ایک پھل ہے اس کا اصل نام بیل ہے۔ اس کے گودے کو نکال کر خشک کر لیتے ہیں جو کہ دوا کے طور ہوتا ہے۔ اسے بیلگری کہتے ہیں یعنی بیل کی گری یا اندرونی حصّہ لیکن غلط العوام میں عام پھل بیل کو ہی بیلگری کہتے ہیں
پہچان _ اس کا درخت جہلم سے آسام، بنگلہ دیش، میانمار (برما) میں پایا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی 35؍فٹ تک ہوتی ہے جبکہ اس کے تنے کی گولائی 7؍فٹ تک ہوتی ہے۔ اس میں تھوڑی شاخیں لگتی ہیں۔ شاخوں کے آخری سرے زمین کی جانب جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے تنے کی چھال اور بڑی شاخوں کی چھال آدھا انچ سے پون انچ تک موٹی ہوتی ہے۔ اس کے موٹے تنے میں ایک انچ تک لمبے تیز کانٹے ہوتے ہیں۔ اس کی ڈالی کی ایک ایک شاخ میں چار اور پانچ پتّے تک ہوتے ہیں۔ اس کے پھولوں میں سے شہد کی جیسی خوشبو آتی ہے اس کا پھل خام حالت میں سبز رنگ کا ہوتا ہے لیکن جوں جوں پھل پکتا جاتا ہے اس کا رنگ پیلا ہوتا جاتا ہے۔ اس کا چھلکا بہت سخت ہوتا ہے اور توڑنے سے اندر سے پیلے رنگ کا نہایت لذیذ اور خوشبودار گودا نکلتا ہے۔ سائز میں بڑے سے بڑا پھل بڑے خربوزے کے برابر ہوتا ہے۔ ایک کلو وزن اس کی حد ہے۔ اس کا گودا حلوے کی طرح نرم اور شیریں ہوتا ہے۔ پھل جتنا بڑا اور عمدہ ہو گا اس میں بیج اتنے ہی کم ہوں گے۔ بیج ایک طرح کے غلاف میں ملفوف ہوتے ہیں۔ ایک پھل کے اندر کئی غلاف ہوتے ہیں اور ہر غلاف میں 5یا 6بیج ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور خراب پھل میں زیادہ بیج ہوتے ہیں اور مزے میں ہیک آتی ہے۔ بیل کے چھلکے سے باریک باریک تاروں سے ریشے نکل کر گودے میں آتے ہیں۔ جنگلی بیل انار اور سیب کے جتنا بڑا ہوتا ہے اور اس میں بیج بھی زیادہ ہوتے ہیں اور ذائقہ میں بکساپن ہوتا ہے بہتر وہ بیل سمجھا جاتا ہے جو سائز میں بڑا ہو، جس میں بیج کم ہوں، چھلکا نرم ہو، گودا میٹھا اور مزیدار ہو اور جب اس کے گودے کو پانی میں مل کر چھانیں تو قریب قریب پورا گودا چھن جائے اس میں ریشے کم نکلیں اور شربت اس کا اتنا میٹھا ہو کہ چینی ملانے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس کے کچّے مغز کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے سکھا لیتے ہیں جو کہ پنساریوں کے ہاں سے بیلگری کے نام سے دستیاب ہوتا ہے۔ اس کے درخت میں ایک قسم کا گوندھ بھی لگتا ہے
مزاج _ پکا ہوا پہلے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں خشک ہے جبکہ کچا پہلے درجہ میں سرد اور دوسرے درجہ میں خشک ہے
فوائد_ پکے ہوئے بیل کا گودا دل، جگر اور معدے کو قوّت دیتا ہے، قابض ہے، پرانے دستوں کو بند کرتا ہے رطوبت کو رفع کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، ہاضم ہے ریاح پیدا کرتا ہے، زیادہ کھانے سے پیٹ پھلاتا ہے بالخاصہ رافع قبض ہے۔ اس کا لیپ جلد میں دانہ پیدا کرتا ہے، ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا گودا کھانے کے بعد اسی کے چھلکے میں پانی پی لیا جائے تو اس سے آنے والے دستوں میں عفونت نہیں ہوتی۔ نروجیت (لیس) کو آنتوں میں سے ختم کرتا ہے۔ کچے بیل پھل کے اوپر ملتانی مٹّی کا لیپ کرنے کے بعد اسے اگر آگ یا تندور میں دبا دیں، جب بھلبھلا جائے تو اس کا گودا ڈیڑھ تولہ سے لے کر تین تولہ تک کھانڈ کے ساتھ ملا کر نہار منہ کھانے سے پرانے سے پرانے دست بند ہو جاتے ہیں۔ بعض طبی کتب میں لکھا ہے کہ کیونکہ یہ معدہ پر گراں ہوتا ہے اس لئے امراض کہنہ (پرانے امراض) میں اور تپ کہنہ (پرانے بخاروں) میں نہیں دینا چاہئے۔
طب ہندی (آیورویدک) میں بھی بیل کو کئی طریقوں سے مختلف امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔
’’ان بھوت جکتسا ساگر‘‘ میں لکھا ہے کہ اگر بیل کے کچّے پھل کا جوشاندہ دستوں کے مریض کو پلا دیا جائے تو بہت فائدہ مند ہے اور اگر اس میں تھوڑی سی افیون بھی ملا دی جائے تو فائدہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے پکے ہوئے پھل کا شربت مزیدار ہوتا ہے لیکن زیادہ مقدار میں پینے سے طبیعت کو بھاری کر دیتا ہے اور قبض پیدا کرتا ہے۔ اس سے صفراء بگڑ کر کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں اور دل پر گرمی چھا جاتی ہے۔ بیلگری کا مربہ بنایا جاتا ہے اور اس سے صفراوی دست بند ہو جاتے ہیں۔ بیل کا گودا زیادہ عرصہ کھانے سے بواسیر کا مرض ہو جاتا ہے لیکن کھانڈ کے ساتھ کھانے سے یہ مرض پیدا نہیں ہوتا۔ حاد امراض میں اس کا سفوف فائدہ پہنچاتا ہے اور مزمن امراض میں اس کے شربت سے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آنوں والے دست بہ کثرت آ رہے ہوں تو اس کا سفوف زیادہ مقدار میں دیا جاتا ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خون بند ہو جاتا ہے۔
جاڑے کا بخار، زخموں کے بخار اور ایسے بخاروں میں جس کا سبب سمجھ میں نہ آ رہا ہو، اس میں بیلگری کا سفوف دینے سے ان بخاروں کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ بیلگری کا سفوف اراروٹ کے ساتھ بچّوں کے پیٹ کی شکایتوں میں بہت نافع ہے۔ سنگرہنی یا دستوں کے عارضے، مسوڑھوں کے امراض میں بیلگری کا لعوق اور شربت بہت فائدہ دیتا ہے۔ کچے پھل کے گودے کو دھوپ میں سکھا کر پیس کر مصری کے ساتھ ملا کر دینے سے دستوں اور پیٹ کے مروڑ میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے پکے ہوئے پھل کا شربت ہلکا ٹھنڈا اور ملین شکم (پیٹ کو نرم کرنے والا) ہوتا ہے اور اس میں تھوڑا سا دہی یا املی ملانے سے اس کا ملین پن اور ٹھنڈک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تازہ پھل کے گودے کو دودھ میں پیس کر سیتل مرچ کا سفوف ملا کر پلانے سے سوزاک کا مرض رفع ہوتا ہے اور پیشاب بہ کثرت آتا ہے۔ اس کے کچے پھل کے گودے کا مربہ اور اچار بناتے ہیں جو کہ دست آنے اور آنوں میں فائدہ دیتے ہیں
Ad3
بیل گری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...
No comments:
Post a Comment