1625ء نیدرلینڈ اور انگلینڈ نے فوجی معاہدے پر دستخط کئے۔
1825ء پولس سپاہی بغاوت
1868ء لبرل رہنما ولیم ریورٹ گولڈ اسٹون پہلی مرتبہ برطانیہ کے وزیر اعظم بنے۔
1869ء امریکی مزدور تنظیم نوبل آرڈر آف ٹائٹس آف لیبر کا قیام عمل میں آیا۔
1894ء بلیجیم پارلیمانی انتخابات میں رومن کیتھولک نے کامیابی حاصل کی۔
1896ء مغربی بنگال میں بیلور مٹھ کا قیام عمل میں آیا۔
1903ء ناروے کی پارلیمنٹ نے عورتوں کو ووٹ کا حق دیا۔
1905ء فرانس میں کلیسا اور ریاست کی علیحدگی کو قانونی شکل دے دی گئی۔
1917ء ترک فوجیوں نے یروشلم برطانوی فوج کو سونپ دیا۔
1931ء جاپان کی فوج نے چین کے زیہول صوبہ پر حملہ کیا۔
1941ء چین نے جاپان، جرمنی اور اٹلی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
1946ء ہندوستانی آئین ساز اسمبلی کی پہلی میٹنگ نئی دہلی میں ہوئی۔
1948ء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قتل عام کے خلاف چارٹر کو اتفاق رائے سے منظور کیا۔
1963ء امریکہ نے نوادا تجربہ گاہ سے نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1965ء اناستس میکویان کے بعد نکولائی پڈگونی سویت روس کے صدر بنے۔
1984ء کویت کے اغوا شدہ طیارے کو ایرانی کمانڈوز نے 6 دن بعد آزاد کرایا۔
1992ء پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا کے مابین علیحدگی کا باقاعدہ اعلان ہوا۔
1993ء ویر بھدر سنگھ ہماچل پردیش کے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا۔
9دسمبر2006ء کو انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراقوام متحدہ اور نیب کا لوگو بنا تھا اور اس کے نیچے انگریزی میں 9TH DECEMBER INTERNATIONAL ANTI-CORRUPTION DAY کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن فیضی امیر صدیقی نے تیار کیا تھا۔
9دسمبر1987ء کو پاکستان کے معروف ادارے کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز کی سلور جوبلی کے موقع پرایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھی ایک روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جسے عادل صلاح الدین نے ڈیزئن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرکالج آف فزیشن اینڈ سرجنز کی عمارت کی تصویر اور اس کا لوگو بنا تھا اور COLLEGE OF PHYSICIANS AND SURGEONS PAKISTAN SILVER JUBILEE 1962 - 1987کے الفاظ تحریر تھے۔
1999ء بھارتیہ جنتا پارٹی نے یو پی کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا۔
*ولادت*
1468ء سور داس ہندوستانی شاعر
1608ء جان ملٹن، انگریزی شاعر
1868ء۔۔فرٹز ہیبر(29 جنوری 1934) اک جرمن کیمیاء دان تھا۔ جنھیں کھاد بناننے کے طریقے، بم، ہابر پراسس، کیمیائی لڑائی، ہابر-ویس ری ایکشن کے بارے میں کام کرنے پر 1918 میں کیمسٹری کا نوبل انعام دیا گیا۔
1893ء۔۔جرنل سر فرینک والٹر میسروی۔ برطانوی ہندی فوج میں ایک افسر تھے،ا نھوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا۔آزادی ہند کے بعد وہ پاک فوج کے پہلےکمانڈر ان چیف بنے۔ (15 اگست 1947ء - 10 فروری 1948ء)
1926ء۔۔ہنری وے کینڈل امریکا کے نامور طبیعیات دان تھے انھوں نے سنہ 1990 میں اپنے ہم وطن سائندان جیروم آئیزک فرائڈ مین اور ایک کینڈا کے سائنس دان رچرڈ ای ٹیلر کے ہمراہ نوبل انعام برائے طبیعیات جیتا جس کی وجہ ایٹمی فزکس میں ان کے افعال تھے
1934ء۔۔ڈیم جوڈتھ اولیویا ڈینچ (007 فیم ) ایک انگریز تھیٹر اور فلم اداکارہ ہے۔
1946ء سونیا گاندھی، بھارتی سیاست دان بمقام اٹلی کے ٹورین
1952ء لیاقت بلوچ، پاکستانی سیاست دان۔لیاقت بلوچ 9 دسمبر 1952ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ایل ایل بی اور ایم اے (ابلاغ عامہ) کی ڈگری جامعہ پنجاب سے حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں داخل ہو گئے۔ 1977ء میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔ 1985ء، 1990ء اور2002ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیاقت بلوچ اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ہیں اور لاہور میں رہائش پزیر ہیں
1981ء دیا مرزا، بھارتی اداکارہ۔
1896ء۔۔افسر صدیقی امروہوی (وفات: 9 فروری، 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والےاردوکےممتاز شاعر، محقق، مترجم اور صحافی تھے
1880ء۔۔بیگم رقیہ سخاوت (وفات 9 دسمبر 1932ء) بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون تھی۔
*وفات*
1048ء۔۔ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی (پیدائش: 5 ستمبر 973ء، وفات: 9 دسمبر 1048ء) ایک بہت بڑے محقق اور سائنس دان تھے۔ وہ خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ البیرونی بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب "آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ" مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹا اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
1292ء شیخ سعدی رحمة اللہ علیہ، شہرہ آفاق صوفی شاعر
1753ء نور محمد کلہوڑا، سندھ کے ممتاز حکمران اور سپہ سالار
1762ء تارا بائی، شیواجی کی بہو رانی کا پنے میں انتقال
1937ء۔۔گوستاف ڈلین سویڈن کے ایک طبیعیات دان تھے جنھیں 1912ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیاروشنی کے متعلق انکی ایجاد تھی جسے عام طور پر روشنی کا مینارمیں استعمال کیا گیا
٭9 دسمبر 1978ء کو پاکستان کے نامور مصور حاجی محمد شریف لاہور میں انتقال کرگئے اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ حاجی محمد شریف 1889ء میں ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے دادا اور والد دونوں ریاست پٹیالہ کے درباری مصور تھے۔ حاجی محمد شریف نے مصوری کے اسرار و رموز اپنے والد بشارت اللہ خان کے ایک شاگرد لالہ شائورام اور استاد محمد حسین خان سے سیکھے اور1906ء میں مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ 1924ء میں ان کی منی ایچر پینٹنگز کی ایک نمائش لندن میں ہوئی جس سے ان کی بڑی شہرت ہوئی اور انہیں ممبر آف برٹش ایمپائر کا اعزاز عطا کیا گیا۔ 1945ء میں وہ لاہور آگئے اور میو اسکول آف آرٹ میں مصوری کی تعلیم دینے لگے۔1965ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ سے بطور وزیٹنگ پروفیسر منسلک ہوئے اور ایک طویل عرصہ تک طلبہ کو مصوری کی تعلیم سے آراستہ کرتے رہیں۔ ان کے قدر دانوں میں صدر ایوب خان اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو دونوں شامل تھے۔ حکومت پاکستان مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ 24 دسمبر 1991ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی تصویر اور پینٹنگ سے مزین ایک خوب صورت ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا جسے عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
1990ء۔۔۔ اداکار نرالا ٭پاکستان کے معروف مزاحیہ اداکار نرالا کی تاریخ پیدائش 8 اگست 1937ء ہے۔ نرالا کا اصل نام مظفرحسین زیدی تھا اور وہ دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1960ء میں فلم ’’اور بھی غم ہیں‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں ارمان، گھر داماد، ہم دونوں، جوکر، احسان، سمندر، دو راہا، ہیرا اور پتھر، لاڈلا اور نصیب اپنا اپنا کے نام سرفہرست ہیں۔ 9 دسمبر 1990ء کو نرالا کراچی میں وفات پاگئے۔
1970ء ملک فیروز خان نون، سابق وزیراعظم پاکستان سرگودھا کے علاقے نور پور نون میں انتقال کر گئے۔ملک فیروز خان نون 7 مئی 1893ءکو نون سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایچی سن کالج لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ 1920ءمیں وہ پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 1936ءتک مستقل رکن منتخب ہوتے رہے۔ 1936ءمیں وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔ 1941ءسے 1942ءتک وہ وائسرائے ہند کی کابینہ کے رکن رہے۔ 1942ءسے 1945ءتک وہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ 1947ءسے 1953ءتک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور 1953ءسے 1955ءتک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 1956ءسے 1957ءتک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور 1957ءسے 1958ءتک وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے بعد ملک فیروز خان نون نے عمر کا بقیہ حصہ گوشہ گیری اور گمنامی میں گزارا اور 9 دسمبر 1970ءکو ایک طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پائی۔ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح عمری انگریزی میں فرام میموری اور اردو میں چشم دید کے نام سے شائع ہوچکی ہے-
2003ء غلام مصطفیٰ قاسمی پاکستان کے ممتاز عالم دین، مفسر، مؤرخ اور ماہر تعلیم بمقام حیدرآباد، پاکستان.٭9 دسمبر 2003ء کو نامور عالم دین، محقق، مصنف شیخ الحدیث علامہ غلام مصطفی قاسمی وفات پاگئے۔ علامہ غلام مصطفی قاسمی 24 جون 1924ء کو گوٹھ رئیس بھنبھو خان چانڈیو تعلقہ میرو خان ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مولانا فتح محمد سیرانی اور مولانا خوشی محمد میرو خانی سے حاصل کی۔ درس نظامی مکمل کرنے کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند چلے گئے جہاں انہیں مولانا عبیداللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی سے اکتساب علم کا موقع ملا۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی کے ہاتھ پر بیعت بھی تھے۔ دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعدانہوں نے سندھ مسلم کالج کراچی، سندھ یونیورسٹی اورمدرسہ مظہر العلوم کراچی میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ وہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد کے ڈائریکٹر اور سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے چیئرمین رہے۔ 1977ء سے 1989ء تک وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ علامہ غلام مصطفی قاسمی کوحدیث، فقہ، تفسیر اور منطق پر عبور حاصل تھا۔ ان کی تحقیقی و علمی تصانیف کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے زمانۂ طالب علمی میں علم منطق پر مفید الطلبہ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جو آج تک مختلف مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف کے مجموعہ ٔ کلام شاہ جو رسالو سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کی تصانیف میں سیرت رسولؐ اور قرآن پاک کی چند سورتوں کی تفسیر بھی شامل تھی۔ انہوں نے سندھی کی بنیادی لغت اور بنیادی کاروباری لغت بھی مرتب کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سماجی انصاف ء اجتماعیت، شاہ ولی اللہ جی فلسفی جی روشنی مہ، سطعات (ترجمو )انصاف اور قرآن حکیم جون خصوصیتون کے نام سے کتابیں تحریر کی تھیں اور مخدوم نوح ہالائی کے فارسی ترجمہ قرآن کو مفید حواشی کے ساتھ ایڈٹ کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔ وہ حیدرآباد میں غلام نبی کلہوڑو کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
2005ء بورس ٹسالٹ زوکی، فرانسیسی مصور
2018ء۔۔رککارڈو گیاککونی امریکا کے ایک طبیعیات دان تھے۔انہوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا تھا۔ یہ انعام 2002 میں انہوں نے کوزمک ایکس رے سورس کی دریافت کرنے کیوجہ سے حاصل کیا۔اسی سال یہ انعام امریکی سائنسدان رککارڈو گیاککونی اور جاپانی سائنسدان مساٹوشی کوشیباکو بھی ملا۔
*تعطیلات و تہوار*
1961ء تنگانیکا برطانیہ سے آزاد ہو کر تنزانیہ بنا۔
1963ء زنجیبار برطانیہ سے آزاد ہوا۔
بین الاقوامی یوم انسداد بدعنوانی (انٹرنیشنل اینٹی کرپشن ڈے / International Anti-Corruption Day) ہر سال 9 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں کر پشن اور ناانصافی کے خاتمہ اور ہر کام میرٹ کے مطابق چلانے کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں بڑھتی ہوئی ما یوسی اور ناامیدی کو ختم کیا جائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ کوئی بھی شخص قانون سے با لاتر نہیں ہونا چاہئے کر پشن ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ والدین، اساتذہ ،سول سوسائٹی اور میڈیا کو اس کے خلاف تحریک چلانی چاہئے۔
No comments:
Post a Comment