Ad3

06 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

1492ء عظیم مہم جو کولمبس نے ہیتی کو دریافت کیا۔

 1732ء وارن ہسٹنگز، ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے گورنر، برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں پیدا ہوئے۔

 1756ء ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے رابرٹ کلائیو کی قیادت میں فلوٹا پر اپنا حق جمایا جو اسوقت اڑیسہ کے گنجم ضلع کا گاؤں ہے۔

1760ء انسائیکلوپیڈیا برٹینکا کے پہلی کاپی کی اسکاٹ لینڈ میں اشاعت ہوئی۔

 1790ء امریکی کانگرس نیویارک شہر سے فلاڈیلفیا، پنسلوانیا منتقل ہوئی۔

 1877ء معروف امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ پہلی بار شائع ہوا۔

 1884ء واشنگٹن مونیومنٹ، واشنگٹن ڈی سی کی تعمیر مکمل ہوئی۔

 1907ء ہندوستان میں چنگری پوٹا ریلوے اسٹیشن (اب بنگلہ دیش) آزادی کی لڑائی کی تاریخ میں انقلابیوں کی پہلی ڈکیٹی ہوئی۔

 1917ء اسکینڈینویم ملک فن لینڈ نے روس سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔

 1917ء کناڈا میں دو بحری جہازوں کی بھیانک ٹکر میں کم از کم 1500 لوگوں کی موت ہو گئی۔ 

 1917ء فرانسیسی کشتی ’مونٹ بلینک‘ میں دھماکہ ہونے سے 1639 سے زائد لوگوں کی موت ہو گئی۔ 

 1929 ترکی میں عورتوں کو اختیارات حاصل ہوئے۔

 1946 ہندوستان ہوم گارڈز کا قیام عمل میں آیا۔

 1971ء بھارت نے مشرقی پاکستان کو آزاد ملک بنگلہ دیش کے طور پر تسلیم کیا۔ پر پاکستان نے بھارت سے سفارتی تعلقات ختم کر لئے۔

 1973ء جیرالڈ فورڈ نے امریکہ کے نائب صدر کے طور پر حلف لیا۔

1992ء اجودھیا میں جنونی ہندوؤں نے تاریخی بابری مسجد شہید کر دی جس سے اجودھیا میں ہندو مسلم فسادات کا آغاز ہوا۔ ٭6 دسمبر 1992ء کو اترپردیش (بھارت) کے شہر اجودھیا میں لاکھوں انتہا پسند ہندوئوں نے مغل دور کی یادگار بابری مسجد پر یلغار کردی۔ چند گھنٹوں کے اندر انہوں نے مسجد کو ملبے کا ڈھیر بنادیا اور اس ملبے پر راتوں رات ایک مندر تعمیر کرلیا۔ بابری مسجد 1527ء میں پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تعمیرکروائی تھی۔ کئی صدیوں تک یہ مسجد ، مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور اس مسجد کے بارے میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد 1885ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد جس مقام پر تعمیر کی گئی ہے وہاں رام چندر جی نے جنم لیا تھا لہٰذا اس مسجد کو شہید کرکے یہاں مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ دعویٰ اتنا بے بنیاد تھا کہ جج نے ، جو خود بھی ہندو تھا، محض پانچ دن کی سماعت کے بعد اس مقدمے کو خارج کردیا۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر جڑ پکڑ گیا اورہندوئوں نے اس مسجد کے مقام پر ایک مرتبہ پھر متنازع بنانے کی کوشش کی۔ 22 دسمبر 1949ء کو کسی نے اس مسجد میں رام اور سیتا کے مجسمے رکھ دیئے، اس واقعے کے بعد ہندوئوں اور مسلمانوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور حکومت نے اس مسجد کو مقفل کردیا۔اس کے بعد یہ معاملہ کئی دہائیوں تک جوں کا توں رہا تاہم جب 1990ء میں بھارت میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو 6 دسمبر 1992ء کو یو پی کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کی ایماپرہندو انتہا پسندوں نے اس مسجد پر حملہ کرکے اسے شہید کردیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان بھر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں اندازاً 2 ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اس سانحے پر پوری پاکستانی قوم بھی سراپا احتجاج بن گئی۔ حکومت پاکستان نے 8 دسمبر1992ء کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا، تمام دفاتر اور کاروباری مراکز بن رہے اور ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ 10 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے اس مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کرلیا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے تو شرکت نہیں کی تاہم کچھ چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد جاری کیا گیا جس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بابری مسجد کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کیا جائے، بھارت میں تمام مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مسلمانوں کے جان و مال اور املاک کو جو نقصان پہنچا ہے بھارتی حکومت اس کا معاوضہ ادا کرے۔ ادھر ہندوستان میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت تک جا پہنچا۔ 30 ستمبر 2010ء کو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس مسجد کے تین حصے کرکے اسے مسلمانوں اور ہندوئوں میں تقسیم کردیا جائے تاہم مسلمانوں نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔  

 2001ء امریکی فوجیوں نے اسامہ بن لادن کے افغانستان میں واقع تورہ بورہ پہاڑی ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا۔

 2003ء چین میں پہلی مرتبہ مس ورلڈ مقابلہ حسن ہوا۔ جس میں آئرلینڈ کی روسنا دیوسن نے خطاب جیتا۔

 2006ء جوزف کبیلا چار دہائیوں میں کانگو کے پہلے جمہوری طریقے سے چنے گئے صدر بنے۔

6 دسمبر 2009ء کو پاکستان ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی سہیل عباس نے ارجنیٹنا میں منعقد ہونے والے چیمپئنز چیلنج ہاکی کپ ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ، جو ان کا 318واں بین الاقوامی میچ تھا،کینیڈا کے خلاف اپنے کیریئر کا 300 واں گول اسکور کیا اور یوں وہ دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے بین الاقوامی ہاکی میں 300 گول اسکور کرنے کا سنگ میل عبور کیا۔ سہیل عباس کے ان 300 گولوں میں ایک ڈبل ہیٹ ٹرک اور 21 ہیٹ ٹرکس شامل تھیں۔ سہیل عباس سے قبل بین الاقوامی ہاکی میں سب سے زیادہ گول کرنے کا اعزاز ہالینڈ کے معروف کھلاڑی پال لٹجن کے پاس تھا۔ پال لٹجن نے اپنے کیریئر میں 267 گول اسکور کیے تھے۔ سہیل عباس نے ان کا یہ ریکارڈ 8اکتوبر 2004ء کو توڑا تھا۔ سہیل عباس 9 جون 1977ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 28 فروری 1998ء کو کیا تھا۔  

ولادت 

 1421ء ہنری ششم، (31 اگست 1422ء تا 4 مارچ 1461ء) اور دوبارہ (3 اکتوبر 1470ء تا 11 اپریل 1471ء) شاہ انگلستان (وفات: 1471ء)

1732ء وارن ہیسٹنگز ، ایک انگریز سیاست کار (1972ء تا 20 اکتوبر 1974ء) گورنر فورٹ ولیم پریزیڈینسی اور (20 اکتوبر 1774ء تا 8 فروری 1785ء) پہلا گورنر جنرل فورٹ ولیم پریزیڈینسی (بنگال) ، اس پر بدعنوانی کا الزام تھا اور 1787ء میں اسے مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایک طویل مقدمے کی سماعت کے بعد اسے 1795ء میں بری دیا کیا گیا۔ پلاسی (1757ء) سے 1947ء تک برطانوی فوجیں ہندوستانی سپاہیوں پر مشتمل تھیں۔ لیکن برطانوی فتوحات کی لوٹ کا مال برطانوی سپاہیوں کو ملتا تھا۔ مثال کے طور پر روبرٹ کلائیو۔۔۔ برطانوی پروپیگینڈا کا نظام، جسے اب جدید تاریخ کہا جاتا ہے، وارن ہیسٹنگز کے زمانے میں شروع کیا گیا تھا، جو کلائیو کے برعکس اپنا دفاع نہیں کرتا۔ اس کی بجائے ہیسٹنگز اور اس کی ٹیم کی اختراع یہ رہی کہ کس طرح ہیسٹنگز اور برطانوی سلطنت نے ہندوستان کی بہتری کے لئے کام کئے۔ اور یہی پروپیگینڈا آج تک کیا جاتا ہے۔ (وفات: 1818ء)

 1836ء شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد، انشا پرواز اور ناول نگار، بجنور میں پیدا ہوئے. (وفات: 1912ء)

 1861ء ناراین وامن تِلک ، برطانوی ہندوستان میں بمبئی پریزیڈنسی کے علاقے کوکن کے ایک مراٹھی شاعر تھے۔ انہوں نے ہندومت چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مسیحیت قبول کی (وفات: 1919ء)

 1898ء گونر مائرڈل، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1974ء) یافتہ سویڈش ماہر سماجیات ، ماہر اقتصادیات اور استادِ جامعہ ، یہ انعام انہیں آسٹریائی ماہر معاشیات فریڈریک ہایک کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا (وفات: 1987ء)

 1920ء جارج پورٹر، نوبل انعام برائے کیمیا (1967ء) یافتہ انگریز کیمسٹ ، ماہر تعلیم اور سیاستدان (وفات: 2002ء)

 1932ء کملیشور، بھارتی مصنف، صحافی، منظر نویس، ناول نگار (وفات: 2007ء)

 1935ء ساویتری ، بھارتی تیلگو فلمی اداکارہ، پردہ گلوکارہ، ہدایتکارہ اور پروڈیوسر (وفات: 1981ء)  

 1948ء کےکے روزبرگ، فننش (فن لینڈ) ریس کار ڈرائیور، فارمولا ون ڈرائیور

 1954ء وحید الدین حیدر جعفری ، ہندوستان کے شیعہ اخباری مصنف، معلم، خطیب

 1968ء عالے خان نمعروف علی خان ، پاکستانی نژاد برطانوی اداکار اور میزبان

 1988ء رویندر جڈیجا ، بھارتی کرکٹ کھلاڑی  

1989ء ناصر جمشید، پاکستانی کرکٹر

1990ء ايمي يوسف احمد محمد يحيى ہيتاری ، یمن کی ایک مغنیہ ہیں جو جاپانی اینیمے کے عربی ترجمے اور ان کی نغمہ سرائی کے لئے مشہور ہیں۔  

 1993ء جسپریت بھمرا ، بھارتی کرکٹ کھلاڑی  

 ٭6 دسمبر 1929ء اردو کے معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کی تاریخ پیدائش ہے۔ مظفر علی سید امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں تنقید کی آزادی اور تراجم میں فکشن، فن اور فلسفہ اور پاک فضائیہ کی تاریخ کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے خامہ بگوش کے قلم سے، سخن در سخن اور سخن ہائے گفتنی کے نام سے مرتب کئے۔ مظفر علی سید نے 28 جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی۔وہ لاہور میں کیولری گرائونڈ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ۔

*وفات*

 

 763ء امام محمد نفس الزکیہؒ، عباسی دور کے ایک فاطمی سادات کے امام جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی چوتھی پشت میں سے تھے ۔ جنہوں نے خلیفہ المنصور کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ 

 1909ء سراج الدین احمد خان، زمیندار اخبار کے بانی اور مولانا ظفر علی خان کے والد محترم

 1956ء وکٹوریا ہیلن مک‌کرے ڈنکن ، اسکاٹش روحانی عورت جو برطانیہ کی آخری قیدی بنی جس پر ایک چڑیل ہونے کا الزام تھا۔ برطانیہ کے دفعہ 1735 جادوگری کے تحت اسے قید کیا گیا تھا۔ (پیدائش: 1896ء)

 1956ء ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی المعروف بابا جی، بھارتی آئین کے معمار، معیشت دان ، وکیل ، مؤرخ، معلم اور سیاست دان (پیدائش: 1891ء)

 1968ء محمد مقتدیٰ خان شروانی , اردو زبان کے شاعر اور مصنف (پیدائش: 1880ء)
 

 1982ء روشن آرا بیگم ، ملکہ موسیقی کا خطاب پانے والی پاکستانی کلاسیکی و فلمی گلوکارہ (پیدائش: 1917ء)

 1983ء میر گل خان نصیر، پاکستانی شاعر، صحافی، مؤرخ اور سیاست دان ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ رہنما  (1972ء تا 1973ء) بلوچستان کے پہلے وزیرِ تعلیم (پیدائش: 1914ء)

 1989ء فرانسس باویر، امریکی اداکارہ (پیدائش: 1902ء)

 1990ء تونکو عبد الرحمان پترا الحاج ابن المرحوم سلطان عبد الحمید حلیم شاہ ، ملائیشیائی وکیل و سیاست دان ، (1 اگست 1955ء تا 31 اگست 1957ء) وزیر اعلی ملایا۔ 1957ء میں ملائیشیا کی آزادی کے بعد وہ (31 اگست 1957ء تا 22 ستمبر 1970ء) پہلے وزیر اعظم  ملائیشیا  ۔ 1963ء صباح، سراواک اور سنگاپور کے وفاق میں شامل ہوتے وقت وہ ہی وزیر اعظم تھے۔ (پیدائش: 1903ء)

1991ء رچرڈ اسٹون، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1984ء) یافتہ برطانوی ماہر معاشیات، ماہرِ شماریات اور نیشنل انکم اکاؤٹنگ کے خالق (پیدائش: 1913ء)

 

 1971ء میجر شبیر شریف، نشان حیدر، سلیمانیکی کے محاذ پر شہید ہوئے۔ ٭28 اپریل 1943ء پاکستانی فوج کے نامور سپوت میجر شبیر شریف کی تاریخ پیدائش ہے۔ میجر شبیر شریف کنجاہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ 19 اپریل 1964ء کو انہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیر فورس رجمنٹ میں تعینات کیے گئے۔ 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں انہیں ستارہ جرات عطا کیا گیا۔ 3 دسمبر 1971ء کو وہ سلیمانکی سیکٹر میں فرنٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی قیادت کررہے تھے۔ ان کو ایک اونچے بند پر قبضہ کرنے کی مہم سونپی گئی جہاں سے دو گائوں گورمکھ کھیڑہ اور بیری والا زد میں آسکتے تھے۔ فوجی لحاظ سے اس جگہ کی بڑی اہمیت تھی اور اسی وجہ سے بھارت نے یہاں آسام رجمنٹ کی ایک کمپنی مامور کی تھی جسے ٹینکوں کے ایک اسکواڈرن کی مدد بھی حاصل تھی مطلوبہ پوزیشن تک پہنچنے کے لیے انہیں 30 فٹ چوڑی اور 10 فٹ گہری دفاعی نہر کو تیر کر عبور کرنا اور دشمن کے بارودی سرنگوں کے علاقے سے گزرنا تھا۔ مگر میجر شبیر شریف نے اپنی کمپنی کے ساتھ یہ تمام مرحلے طے کرلیے اور 3 دسمبر کی شام تک دشمن کو اس کی دفاعی قلعہ بندیوں اور خندقوں سے باہر نکال دیا۔ اس معرکے میں دشمن کے 43 سپاہی مارے گئے اور 4 ٹینک تباہ ہوئے۔ 5 اور6 دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیر شریف نے آسام رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر کو ہلاک کرکے اہم دستاویزات پر قبضہ کرلیا۔ 6 دسمبر کو دشمن نے ایک خوفناک جوابی حملہ کیا۔ اس حملے میں میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے‘ شہید ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی اعلیٰ عسکری خدمات پر نشان حیدر کا اعزاز عطا کیا۔ میجر شبیر شریف لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ میجر شبیر شریف شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 3 فروری  1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی بیوہ  نے حاصل کیا۔

 1990ء ناصر جہاں، مرثیہ خواں اور نوحہ خواں۔6 دسمبر 1990ء کو پاکستان کے معروف نعت خواں اور نوحہ خواں سید ناصر جہاں کراچی میں وفات پاگئے۔ سید ناصر جہاں 1927ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی لکھنؤ میں حاصل کی اور 1950ء میں پاکستان آگئے۔ زیڈ اے بخاری کی مردم شناس نظروں نے ان کی صلاحیتوں کو جلابخشی۔ 1954ء میں ریڈیو پاکستان سے انہوں نے مجلس شام غریباں کے بعد سید آل رضا کی نظم شام غریباں اپنے خوب صورت لحن میں پیش کی۔ یہ نظم بعد میں سلام آخر کے نام سے معروف ہوئی۔ اگست 1956ء میں انہوں نے مجلس شام غریباں اور سلام آخر کے درمیان چھنو لال دلگیر کا لکھا ہوا مشہور نوحہ گھبرائے گی زینب پہلی مرتبہ پڑھا جس کے بعد ناصر جہاں کا پڑھا ہوا یہ نوحہ اور یہ سلام ریڈیو پاکستان کی مجلس شام غریباں کا لازمی جزو بن گیا۔ بعدازاں پاکستان ٹیلی وژن نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔ سید ناصر جہاں ایک اچھے نعت خواں بھی تھے ان کی پڑھی ہوئی کئی نعتیں بے حد مقبول ہوئیں جن میں امیر مینائی کی نعت جب مدینے کا مسافر کوئی پاجاتا ہوں سرفہرست ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔سید ناصر جہاں کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

٭6 دسمبر 1983ء کو پاکستان ٹیلی وژن کی مشہور اداکارہ نجمہ محبوب، پنجابی فلم رکشہ ڈرائیور کی شوٹنگ کے دوران ایک بچے کو بچاتی ہوئی چلتن ایکسپریس سے ٹکرا کر جاں بحق ہوگئیں۔ نجمہ محبوب 1949ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ابتدا میں اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ پھر 1969ء میں یونائیٹڈ پلیرز کے ایک ڈرامے کے ذریعہ ٹیلی وژن پر آئیں۔ لاہور ٹیلی وژن پر ان کا پہلا ڈرامہ ہاتھی دانت تھا اس کے بعد انہوں نے ٹیلی وژن کے متعدد انفرادی ڈراموں اور سیریلیز میں کام کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 79 فلموں میں بھی کام کیا جن میں پہلی فلم خلش اور آخری فلم نازک رشتے تھی جو 1987ء میں ریلیز ہوئی۔

 2000ء عزیز میاں قوال، پاکستانی فنکار۔(ولادت: 17 اپریل، 1942ء، وفات: 6 دسمبر،2000ء) پاکستان کے چند مقبول ترین قوالوں میں سے ہیں۔ ان کی پیدائش بھارت کے شہر دہلی میں ہوئی۔
عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا۔ "میاں" ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز "عزیز میاں میرٹھی" کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔انہیں اپنے ابتدائی دور میں "فوجی قوال" کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کےلیے تھیں۔
مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعدازاں بری کر دیا گیا۔عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں "میں شرابی میں شرابی" (یا "تیری صورت") اور "اللہ ہی جانے کون بشر ہے" شامل ہیں۔

تعطیلات و تہوار

 1917ء فن لینڈ نے روس سے آزادی کااعلان کیا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...