24 ستمبر 2015ء کو جمعرات کی صبح نو بجے (سعودی وقت کے مطابق) منی میں جمرات پل کے پاس شارع العرب (شارع 204) پر حج کے دوران میں بھگدڑ مچنے سے769 سے زائد حجاج شہید، جبکہ 863 کے قریب زخمی ہوئے تھے،[4] ان میں زیادہ تعداد عورتوں اور سن رسیدہ حجاج کی تھی۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حجاج جمرہ عقبہ کی جانب رمی جمار کے لیے جا رہے تھے۔ یہ 1990ء کی بھگدڑ کے بعد جس میں 1426 افراد ہلاک ہوئے تھے، ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکت خیز بھگدڑ ہے۔
سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب حاجی جمرات پر کنکریاں پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے دوراہہ پر موجود تھے۔اس وقت اس پُل پر حاجیوں کی بڑی تعداد کی ایک مقام پر موجودگی کی وجہ سے بھگدڑ مچی جس کے نتیجے میں بہت سے حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔
الا اسوفو جو اس حادثے کے عینی شاہد ہیں ان کا کہنا ہے کہ:
” لوگ رمی کے لیے جا رہے تھے کہ ان کے سامنے کنکریاں مار کر آنے والے حاجی آ گئے۔ پھر افراتفری کا سماں تھا اور اچانک لوگ گرنے لگے، مزید یہ کہ کئی لوگ ایک دوسرے کے اوپر چڑھتے ہوئے محفوظ مقام پر پہنچنے کے لیے کوشاں تھے، اس وجہ سے بھی کچھ لوگ مر گئے
سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں کی تعدادتقریباً 789 ہے جبکہ میڈیا رپورٹس اور متاثر ہونے والے 42 ممالک کے مطابق 2431 حاجی شہید ہوئے
اس سانحہ میں سب سے زیادہ ایران کے حاجی شہید ہوئے جن کی تعداد 464 ہے۔ افریقی ملک مالی کے 312 حاجی شہید ہوئے۔ نائیجیریا کے 274، مصر کے 190، بنگلہ دیش کے 137، انڈونیشیا کے 129، بھارت کے 114، کیمرون کے106، پاکستان کے 83 اور نائیجیر کے 78حاجی شہید ہو ئے، اس کے علاوہ بنگلہ دیش، الجیریا ، بینن، برکینا فاسو، برونڈی، چاڈ، چین، ایتھوپیا، جیبوتی، گیمبیا، گھانا، عراق، آئیوری کوسٹ ، اردن، کینیا، لبنان ، لیبیا، ملائشیا، ماریشش، مراکو، میانمر، ہالینڈ، اومان، فلپائن، سینیگال، صومالیہ، سری لنکا، سوڈان، تنزانیہ، تیونس، ترکی اور یوگنڈا کے حاجی شہید ہوئے۔
No comments:
Post a Comment