Ad3

صلاح الدین ایوبی نے گستاخ رسول کا سر کاٹ دیا

04 جولائی 1187ء
26 رمضان المبارک 584
صلاح الدین ایوبی نے اپنے ہاتھ سے گستاخ رسول کا سر کاٹ کر پوری دنیا کو بتا دیا کہ ناموس رسالت پہ سمجھوتہ ممکن ہی نہیں ۔
یہاں فقط ایک ہی سزا ہے
گستاخ کا سر تن سے جدا ہے۔
26 رمضان المبارک 584 بمطابق 04 جولائی 1187 کو صلاح الدین ایوبی نے اپنے ہاتھ سے بدبخت صلیبی سردار ریجنالڈ کو قتل کیا ۔
1186ء میں عیسائیوں ‌کے ایک بادشاہ ریجنالڈ نے یہ ناپاک جسارت کی کہ وہ دیگر عیسائی جنگجو امرا کے ساتھ شہرِ نبوی، مدینہ منورہ پر ناپاک حملے کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلیے فوری اقدامات کیے۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حقیقی غلام نے اس بدبخت صلیبی سردار ریجنالڈ کا فوری تعاقب کرتے ہوئے اسے حطین کے تاریخی مقام پر جا لیا۔سلطان نے اپنے آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مقدس پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے صلیبی لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ پھینکوایا کہ جس سے میدان جنگ کی زمین پر چاروں طرف بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک آتشیں ماحول اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان 04 جولائی 1187ء بمطابق 26 رمضان المبارک584 کو حطین کے مقام پر تاریخ کی اس خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا جس کے انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی حکمرانوں کے کانوں سے تپتا ہوا دھواں برامد ہوتا ہے۔
اس تاریخی جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زیادہ عیسائی حملہ آور جہنم واصل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ بدبخت ریجنالڈ کو زندہ گرفتار کیا گیا
جب مختلف قیدی بادشاہ صلاح الدین ایوبی کے سامنے لائے گئے تو صلاح الدین نے ایک فرانسیسی بادشاہ  گائے آف لوسیگن کو پانی پیش کیا۔اس فرانسیسی بادشاہ نے پانی پی کر باقی پانی ریجنالڈ کو دیا ہی تھا کہ صلاح الدین ایوبی بول اٹھا کہ یہ پانی اسے تم نے دیا ہے میں نے نہیں ۔
کیونکہ اصول یہ تھا کہ بادشاہ جسے پانی پیش کرتا تھا اسے قتل نہیں کرتا تھا لیکن ریجنالڈ کا جرم ناقابل معافی تھا۔
صلاح الدین ایوبی نے واضح طور پہ کہا کہ اگر تم نے میرے نبی کریم کی شان میں گستاخی نہ کی ہوتی تو تمھارے تمام جرائم معاف کر دیے جاتے لیکن ناموس رسالت پہ سمجھوتہ ممکن ہی نہیں ۔
پھر صلاح الدین ایوبی نے اپنے ہاتھ سے ریجنالڈ کا سر تن سے جدا کر دیا۔
یہ 04 جولائی 1187 بمطابق 26 رمضان المبارک 584 ھجری کا دن تھا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...