مسلمانوں کے لئے اگر عربی ماہ وسال نئی اور انوکھی بات ہوکر رہ گئ ہیں تواس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ بذات خود دین اسلام ہی ان کی نظر میں نیا ہوکر رہ گیا ہے اور یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ چنانچہ معاشرہ میں بہت کم ہی لوگ اس کا شمار رکھتے ہیں اور اسے جانتے ہیں، یا ان کا شرعی حکم انہیں معلوم ہے۔جبکہ اس کے مقابل سارے لوگ ہی میلادی ماہ وسال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔
اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلامی کیلنڈر سے ناواقفیت اور غیر اسلامی کیلنڈر کے استعمال نے مسلمانوں کو بہت سے غیر شرعی امور میں مبتلا کردیا ہے خواہ وہ عجمی کیلنڈر ہو یا رومی یا میلادی ۔ انہیں کی وجہ سے مسلمان بدعتوں کے شکار ہیں اور بہت سے نیک اعمال سے محروم ہیں۔ اسی لئے نصیحت اور تذکیر کے طور پر اس کی اہمیت اور عظمت کو بیان کرنا ضروری ہے۔
{ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ} [سورة الحج: 32].
ترجمہ: (یہ ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔
اور موسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے دنوں کے ذریعہ یاد دہانی کریں اور ان میں جو احکام اور سبق اور عبرت ہیں انہیں بیان کریں، فرمان الہٰی ہے:
{وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللّهِ} [سورة إبراهيم: 5].
ترجمہ: اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ۔
اور ان کا عمل ہمارے لئے بھی نمونہ ہے۔{أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ}[الأنعام: 90].
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔
اور اسلامی مہینوں کی تاکید وفرضیت اللہ تعالیٰ کے تقوی وپرہیزگاری کی فرضیت میں سے ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو حکم دیا ہے ۔{وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُواْ اللّهَ} [النساء: 131].
ترجمہ: اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو۔
ان مہینوں کے نام بالترتیب اس طرح ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان ، رمضان ، شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ۔ اور فرمان الہٰی ہے: : {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ} [سورة التوبة: 36].
ترجمہ: خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔
مفسر قرآن علامہ قرطبی نے درج بالا آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ آیت واضح ثبوت ہے کہ تمام احکام خواہ عبادات ہوں یا غیر عبادات ان کی ادائیگی میں عربی اور اسلامی تقویم کا ہی اعتبار ہوگا نہ کہ اس کیلنڈر کا جس پر عجم رومی اور مسیحی لوگ عمل کرتے ہیں اگرچہ اس کے مہینے کی تعداد بارہ سے زائد نہیں ہے کیونکہ ان کی گنتی میں فرق ہے ، کوئی مہینہ ۳۰ دن کا ہوتا ہے اور کوئی زیادہ اور کوئی کم جبکہ اسلامی تقویم کا معاملہ اس سے مختلف ہے کیونکہ مہینہ یا تو ۳۰ دن کا ہوتا ہے یا ۲۹ دن کا اور جو ماہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے وہ کوئی متعین نہیں ہے کہ کب ہوگا۔
اس ۳۰ دن یا ۲۹ دن کا دار ومدار چاند کے منازل کے اعتبار سے ہوتا ہے۔اور عربی ماہ چاند دیکھ کر شروع ہوتا ہے یا گذشتہ ماہ ۳۰ دن پورا کرکے شروع ہوتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: «صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين» [رواه البخاري].
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کی نماز پڑھو، اگر چاند نہ دیکھ سکو تو شعبان کے ۳۰ دن پورے کرلو(پھر روزہ رکھو)[بخاری شریف]
اور زمانہ اول سے چاند پر ہی عمل ہوتا آرہا ہے اور شرعی احکام کا دارومدار اسی پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ}[البقرة: 189]
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے چاند کے نظام کو لوگوں کے کاموں کی میعاد قرار دیا،تاہم حج کو امتیازی طور پر بیان کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حج کے دنوں میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، نیز حج سال کے اخیر میں آتا ہے، جس طرح ہلال مہینے کی نشانی ہے ۔بہرحال سورج سے ہمارے مہینوں اور سالوں کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ شمسی مہینے حالت اضطرار کے وقت قمری مہینوں پر معلق ہوتے ہیں، چاند کے دیکھنے پر یا اس کے علم پر یہ دعا پڑھنا سنت ہے: «اللهم أهله علينا باليمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، ربي وربك الله»[صححه الألباني]. ترجمہ اے اللہ اس چاند کو ہم پر امن وسلامتی اور ایمان واسلام کے ساتھ ظاہر فرما،اے چاند تیرا بھی رب اللہ ہے اور میرا بھی رب اللہ تعالیٰ ہے۔
دن کا آغاز طلوع فجر صادق سے ہوگا اور اختتام غروب شمس پر،اور رات کا آغاز غروب شمس سے اور انتہا طلوع فجر پر، تاہم امت نے مہینے کے دخول اور خروجاسی طرح دن اور رات کی تحدید کے سلسلے میں یا پھر فجر وغیرہ کے وقت کی معرفت کے سلسلے میں فلکی حساب سے عمل نہیں کیا، بلکہ ہر وقت کی تحدید کے سلسلے میں شرعی نصوص وارد ہوئے ہیں جس کی دلیل مسلم کی یہ روایت ہے:«لا يغرنكم من سحوركم آذان بلال ولا بياض الأفق المستطيل هكذا حتَّى يستطير هكذا» صبح کی نمازوں کے بارے میں بلال کی اذانیں اور افق کی سفیدی تمہیں دھوکہ نہ دے یہانتک کہ وہ اس طرح پھیل جائے۔
پھیلنے سے مراد سفیدی کی روشنی پورے افق میں چھاجانا ہے۔
علماء نے بیان کیا کہ رمضان ، حج اورعدت وغیرہ یعنی چاند سے متعلق احکام کے سلسلے میں اندازوں پر بھروسہ صحیح نہیں ہے، یہ بات نص اور اجماع سے ثابت ہے اور اسی پر قرون اولی میں عمل تھا، بعد کے زمانوں میں متاخرین نے چاند کے چھپ جانے کے سبب اندازوں اور تخمینوں پر عمل کو جائز قرار دیا لیکن اس عمل کا عموم جائز نہیں ہے۔
ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں: چاند کے سلسلے میں اندازے پر بھروسہ کرنا شریعت میں گمراہی اور دین میں بدعت عمل ہے، چونکہ علم حساب میں انسان غلطی سے دوچار ہوسکتا ہے، اسی لئے علماء ہلال کمیٹی رویت ہلال کے سلسلے میں تخمینوں پراعتماد نہیں کرتی ہے۔حساب کے ماہرین کے درمیان رویت کے سلسلے میں ایک تنازعہ ہے، اور ماہرین حساب جیسےPtolemy وغیرہ اس موضوع پر کلام کرنے سے عاجز ہیں۔
اورشرعی احکام کی وضاحت ، نصیحت وخیرخواہی اور دینی واخلاقی ذمہ داری وجوابدہی کے طور پر میں نے یہ بتانا دینا ضروری سمجھا ہے اورشیخ نے مزید فرمایا کہ چاند اور شرعی احکام کا اعتبار چانددیکھ کر ہوگا یا مہینے کی گنتی (30 دن) پورا کرکے ہوگا اور یہیں سے یہ بات غلط ثابت ہوجاتی ہے جو لوگ شرعی احکام کے لئے فلکی حساب فضاء میں چاند کی پیدائش، ٹیلسکوپ کے ایجاد اور سٹیلاٹ کو بنیاد بناتے ہیں کیونکہ شریعت نے احکام کے لئے آنکھ سے دیکھنے کو ہی بنیاد بنایا ہے، علمائے کرام ؒ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا اور آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ آج کا دن رمضان مبارک کا پہلا دن ہے تو ایسی صورت میں بھی یہ ناقابل عمل ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں اس بنیاد پر عمل ہوگا جس کا ذکر اوپر گذرچکا ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ اسلام کی پیروی کریں، اس لئے علماء کرام حساب جدول اور تقویم پر عمل کرنے کو مبتدعانہ عمل شمار کرتے ہیں اور اس کی سختی سے نکیر کرتے ہیں اور ہمارے لئے وہ ہدایت ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔
دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو دین اور اس کے لوازمات ومتعلقات سے متنفر کرنے میں کوئی کسرنہ اٹھا رکھی ہے بلکہ عربی زبان اور اسلامی تقویم سے متنفر کردیا، اور اس کے لئے انہوں نے نظریاتی وفکری جنگ کے ہر حربہ کو استعمال کیا، حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم ان کی تقلید اور مغرب پرستی میں ان کے بنائے ہوئے کیلنڈر کو ہی استعمال کرتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی شریعتوں میں بھی چاند پر ہی عمل ہوتا رہا ہے ، لیکن پچھلی شریعتوں کے پیرووں نے اس میں تبدیلی پیدا کردیا جیسا کہ یہود اپنی بعض عیدیں شمسی کیلنڈر کے حساب سے مناتے ہیں اور نصاری نے بھی اپنے روزے اور اپنی عیدمیں اسی طرح تبدیلی پیدا کرلی ہے، ہمارے لئے شریعت کا راستہ ہی بہتر اور کامل راستہ ہے، اس لئے ہمیں بہتر راستہ چھوڑ کر برے راستے کو اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اب اگر کوئی شخص کسی عربی ماہ کو دوسرے عربی ماہ سے تبدیل کرتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا جیسا کہ صفر کو رجب سے بدل دینا وغیرہ ، اس سے بھی آگے بڑھ کر اگر کوئی عربی واسلامی تقویم کی بجائے میلادی اور انگریزی کیلنڈر استعمال کرتا ہے تو بڑا گنہگار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُحِلِّونَهُ عَاماً وَيُحَرِّمُونَهُ عَاماً لِّيُوَاطِؤُواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّهُ فَيُحِلُّواْ مَا حَرَّمَ اللّهُ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ} [التوبة: 37].
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
ابن کثیر ؒ رقم طراز ہیں: اللہ تعالیٰ نے آیت بالا میں مشرکین کی قانون الہٰی میں اپنے فاسد خیالات کے ذریعے تصرف اور اپنی خواہشات کے سبب اللہ تعالیٰ کے احکام کی تغییر اور حلال کو حرام کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر مذمت فرمائی، اور مذموم نسی کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین حملے کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ماہ محرم پر صفر کو مقدم کرتے تھے نیز ابن اسحاق کے بقول وہ یہ عمل بدلہ کے مطالبہ کے لئے بھی کیا کرتے تھے یا پھر مشرکین حج کو اپنے وقت سے مؤخر کردیتے تھے۔نبی پاک ﷺ نے حجۃ الوداع ماہ ذی الحجہ میں کیا، اور اپنے مشہور خطبہ میں ارشاد فرمایا: بے شک زمانہ گھوم گھما کر اپنی پہلی اسی حالت پر آچکا ہے جس حالت پر اس وقت تھا جب اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ایک سال بارہ مہینوں کا ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں ۔ تین تو لگاتار ہیں: (۱) ذوالقعدہ(۲) ذوالحجہ(۳) محرم اور چوتھا قبیلہ مضر کا مہینہ رجب ہے۔ جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔[بخاری] امام ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں: اور جو شخص یہ جان لے کہ اہل کتاب، صائبین اور مجوس وغیرہ کی عیدوں ، ان کی عبادتوں اور ان کی تواریخ میں جو اضطراب اور فساد پیدا ہوگیا ہے تو اس کا اسلام کی نعمت پر شکر میں اضافہ ہوجائے گا، بالاتفاق انبیاء علہیم السلام نے ان اقوام کی عیدوں اور عبادتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی ، بلکہ یہ چیزیں ان میں صائب فلسفیوں نے داخل کی تھیں اور انھوں نے دین میں ایسے ایسے قوانین وضع کردیئے تھے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی تھی، ہم نے جو بھی بیان کیا وہ اس دین کی مفسدین سے حفاظت کےلئے بیان کیا، کیونکہ اس کے بدلے جانے کا بھی خدشہ ہے، عربوں نے زمانہ جاہلیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کو بدل دیا تھا۔
علماء نے کہا ہے کہ کافروں سے ان کی تاریخ کےخصوصا ایسی تاریخوں جو ان کی عیدوں وغیرہ کے بارے میں ہے سمجھوتہ کرنا، جسے کافروں نے اپنے طرف سے مقرر کرلیا ہے، جو حقیقتا ان کے دین میں بھی نہیں ہے جیسے میلاد مسیح وغیرہ تو یہ عمل کافروں کے شعار اور ان کے تہوار کے احیاء میں حصہ لینے اور شرکت کرنے کے مترادف عمل ہے، اور ملت ابراہیمی مومنین سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ مشرکین کے تمام اعمال کی مخالفت کریں، جس کی دلیل نبی پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: «من تشبَّه بقوم فهو منهم»[رواه أبو داود وصححه الألباني] ''جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان میں سے ہے'' ظاہری مشابہت باطنی مشابہت پر آمادہ کرتی ہے، لہٰذا عربی مہینوں کو نظر انداز کرنے اور انگریزی مہینوں کو اختیار کرنے میں عظیم خطرہ ہے۔
حضرت عمر ؓ نے ہجری تاریخ کا آغاز کیا تھا، اور یہ تمام صحابہ کے اتفاق سے اس روز سے کیا گیا تھا جس دن آپ ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی، اور ماہ محرم سے آغاز کا راز یہ ہے کہ صحابہ اہل فارس اور روم کی تاریخوں سے بخوبی واقف تھے تو انھوں نے عمدا ان کی مخالفت میں محرم سے ہجری سال کا آغاز کیا،اور ہر قسم کا خیر اسلاف کی اتباع میں ہے اور ہر قسم کا شر برے لوگوں کی پیروی میں ہے، اگر اس دن کوئی دین نہ ہوتا تو آج بھی کوئی دین نہیں ہوتا ، اس امت کے آخری طبقے کی صلاح وبہبودی اسی میں ہے جس میں اس امت کے اولین طبقے کی اصلاح وبہبودی رکھی ہوئی تھی،جیساکہ امام مالکؒ کہتے ہیں:علماء نےعجمی ارقام اور تاریخوں نیز شرکیہ اور بے معنی کلمات کے ذریعے علاج کرنے سے خبردار کیا ہے۔یہی کچھ حال انگریزی مہینوں کا ہے، اپریل کا مہینہ (نیسان) یہ انگریزی سال کا چوتھا مہینہ ہے، یہ مہینہ ربیع یعنی بہار کے آغاز میں آتا ہے، اوراہل روم اس مہینے کے پہلے دن فینوز کی تقریبات مناتے تھے، فینوز محبت وجمال اور خوشی اور سعادت مندی کی جانب منسوب اہل روم کا ایک معبود تھا، دوسری جانب سیکسن نامی قبائل اس ماہ میں اپنے معبود ''ایسٹر'' کی پوجا پاٹ کیا کرتے تھے، یہ ان کا قدیم معبود تھا، آج کل اس دن کو مسیحیوں کے پاس '' ایسٹر ڈے'' کے نام سے منایا جاتا ہے،نیز اپریل فول بھی اسی مہینہ کی جانب منسوب ہے۔
اکثر میلادی مہینے اپریل کے مہینے کی طرح فساد سے بھرے ہوئے ہیں،لہٰذا جو شخص مارچ اور اپریل کے مہینوں کی بات کرے تو اسے رجب اور ذی القعدہ کے مہینوں کو بھولنا یا نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ انگریزی مہینوں کے فاسد معنوں اور مطالب سے خود بھی خبردار رہنا اور دیگر لوگوں کو بھی خبردار کرنا چاہئے۔
امام احمد ؒ سے دریافت کیا گیا: اہل فارس کے پاس دنوں اور مہینوں کے نام عجیب ہے، جو معروف بھی نہیں، اس پر امام احمد نے سختی سے کراہت کا اظہار فرمایا، مجاہد سے روایت ہے کہ امام احمد اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ ان کے سامنے :آذار ماہ کہا جائے، اسی طرح کتابوں میں آتا ہے: جوشخص عربی زبان کو اچھا بولتا ہو وہ عجمی زبان میں بات نہ کرے، کیونکہ یہ عمل نفاق کو دعوت دیتا ہے''، اور حضرت عمر اجنبی زبان بولنے سے مطلقا منع فرماتے تھے، اسی طرح حضرت امام شافعیؒ نے عربی زبان کے علاوہ میں بات کرنے سے منع فرمایا۔
لہٰذا عربی مہینوں پر عمل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور داعی حضرات پر تو دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوام الناس میں ہدایت کے مفاہیم ومطالب کو اجاگر کریں، حدیث میں آتا ہے، ارشاد نبویﷺ ہے: «ومن دلَّ على خير فله مثل أجر فاعله» [رواه مسلم]. ''جس نے بھلائی کی رہنمائی کیا تو اس کے لئے عمل کرنے والے کی طرح اجر ہے''
ہاں کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یہ دعوت فضول ولایعنی باتوں کی دعوت ہے، بلکہ ہم کسی بھی بے معنی طریقے کی وضاحت کرنے سے اکتانے والے نہیں ہے ، یہانتک کہ وہ مستحب ہو، آج ہم دیکھتے ہیں کہ مستحبات میں سستی اور غفلت کے اثرات واجبات پر پڑنے لگے ہیں، جو بلند عزائم والے ہوتے ہیں ان کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ وہ علم ، عمل اور دعوت الی اللہ میں واجبات سمیت مستحبات کا بھی اہتمام کرتے ہیں، ہم دین کی تقسیم چھلکے اور مغز سے نہیں کرسکتے۔{ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ} [سورة الحج: 32].
ترجمہ: (یہ ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔
پھل کی حفاظت کے لئے چھلکوں کا ہونا بے حد ضروری ہے، سیب کو دیکھئے، جب ہم اس کا چھلکا نکال دیتے ہیں تو وہ خراب ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا فضلیت والے موسموں کا فائدہ اٹھانا چاہئے، اور فضیلت کے موسم کون سے ہیں، فضیلت کے موسم اشہر حرم یعنی محرم، شعبان، رمضان، اور دنوں میں عرفہ، عاشوراء، عیدین اور ایام تشریق یہ سب فضیلت والے موسم ہیں، ان ایام میں اللہ کو پسند ہر عمل سے قربت الہٰی کو حاصل کرسکتے ہیں، تاہم ان مبارک ایام میں عیدمیلاد نبی، اسراء اور معراج کے جشن وجلوس جیسی بدعات وخرافات سےخبردار رہئے۔
یاد رکھیئے ۔۔
سال ایک درخت ہے ، مہینے اس کی شاخیں ہیں، دن اس کی ٹہنیاں ہیں، گھنٹے اور ساعت اس کے پتے ہیں، سانسیں اس کے پھل ہیں۔
اب جس کی سانسیں اطاعت وفرمانبرادی میں گزری ہونگی، تو اس کے درخت کے پھول خوشگوار اور قیمتی ہونگے اور جس کی سانسیں معصیت ونافرمانی میں ضائع ہوئی ہونگی تو اس کے پھل حنظل کے کڑوے پھل ہونگے،اور نتیجہ قیامت کے دن ہوگا، اس دن پھلوں کی مٹھاس اور کڑواہٹ کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔۔
امام ابن قیم کے بقول: اس دنیا میں ہر کوئی مسافر اپنے رب تعالیٰ کی جانب مسافر ہے، اور مدت سفر عمر ہے، دن اور رات سفر کے مرحلے ہیں، عقلمند اور دانشور تو وہ ہے جو مرحلوں کے طئے کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قربت کے بارے میں کوشش میں لگارہے ، لہٰذا آپ ہی یہ آدمی بن جایئے، اور اگر آپ کو توفیق مل جائے اور آپ راہ مستقیم پالے تو کہئے
{وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ} [سورة هود: 88].
( میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ad3
عربی ماہ وسال اور اسلامی کیلنڈر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
’’کہاں چلے بابانور؟‘‘ایک بچے نے پوچھا۔ ’’بس بھئی،یہیں ذرا ڈاک خانے تک۔‘‘بابا نور بڑی ذمے دارانہ سنجیدگی سے جواب دے کر آگے نکل گیا اور س...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بہوں مدتاں بعد اوہ وت ملیا اوندے ملن دا ڈھنگ تبدیل ھائی پریشان حیران تےگم سم ھائی اوندے مکھ دا رنگ تبدیل ھائی اوندے بول مٹھے انداز چنگے ا...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...
No comments:
Post a Comment