Ad3

03 دسمبرتاریخ کے آئینے میں

 1586ء سر تھامس ہیریٹ نے انگلینڈ کو آلو کی فصل سے واقف کرایا۔ وہ اسے کولمبیا سے لائے تھے۔

 1621ء گیلیلیو نے دوربین دریافت کی۔

 1790ء لارڈ کارنوالس نے مرشد آباد کے نواب سے مجرمانہ معاملوں میں فیصلہ کرنے کے اختیارات واپس لے لئے۔

 1912ء پہلی بلقان جنگ کے دوران ترکی بلغاریہ، سربیا اور مونٹے نیگرو نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کئے۔

 1920ء ترکی اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔

 1930ء بیلجیئم میں زہریلی گیس کا رساوو، 60 ہلاک ہو گئے۔

 1939ء دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے جنگی جہازوں نے جرمنی کے ہیلگولینڈ میں پہلا بم گرایا۔

 1948ء چین کے پناہ گزیں جہاز میں دھماکہ، 1100 افراد جاں بحق ہو گئے۔

 1956ء انگلینڈ اور فرانس نے مصر سے فوجیوں کو واپس بلایا۔

 1959ء قبرص میں ایمر جنسی ختم ہوئی۔

 1961ء امریکہ نے نوادا میں نیوکلیائی ٹیسٹ کیا۔

 1967ء جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر کرسچن برنارڈ نے دنیا کا پہلا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن کیا۔

 1971ء میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔تیسری پاک بھارت جنگ کا آغاز

1988. ملک معراج خالد دوسری مرتبہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔(27 مارچ 1977ء تا 5جولائی 1977ء) (3 دسمبر 1988ء تا 4 نومبر 1990ء) پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اور تیرہویں اسپیکرملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 مئی1972ء سے 10نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 دسمبر 1988ء سے 4 نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13جون 2003ء کو ہوا۔            

 3 دسمبر1966ء کو صدر محمد ایوب خان نے کراچی میں صحت اور طبی تحقیقات کے ادارے کا سنگ بنیاد رکھا، اس موقع پر پاکستان کے محکمۂ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا جس پر حکیم بو علی سینا کا خوب صورت پورٹریٹ بنا ہوا تھا۔    

1979ء ایران نے آئین کو منظوری دی۔

1983ء میں فرانس نے مورواورا جزیرے پر نیوکلیائی تجربہ کیا۔

1984ء بھارتی ریاست بھوپال یونین کاربائیڈ کے کیمیائی پلانٹ میں حادثے کے سبب زہریلی گیس رسنے لگی اور آبادی میں پھیل گئی نتیجے میں پندرہ تا بیس ہزار لوگ ہلاک اور 5 لاکھ کے قریب اپاہج ہو گئے۔۔ 3دسمبر 1984 کی رات تھی کہ اچانک کھاد بنانے والی اس فیکٹری سے زہریلی گیس رسنا شروع ہوگئی۔ رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے، کڑا کے کی سردی تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتہائی زیریلی (میتھائل اسوسائنیٹ) گیس چاروں طرف پھیل گئی۔ بڑی تعداد میں لوگ نیند سے اٹھے ہی نہیں، جو اٹھ سکے ان کے پاس بھاگ کر جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔سب سے زیادہ متاثر فیکٹری کے گرد و نواح میں کچی بسیتوں میں رہنے والے لوگ ہوئے لیکن بھوپال شہر بھی محفوظ نہیں رہا۔ بڑی تعداد میں لوگ، جس حال میں بھی تھے، جان بچانے کے لیے شہر چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔حکومت نے پہلے تقریباً چار ہزار اموات کا اعتراف کیا، لیکن دیگر آزاد ذرائع کا دعوی ہے کہ پہلے بہتر گھنٹوں میں ہی آّٹھ سے دس ہزار لوگ مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد زہریلی گیس کی زد میں آنے والی پیچیدگیوں نے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کی جان لی اور بڑی تعداد میں لوگ آج بھی مختلف تکلیف دہ بیماریوں کا شکار ہیں۔

 3دسمبر1997ء کو معذور افرادکے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے چار روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ جس پرASIAN PACIFIC DECADE OF DISABLED کا لوگو بنا تھا اوردو معذور افراد کی تصویر کشی کی گئی تھی اس کے نیچے انگریزی میں INTERNATIONAL DAY OF THE DISABLED   کے الفاظ تحریر تھے ۔  اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی نرگس منیرنے تیا رکیا تھا۔

 1990ء حکومت پاکستان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی تشکیل دی۔

 1992ء سلامتی کونسل نے صومالیہ کے قحط زدگان کی امداد کے لئے امریکی سربراہی میں فوجی مشن کی منظوری دی۔

 1993ء انگولہ کی سرکار اور باغی 18 سال پرانی جنگ ختم کرنے پر متفق ہوئے۔

 2004ء ہندوستان اور پاکستان راجستھان کے مناباؤ اور جنوبی پاکستان کے کھوکھراپار کے درمیان ریلوے رابطہ پھر سے شروع کرنے پر رضا مند ہوئے۔

 2005ء حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کے عہدے کے لئے پہلی خاتون، ڈاکٹر شمشاد اختر کو نامزد کیا۔

 2007ء انڈونیشیا کے بالی جزیرے میں ماحَولیات میں تبدیلی کی اقوام متحدہ کانفرنس کا انعقاد ہوا۔

ولادت۔

 1368ء شارل ششم ، (16 ستمبر 1380ء تا 21 اکتوبر 1422ء) شاہ فرانس ، جسے محبوب اور پاگل بھی کہا جاتا ہے ۔اس کا تعلق خاندان والووا (House of Valois) سے تھا۔ (وفات:1422ء)

 1447ء بایزید ثانی، سلطنت عثمانیہ کے (3 مئی 1481ء تا 25 اپریل 1512ء) آٹھویں حکمران، جو اپنے والد محمد فاتح کے انتقال کے بعد تخت پر بیٹھے۔ (وفات:1512ء)

 1857ء جوزف تھیوڈور کونراڈ کوزرینیوسکی بمعروف جوزف کونریڈ ، روسی پولستانی ناول نگار، داستانی مصنف (وفات:1924ء)

 1877ء رچرڈ ولیم پیرس ، نیوزی لینڈی کسان ، انجینئر اور موجد ، جس نے 1910ء کی پہلی دہائی میں ہوابازی میں متعدد تجربات کئے۔ (وفات:1953ء)

 1882ء نندلال بوس، بھارتی اداکار

 1884ء ڈاکٹر راجندر پرساد، بھارتی وکیل ، سیاست دان، بھارت کے (26 جنوری 1950ء تا 14 مئی 1962ء) پہلے صدر (وفات:1963ء)

 1886ء مان سیگبان، نوبل انعام برائے طبیعیات (1924ء) یافتہ سویڈش ماہر طبیعیات و استاد جامعہ ، انعام کی وجہ ایکس رے طیف بینی میں انکی دریافتیں اور تحقیق تھی۔ (وفات:1978ء)

1889ء خودی رام بوس، بھارتی انقلابی راہنما

 1900ء رچرڈ کوہن، نوبل انعام برائے کیمیا (1938ء) یافتہ آسٹرین نژاد جرمن بائیو کیمسٹ اور استاد جامعہ (وفات:1967ء)

 1924ء ناصر مکارم شیرازی ، ایرانی اہل تشیع مرجع اور مذہبی رہنما 

 1925ء کم ڈے ژونگ، نوبل امن انعام (2000ء) یافتہ جنوبی کوریائی لیفٹیننٹ اور سیاستدان (وفات:2009ء)

 1932ء عمران اللہ خان ، پاک فوج کے سابق جرنیل اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں (14 مئی 1994ء تا 8 اپریل 1997ء) بلوچستان کے چودھویں گورنر، انھیں ستارہ امتیاز، ستارہ حرب اور ستارہ بسالت سے بھی نوازا گیا۔

 1933ء پاول جے. کوٹزن، نوبل انعام برائے کیمیا (1995ء) یافتہ  ڈچ کیمسٹ ، انجینئر اور استاد جامعہ

 1960ء ڈیرل حینا، امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر

1960ء جولی این سمتھ بمعروف جولیان مور، برطانوی نژاد امریکی اداکارہ اور مصنف

 1973ء ہولی میری کومبز، امریکی اداکارہ اور پروڈیوسر

 1980ء اینا کلومسکی، امریکی اداکارہ

 1985ء امینڈا سائفریڈ، امریکی اداکارہ ، ماڈل اور گلوکارہ 

 1986ء سدرہ حامد ، پاکستانی بیڈمنٹن کھلاڑی

 

 1368ء شارل ششم شاہ فرانس

 1447ء بایزید ثانی، عثمانی سلطان

 1882ء نندلال بوس، بھارتی اداکار

وفات

765ء ابو عبد اللہ حضرت جعفر الصادقؒ یا جعفر ابن محمد الباقرؒ ،آئمہ اہل بیت اطہار۔ (پیدائش: 702ء)

 1552ء فرانسس زیویر ، ناواری باسک (ہسپانوی) رومن کیتھولک مبلغ (پیدائش: 1506ء)

 1733ء مشیل لے کوین ، فرانسیسی مؤرخ اور الٰہیات دان (پیدائش: 1661ء)

 1963ء کوثر پروین ، پاکستانی گلو کارہ 

 1986ء نیویل انتھونی مسکارینہاس ، پاکستانی صحافی اور مصنف ۔ ان کی تصنیفات The Rape of Bangla Desh اور Bangladesh: A Legacy of Blood میں 1971ء کی جنگ آزادی بنگلہ دیش کے دوران میں پاکستانی فوج کی جانب کی گئی بربریت کا انکشاف موجود ہے۔ (پیدائش: 1928ء)

1994ء الزبتھ، ایڈس کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنے والی کارکن جس کا خون کے کینسر سے 47 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔

 1996ء بابرک کارمل، افغانستانی وکیل، سیاست دان، سفارت کار، افغانستان کے سابق کمیونسٹ لیڈر، (27 دسمبر 1979ء تا 24 نومبر 1986ء) چیئرمین، افغانستان انقلابی کونسل ، روس کے ماسکو میں انتقال ہوا۔ (پیدائش: 1929ء)

 1999ء میڈلین خان، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ (پیدائش: 1942ء)

 2011ء دیو آنند، بھارتی اداکار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر (پیدائش: 1923ء)

 ٭3 دسمبر 2009ء کو پاکستان کے نامور مصور غلام رسول اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ غلام رسول 20 نومبر 1942ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1964ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ سے ایم اے کیا اور پھر اسی شعبے میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1972ء میں انہوں نے انی نوائس یونیورسٹی امریکا سے فائن آرٹس میں دوسرا ایم اے کیا۔ 1974ء میں انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور اس  کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ غلام رسول، لینڈ اسکیپ مصوری میں اختصاص رکھتے تھے۔ پنجاب کی دیہی زندگی ان کا خاص موضوع تھا۔ وہ دیہات کے ماحول اور حسن کو جس مہارت سے کینوس پر منتقل کرتے تھے وہ دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا تھا۔ حکومت پاکستان نے 1985ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے سرفراز کیا تھا۔

،
٭3 دسمبر 1984ء کو پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔ استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا وہ یکم جنوری 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ استاد دامن کے والد خیاطی کی پیشے سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور ایک جرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے خیاطی کا باقاعدہ ڈپلوما حاصل کیا۔ استاد دامن ساتھ ہی ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر والد کے انتقال کے باعث سلسلۂ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور خیاطی کے پیشے سے باقاعدہ طور پر منسلک ہوگئے۔ استاد دامن نے ابتدا ہی طبع موزوں پائی تھی۔ وہ استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہوئے۔ اس شاگردی نے ان کی شاعری کو مزید جلا بخشی۔ ایک موقع پر لاہور کے مشہور سیاستدان میاں افتخار الدین نے استاد دامن کی شاعری سنی اور انہیں لاہور کے ایک سیاسی جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کررہے تھے نظم سنانے کی دعوت دے ڈالی۔ استاد دامن نے اس جلسہ میں نظم کیا سنائی ہر طرف ان کی شاعری کر چرچا ہونے لگا۔ جواہر لال نہرو نے جلسہ میں ہی انہیں سو روپے بطور انعام عطا کئے جس سے استاد دامن کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔ 1947ء کے فسادات میں استاد دامن کی بیوی اور ان کا بچہ ان سے بچھڑ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ ملے، مگر زیادہ دن زندہ نہ رہ سکے اور استاد دامن کو ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ گئے۔ اس واقعہ نے استاد دامن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور پھر وہ ساری عمر تنہا زندگی گزارتے رہے۔ انہوں نے ٹکسالی دروازے کی اس مسجد کے ایک حجرے کو اپنا مسکن بنالیا جہاں اکبر اعظم کے عہد میں معروف صوفی شاعر شاہ حسین رہا کرتے تھے۔ اس حجرے میں استاد کی شاعری کا سلسلہ جاری رہا اور جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے معروف شعرا میں ہونے لگا۔ استاد دامن کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد دامن دے موتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے

٭3 دسمبر 1989ء کو نامور عالم دین، مفسر قرآن اور ماہر تعلیم سید صفدر حسین نجفی لاہور میں وفات پاگئے۔  سید صفدر حسین نجفی 1933ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے پہلے حضرت  سید محمدیار شاہ نجفی سے اور پھرنجف اشرف سے تعلیم حاصل کی۔سید صفدر حسین نجفی 1956ء میں جامع المنتظر سے منسلک ہوئے اور صدر مدرس کے عہدے تک پہنچے۔ آپ کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد خاصی زیادہ ہے جن میں 27 جلدوں پر مشتمل تفسیر نمونہ سرفہرست ہے۔ ان کے علاوہ آپ کی تصانیف میں قرآن کا دائمی منشور، حقوق اور اسلام، مبادیات حکومت اسلامی، چہل آدمی اور دین حق عقل کی روشنی میں اور تراجم میں تذکرہ الخصواص، توضیح المسائل، سعادت الابدیہ، معدن الجواہر اور ارشاد القلوب کے نام شامل ہیں۔ آپ لاہور میں جامعہ المنتظر ماڈل ٹائون لاہور میں سپرد خاک ہیں۔   

 1979ء دھیان چند، بھارتی ہاکی کھلاڑی

 1980ء شیریں بائی،قائداعظم کی ہمشیرہ، بمقام کراچی ۔شیریں جناح کے والدین، پونجا جناح اور مٹھی بائی جناح کے سات بچے تھے۔ یہ سات بچے، محمد علی جناح، احمد علی جناح، باندے علی جناح، رحمت علی جناح، مریم جناح، فاطمہ جناح اور شیریں جناح تھے۔ وہ کراچی میں رہائش پزیر رہیں جو پاکستان میں صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے۔ کراچی میں ایک علاقہ جو شیریں جناح کالونی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ شیریں جناح سے منسوب کیا گیا ہے۔۔

*تعطیلات و تہوار*

 

 1992ء اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ معذور افراد کا عالمی دن منایا۔ معذوروں کا عالمی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 3 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر میں معذوروں کو درپیش مسائل کا اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی افادیت پر زور ڈالنا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا میں اس وقت چھ سو ملین افراد معزور ہیں یعنی دنیا میں ہر دس میں ایک شخص معذور ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں اسی سے نوے فیصدخصوصی افراد کوزندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں، جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا تناسب پچاس سے ستر فیصد ہے۔ جبکہ ان میں سے اسی فیصد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...