Ad3

04 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1534ء ترک سلطان سلیمان نے بغداد فتح کیا۔

 1668ء اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائی شہزادہ مراد بخش کو تختہ دار پر چڑھایا۔ مراد بخش، شاہ جہان کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔

 1791ء دُنیا کا پہلا ہفت روزہ ” آبزرور “ پہلی بار برطانیہ سے شائع ہوا۔

 1796ء باجی راؤ دوئم کو مراٹھا سامراجیہ کا پیشوا بنایا گیا۔ وہ آخری مراٹھا پیشوا تھے۔

 1829ء وائس رائے لارڈ ولیم بینٹک نے ہندوستان میں ستی روایت پر روک لگائی۔

 1860ء مارگاؤں کے شہری اگسٹینو لوئرینکو نے پیرس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب سے پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے بیرون ملک سے اپنی ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

1943ء دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی رجویلٹ، برطانوی وزیراعظم وسٹن چرچل اور ترکی کے صدر اسمت انونو دوسرے قاہرہ سیمنار میں ملے۔

 1951ء میرواعظ مولوی محمد یوسف آزاد کشمیر کے صدر نامزد ہوئے۔
● 1959ء ہندوستان اور نیپال نے گنڈک آبی اور توانائی منصوبہ کے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔

 1962ء امریکہ نے نیواڈا ایٹمی تجربہ گاہ پر نیوکلیائی تجربہ کیا۔

 1967ء ہندوستان کا پہلا راکٹ روہنی آر ایچ 75 کو تھمبا سے آزمائشی طور پر داغا گیا۔

 1971ء ہندوستانی بحریہ نے پاکستان بحریہ اور کراچی بندرگاہ پر حملہ کیا۔

 1971ء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ حالات پر صلاح و مشورے کے لئے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی۔

 1972ء ہونڈوران کے آرمی جنرل اوسوالڈو لوپیز اریلانو نے صدر رمون کوج کا تختہ پلٹا۔

1974ء ہالینڈ ڈچ مسافر طیارہ سری لنکا کی راجدھانی کولمبو میں حادثہ کا شکار ہوا، جس میں تمام 191 مسافر ہلاک ہو گئے۔

 1977ء جین بڈیل بوکاسا نے وسطی افریقہ کا بادشاہ ہونے کا اعلان کیا۔

 1982ء عوامی جمہوریہ چین نے موجودہ آئین اختیار کیا۔

 1990ء عراق نے سبھی 3300 یرغمالیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔

1994ء پاکستان نے ہالینڈ کو شکست دے کر بارہ سال بعد ہاکی ورلڈ کپ جیت لیا۔ ٭4 دسمبر 1994ء کو پاکستان نے سڈنی میں منعقد ہونے والے ہاکی کے آٹھویں عالمی کپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ہالینڈ کو پینلٹی اسٹروکس کی بنیاد پر شکست دی کر ہاکی کا عالمی کپ چوتھی مرتبہ جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ اس سے قبل پاکستان نے یہ اعزاز 1971ء، 1978ء اور 1982ء میں حاصل کیا تھا۔ کھیل کا پہلا گول، کھیل کے سترہویں منٹ میں ہالینڈ کے عالمی شہرت یافتہ پینلٹی کارنر ایکسپرٹ فلورس بوویلنڈر نے پینلٹی کارنر کے ذریعہ اسکور کیا۔ مگر اس کے صرف چار منٹ بعد پاکستان کے سینٹر فارورڈ کامران اشرف نے ایک خوبصورت گول بناکر مقابلہ برابر کردیا۔ کھیل کے مقررہ وقت کے اختتام تک اسکور 1-1 رہا۔ اس کے بعد پینلٹی اسٹروکس سیشن ہوا جس میں پاکستان کے شہباز، شہباز جونیئر، طاہر زمان اور محمد عثمان نے مسلسل گول کرکے چار گول کردیئے، جبکہ ہالینڈ اس سیشن میں فقط تین گول اسکور کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ یوں پاکستان یہ میچ ایک گول کی برتری سے جیت کر ہاکی کا عالمی کپ چوتھی مرتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ٹورنامنٹ کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کے کپتان شہباز احمد کو مین آف دی ٹورنامنٹ اور پاکستان کے گول کیپر منصور احمدکو گول کیپر آف دی ٹورنامنٹ کے اعزازات سے نوازا گیا

2004ء۔۔ سارک یا سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی ایک تنظیم ہے، جس کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔ 4دسمبر 2004ء کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سارک ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر سارک تنظیم کا لوگو بنا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت چار روپے تھی اور اس پر 12th SAARC SUMMIT ISLAMABAD 2004 اور 1985 2004 کے الفاظ تحریر تھے

2009ء انڈونیشیا کے سماترا علاقہ میں ایک نائٹ کلب میں آگ لگ جانے سے 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

 2009ء راولپنڈی میں پشاور روڈ پر واقع ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دورن دھماکوں اور فائرنگ سے 35 افراد شہید اور 75 زخمی ہو گئے۔شہید ہونے والوں میں پاکستان کی بری فوج کے اعلی افسران بھی شامل تھے۔

 4 دسمبر 2014ء کوپاکستان کے محکمہ ڈاک نے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان اور دنیا میں زرعی انقلاب کے روح و رواں نارمن ای بورلاگ کی سو ویں سال گرہ کے موقع پر ایک یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا  جس کی مالیت آٹھ روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پرنارمن ای بورلاگ کی ایک خوب صورت تصویر شائع کی گئی تھی اور انگریزی میں NORMAN E. BORLAUG NOBEL PEACE PRIZE LAUREATE FATHER OF THE GREEN REVOLUTION 1914-2014  کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

ولادت :
۔""""""

 1795ء تھامس کارلائل (پیدائش: 4 دسمبر 1795ء— وفات: 5 فروری 1881ء) سکاٹش فلسفی، معلم، ریاضی دان، مترجم، مؤرخ، مضمون نگار، نثرنگار، طنزیہ ادیب، ماہرِ لسانیات (وفات: 1881ء)

 1835ء سیموئیل بٹلر، انگریز نامہ نگار، مصنف اور نقاد ، دادا بھی پادری تھا اور باپ بھی۔ 1859ء میں نیوزی لینڈ چلا گیا تھا جہاں بھیڑوں کی گلہ بانی کی بدولت رئیس بن گیا۔ اعلی رسائل میں اپنے فلسفیانہ مضامین چھپوائے۔ 1864ء میں واپس انگلستان آکر اپنی زندگی مصوری ،موسیقی، حیاتیات اور ادب کے لیے وقف کر دی۔ 1872ء میں تھامس مور کی (یوٹوپیا) کے رنگ میں ایک تمثیلچہ لکھا جس کا ماحول نیوزی لینڈ کا ہے۔ اس نے اپنے دوست ڈارون کے نظریہ ارتقا کی سخت مخالفت کی۔ وہ ارتقا کے بنیادی اصول کو تو قبول کرتا تھا لیکن ڈارون کی پیش کردہ تفسیر ماننے سے انکاری تھا ۔ (وفات: 1902ء)

 1888ء رمیش چندر مجمدار، بھارتی مؤرخ و استاد جامعہ ، جامعہ ڈھاکہ کے چانسلر، اور تاریخ ہند کے پروفیسر (وفات: 1980ء)

1908ء غازی علم دین شہید ، نجار (ترکھان) عاشقِ رسول ﷺ ، جس توہینِ رسالت کے مرتکب راج پال کو قتل کیا.
٭4 دسمبر 1908ء مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش ہے۔ 1928ء میں لاہور کے ایک کتب فروش راج پال نے رسول اکرمؐ کی ذات بابرکات کے متعلق ایک نازیبا کتاب شائع کی تھی جس کا نام ہی ایک مسلمان کا خون کھولانے کے لیے کافی تھا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مسلمانوں نے ہندوستان بھر میں راج پال کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ راج پال گرفتار تو ہوا لیکن قانونی سقم کی وجہ سے رہا ہوگیا۔ 6 اپریل 1929ء کو لاہور کے نوجوان علم دین ، راج پال کی دکان پر پہنچے اورنہایت سکون سے اسے واصل جنم کرکے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کردیا۔ غازی علم دین پر راج پال کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا اور ہائی کورٹ نے انہیں موت کی سزا سنادی۔ 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل ان کی سزائے موت کے حکم پر عمل درامد ہوگیا۔15 نومبر 1929ء کو انہیں لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ جہاں ان کا مزار مرجع خلائق ہے

 1908ء الفرڈ ہرشے، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1969ء) یافتہ امریکی کیمیا دان، بیکٹریولوجسٹ ، اور ماہر جینیات (وفات: 1997ء)

1910ء موتی لال راجونش ، بھارتی فلم اداکار (وفات: 1965ء)

 1910ء راما سوامی وینکٹ رمن ، بھارتی وکیل، آپ بیتی نگار، منصف اور سیاستدان، (31 اگست 1984ء تا 24 جولا‎ئی 1987ء) بھارت کے نائب صدر اور (25 جولا‎ئی 1987ء تا 25 جولا‎ئی 1992ء) ہندوستان کے آٹھویں صدر ، وہ بھارت کا آئین بنانے والوں میں سے تھے۔ راماسوامی وینکٹارمن بھارت کی پہلی پارلیمنٹ کے رکن بنے تھے۔ ان کا تعلق ریاست تمل ناڈو سے تھا۔ مسٹر وینکٹارمن کا دورِ صدارت خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ اسی دور میں سری لنکا کا بحران پیدا ہوا، بوفورز سکینڈل سامنے آیا اور وزیر اعظم راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا۔ (وفات: 2009ء)

1913ء رابرٹ ایڈلر ، طبیعیات دان، کارجو، استاد جامعہ اور ٹیلی ویژن ریموٹ کنٹرول کے موجد ، رابرٹ ایڈلر کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران عسکری مواصلاتی آلات کی تیاری کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور انہیں سرفس ایکاسٹک ویو ٹیکنالوجی کا موجد بھی مانا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی موجودہ زمانے کی ٹی وی اور کمپیوٹر سکرینوں میں استعمال ہوتی ہے۔ (وفات: 2007ء)

1919ء اندر کمار گجرال، بھارتی شاعر، وکیل اور سیاستدان، (21 اپریل 1997ء تا 19 مارچ 1998ء) بارہویں وزیراعظم بھارت ، جہلم (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ (وفات: 2012ء)

 1928ء ڈاکٹر انور سدید، پاکستانی انجینئر، مدیر، نقاد اور شاعر (وفات: 2016ء).4 دسمبر 1928ء کو اردو کے مشہور ادیب، نقاد اور محقق جناب انور سدید پیدا ہوئے ۔ انہوں نے سول انجینئرنگ میں تعلیم کے حصول کے بعد اردو ادبیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں اردو ادب کی تحریکیں، اردو ادب میں سفر نامہ،پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ ،میر انیس کی اقلیم سخن، اردو افسانے کی کروٹیں اور اردو ادب کی ایک مختصر تاریخ بے انتہا مشہور ہیں۔  

 1962ء الیگزینڈر لیتوینینکو ، روسی مصنف، صحافی اور روسی خفیہ ادارے کے جی بی کے جاسوس (وفات: 2006ء)

 1964ء سیول شہائدے ، رومانیہ کی مسلم سیاست دان اور ماہر معاشیات ، وہ (17 مئی 2015ء تا 20 نومبر 2015ء)  وزیر ترقیات بھی رہیں 

 1973ء تايرا بینکس، امریکی ماڈل، اداکارہ، اور پروڈیوسر

1973ء فیری کورسٹن المعروف سیسٹم ایف ، ہولینڈ سے تعلق رکھنے والے موسیقار ، ڈیجے اور ریمکسیر

 1982ء ڈیزی بوپنا ، بھارتی فلمی اداکارہ 

وفات :

 656ء حضرت ابوعبداللہ زبیر ابن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حواری رسول الله ﷺ اور اسلام کے لئے سب سے پہلے تلوار اٹھانے والے ، نبی کریم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے داماد (پیدائش: 594ء)

 1131ء ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری، فارسی شاعر، ماہر فلکیات، ریاضی دان، موسیقار، منجم اور فلسفی (پیدائش: 1048ء)

 1642ء رشیلیو، فرانسیسی، فوجی افسر، سیاست دان، کاتھولک پادری، سفارت کار، ریاست کار، فرانس کے شہرہ آفاق وزیر اعظم جو فرانس کا سب سے بڑا سیاست دان گزرا ہے۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں پروٹسٹنٹ فرقے کی سیاسی قوت ختم کی۔ مگر انہیں مذہبی آزادی ضرور دی۔ امرا کی طاقت کو کمزور کرکے شاہی قوت کو بڑھایا۔ اس کے علاوہ مالیات، فوج اور دیگر محکموں میں قابل قدر اصلاحات نافذ کرکے ملک کو بیش قیمت فائدہ پہنچایا۔ رشیلیو بڑا راسخ العقیدہ رومن کیتھولک تھا۔ بلکہ وہ خود بھی پادری رہ چکا تھا۔ اسی لیے اسے کارڈنیل رشیلیو بھی کہتے ہیں۔ مگر اپنے ذاتی عقائد کے برخلاف اس نے فرانس کی بہتری کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یورپین سیاست میں پروٹستنٹ طاقتوں کا ساتھ دیا۔ (پیدائش: 1585ء)

 1935ء چارلس رچٹ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1913ء) یافتہ فرانسیسی طبیب، ماہر نفسیات، ماہرِ اسپرانٹو  ماہر تعلیم ، جنھوں نے ابتدا میں کئی چیزوں جیسے عمل تنفس ،عمل اخراج وغیرہ پر تحقیق کیا۔ (پیدائش: 1850ء)

4 دسمبر 1937ء کو صوبہ سرحد کے مشہور ماہر تعلیم صاحبزادہ عبدالقیوم خان کی تاریخ وفات ہے۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان 1864ء میں ضلع صوابی کے گائوں ٹوپی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور پولیٹیکل ایجنٹ کے عہدوں پر فائز رہے۔ 1912ء میں انہوں نے پشاور میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی، اس ادارے نے جسے اب یونیورسٹی کا درجہ دیا جاچکا ہے صوبہ سرحد کے مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ حکومت ہند نے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر خان بہادر، سی آئی ای، نواب اور سر کے خطابات کے علاوہ قیصر ہند گولڈ میڈل سے سرفراز کیا جبکہ عوام نے انہیں سرحد کے سرسید کا خطاب دیا۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن بھی رہے اور 1930 ء تا 1932ء میں لندن میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں بھی شریک ہوئے۔ وہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے

 1945ء تھامس ہنٹ مورگن، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1933ء) یافتہ امریکی ماہر جینیات، ماہر حیاتیات، ماہر حیوانیات، طبیب، استاد جامعہ ، نھوں نے پتا لگایا تھا کہ کروموسوم جانداروں کی وراثت سے تعلق رکھتے ہیں۔ (پیدائش: 1866ء)

 1980ء فرانسسکو سا کارنرو، وزیراعظم پرتگال کی لسبن میں طیارہ حادثہ میں موت ہوئی۔

 1988ء رفیع محمد چوہدری ، پاکستانی ماہرِ نیوکلیائی طبیعیات اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے پارٹیکل فزکس کے پروفیسر تھے۔ انھیں پاکستان میں تجرباتی نیوکلیائی طبیعیات کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ عبد السلام کے ہمراہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بنانے کے منصوبے کو ابتدا کرنے والوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ وہ حقیقی طور پر پاکستان کے جوہری منصوبے کے بانی تھے۔ (پیدائش: 1903ء)

 1993ء فرینک زاپا، امریکی گلوکار، گیتکار، گٹارسٹ اور پروڈیوسر

 2000ء ہینک ایرون، سرینام کو 1975ء میں نیدرلینڈ کی داستا سے آزاد کرانے والے لیڈر

 2017ء علی عبد اللہ صالح السنحانی الحمیری ، یمنی، فوجی افسر و سیاست دان ، (22 مئی 1990ء تا 27 فروری 2012ء) پہلا صدر یمن (پیدائش: 1947ء)

 2017ء بلبیر راج کپور المعروف ششی کپور، ایک بھارتی فلم اداکار اور پروڈیوسر (پیدائش: 1938ء)

4 دسمبر 1994ء کی شام نامعلوم دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے پاکستان کے بے باک اور معروف صحافی جناب محمد صلاح الدین کو شہید کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ہفت روزہ تکبیر کے مدیر جناب صلاح الدین جب شام کو اپنے دفتری کام نمٹانے اور عملے کو ضروری ہدایات دینے کے بعد گھر جانے کے لئے دفتر سے روانہ ہوئے تو دفتر کے باہر پہلے سے موجود دہشت گردوں نے اچانک ان پر فائرنگ کردی۔ جناب صلاح الدین کے جسم پر سترہ گولیاں لگیں مگر ان کا ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ ڈرائیور فوری طور پر جناب صلاح الدین کو سول اسپتال لے گیا مگرجناب صلاح الدین نے راستے ہی میں دم توڑ دیا۔ جناب صلاح الدین 5 جنوری 1935ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں وہ کراچی تشریف لائے، جہاں انہوں نے بڑی جدوجہد کے بعد اپنا مقام بنایا۔ 1963ء میں انہوں نے روزنامہ حریت سے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز کیا پھر کچھ دنوں وہ روزنامہ جنگ سے بھی وابستہ رہے۔ 1970ء میں وہ روزنامہ جسارت سے منسلک ہوئے۔ روزنامہ جسارت سے ان کی یہ رفاقت تقریباً 13 برس جاری رہی اس دوران انہوں نے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ 1984ء میں انہوں نے اپنا ہفت روزہ تکبیر جاری کیا۔ ملک کے صحافتی حلقوں میں جناب صلاح الدین کو ایک بہادر، بے باک، نڈر اور جرأت مند صحافی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کے مخالفین بھی ان کی ان خوبیوں کے قائل تھے۔ جناب صلاح الدین نے مسلم قومیت اور پاکستان کے تحفظ کی جنگ بڑی پامردی سے لڑی۔ اس دوران ان کے گھر اور ان کے دفتر کو نذرآتش بھی کیا گیا اور ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا مگر وہ لسانی سیاست اور دہشت گردی کے مستقل مذمت کرتے رہے۔ انہیں آزادی صحافت کے لئے قربانیاں دینے کے سلسلہ میں کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیاتھا۔ حکومت پاکستان نے بھی 14 اگست 1997ء کو انہیں ہلال امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...