے اور خلائی تجربات کرتے رہے۔ اپالو، سویوز مہم اپنی نوع کی منفرد ترین مہم تھی اور بلاشبہ خلائی مہمات کی ایک اہم سنگ میل تھی۔ 7 جون 1982ء کو جاری ہونے والے اس ڈاک ٹکٹ پر اپالو، سویوز ملاپ کی تصویر بنی تھی اور اس پرSPACE EXPLORATION AND PEACEFUL USES OF OUTER SPACE کے الفاظ تحریر تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت ایک روپیہ تھی اور اسے عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا ۔
7جون1992ء کو پاکستان کے پہلے خلائی جہاز ’’رہبر اول‘‘ کو خلا میں بھیجے جانے کی تیسویں سال گرہ اور خلاکے عالمی سال کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک روپے اور دو روپے مالیت کے دویادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ جن کے ڈیزائن بالترتیب الیاس جیلانی اور سید علی افسرنے تیا رکیے تھے۔ ان دونوں ڈاک ٹکٹوں پر INTERNATIONAL SPACE YEAR 1992 کا لوگو بنا تھا۔ ایک روپے والے ڈاک ٹکٹ پر پاکستان کے پہلے خلائی جہاز رہبر اول کی تصویر بنی تھی اورانگریزی میں30 YEARS OF THE FIRST ROCKET (REHBAR-1)LAUNCHED BY PAKISTAN کے الفاظ تحریر تھے جبکہ دو روپے والے ڈاک ٹکٹ پر انگریزی میں INTERNATIONAL SPACE YEAR 1992 کے الفاظ درج تھے۔
7 جون 2004ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ثقافتی ورثہ سیریز میںدو یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن کی مالیت چار، چار روپے تھی۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر شاہراہ ریشم کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میںSILK ROUTE/ INDUS RIVER NEAR CHILLAS اور SILK ROUT/ HARAMOSH PEAK NEAR GILGIT کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ ا ن ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے تیارکیا تھا۔
7 جون2007ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اپنے محکمے کے نئے وژن کے اجرأ کے موقع پر چار روپیہ مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرمحکمہ ڈاک کا نیا لوگو بنا تھااور انگریزی میں PAKISTAN POST Launch of New Vision of Pakistan Post 2007 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن اسپیکٹرم کمیونیکشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے فراہم کیا تھا اور اس کا لے آؤٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے تیار کیا تھا۔
2001ء برطانیہ میں عام انتخابات میں ٹونی بلیئر کی لیبر پارٹی کو تاریخی جیت حاصل ہوئی۔
2008ء میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلی منتخب ہوئے۔
2013ء چین کے شی من میں ایک بس میں آگ لگ جانے سے 42 افراد ہلاک اور دیگر 30 زخمی ہوئے۔
2013ء بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ایک بس پہاڑی راستے سے گر جانے سے ۱۸؍ افراد کی موت ہو گئی جبکہ ۱۴؍ دیگر زخمی ہوئے۔
ولادت :
1660ء جارج اول، (1 اگست 1714ء تا 11 جون 1727ء) مملکت برطانیہ عظمی اور مملکت آئرلینڈ کا بادشاہ ۔ (وفات: 1727ء)
1837ء الوئس شکلگربر المعروف الوئس ہٹلر ، آسٹرین سرکاری ملازم (کسٹم آفیسر) اور ہٹلر کے والد تھے۔ (وفات: 1903ء)
1862ء فلپ لینارڈ ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1905ء) یافتہ جرمن طبیعیات دان و استاد جامعہ (وفات: 1947ء)
1877ء چارلس گلور بارکالا ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1917ء) یافتہ برطانوی طبیعیات دان و استاد جامعہ ، اس انعام کی وجہ انکی دریافت تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کیسے ایکس رے چمک دمک پیدا ہوتی ہے۔ اس کے سبب اکس رے قلم طیف بینی کی اہم ابتدا ہوئی۔ انھوں نے تاببکار مادوں کی ایک اہم خصوصیت یعنی ایکس رے کے چمک دمک بھی دریافت کی تھی۔ (وفات: 1944ء)
1914ء خواجہ احمد عباس ، بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو افسانہ نگار، فلمی ہدایتکار، صحافی اور فلمی کہانی کار تھے۔ (وفات: 1987ء)
1925ء رابرٹ ڈی سلوا ، پاکستانی رومن کاتھولک پریسٹ تھے۔ وہ کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور وہ وہاں ایل کے اڈوانی کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے 1944ء میں علم الٰہیات کی تعلیم شیلانگ سے حاصل کی اور 24 اگست 1952ء کو نفاذ فرمان حاصل کر کے پریسٹ مقرر ہوئے۔ وہ سینٹ لارنس چرچ، کراچی اور سینٹ پیٹرکس کیتھیڈرل، کراچی کے پیرش پریسٹ بھی رہے۔ (وفات: 2015ء)
1946ء انور سیف اللہ خان، پاکستانی سیاستدان ، بیگم کلثوم سیف اللہ کے فرزند اور سابق صدر مملکت غلام اسحاق خان کے داماد ہیں۔
1952ء فرید اورخان پاموک، نوبل انعام برائے ادب (2006ء) یافتہ ترک مصنف،ناول نگار،منظر نویس،مضمون نگار،صحافی
1958ء پرنس روجرز نیلسن، امریکی پاپ موسیقی گلوکار اور موسیقار (وفات: 2016ء)
1966ء سائرہ افضل تارڑ، پاکستانی سیاست دان
1975ء ایکتا کپور، بھارتی ٹیلی ویژن اور فلم پروڈیوسر
1975ء۔۔شین بونڈ۔نیوزی لینڈ بالر۔
1974ء مہیش بھوپتی، ہندستانی ٹینس اسٹار ۔
1985ء میکائیل مسیح، پاکستانی فٹ بال کھلاڑی
وفات :
1848ء ویسارین بیلنسکی ، روسی مصنف، نقاد، فلسفی (پیدائش: 1811ء)
1900ء معظم جان کیمرون لوری ، ہندوستاون کا پہلا امریکی پریسبیٹیرین مبلغ (پیدائش: 1808ء)
1954ء ایلن تورنگ ، انگریز سائنسدان اور ریاضی دان تھے، جنہوں نے عالمی جنگ دوم کے دوران جرمن فوج کے پیغاموں کا رمز توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی نشوونما میں بہت اثر انداز تھے اور مفروضاتی کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ (پیدائش: 1912ء)
1978ء رونالڈ جارج ورے فورڈ نورش ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1967ء) یافتہ برطانوئی کیمیاء دان و استاد جامعہ (پیدائش: 1897ء)
2002ء بسپا دانپہ جتی ، (11 فروری 1977ء تا 25 جولائی 1977ء) بھارت کے قائم مقام صدر (پیدائش: 1912ء)
2015ء سر کرسٹوفر فرینک کارڈنی لی (سی بی ای سی ایس ٹی جے) انگریز اداکار، ابتداء میں آپ نے ولن کے کردار نبھائے خاص طور پر کاؤنٹ ڈریکولا کے کردار نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، لیکن آپ بانی پاکستان محمد علی جناح کی زندگی پر بنائی گئی فلم "جناح" میں اپنے کردار کو زندگی کا سب سے اہم کردار قرار دیتے ہیں۔ (پیدائش: 1922ء)
1606ء سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو کا انتقال ہوا۔
1631ء مغل بادشاہ شاہجہاں کی بیگم ممتاز کا 39 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔
1970ء ‘اے پیسیج ٹو انڈیا’ کے مصنف ایڈورڈ مورگن فوسٹر۔
7 جون 1995ء کو پاکستان کی ایک مشہور گلوکارہ منور سلطانہ لاہور میں وفات پاگئیں۔ منور سلطانہ 1925ء میں لدھیانہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے فلمی کیریئر کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے فلم مہندی سے ہوا تھا۔ انہوں نے موسیقی کی تعلیم ریڈیو پاکستان کے مشہور کمپوزر عبدالحق قریشی عرف شامی سے حاصل کی تھی،انہیں پاکستان کی پہلی فلم تیری یا دکے لئے بھی پس پردہ گلوکاری کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔ پاکستان کے ابتدائی زمانے میں منور سلطانہ نے متعدد فلموں کے لئے گلوکاری کا مظاہرہ کیا جن میں پھیرے، محبوبہ، انوکھی داستان،بے قرار،دو آنسو، سرفروش، اکیلی، نویلی، محبوب، جلن، انتقام، بیداری، معصوم اور لخت جگر کے نام سرفہرست ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا ابتدائی قومی نغمہ ’’چاند روشن چمکتا ستارہ رہے‘‘ بھی انہی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ منور سلطانہ نے اپنی گائیکی کے عروج کے زمانے میں ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر ایوب رومانی سے شادی کرلی تھی اور شادی کے بعد گائیکی سے علیحدگی اختیار کرکے مکمل طور پر گھریلو زندگی گزار رہی تھیں۔
2018ء رسول بخش پلیجو ، سندھ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان۔
No comments:
Post a Comment