Ad3

08 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1880ء جنوبی افریقہ کے پارڈے کرال میں 5000 مسلح کسان بغاوت کے لئے یکجا ہوئے۔

 1886ء امریکہ میں 26 دست کاری تنظیموں نے مل کر  امریکی لیبر فیڈریشن قائم کی۔

 1914ء فاک لینڈ جزیرے کے نزدیک برطانوی اور جرمن  جہازی بیڑوں میں جنگ چھڑ گئی۔

 1923ء جرمنی۔امریکی دوستی کے معاہدے پر دستخط  ہوئے۔

 1940ء جرمنی کے بمبار طیاروں نے لندن میں زبردست بمباری کر کے ہاؤس آف کامنس اور ٹاور آف لندن کو نقصان پہنچایا۔

 1941ء پرل ہاربر پر حملے کے فوراً بعد جاپان نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔

 1941ء جنگ عظیم دوم: چین نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا

 1941ء پرل ہاربر پر ایک دن قبل ہوئے حملوں کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

 1941ء نیدرلینڈ حکومت نے جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان  کیا۔

 1949ء چین کے قوم پرستوں نے فارسوما ’تائیوان‘ کو اپنی راجدھانی بنایا۔

 1962ء امریکہ میں اخبارات کی 114 دن طویل ہڑتال شروع۔

 1963ء حسین شہید سہروردی کو ڈھاکا میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1893ءکو بنگال کے شہر مدنا پور میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل وہ سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ءمیں انہوں نے جناح عوامی لیگ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں عوامی لیگ کے نام سے معروف ہوئی۔ 1950ءکی دہائی میں شروع شروع میں وہ قائد حزب اختلاف کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1956ءمیں جب پاکستان کا آئین منظور ہوا تو وہ ان چند افراد میں شامل تھے جنہوں نے بعض اصولوں کی بنیاد پر اس آئین پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن بعد ازاں وہ اسی آئین کے تحت 12ستمبر 1956ء کو  ملک کے وزیر اعظم مقرر کیے گئے اور انہوں نے اس آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔ 1958ءمیں جب ایوب خان نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو سہروردی تن تنہا حزب اختلاف کی آواز بن گئے۔ حکومت نے ایبڈو کے کالے قانون کے تحت انہیں سیاسی طور پر نااہل قرار دینے کا مقدمہ چلایا مگر انہوں نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے ہر الزام کا بھرپور دفاع کیا اور حکومت کو اپنی فصاحت‘ بلاغت اور ذہانت و قابلیت سے زچ کیے رکھا۔ حکومت نے سہروردی کو ایبڈو کے قانون کے تحت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا لیکن سہروردی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور سیاسی طور پر مسلسل متحرک رہے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان‘ دونوں صوبوں کے طوفانی دورے کیے اور عوام کو مارشل لاءحکام کے عزائم سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ایوب آمریت کے خلاف یہ جنگ تن تنہا لڑی۔ انہیں اس کا دکھ نہیں تھا کہ حکومت ان پر حملے کرکے ان سے ایبڈو کی پابندیاں منوانا چاہتی ہے بلکہ وہ دل گرفتہ اس بات سے تھے کہ سیاست دانوں کی اکثریت نے سیاسی جنگ میں ان کا ساتھ دینے سے پہلو تہی کرلیا تھا۔ 1963ءکے اوائل میں ان پر دل کا دورہ پڑا۔ وہ علاج کروانے کے لیے یورپ گئے اور پھر آرام کرنے کی غرض سے بیروت کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔ 5 دسمبر 1963ءکو نصف شب کے قریب ان کی حالت اچانک خراب ہوگئی۔ اس سے پہلے کہ انہیں کوئی طبی امداد پہنچائی جاسکتی وہ حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوٹل ہی میں دم توڑ گئے۔ سہروردی کی میت وطن واپس لائی گئی جہاں 8 دسمبر 1963ءکو انہیں شیر بنگال مولوی فضل الحق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔   

 سارک یا ’’سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن‘‘ جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی ایک تنظیم ہے، جس کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔ سارک کے قیام کی تجویز سب سے پہلے بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1980ء میں پیش کی تھی۔ انہوں نے جن شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی تھی ان میں اقتصادی، فنی، سائنسی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی شعبے شامل تھے۔ اس کے بعد اپریل 1981ء سے اگست 1984ء تک کولمبو، کٹھمنڈو، اسلام آباد، ڈھاکہ اور نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر سال بہ سال مذاکرات منعقد ہوتے رہے جس میں اس تنظیم کے خدوخال متعین ہوئے۔ 7 دسمبر 1985ء کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں جنوبی ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا افتتاح بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد نے کیا۔ اس کانفرنس میں جن سربراہان ممالک نے شرکت کی ان میں بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر جے وردھنے، نیپال کے شاہ مہندرا، بھوٹان کے شاہ جگمی وانگچوک اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شامل تھے۔ اگلے روز یعنی 8 دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے ممالک کی اس تنظیم کے منشور کا اعلان کردیا گیااور اسی روز پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے د ویادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن پر سارک ممالک میں شامل ممالک کے نقشے اور پرچم بنے تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کی مالیت ایک روپے اور دو روپے تھی ۔ ایک روپے مالیت والے ڈاک ٹکٹ پر SOUTH ASIAN ASSOCIATION FOR REGIONAL COOPERATION کے الفاظ بھی تحریر تھے ۔ یہ دونوں ڈاک ٹکٹ جناب عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیے تھے ۔

 1966ء امریکہ اور سوویت یونین سمیت 28 ممالک کے درمیان خلاء میں نیوکلیائی اسلحہ استعمال نہ کرنے کا معاہدہ طے پایا۔

 1966ء یونان کا جہاز ہیراکالین سمندری طوفان کی زد میں آ ٓکر ڈوب گیا، 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

 1967ء بھارت کی پہلی آبدوز آئی این ایس کالوری بحری بیڑے میں شامل کی گئی۔

 1969ء یونان کا طیارہ ڈی سی۔6 بی حادثے کا شکار ہو گیا، 93 افراد ہلاک ہو گئے۔

 1972ء شکاگو میں طیارہ حادثہ، 45 افراد ہلاک ہو گئے۔

 1974ء خلائی سیٹلائٹ سویوز۔16 زمین پر واپس لوٹی۔

 1974ء یونان میں ریفرینڈم کے ذریعہ شاہی حکومت کا  خاتمہ ہو گیا۔

 1978ء دن رات کرکٹ میچ کا آغاز ہوا۔

 1982ء نیوکلیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے مطالبہ پر زور  دینے کے لئے ایک  نہتے شخص نارمن میئر نے واشنگٹن کی عمارت کو یرغمال کر لیا۔ دس گھنٹے بعد وہ پولیس کارروائی میں مارا گیا۔

 1987ء فلسطینی باغیوں نے اسرائیل کے خلاف انتفاضہ تحریک کی ابتداء کی۔

 1987ء امریکی صدر رونالڈ ریگن اور روسی صدر گوربا چوف کے مابین درمیانی دوری کے نیوکلیائی میزائل استعمال نہ کرنے پر معاہدہ ہوا۔

 1991ء روس، بیلا روس اور یوکرین نے آزاد ملکوں کی  مملکت تشکیل دی۔

 1993ء صدر بل کلنٹن نے شمالی امریکی آزاد تجارت کے معاہدے نافٹا، این اے ایف ٹی اے ،کے قانون پر دستخط کئے۔

 1994ء چین میں کرامے کے سینما ہال میں لگنے والی آگ سے 310 افراد ہلاک ہو گئے۔

 2009ء ملتان میں آئی۔ ایس۔ آئی۔ کے دفتر کے باہر دھماکے میں 9 افراد شہید اور 47 زخمی ہو گئے۔

 8دسمبر1990ء کو سیکیورٹی پیپرز لمیٹڈ کراچی نے اپنے قیام کے 25سال مکمل ہونے پر اپنی سلور جوبلی تقریبات منائیں۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھی تین روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جسے الیاس جیلانی ڈیزائن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر سیکیورٹی پیپرزلمیٹڈ کراچی کا لوگو بنا تھا اور 25 YEARS OF SECURITY PAPERS LTD. کے الفاظ تحریر تھے۔۔

ولادت :

 1720ء بالاجی باجی راؤ ، جو نانا صاحب کے نام سے معروف ہیں، ہندوستان کی مرہٹہ سلطنت کے (4 جولائی 1740ء تا 23 جون 1761ء) پیشوا یعنی وزیر اعظم (وفات: 1761ء)

 1832ء بیورنستار بیورنسن، نوبل ادب انعام )1903ء یافتہ نارویجن فرانسیسی شاعر ، مصنف اور ڈراما نگار (وفات: 1910ء)

 1875ء تیز بہادر سپو، کانگریس کے سیکولر گروپ کے اہم لیڈر بمقام علی گڑھ

 1879ء جتیندر ناتھ مکھر جی بھارتی آزادی پسند راہنما

 1900ء ادے شنکر، بھارتی کلاسیکی ڈانسر

 1904ء امتیاز علی عرشی ، ماہر غالبیات، محقق، مصنف اور مہتمم کتب خانہ رام پور (وفات: 1981ء)

 1935ء دھرمیندر، بھارتی اداکار، پروڈیوسر، اور سیاست دان

 1939ء محمد چنگیز خان طریقی ، پاکستان کے ضلع چترال میں مقیم کھوار کے نمایاں شاعر، ادیب، نقاد اور ماہر تعلیم (وفات: 2012ء)

 1943ء صبیح الدین غوثی ، پاکستانی صحافی (وفات: 2009ء)

 1944ء شرمیلا ٹیگور ، بھارتی ماڈل و اداکارہ ۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا اسلامی نام بیگم عائشہ سلطانہ رکھ لیا۔

 1946ء ناصرہ المعروف رانی ، پاکستانی اداکارہ (وفات: 1993ء)

 1947ء تھومس چیک، نوبل انعام برائے کیمیا (1989ء) یافتہ امریکی حیاتی کیمیا دان، کیمیادان، استاد جامعہ ، انعام کی وجہ انکی جانب سے ڈی این اے کے قلمی ساخت کی خصوصیات کو دریافت کرنا تھا۔ 

 1953ء کم بیسینجر، امریکی اداکارہ

 1964ء تیری ہیچر ، امریکی فلمی اداکارہ

 1966ء شنیڈ میری برناڈیٹ او کونر المعروف شہداء ڈیوٹ ، آئرلینڈی گلوکارہ اور نغمہ ساز

 1975ء سید شبیر حسین کاظمی المعروف مشیر کاظمی ، پاکستانی شاعر و نغمہ نگار

 1982ء حمید آلتین‌توپ ، جرمنی میں پیدا ہونے والے ترک پیشہ ورانہ فوٹبالر 

 1925ء ناصر کاظمی، اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراق نو‘ ہمایوں اور خیال کی مجلس ادارت میں شامل رہے اور پھر اپنی وفات تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1954ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے دیوان‘ پہلی بارش‘ نشاط خواب اور سُر کی چھایا اور مضامین کا مجموعہ خشک چشمے کے کنارے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے چند بڑے شاعروں کے الگ الگ منتخبات بھی مرتب کئے جن میں میر، نظیر، ولی اور انشا سرفہرست ہیں۔ ناصر کاظمی کا شمار اردو کے صاحب اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے میر تقی میر کے دبستان شاعری کو انتہائے کمال تک پہنچادیا۔ 2 مارچ 1972ء کو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے۔ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

 

 1986ء عامر اقبال خان، پاکستان نژاد  برطانوی باکسر۔عامر خان بولٹن، برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ برطانوی پاکستانی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق کہوٹہ،راولپنڈی، پاکستان سے ہے۔ وہ جنجوعہ راجپوت قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔انگریزی کے علاوہ خان پنجابی اور اردو زبان بھی بولتے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بولٹن کے سکول سے حاصل کی۔ وہ دو دفعہ کے عالمی چیمپئن اور سابقہ ڈبلیو بی اے سپر ویلٹر ویٹ چیمپئن ہیں۔ 

*وفات*

1864ء جارج بول، انگریز ماہر ریاضی ، فلسفی اور کمپیوٹر سائنس دان (پیدائش: 1814ء)

 1947ء بھائی پرمانند ، ہندوستانی قوم پرست سیاستدان (پیدائش: 1876ء)

 1954ء گلیڈس جارج، امریکی اداکارہ (پیدائش: 1904ء)

 1956ء محمد حسين ہيكل ، مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان (پیدائش: 1888ء)

 1978ء گولڈا مئیر، اسرائیلی معلم، سفارت کار وسیاست دان، (17 مارچ 1969ء تا 3 جون 1974ء) اسرائیلی کی چوتھی اور پہلی خاتون وزیر اعظم ، 1974ء میں جنگ یوم کپور کے اختتام پر گولڈا مئیر نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ (پیدائش: 1898ء)

2013ء جان کونفورتھ، نوبل انعام برائے کیمیا (1975ء) یافتہ آسٹریلوی انگریز کیمسٹ اور ماہر تعلیم ، جنھیں صتیریو کیمسٹری کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ (پیدائش: 1917ء)

1974ء مولانا ظفراحمد عثمانی، عالم دین۔٭ پاکستان کے ایک نامور عالم دین اور جدوجہد آزادی کے فعال رہنما علامہ ظفر احمد عثمانی 5 اکتوبر 1892ء کو دیوبند میں پیدا ہوئے تھے۔  آپ نے ابتدائی تعلیم دیوبند سے حاصل کی اور پھر تھانہ بھون‘ کانپور اور سہارنپور میں مختلف علماء سے فیض یاب ہوئے۔ تحریک پاکستان کی آخری دہائی میں مولانا ظفر احمد عثمانی مشرقی بنگال میں درس و تدریس میں مصروف تھے یوں انہوں نے ہندوستان کے اس خطے میں تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا جب سلہٹ میں ریفرنڈم کا مرحلہ درپیش ہوا تو یہ مولانا ظفر احمد عثمانی ہی تھے جن کی کاوشوں سے مسلم لیگ نے اس ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی اور یوں قیام پاکستان کے وقت یہ خطہ‘ پاکستان کا حصہ بن گیا۔ یہ آپ کی اور آپ کے بھائی علامہ شبیر احمد عثمانی کی خدمات ہی تھیں جن کے باعث قیام پاکستان کے وقت‘ یعنی 14 اگست 1947ء کو قائد اعظم نے آپ دونوں بھائیوں کو بالترتیب ڈھاکا اور کراچی میں پرچم کشائی کا اعزاز بخشا۔ 1954ء میں مولانا ظفر احمد عثمانی ٹنڈو الہ یار چلے آئے‘ جہاں انہوں نے ایک مدرسۃ العلوم قائم کیا اور آخری وقت تک اسی مدرسے میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ مولانا ظفر احمد عثمانی کا انتقال 8 دسمبر 1974ء کو ہوا۔ وہ ٹنڈوالٰہ یار میں اپنے قائم کردہ مدرسے میں آسودۂ خاک ہوئے۔ آپ کی تصانیف میں تحذیر المسلمین عنن الموالات المشرکین‘ فتاویٰ امداد الاحکام‘ اعلاء السنن اور انوار النظر فی آثار الظفر سرفہرست ہیں۔

 

2014.ء۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کیے جانے والے فیصل آباد لاک ڈاؤن میں حق نواز نامی کارکن کی شہادت۔

 ٭8 دسمبر 1994ء کو پاکستان ٹیلی وژن کے معروف اداکار سلطان خان کو بعض نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنادیا۔ سلطان خان نے اپنے کیریئر میں بہت سے ڈراموں میں کام کیا جن میں تعبیر، چٹان، انا، برزخ، لاتوں کے بھوت اور روزی کے علاوہ بی بی سی کا ڈرامہ Ammuculated Conception شامل ہیں۔ انہوں نے فنکار گلی کے نام سے ایک ڈرامہ پروڈیوس بھی کیا تھا جو ٹیلی وژن ناظرین میں بے حد مقبول ہوا تھا۔ انتقال سے قبل ان کا ایک اور ڈرامہ کھلی کھڑکیاں بھی مکمل ہوچکا تھا جو ان کے قتل کے بعد ٹیلی کاسٹ ہوا۔ سلطان خان کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

 ٭8 دسمبر 1975ء کو پاکستان کی فلمی صنعت کے نامور نغمہ نگار مشیر کاظمی دنیا سے رخصت ہوئے۔ مشیر کاظمی 1915ء میں بنوڑ ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے فلموں میں نغمہ نگاری کا آغاز فلم دوپٹہ سے کیا جس کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔  یہ پاکستان کی پہلی اردو فلم تھی جس کے نغمے ملکہ ترنم نور جہاں نے گائے تھے۔ اس فلم کے تقریباً سبھی نغمات سپر ہٹ ثابت ہوئے جلد ہی مشیر کاظمی فلمی صنعت کے معروف نغمہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔ مشیر کاظمی نے لاتعداد فلموں کے لیے نغمات تحریر کیے جن میں میرا کیا قصور‘ زمین‘ لنڈا بازار‘ دلاں دے سودے‘ مہتاب‘ ماں کے آنسو‘ آخری نشان‘ آخری چٹان‘ باغی کمانڈر اور دل لگی کے نام سرفہرست تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران مشیر کاظمی کا قومی نغمہ اے راہ حق کے شہیدو‘ وفا کی تصویرو‘ بے حد مقبول ہوا۔ اس نغمے کی موسیقی میاں شہر یار نے ترتیب دی تھی اور اسے نسیم بیگم نے گایا تھا۔ مشیر کاظمی کا انتقال 8 دسمبر 1975ء کو لاہور میں ہوا اور وہ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...