10 جولائی 2017
آج سے 2 سال پہلے آج کے دن سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 60 روز کی تفتیش کے بعد حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی ۔اس رپورٹ کے بارے چند حقائق جان لیں۔
آج سے 2 سال پہلے آج کے دن سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 60 روز کی تفتیش کے بعد حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی ۔اس رپورٹ کے بارے چند حقائق جان لیں۔
سربمہر تحقیقاتی رپورٹ جےآئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے عدالت میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے 13 سوالات کا جواب دیا گیا ۔ حتمی رپورٹ میں قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئےکی جانے والی کوششوں کی تفصیلات کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے مہیا کردہ ریکارڈ بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔ سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ پیش کرنے سے قبل جےآئی ٹی نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والے اجلاس میں حتمی رپورٹ کی منظوری دی۔ رپورٹ پر تمام اراکین نے دستخط کیے۔
ورٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے 13 سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ حتمی رپورٹ میں قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئےکی جانے والی کوششوں کی تفصیلات کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے مہیا کردہ ریکارڈ بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ڈی جی جے ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی کام کرنے والی 6 رکنی جے آئی ٹی ٹیم نے اپنی 60 روز کی تحقیقات میں شریف فیملی اور دیگر افراد سے پوچھ گچھ کے دوران تیرہ سوالات کے جوابات کھوجے جن میں
1۔۔گلف اسٹیل مل کیسے بنائی گئی ؟،
2۔۔گلف اسٹیل مل کو فروخت کیوں کرنا پڑا؟
3۔۔۔مل کے ذمے واجبات کا کیا ہوا؟،
4۔۔۔مل کی فروخت سے حاصل ہونے والا سرمایہ کہاں گیا؟،
5۔۔۔ رقم جدہ،قطر اوربرطانیہ کیسے پہنچی؟،
6۔۔کم سن حسن اور حسین نے لندن فلیٹس کیسے خریدے؟،
7۔۔۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران پیش کیا جانے والا قطری شہزادے کے خط کی حقیقت کیا ہے؟،
8۔۔۔بیریئرسرٹیفکیٹس، فلیٹس میں کیسےڈھل گئے؟،
9۔۔۔نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے اصل بینفشریز کون ہیں ؟،
10۔۔۔۔ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کیسے بنی ؟،
11۔۔۔فلیگ شپ انویسٹمن اور ،دیگرکمپنیوں کاسرمایہ کہاں سےآیا؟،
12۔۔۔۔کاروبار کیلیےخطیررقم کہاں سے آئی؟
13۔۔۔اور حسین نواز، والد کے لیے بھاری نقدی کا تحفہ کہاں سے لائے ؟
1۔۔گلف اسٹیل مل کیسے بنائی گئی ؟،
2۔۔گلف اسٹیل مل کو فروخت کیوں کرنا پڑا؟
3۔۔۔مل کے ذمے واجبات کا کیا ہوا؟،
4۔۔۔مل کی فروخت سے حاصل ہونے والا سرمایہ کہاں گیا؟،
5۔۔۔ رقم جدہ،قطر اوربرطانیہ کیسے پہنچی؟،
6۔۔کم سن حسن اور حسین نے لندن فلیٹس کیسے خریدے؟،
7۔۔۔پاناما کیس کی سماعت کے دوران پیش کیا جانے والا قطری شہزادے کے خط کی حقیقت کیا ہے؟،
8۔۔۔بیریئرسرٹیفکیٹس، فلیٹس میں کیسےڈھل گئے؟،
9۔۔۔نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے اصل بینفشریز کون ہیں ؟،
10۔۔۔۔ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کیسے بنی ؟،
11۔۔۔فلیگ شپ انویسٹمن اور ،دیگرکمپنیوں کاسرمایہ کہاں سےآیا؟،
12۔۔۔۔کاروبار کیلیےخطیررقم کہاں سے آئی؟
13۔۔۔اور حسین نواز، والد کے لیے بھاری نقدی کا تحفہ کہاں سے لائے ؟
شامل ہیں۔
جے آئی ٹی نے 60 دن بلاناغہ کام کیا ۔صرف عید پر ایک چھٹی کی۔ اس دوران شریف خاندان اور دیگر افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ جے آئی ٹی وزیراعظم نوازشریف، ان کے صاحبزادے حسن اورحسین نواز، بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف ،داماد کیپٹن (ر) صفدر ، وزیراعظم کے کزن طارق شفیع، نیشنل بینک کے صدر سعید احمد ، سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ، سابق چیئرمین نیب سید امجد ، وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین ظفر حجازی سے پوچھ گچھ کی۔
جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 8مئی 2017 کو ہوا اور 12 مئی 2017 کو تحقیقاتی اخراجات کے لیے جے آئی ٹی کو 2کروڑ روپےکے فنڈز جاری کئے گئے
نواز شریف کے کزن طارق شفیع سے 15مئی 2017کو پہلی بار اور 2جولائی2017 کو دوسری مرتبہ تفتیش ہوئی ۔
19مئی 2017کو جے آئی ٹی نے قطری شہزادے حمد بن جاسم کو سمن جاری کئے لیکن وہ پیش نہ ہوئے۔
نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی میں پہلی مرتبہ 28مئی2017 کو، دوسری مرتبہ 30مئی 3017کو ،یکم جون 2017کو تیسری بار،3 جون 2017کو چوتھی مرتبہ ، 9جون 2017کو پانچویں بار اورپھر3 جولائی 2017 کو چھٹی مرتبہ پیش ہوئے۔
نواز شریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز پہلی مرتبہ جے آئی ٹی میں 2 جون 2017 کو ، دوسری بار آٹھ جون2017 اور تیسری مرتبہ 4 جولائی2017 کو پیش ہوئے ۔
نواز شریف کو متعلقہ دستاویزات سمیت 15 جون 2017کو طلب کیا گیا ۔
شہباز شریف17 جون2017 کو پیش ہوئے ،
رحمان ملک کو بیرون ملک ہونے کے باعث 14 جون2017 کو دوبارہ سمن جاری کرکے 23 جون 2017کو شریف خاندان کیخلاف تحقیقاتی رپورٹ سمیت طلب کیا گیا
نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کوجے آئی ٹی نے 24 جون2017 کو طلب کیا گیا۔
4جولائی 2017کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار، 5جولائی2017 کو مریم نواز اور اسی روز چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی بھی پیشی ہوئی تھی ۔
جے آئی ٹی نے اپنی پہلی پیشرفت رپورٹ 22 مئی2017 کو ، دوسری 7جون 2017 اور تیسری پیشرفت رپورٹ 22 جون 2017 کو پیش کی۔
اسی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا ۔
اسی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف تاحیات نااہل قرار دیا گیا تھا ۔
No comments:
Post a Comment