Ad3

ایلوویرا :(aloe vera)

ایلوویرا جسے گھیکوار بھی کہا جاتا ہےیہ بنیادی طور پر ایک جنگلی پودا ہے جو دنیا بھر میں کہیں بھی اگ جاتا ہے،حسن و آرائش کے لیے یہ ایک کرشماتی طاقت رکھتا ہے۔
ایلوویرا للی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے ویرا ایلو فیملی کا رکن ہے ،ویرا کا معٰنی ہے (اصلی یا سچا)اس کی پانچ سو سے زیادہ اقسام ہیں اس کا اصل وطن افریقہ ہے ۔اس بہت خوبصورت پودے کے پتے جڑ سے پھوٹتے ہیں شروع میں آمنے سامنے دو پھرزرا سا گھماو دے کر تین تین پتوں کاسیٹ اوپر کی طرف بڑھتا رہتا ہے،پتاجوان ہونے پراوسطً تین انچ چوڑا(چوڑائی کم ہوتے ہوتے پتے کی نوک پر ایک کانٹے پر ختم ہوتی ہے)،ڈیڑھ انچ موٹا اور دو فٹ لمبا ہو جاتا ہے جو ایک طرف سے اندر کو دبا ہوا اور دونوں کناروں پر نیچے کو مڑے ہوئے کانٹوں کی قطار لیے ہوتاہے۔پتے کو چھیلنے پر نیم سبز شفاف اور چپکنے والے مادے سے بنی جیلی نمودار ہوتی ہے یہ ہی اس پودے کا سرمایا ہے۔کافی بڑے پودوں کے درمیان سے ایک تین فٹ لمبی سرخ گندل نکلتی ہے اسے کنوار کہتے ہیں یہ بد مزہ اور بدبو دار ہوتی ہے۔ایلو ویرا کا پودا جڑوں میں سے ننھے پودے نکال کر اپنی نسل بڑھاتا رہتا ہے۔ اسے سجاوٹی پودے کے طور پر باغوں میں لگانے کے ساتھ ساتھ بطور ادویاتی پودے کے بڑی تعداد میں کاشت کیا جا رہا ہے اسے کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ریتلی مٹی میں خوش رہتا ہے۔ اس کا استعمال ہماری طب میں ہزاروں سال سے ہو رہا ہے۔چار ہزار سال پرانی تاریخ کی جو دستاویزات دستیاب ہیں جن میں قدیم مصری تحریریں اور نیپال کے پگوڈوں سے ملی مٹی کی لوحوں پر ایلوویرا کے متعلق بہت سی معلومات درج ہیں۔قدیم سنسکرت میں ایلوویرا کا تذکرہ گھریتا کماری کے نام سے کیا گیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ نسوانی خوبصورتی اور امراض کے علاج کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔چین میں اسے زمانہ قدیم سے طب میں استعمال کیا جا رہا ہے۔کانسٹن ٹائین [1864]نے ہومیوپیتھی میں اسے بطور دوا متعارف کرایا۔
حالیہ برسوں میں ایلوویرا پر جو ریسرچ ہوئی ہے اس کے مطابق اس جادوئی پودے میں درج ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
اس میں کیلشیم ۔کرومیم۔ آیوڈین۔کاپر۔آیرن ۔میگنیشیم۔ میگانیز۔ میلوبیڈینیم۔سلینیم۔سوڈیم کلورایڈ ۔سلفر پوٹاشیم ۔زنک پائے جاتے ہیں۔
یہ بی ون ۔ بی ٹو، بی تھری۔ بی فایو۔بی ٹویلو۔سی ای ۔فولک ایسڈ۔کولائن کا خزانہ ہے۔بیس قسم کے امائنوایسڈ جو جسم خود نہیں بناتا اس میں ملتے ہیں۔ایلوویرا بکٹیریا ختم کر کے جسم کے مدافعتی نظام کو مظبوط بناتا ہے۔بڑھاپے کے اثرات کم کرتا ہے وائیٹ سیلز کی پیداوار بڑھا کر کینسر سے بچاتا ہے۔مسوڑھوں ،پٹھوں اور جوڑوں کو طاقتور کر کے دل کے دورے سے بچاتا ہے۔جلد اور بالوں کی خوبصورتی کے لیے بہترین ٹانک ہے،جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے جل جانے کے زخم پر اس کا استعمال مفید ہے۔کنوار گندل یاایلوویرا
کو بطور سبزی یا گوشت کے ساتھ پکا کرکھانا رعشہ اور لقوہ میں مفید ہے۔لعاب گھیکوار یا ایلوویرا اورست گلو سے بنا نسخہ ذیابیطس کا بہترین علاج ہے۔ایلوویرا سے ہر طرح کے کشتہ جات آسانی سے تیار ہو سکتے ہیں۔پرانی کھانسی کے مریض کو گھیکوار اور اجوائین سے بنی ایک دوا بہت جلد فائدہ دیتی ہے۔گھیکوار سے اچار بھی بنایا جاتا ہے جو اکثر امراض شکم کو رفع کرتا ہے۔گھیکوار کا ایک پتہ لے کر اسے ایک سرے سے دوسرے تک چیر کراس پر نوشاد پھلی کا سفوف دو تولہ چھڑک کر دوبارہ آپس میں جوڑ کر لٹکا دیا جاتا ہے نیچے رکھے برتن میں سارا رس ٹپک جاتا ہے یہ رس اک دو قطرے بتاشہ پر ڈال کر ورم طحال، بڑھی ہوئی تلی اور امراض جگر میں کھلایا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں کاسمیٹک کی تمام پروڈکٹ میں استعمال ہو رہا ہے اور دن بدن اس کی خصوصیات سامنے آ رہی ہیں۔
دنیا میں ہر چیز کے منفی مثبت پہلو ہوتے ہیں ایلوویرا کے بھی کچھ منفی پہلو ہیں مجموعی طور پر ایلوویرا ایک انتہائی مفید پودا ہے
ایلوویرا کا استعمال بال گرنے سے روکتا ہے
ویسے تو ہر پودے اور نباتات کے اپنے ہی فائدے ہوتے ہیں۔کچھ پودے حیرت انگیز طور پر صحت اور جلد کو فائدہ پہنچاتے ہیں جن میں ایلوویرا خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ایلوویراکی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے، خاص طور پر جلد کو حسین ا ور خوبصورت بنانے کے لیے تو اس کی کوئی اور مثال ہے ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی میک اپ پروڈکٹ میں ایلوویرا کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ایلوویرا بالوں کی افزائش، ان کو گھنا اور مضبوط بنانے میں نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر گرتے ہوئے بالوں کو روکنے کے لیے ایلوویرا کااستعمال جادوئی اثر دکھاتا ہے۔
بالوں کے گرنے کی وجوہات : (reasons of hair loss)
موسم کی تبدیلی، ناقص خوراک ، غیر معیاری شیمپو اور جیل کا استعمال، فضائی آلودگی، صاف پانی کی عدم دستیابی، بالوں کی نشوونما کا نہ ہونا، ہارمونز کی تبدیلی، جلد پر  ہونے والی الرجی، سر میں مستقل خشکی اور میل، وغیرہ ۔
ایلوویرا گرتے بالوں کا علاج :(aloe vera prevents hair loss)
٭ بالوں کی گرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی پروٹیو لائیٹک اینزائمز کا کم ہونا بھی ہے جو سر کی جلد کے خلیات کو نشوونما دینے کےضروری ہوتے ہیں اور ایلوویرا میں یہ اینزائمز بکثرت پائے جاتے ہیں جن سے بال گرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔
٭ یہ وہ انزائمز ہیں جو بالوں کوصرف گرنے سے روکتے ہی نہیں بلکہ بالوں کو بڑھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
٭ ایلوویرا بالوں کو نرم و ملائم اور چمک دار  بھی بناتا ہے جسے دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔
٭ ایلوویرا کا جوس پینے اور اس کو بالوں کی جڑوں میں لگانے سے بال گرنا بند ہوجاتے ہیں۔
٭ اچھا اور معیاری کنڈیشنر بالوں کو گرنے سے روکتا ہے اور ایلوویرا سے اچھا کنڈیشنر کوئی نہیں۔
٭ ایلوویرا جیل کا انگلیوں کے پوروں سے اچھی طرح بالوں کی جڑوں میں مساج کرنے سے بھی بال گرنا بند ہوجاتے ہیں اور بالوں کی نشوونما بھی اچھی ہوتی ہے۔
٭ ایلوویرا کے استعمال سے جلد کے اندر پیدا ہونے والے ایک ایسے جز کو بھی روکتا ہے جو بالوں کی جڑوں کوبند کر کےدوبارہ اگنے نہیں دیتا۔
٭ ایلوویرا کو درمیا ن سے کاٹ کا اگر اس کو سر کی جلد پر رگڑا جائے تو نئے بال بھی پیدا ہوتے ہیں اور جو بال بے رونق اور بار بار گرنے جیسے ہوتے ہیں وہ بھی گرنا بند ہوجاتے ہیں۔
ایلوویرا میں شامل فیٹی ایسڈز بالوں کی جڑوں میں جذب ہو کر بالوں میں پروٹین کو تحفظ دیتے ہیں، اس میں شامل منرلز اور پروٹین بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتے ہیں۔
٭ ایلوویر کو ناریل کے تیل کے ساتھ ملا کر 20 منٹ تک بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح مالش کی جائے اور اگر رات کو لگا چھوڑ دیا جائے اور صبح ہونے پر اچھی طرح بالوں کو دھویا جائے تو بال گرنا رک جاتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...