12 اکتوبر 1997 کو معروف بھارتی اداکار فیروز خان اور سنجے خان کی بہن دلشاد بیگم کا انٹرویو شائع ہوا۔۔جس میں دلشاد بیگم نے نواز شریف کی شرافت کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ نواز شریف تو بس نام کہ شریف ہیں۔۔حقیقت کیا ہے میں جانتی ہوں نواز شریف اک عرصہ تک میری گنی کالی سیاہ زلفوں کہ اسیر رہے ہیں۔۔جوں ہی دلشاد بیگم نے یہ انکشافات کیے دنیا بھر کہ جرائدو اخبارات کہ نمائندے مزید تفصیلات لینے کیلئے بے قرار ہو گئے۔۔
چنانچہ برطانیہ سے شائع ہونے والے ایک میگزین "لباس انٹرنیشنل " نے دلشاد بیگم سے تفصیلی گفتگو کی۔دلشاد بیگم نے بتایا کہ شوہر کہ انتقال کہ بعد وہ آزادانہ زندگی بسر کرنے لگی تھی۔قیامت خیز حسن اور دل موہ لینے والی اداؤں کی وجہ سے نواز شریف ان پر دل ہار بیٹھے۔۔دلشاد بیگم نے بتایا کہ پاکستان کی معروف سہگل فیملی سے ان کہ قریبی تعلقات تھے۔۔سہگل فیملی کی دعوت پر وہ پاکستان آئیں۔۔مری بھوربن میں ان کی ملاقات نواز شریف سے ہو گئی۔۔نگاہیں ملی بجلیاں کڑکی اور اک محبت کی داستاں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔۔
اس ملاقات کہ بعد دلشاد بیگم کو سرکاری مہمان کا پروٹوکول ملنے لگا۔۔وہ جب پاکستان آتی سرکاری مہمان کی حیثیت سے موج مستی کرتی۔۔اس پر اپوزیشن نے احتجاج بھی کیا جو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کیوں آخر کیوں اس بھارتی عورت کو ہر بار سرکاری پروٹوکول دیا جاتا ہے۔۔لیکن نواز شریف نے اپوزیشن کی ایک نہ سنی کیونکہ دل کہ معاملے میں اکثر انسان دل کہ ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔۔
سب سے ہولناک انکشاف بیگم دلشاد نے یہ کیا کہ 1991 میں میرے کہنے پر نواز شریف نے کشمیر میں فوجی کاروائی بند کروائی تھی۔۔جی یہ ہیں تین دفع وزیراعظم بنے والے نواز شریف جنہوں نے کشمیر پر سمجھوتا کیا لیکن آپنے ناجائز عشق پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔۔اور یہ سب باتیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔۔آج بھی مختلف صحافی ان حقائق کا حوالہ دیتے ہیں۔۔جن میں نجم سیٹھی ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے صحافی شامل ہیں۔۔
No comments:
Post a Comment