پاکستان کا چوتھا مارشل لاء نافذ ہوا لیکن جب 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں چوتھا مارشل لاء لگایا تھا تو اس کا نام ’’مارشل لاء‘‘ نہیں رکھا تھا اور نہ خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (CMLA) کہلائے تھے۔
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضے کا دور آمریت 8 سال 10 ماہ ، 6 دن پر محیط تھا۔
12 اکتوبر 1999 کو ہوا کیا تھا؟
مختصراً معاملہ یہ تھا کہ کئی مہینوں سے وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی تھی، جس کی وجہ وزیر اعظم کے ساتھی کارگل آپریشن بیان کرتے ہیں۔
کئی مہینوں سے حکومت کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ’آج حکومت ختم ہو جائے گی، کل برطرف کر دی جائے گی‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس ماحول میں ایک روز پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن پر پانچ بجے کے انگریزی کے نیوز بلیٹن میں یہ خبر چلی کہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیا الدین بٹ کو فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
جونہی یہ اطلاع ٹیلی وژن سے نشر ہوئی اور جی ایچ کیو پہنچی، کورکمانڈرز نے اس حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ حکومت اگر انہیں ان کے عہدے سے ہٹانا ہی چاہتی تھی تو اسے ان کی واپسی کا انتظار کرنا چاہئے تھا، بصورت دیگر وہ جنرل پرویز مشرف ہی کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔
یہ سنسنی خیز خبر سامنے آنے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی فوج نے پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور اس خبر کو رکوا دیا۔
پھر سپاہیوں نے وزیر اعظم ہاؤس جا کر وزیر اعظم، ان کے ساتھیوں اور ان کے نامزد کردہ آرمی چیف کو حراست میں لے لیا۔
فوج نے چند ہی گھنٹوں میں اسلام آباد کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔
12 اکتوبر 1999ء کو جب پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف سری لنکا کی آزادی کی پچاس سالہ تقریبات میں شرکت کرکے کولمبو سے واپس آرہے تھے
جنرل پرویز مشرف اس کارروائی سے بے خبر تھے اور وہ مالے کے راستے کولمبو سے کراچی کے لئے فلائٹ پی کے 805 میں محو سفر تھے۔ حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہا اور کوشش کی کہ جنرل پرویز مشرف جس طیارے میں سوار ہیں اسے کراچی ائیر پورٹ پر اترنے نہ دیا جائے۔اس لیے اسی دوران آرمی چیف جنرل مشرف کو زمین پر لانے کا آپریشن بھی جاری تھا،
جنرل مشرف کے بقول جہاز کے کپتان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے باہر کسی جگہ پر لینڈنگ کریں اور بقول ان کے انڈیا میں اترنا ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا (’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘)۔
لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کو نواب شاہ ایئرپورٹ کی طرف موڑنے کے احکامات دیے گئے تھے جہاں اس وقت کے آئی جی سندھ (رانا مقبول) کو صورتِ حال کو سنبھالنا تھا۔ بہرحال فوج نے ایئرپورٹ کا کنٹرول لے لیا اور ایمرجنسی کے حالات میں پی کے 805 کی لینڈنگ
یقینی بنا دی۔۔
جنرل پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ائیر پورٹ پر ہی اترا اور جب جنرل پرویز طیارے سے باہر آئے تو فوج نے انہیں آرمی چیف ہی کا پروٹوکول دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں فوج نے پورے ملک کے انتظامی حالات پر کنٹرول کرلیا۔ وزیراعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا اور جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔
بعد میں سپریم کورٹ نے فوجی اقدام کی توثیق کی اور اصلاحات اور انتخابات کے لئے 3 سال کا وقت دیا لیکن
پرویز مشرف نے 8 سال 10 ماہ اور 6 دن اس مملکت خداداد پہ حکومت کی۔
No comments:
Post a Comment