Ad3

07 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1825ء بھاپ سے چلنے والی کشتی ’انٹرپرائز‘ پہلی بار کولکتہ میں پہنچی۔

 1856ء بھارت میں پہلی بار کسی ہندو بیوہ کی شادی کرائی گئی۔

 1941ء جاپان نے امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر فضائی حملہ میں شدید بمباری کی جس میں مالی نقصان کے علاوہ شدید جانی نقصان بھی ہوا۔ جس سے امریکہ کی جنگ عظیم دوم میں براہ راست شرکت

 1949ء بھارتی مسلح افواج نے فلیگ ڈے منایا۔

 1949ء چین کے اس وقت کے حکمراں چانگ کائی شعک نے بھاگ کر تائیوان میں پناہ لی۔

1959ء امریکی صدر آئزن ہاور سرکاری دورے پر کراچی پہنچے۔

 
7 دسمبر 1970ء کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پرپاکستان کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے ان انتخابات میں ملک کی 24 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ انتخابات کے اسم حاذ پر 1499 امیدوار تھے۔
 300 نشستیں تھیں جن کا فیصلہ پاکستان کے ساڑھے پانچ کروڑ رائے دہندگان کو کرنا تھا۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتے تھے کہ ان کے لیے تاریخ کی طویل ترین انتخابی مہم چلائی گئی تھی اور بلوچستان کے عوام نے پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابات کے نتائج نے پاکستان میں ایک بالکل نئی صورتحال کو جنم دیا۔ 
مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے عوامی لیگ نے 2 کے سوا باقی تمام نشستیں جیت لیں۔ (ان دو نشستوں پر نور الامین اور راجہ تری دیورائے کامیاب ہوئے)۔ مغربی پاکستان میں 138 نشستوں میں 81 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی جب کہ مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے 9‘ کونسل مسلم لیگ کے 7‘ جمعیت علمائے اسلام کے 7‘ جمعیت علمائے پاکستان کے 7‘ نیپ (ولی خان گروپ) کے 6‘ جماعت اسلامی کے 4‘ کنونشن مسلم لیگ کے 2 اور پاکستان جمہوری پارٹی کا فقط ایک امیدوار کامیاب ہوا۔ 17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو ملک کے دونوں حصوں میں دوبارہ اسی قسم کے نتائج سامنے آئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ان انتخابات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں صوبوں کی سیاست میں جو بعد المشرقین موجود تھا وہ مستحکم ہوگیا اور ملک کی قسمت تین افراد صدر محمد یحییٰ خان‘ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں آگئی۔

 1971ء پاکستان میں مارشل لاء اٹھا لیا گیا۔ نورالامین 8ویں وزیر اعظم مقرر ہوئے۔

 1972ء امریکہ نے آخری اپولو مشن کے تحت اپولو 17 خلاء میں بھیجا۔

 1975ء انڈونیشیا کی فوج نے مشرقی تیمور پر قبضہ کیا۔ 

1976ء والڈاہیم اقوام متحدہ کے دوسری بار سیکریٹری جنرل منتخب۔

 1981ء اسپین ناٹو کا ممبر بنا۔

1985ء۔۔سارک تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی تنظیم سارک یا سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔ سارک کے قیام کی تجویز سب سے پہلے بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1980ء میں پیش کی تھی۔انہوں نے جن شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی تھی ان میں اقتصادی،فنی، سائنسی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی شعبے شامل تھے۔اس کے بعد اپریل 1981ء سے اگست 1984ء تک کولمبو، کٹھمنڈو، اسلام آباد، ڈھاکہ اور نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر سال بہ سال مذاکرات منعقد ہوتے رہے جس میں اس تنظیم کے خدوخال متعین ہوئے۔ 7 دسمبر 1985ء کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں جنوب ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔جس کا افتتاح بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد نے کیا۔اس کانفرنس میں جن سربراہان ممالک نے شرکت کی ان میں بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر جے وردھنے، نیپال کے شاہ مہندرا، بھوٹان کے شاہ جگمی وانگچوک اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شامل تھے۔اگلے روز یعنی 8 دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے ممالک کی اس تنظیم کے منشور کا اعلان کردیا گیا اور یوں اس تنظیم کا قیام عمل میں آگیا۔16جنوری 1987ء کو نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں اس تنظیم کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا

 1983ء اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں دو جیٹ طیاروں کی ٹکر میں 93 افراد ہلاک۔

1988ء آرمینیا میں 9۔6 کی شدت والے زلزلے سے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور 50 لاکھ بے گھر ہو گئے۔

 1988ء فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔

 2002ء ترکی کی عذرا ایکن نے نائجیریا سے لندن منتقل کئے گئے منعقدہ عالمی مقابلہ حسن جیتا۔ اس کے بعد نائجیریا کے ایک اخبار میں مسلمانوں کے خلاف کی گئی توہین آمیز تبصرہ کے بعد عیسائیوں اور مسلمانوں کے مابین تشدد میں دو سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے۔

 2004ء حامد کرزئی نے صدر افغانستان کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

2005ء چین کے صوبہ ہیبئی میں کوئلے کے کان میں دھماکہ سے کم از کم 91 کان کن مارے گئے۔

 2009ء پشاور میں سیشن کورٹ کے گیٹ کے پاس خود کش بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہو گئے۔

 2009ء لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں 2 بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہو گئے۔

ولادت :

903ء عبدالرحمن الصوفی، فارسی ماہر فلکیات اور مصنف

967ء ابوسعید الخیر، صنف ِرباعی متعارف کروانے والے صوفی شاعر

1761ء مادام تساؤ، مومی مجسمہ ساز

 1893ء فے بائنٹر، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ

 1923ء انتظار حسین، افسانہ نگار اور سکالر

 1928ء ناؤم چومسکی، امریکی ماہر لسانیات اور فلسفی

 1932ء ایلن بیرسٹین، امریکی اداکارہ

1962ء عماد فایز مغنیہ، لبنانی سرگرم کارکن۔عماد فایز مغنیہ ( 12 فروری 2008) لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے ایک اہم رکن تھے اور حزب اللہ کے بانی ارکان میں سے تھے۔ وہحزب اللہ کے شعبہ تحفظ (سیکیوریٹی سیکشن) کے صدر بھی رہے ہیں۔ وہ حاج رضوان کے نام سے بھی مشہور رہے ہیں۔ عماد امریکا کے مطلوب ترین افراد میں شامل تھے کیونکہ ان پر مختلف الزام عائد کیے جاتے رہے ہیں مثلاً 1983 میں لبنان میں موجود امریکی افواج پر حملہ کر کے 350 افراد کو ایک ہی دن میں مار دینا اور 1992 میں بیونس آئرس (ارجنٹائن) میں اسرائیلی سفارت خانہ پر بم سے حملہ وغیرہ۔ امریکا نے ان کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر پچاس لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔ انہوں نے حزب اللہ اورحماس کے درمیان مفاہمت میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہیں 12 فروری 2008ء کو دمشق کے قریب ایک بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا جس کا الزام اسرائیل کی تنظیم موساد پر لگایا گیا ہے۔ لبنان سے اسرائیلی افواج کے اخراج اور 2006ء کی لبنان۔ اسرائیل جنگ میں حزب اللہ کے شعبہ اسلامی مزاحمت میں ان کے کردار کی وجہ سے انہیں اسرائیلی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔

 1978ء شیری ایپلبائی، امریکی اداکارہ، ہدایت کار اور پروڈیوسر

7 دسمبر 1959ء پاکستان کے معروف کرکٹر سلیم یوسف کی تاریخ پیدائش ہے۔ 
سلیم یوسف کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔
 انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز5 مارچ 1982ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے کیا۔ سلیم یوسف پاکستانی کرکٹ ٹیم میں وکٹ کیپر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 32ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے 91 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 13 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔ انہوں نے 86 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 81 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 22 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔وہ کراچی میں مقیم ہیں۔

وفات :

 1782ء سلطان حیدر علی، ریاست میسور کے حکمران۔سلطان کا نام حیدر نائک تھا۔ دورحکومت 1722ءتا 1784ء والئی میسور ۔ نسلا افغان تھے۔ان کے پردادا گلبرگہ دکن میں آکر آباد ہوگئے تھے۔والد فتح محمد ریاست میسور میں فوجدار تھے۔حیدر علی پانچ برس کے ہوئے تو والد ایک لڑائی میں مارے گئے۔ ان کے چچا نے انھیں فنون سپہ گری سکھائے ۔1752ء میں حیدر علی نے راجا میسور کی ملازمت کر لی اور بڑی بہادری سے مرہٹوں کے حملوں سے ریاست کو بچایا۔1755ء میں راجا نے انہیں اپنی فوج کا سپہ سالار بنا دیا۔میسور کی بدانتظامی اور راجا کی نااہلی کے سبب بالآخر حیدر علی نے 1766ء میں راجا کو وظیفہ مقرر کرکے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ حیدر علی کی تخت نشینی کے وقت ریاست میسور میں صرف 33 گاؤں تھے۔ مگر انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اسی ہزار مربع میل علاقے میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ انگریزوں کے خلاف سلطان حیدر علی نے دو جنگیں لڑیں۔ پہلی جنگ میسور 1766ء تا 1769ء میں حیدر علی نے مدراس کی دیواروں کے نیچے پہنچ کر انگریزوں کو صلح پر مجبور کر دیا۔دوسری جنگ میسور 1780ء تا 1784ء میں انہوں نے کرنل بیلی اور میجر منرو کو فیصلہ کن شکستیں دیں۔اسی جنگ کے دوران 07 دسمبر 1784ء کو سلطان نے بعارضہ سرطان وفات پائی۔سلطان حیدر علی ان پڑھ تھے مگر بڑے بیدار مغز حکمران تھے۔ وہ پانچ مختلف زبانوں میں بات چیت کرسکتے تھے۔ ان کی قوت حافظہ بہت تیز تھی۔ وہ بیک وقت کئی احکامات جاری کرتے اور لکھواتے وقت ہر حکم کی عبارت میں تسلسل قائم رکھتے اور پیچیدہ گھتیوں کو فوراً حل کر لیتے تھے۔ شخصی خوبیوں کو بھانپنے میں انہیں کمال حاصل تھا۔ ان میں تعصب نام کو بھی نہ تھا۔ ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں سے یکساں سلوک کرتے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کسی سے رعایت نہ کرتے تھے۔ان کی عقابی نگاہوں نے مغل سلطنت کے زوال ، ہندوستان کی طوائف الملوکی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے استعماری منصوبوں کو بھانپ لیا اور ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی داغ بیل ڈالی۔آپ کی وفات کی کے بعد آپ کے فرزند ٹیپو سلطان تخت میسور پر بیٹھے۔

1874ء۔۔قسطنطین ٹشنڈارف ایک مشہور بائبل کا جرمن عالم تھا۔ اس نے بائبل کے قدیم ترین نسخے نسخۂ سینا کی دریافت کی تھی

1906ء الی ڈوکمن، سوئس صحافی اور معلم۔الی ڈوکمن(1833ء) کو امن کے حوالے سے کام کرنے پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے 1902ء میں نوبل امن انعام جیتا۔ انھوں نے امن کے اس نوبل انعام کو ایلبرٹالبرٹ گوباٹ (1843ء -1914ء)،سوئس وکیل، تعلیمی منتظم،اور سیاست دان کے ساتھ مشترکہ طور پر جیتا تھا۔ الی ڈوکمن جنیوا میں پیدا ہوئے تھے اورانھوں نے بطور استاد اور صحافی کے بھی کام کیا

 1947ء نکولس مرے بٹلر، امریکی فلسفی اور ماہر تعلیم۔1882ء میں کولمبیا کالج سے فلسفے میں بی۔ اے کیا۔ دو سال بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ برلن اور پیرس میں مرید تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال بعد کولمبیا یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1902ء میں اسی یونیورسٹی کا صدر منتخب ہوا۔44 سالہ عہد صدارت میں کولمبیا یونیورسٹی کو دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹوں ے مقابلے میں لاکھڑا کیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن سے بھی گہری دلچسپی لی۔ اس صلے میں 1931ء میں امن کا نوبل پرائز حاصل حاصل کیا۔ صدر میکنلی سے لے کر صدر ٹرومین تک امریکا کے نوصدروں نے اس سے خط کتابت کی اس نے یہ تمام مکاتیب سترہ جلدوں میں مرتب کرکے کولمبیا یونیورسٹیلائبریری کو پیش کیے۔ اُسے ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں کی طرف سے 37 اعزازی ڈگریاں دی گئیں۔ علمی انجمنوں کا اعزازی رکن تھا۔ 1934ء تک اس کے تین ہزار سے زیادہ خطبے، رودادیں اور تحقیقی مضامین شائع ہو چکے تھے

 1989ء جوان بینٹ، امریکی اداکارہ

1993ء ولف گینگ پاولی، جرمن ماہر طبیعیات اور ماہر تعلیم

 1998ء مارٹن روڈبل، امریکی حیاتی کیمیا دان اور اینڈوکرائنولاجسٹ

2018ء۔۔محمد اسرار الحق قاسمی (15 فروری 1942ء ) بھارتی صوبہ بہار کے ایک عالم دین، سیاست دان، کالم نگار اور کشن گنج نشست سے رکن پارلیمان تھے۔نیز جمعیت علمائے ہند کے صوبائی صدر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن بھی رہے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...