Ad3

صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین

04 جولائی 1187
26 رمضان المبارک 584 ھجری
صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں عیسائیوں کو فیصلہ کن شکست دی ۔
26 رمضان المبارک584 ھجری بمطابق4 جولائی 1187ء کو عیسائی سلطنت یروشلم اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی افواج کی درمیان لڑی گئی۔ جس میں فتح کے بعد مسلمانوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے بیت المقدس کو عیسائی قبضے سے چھڑالیا۔
مصر میں فاطمی حکومت کے خاتمے کے بعد صلاح الدین نے 1182ء تک شام، موصل، حلب وغیرہ فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔ اس دوران صلیبی سردار رینالڈ کے ساتھ 4 سالہ معاہدہ صلح طے پایا جس کی رو سے دونوں کے دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن یہ معاہدہ محض کاغذی اور رسمی ثابت ہوا۔ اور صلیبی بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رہے تھے۔ ۔
1186ء میں عیسائیوں ‌کے ایک ایسے ہی حملہ میں ریجنالڈ نے یہ ناپاک جسارت کی کہ وہ دیگر عیسائی جنگجو امرا کے ساتھ شہرِ نبوی، مدینہ منورہ پر ناپاک حملے کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلیے فوری اقدامات کیے۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حقیقی غلام نے اس بدبخت صلیبی سردار ریجنالڈ کا فوری تعاقب کرتے ہوئے اسے حطین کے تاریخی مقام پر جا لیا۔سلطان نے اپنے آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مقدس پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے صلیبی لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ پھینکوایا کہ جس سے میدان جنگ کی زمین پر چاروں طرف بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک آتشیں ماحول اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان 26 رمضان المبارک584 ھجری  کو حطین کے مقام پر تاریخ کی اس خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا جس کے انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی حکمرانوں کے کانوں سے تپتا ہوا دھواں برامد ہوتا ہے۔
اس تاریخی جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زیادہ عیسائی حملہ آور جہنم واصل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ بدبخت ریجنالڈ کو زندہ گرفتار کیا گیا اور پھر سلطان نے مدینۃ النبوی پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے اس گستاخ صلیبی سالار کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کیا۔ اس فتح کے بعد اسلامی افواج چاروں طرف عیسائی علاقوں پر پوری طرح چھا گئیں۔ جنگ حطین کی شاندار فتح کے فوری بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا۔اور بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔۔ یہ محاصرہ 20 ستمبر سے 2 اکتوبر 1187 ء تک جاری رہا۔اس دوران صلیبیوں جنگجوؤں نے صلاح الدین ایوبی نے مذاکرات کیے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے شہر میں موجود تمام آبادی کو ان کی جان ومال کی امان بخشی۔
02 اکتوبر 1187 کو بیت المقدس 91 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔
اس کے بعد یورپی بادشاہوں نے برطانوی شہنشاہ رچرڈ اول فرانسیسی فیلپ اگسٹس نے ستمبر 1191ء میں بیت المقدس کی طرف بڑھنے اور اس پر دوبارہ قبضے کی ناکام کوشش کی مگر صلیبیوں کی یہ پیش قدمی ناکام رہی۔
اس فتح عظیم کے بعد بیت المقدس پر تقریباً 762 سال تک مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا یہاں تک کہ یکم اگست 1967 کی تاریخ آگئی۔
اور پھر بیت المقدس ہمارے پاس نہ رہا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...