861ء عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ کو ترکی محافظ نے قتل کر دیا، جس سے "سامرا میں انتشار" شروع ہوا۔
1582ء فرانس نے جدید گریگورین کلینڈر کو نافذ کیا۔
1816ء ہالینڈ نے سماترا جزیرہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
1817ء میسی سیپی کو امریکہ کی 20 ویں ریاست کا درجہ ملا۔
1887ء آسٹریا، ہنگری اٹلی اور برطانیہ نے بالقن فوجی سمجھوتے پر دستخط کئے۔
1898ء اسپین۔امریکہ جنگ ختم ہوئی۔ امریکہ نے فلپائن، پوٹو ریکو اور گوآم پر قبضہ کیا۔
1901ء پہلا نوبل انعام جین ہینری ڈونانٹ اور فریڈرک پیسی کو دیا گیا۔
1902ء تسمانیہ میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔
1902ء مصر کی نیل ندی پر مول اسوان باندھ کی تعمیر مکمل ہوئی۔
1906ء امریکی صدر تھیو ڈور روز ولٹ کو امن کے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔
1914ء فرانس کا دارالحکومت دوبارہ پیرس منتقل کا گیا۔
1926ء پہلی ریڈیو نشریات امریکہ کے اسپرنگ فیلڈ جزیرہ میں اختتام پذیر ہوئی۔
1930ء سی وی رامن کو نوبل انعام برائے طبیعیات سے نوازا گیا، وہ طبیعیات میں نوبل انعام جیتنے والے پہلے ہندوستانی اور جنوبی ایشیائی سائنسدان تھے۔
1948ء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حقوق انسانی کا عالمی ڈکلیئریشن اختیار کیا۔
1950ء رالف جے بنشے نوبل امن انعام پانے والے پہلے سیاہ فام امریکی بنے۔
1952ء بھارت میں خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
10 دسمبر 1958ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے حقوق انسانی کے چارٹر کی منظوری کی دسویں سالگرہ کے موقع پر دو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے ، ان ڈاک ٹکٹوں پر کرئہ ارض کے نیچے ایک کھلی ہوئی کتاب پر انگریزی میں Human Rights کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔
1961ء سویت یونین اور البانیا کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے۔
1971ء مغربی جرمنی کے چانسلر ڈبلیو برنرس کو امن کا نوبل انعام ملا۔
10 دسمبر 1978ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے مولانا محمد علی جوہر کی صد سالہ سال گرہ کی تقریبات کے حوالے سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت50پیسے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر مولانا محمد علی جوہرکا خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا اور اردو میں مولانا محمد علی جوہر 1978-1878 کے الفاظ تحریر تھے۔یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا
1978ء اسرائیل کے وزیراعظم مناخم بیگن اور مصر کے صدر انور سادات کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا۔
1979ء پاکستانی طبیعیات دان ڈاکٹر عبدالسلام کو طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا وہ یہ انعام جیتنے والے پہلے پاکستانی تھے۔
1980ء سویت یونین نے زیر زمین ایٹمی تجربہ کیا۔
1980ء خلائی جہاز سویوز ٹی تین زمین پر لوٹا۔
1981ء السلواڈور میں فوج نے 900 افراد کو ہلاک کر دیا۔
1982ء بحری قانون پر اقوام متحدہ کے سمجھوتے پر امریکہ اور برطانیہ کو چھوڑ کر 119 ممالک نے دستخط کئے۔
1983ء راوول الفونسے ارجنٹینا کے پہلے غیرفوجی صدر بنے۔
1984ء نظام شمسی سے باہر پہلی مرتبہ کسی سیارہ کی دریافت ہوئی۔
1986ء فرانس نے ایٹمی تجربہ کیا۔
1988ء آرمینیا میں چھ اعشاریہ نو کے شدت کے زلزلے میں ایک لاکھ افراد ہلاک ہو گئے۔
1989ء چیکو سلواکیہ میں 1948 کے بعد پہلی بار غیر کمیونسٹ حکومت کی تشکیل ہوئی۔
1990ء اتر پردیش کے علی گڑھ میں فسادات میں 150 افراد ہلاک ہو گئے۔
1992ء بھارت کی پہلی ہاور کرافٹ سروس کا گجرات میں آغاز ہوا۔
1996ء جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا نے نسلی تعب ختم کرنے سے متعلق قانون پر دستخط کئے۔ جس کے تحت وہاں سفید فام لوگوں کی اجارا داری ختم ہوئی۔
2000ء پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف جیل سے رہا ہونے کے لیے 10 سالہ معاہدہ کر کے خاندان سمیت سعودی عرب چلے گئے ٭10 دسمبر 2000ء کو اسلام آباد سے رات گئے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے مشورے پر صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ نے معزول وزیراعظم نواز شریف کی سزائے قید معاف کردی ہے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا ہے۔ نواز شریف کو پاکستانی عدالتوں کی طرف سے دو مقدمات میں عمر قید اور 14 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی اور 21 برس کے لئے کسی بھی عوامی عہدے پر تقرر یا انتخاب کے لئے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے چیف ایگزیکٹو اور صدر پاکستان سے رحم کی اپیلیں کررہے تھے۔ اسی دوران سعودی عرب نے پیشکش کی کہ اگر معزول وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو جلاوطن کردیا جائے تو وہ انہیں اپنی سرزمین پر قبول کرلے گا۔ تفصیلات کے مطابق شریف خاندان نے اس معافی کے بدلے ماڈل ٹائون کی رہائش گاہ، برادر اسٹیل ملز، الیاس انٹرپرائزز، حدیبیہ پیپر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ، حمزہ اسپننگ ملز، برطانیہ میں واقع ہوٹل سے دستبرداری اور 30 کروڑ روپے کی پیشکش بھی کی تھی جسے چیف ایگزیکٹو نے قبول کرلیا تھا۔ اسی روز سعودی ایر لائنز کی ایک خصوصی پرواز سے نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سعودی عرب روانہ ہوگئے جہاں انہیں جدہ میں واقع سرور پیلس میں قیام کی سہولتیں فراہم کردی گئیں۔ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی یہ جلاوطنی 2007ء میں اختتام پذیر ہوئی۔
2002ء امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کو امن کے لئے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔
2009ء جیمز کیمرون کی فلم اواتار نے ہالی وڈ کی تاریخ میں سب سے ذیادہ کمائی کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔
2014ء سوات پاکستان سے تعلق رکھنے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام دیا گیا۔
ولادت :
۔""""""
1815ء آگسٹا ایڈا کنگ نوئیل ، کاؤنٹیس آف لولیس ، انگریز شاعرہ، ریاضی دان، پروگرامنگ، کمپیوٹر سائنس دان، موجد، مترجم، مصنفہ، انجینئر ، جس کی بنیادی وجہ شہرت چارلس ببیج کے ابتدائی میکانی عام مقصد کمپیوٹر اینالیٹکل انجن (Analytical Engine) پر کام ہے۔ اسے اکثر پہلی کمپیوٹر پروگرامر کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ (وفات: 1852ء)
1870ء جدوناتھ سرکار یا یدوناتھ سرکار ، ہندوستانی بنگالی مؤرخ و مصنف ۔ اُس کی وجہ شہرت اورنگزیب عالمگیر پر لکھی گئی متعدد تصانیف ہیں۔ (وفات: 1958ء)
1878ء مولانا محمد علی جوہر، مصنف و صحافی، تحریک آزادی کے نامور رہنما اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی رہنما رام پور میں پیدا ہوئے۔ (وفات: 1931ء)
1891ء لیونی نیلی سکہس ، نوبل انعام برائے ادب (1966ء) یافتہ جرمن یہودی شاعرہ و ڈراما نویس خاتون، انھیں یہ انعام اسرائیلی لکھاری سیمویل یوسف اگنون کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (وفات: 1970ء)
1879ء چکرورتی راجگوپال آچاریہ بمعروف راجاجی اور سی آر، بھارتی وکیل، ماہرِ لسانیات، مترجم، نغمہ ساز، مصنف، جنگ مخالف کارکن ، (15 اگست 1947ء تا 21 جون 1948ء) گورنر مغربی بنگال اور آزاد بھارت کے (21 جون 1948ء تا 26 جنوری 1950ء) آخری بھارتی گورنر جنرل (وفات: 1972ء)
1920ء۔۔ پاکستان کے مقبول اداکار علائوالدین 10 دسمبر 1920ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے گلوکاری کے میدان میں قسمت آزائی کرنی چاہی مگر ان کی فلمی زندگی کا آغاز سے اداکاری سے ہوا اور یہی شعبہ ان کی پہچان بن گیا۔ علائو الدین نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ممبئی سے کیا اور وہاں سنجوگ، نمستے، لیلیٰ مجنوں اور میلہ میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں ان کی پہلی فلم پھیرے تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شہری بابو، محبوبہ، محل، انوکھی، وعدہ، انتقام، پاٹے خان، پینگاں، مرزا صاحباں، حمیدہ، آدمی، مجرم اور متعدد دوسری فلموں میں کام کیا تاہم فلم کرتار سنگھ کے ٹائٹل رول میں تو انہوں نے اداکاری کی انتہا کو چھولیا۔ اس کے بعد مہتاب اور بدنام میں ادا کئے ہوئے کرداران کی پہچان بنے۔ علائو الدین نے مجموعی طور پر 319 فلموں میں کام کیا جن میں سے 194 فلمیں اردو میں اور 125 فلمیں پنجابی میں بنائی گئی تھیں۔ علائو الدین نے مجموعی طور پر آٹھ مرتبہ نگار ایوارڈز حاصل کیا۔ انہیں ’’پاکستان کا عوامی اداکار‘‘ کہا جاتا تھا۔ ٭13 مئی 1983ء کو اداکار علائوالدین لاہور میں وفات پاگئے اور گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
1932ء۔۔پری شان خٹک ٭16 اپریل 2009ء کو پاکستان کے مشہور ماہر تعلیم، ادیب اور منتظم پروفیسر پری شان خٹک اسلام آباد وفات پاگئے۔ پروفیسر پری شان خٹک کا اصل نام محمد غمی جان تھا اور وہ 10 دسمبر 1932ء کو صوبہ سرحد کے ضلع کرک کے ایک گائوں غنڈی میر خان خیل میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے تاریخ اور پشتو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور پشاور یونیورسٹی سے بطور لیکچرار اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا بعدازاں وہ پشتو اکیڈمی کے ڈائریکٹر مقرر کئے گئے جہاں ان کے حسن انتظام کی وجہ سے بعدازاں انہیں متعدد علمی و تعلیمی اداروں کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 1980ء میں گومل یونیورسٹی اور 1989ء میں آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد کے وائس چانسلر بنائے گئے۔ اسی دوران 1986ء میں وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ 50 سے زیادہ کتابوں کے مدیر اور مؤلف تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز اور تمغہ امتیاز عطا کیا۔ پروفیسر پری شان خٹک پشاور میں حیات آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
1934ء ہوورڈ مارٹن ٹیمنایک ، (نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1975ء) یافتہ امریکی جینیٹکس اور وائرولوجسٹ (وفات: 1994ء)
1954ء بابرہ شریف ، پاکستانی اداکارہ و ماڈل
1963ء جہانگیر خان، اسکواش کے شہرہ آفاق کھلاڑی کراچی میں پیدا ہوئے۔٭10 دسمبر 1963ء دنیائے اسکواش کے سب سے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی تاریخ پیدائش ہے۔ جہانگیر خان کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد روشن خان خود بھی اسکواش کے معروف کھلاڑی تھے اور 1957ء میں برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیت چکے تھے۔ روشن خان اپنے بڑے بیٹے طورسم خان کواسکواش کا عالمی چیمپئن بنانا چاہتے تھے اور ان کی تمام توجہ بھی انہیں پر مرکوز تھی کہ 26 نومبر 1979ء کو طورسم خان وفات پاگئے۔ طورسم خان کی وفات کے بعد روشن خان نے جہانگیر خان کو اسکواش کے مقابلوں کے لیے تیار کیاجنہوں نے اپریل 1981ء میں پہلی مرتبہ برٹش اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جہانگیر خان پہلے برس تو برٹش اوپن نہیں جیت سکے مگر اسی برس انہوںنے اپنے ہم وطن قمر زمان کو ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے کر کامیابیوں اور کامرانیوں کے اس سفر کا آغاز کیا جس کی کوئی مثال اسکواش کی دنیا میں توکجا کھیلوں کی دنیا میں بھی دور دور تک نہیں ملتی۔ جہانگیر خان 1993ء تک اسکواش کی دنیا پر راج کرتے رہے اس دوران انہوں نے دنیائے اسکواش کی ہر بڑی چیمپئن شپ جیتی اور 1981ء سے 1986ء تک ہر مقابلے میں ناقابل شکست رہے۔ اپنے کیریئر میں انہوں نے دس مرتبہ برٹش اوپن اور چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کا 6 مرتبہ ورلڈ اوپن اسکواش ٹورنامنٹ جیتنے کا ریکارڈ تو جان شیر خان توڑ چکے ہیں مگر ان کا 10 مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔
1969ء ندیم خان ، پاکستانی سابق کرکٹر
1976ء عمیرہ احمد ، سیالکوٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والی مصنف، ناول نگار، سکرین مصنف ، جو اپنی کتاب پیر کامل کی بدولت مشہور ہوئیں ۔ آپ آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں ۔
1978ء ذو الفقار بابر ، پاکستانی کرکٹر
1978ء انجَنا سوکھانی، بھارتی فلمی اداکارہ
1985ء کامنا جیٹھملانی ، بھارتی فلمی اداکارہ
وفات :
۔"""""
861ء جعفر ابن محمد المعتصم باللہ المتوکل علی اللہ الاول العباسی الہاشمی بمعروف المتوکل علی اللہ ، خلافت عباسیہ کا (10 اگست 847ء تا 10 دسمبر 861ء) دسواں خلیفہ ، جسے اپنے ہی ترک محافظ نے قتل کر دیا۔ (پیدائش: 822ء)
1874ء میر ببر علی انیس، اُردو شاعر اور مرثیہ نگار کا لکھنؤ میں انتقال ہوا۔ میر انیس 1803ء میں محلہ گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا میر حسن اور پردادا امیر ضاحک قادر الکلام شاعر تھے۔ یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی تھی۔ انیس نے ابتدائی تعلیم میر نجف علی فیض آبادی اور مولوی حیدر علی لکھنوی سے حاصل کی۔ بچپن ہی سے شاعری سے شغف تھا۔ پہلے حزیں تخلص کرتے تھے پھر ناسخ کے مشورے سے بدل کر انیس رکھ لیا۔ ابتدا میں غزلیں کہنا شروع کیں مگر پھر والد کی ہدایت پر اس صنف سخن کو سلام کیا۔ مرثیہ گوئی کی جانب راغب ہوئے اور اس صنف سخن کو معراج تک پہنچا دیا۔ شروع شروع میں میر انیس مرثیہ پڑھنے کے لیے ہر سال لکھنؤ آتے رہے۔ مگر 45 برس میں جنگ آزادی کی تباہی کے بعد وہ لکھنؤ چھوڑ کر کچھ عرصہ کاکوری میں مقیم رہے۔ پھر امن و امان کے بعد لکھنؤ واپس تشریف لائے اور محلہ سبزی منڈی میں رہائش اختیار کی۔ میر ببر علی انیس نے 29 شوال 1291ھ مطابق 10 دسمبر 1874ء کو لکھنؤ میں انتقال کیا اور اپنے مکان میں ہی دفن ہوئے۔ 1963ء میں ان کے مزار پر ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کروایا گیا۔ مرزادبیر نے آپ کی تاریخ وفات اس شعر سے نکالی۔ آسماں بے ماہِ کامل، سدرہ بے روح الامین طورِ سینا بے کلیم اللہ، منبر بے انیس جو ان کے لوحِ مزار پر بھی کندہ ہے۔ میر انیس نے اردو میں نہ صرف رزمیہ شاعری کی کمی کو پورا کیا بلکہ اس میں انسانی جذبات اور ڈرامائی تاثر کے عناصر کا اضافہ کرکے اردو مرثیہ کو دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری کی صف میں لاکھڑا کیا۔ انہوں نے منظر نگاری، کردار نگاری، واقعہ نگاری اور جذبات نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے۔ انیس نے مرثیہ کی صنف کو آسماں تک پہنچا دیا یہاں تک کہ مرثیہ اور انیس مترادف الفاظ بن گئے۔
1896ء الفریڈنوبیل، سوئیڈش کیمیا دان، انجینئر، ڈائنامائیٹ کا موجد، اسلحہ صنعت کار اور نوبل انعام کے بانی ، اپنی وصیت میں اسنے اپنے بے شمار دولت کا ایک بڑا حصہ نوبل انعام دینے کے لیے وقف کر دیا۔ مصنوعی تیار کیے گئے عنصر " نوبلیئم" کا نام بھی اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ (پیدائش: 1833ء)
1936ء لیوگی پیرآندیلو ، نوبل انعام برائے ادب (1934ء) یافتہ اطالوی ڈراما نگار، افسانہ نگار اور ناول نگار (پیدائش: 1867ء)
1942ء ڈاکٹر دوارکا ناتھ کوٹنس کا چین میں انتقال۔
1949ء عبد الباری علیگ ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے مؤرخ، ترقی پسند دانشور، نقاد اور صحافی ، جو اپنی تصنیف کمپنی کی حکومت کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ (پیدائش: 1906ء)
10 دسمبر 1953ء کو ممتاز عالم‘ ادیب اور قرآن پاک کے انگریزی مترجم اور مفسر علامہ عبداللہ یوسف علی لندن میں وفات پاگئے۔ علامہ عبداللہ یوسف علی 4 اپریل 1872ء کو سورت میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بمبئی یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد حکومت کے وظیفے پر انگلستان کا سفر اختیار کیا جہاں انہوں نے ایم اے اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1906ء میں انہوں نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور انڈین سول سروس کے امتحان میں ہندوستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ وہ مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ 1925ء میں وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل ،پنجاب یونیورسٹی کے فیلو اور سنڈیکیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ علامہ عبداللہ یوسف علی نہایت عمدہ علمی ذوق رکھتے تھے۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ مکمل کیا اور اس کے عمدہ حواشی لکھے۔ ان کی دیگر تصانیف میں انگریزی عہد میں ہندوستان کے تمدن کی تاریخ ،مصنوعات ریشم، یوگوسلاویہ اور سربیاکا فن سنگ تراشی، ازمنہ وسطیٰ کا ہندوستان، تشکیل ہنداور ہندوستانی مسلمان کے نام سرفہرست ہیں۔
1971ء سوار محمد حسین، نشان حیدر، نے ظفر وال شکر گڑھ کے نزدیک جام شہادت نوش کیا۔ ٭10 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کے جوان سوار محمد حسین نے شکرگڑھ کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔ سوار محمد حسین 18 جون 1949ء کو ڈھوک پیر بخش نزد ماتلی ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے جس کا نام بدل کر اب ڈھوک محمد حسین جنجوعہ رکھ دیا گیا ہے۔ سوار محمد حسین 3 ستمبر 1966ء کو پاکستان کی مسلح افواج میں شامل ہوئے اور ڈرائیور کے طور پر خدمات انجام دینے لگے۔ دسمبر 1971ء میں وہ ظفر وال اور شکر گڑھ کے محاذ جنگ پر گولہ بارود کی ترسیل کرتے رہے اور کٹھن اور پرخطر مہمات میں پاک فوج کے گشتی دستوں کے ساتھ ساتھ رہے۔ 10 دسمبر 1971ء کو انہوں نے موضع ہرڑخورد میں دشمن کی موجودی کا پتا چلایا اور اس کی اطلاع فوراً اپنے یونٹ کے افسران کو دی‘ پھر وہ خود یکے بعد دیگرے اپنی ایک ایک ٹینک شکن توپ کے پاس پہنچے اور دشمن کی صحیح نشاندہی کرتے ہوئے توپچیوں سے فائر کرواتے رہے‘ جس کے نتیجے میں دشمن کے 16 ٹینک تباہ ہوئے۔ اسی شام کو جب وہ اپنے ایک ریکائل لیس رائفل بردار کو دشمن کے ٹھکانے دکھا رہے تھے کہ ایک مشین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ نے ان کا سینہ چھلنی کردیا اور وہ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے۔ سوار محمد حسین کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے انہیں نشان حیدر کا اعزاز عطا کیا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاک فوج کے پہلے’’جوان‘‘ تھے۔ سوار محمد حسین کی میت کو پہلے شکرگڑھ میں امانتاً دفن کیا گیا پھر اسے ڈھوک محمد حسین جنجوعہ میں منتقل کردیا گیا۔ میجرسوار محمد حسین شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 3 فروری 1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی بیوہ نے حاصل کیا۔
10 دسمبر 1986ء خطیب اور عالم دین سید اظہر حسن زیدی لاہور میں وفات پاگئے۔ مولانا اظہر حسن زیدی 12 دسمبر 1914 کو بجنور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1920ء میں وہ نوگانوں ضلع مراد آباد کے ایک دینی مدرسے میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے سید الفقہا حضرت علامہ سید سبط نبی سے اکتساب فیض کیا۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور میں قیام پذیر ہوئے جہاں آپ سالہا سال تک عشرۂ مجالس سے خطاب کرتے رہے۔مولانا اظہر حسن زیدی کی تقاریر عوام اور خواص، سب میں یکساں پسند کی جاتی تھیں۔ نکتہ آفرینی آپ پر ختم تھی۔ آپ کی مجلس مستقل داد و تحسین کے نعروں سے گونجتی رہتی تھی۔ آپ کی تقاریر کا مجموعہ خطیب آل محمد کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔آپ لاہور میں کربلاگامے شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
2000ء بیگم ڈاکٹر شائستہ سہروردی اکرام اللہ ، پاکستانی ادیبہ، مصنفہ، تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور سفارت کار ، وہ مشہور سفارت کار محمد اکرام اللہ کی بیوی تھیں جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ (پیدائش: 1915ء)
2001ء اشوک کمار مشہور بمعروف دادا منی ، بھارتی گلو کار، اداکار، مصور، فلم ہدایت کار اور فلم ساز (پیدائش: 1911ء)
2003ء بیگم عابدہ احمد ، بھارتی سیاست دان، (24 اگست 1974ء تا 11 فروری 1977ء) خاتون اول بھارت ، وہ پانچویں بھارتی صدر فخرالدین علی احمد کی بیوی تھیں۔ وہ دوبار مسلسل لوک سبھا کی رکن بریلی پارلیمانی حلقہ اتر پردیش سے 1980ء اور 1984ء میں منتخب ہوئیں۔ (پیدائش: 1923ء)
2005ء پی ایم سعید ، بھارتی سیاستدان ، وزیرِ توانائی، سابق ڈپٹی سپکیر (پیدائش: 1941ء)
2006ء اگستو پنوشے، جنوبی امریکا کے ملک چلی کے جرنیل اور (1974ء تا 1990ء) صدر (پیدائش: 1915ء)
2010ء جان فین ، نوبل انعام برائے کیمیا (2002ء) یافتہ امریکی کیمیادان و استاد جامعہ ، ان کا کام ماس سپیکٹرمیٹری کے حوالے سے تھا۔ (پیدائش: 1917ء)
2017ء مسعود احمد برکاتی ، پاکستانی مصنف، بچوں کے ادیب، سفر نامہ نگار، مدیر، مترجم، مؤرخ ، آپ (1953ء تا دسمبر 2017ء) مسلسل بچوں کے ایک ہی ماہنامہ رسالے ہمدرد نونہال کے مدیر رہے۔ بچوں کے لئے اردو میں پہلے سفر نامے کے مصنف اور حکیم محمد سعید کے قریبی دوست تھے۔ برکاتی ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا تعلق ہندوستان کی ریاست ٹونک سے تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے۔ ہمدرد فاؤندیشن سے منسلک رہے، ہمدرد صحت کے مدیر منتظم اور ہمدرد وقف پاکستان کے ٹرسٹی اور پبلی کیشنز ڈویژن کے سینئر ڈائریکٹر تھے۔ (پیدائش: 1933ء)
تعطیلات و تہوار :
عالمی یوم انسانی حقوق۔یومِ انسانی حقوق (انسانی حقوق کا دن) دنیا بھر میں 10 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔
اس تاریخ کے انتخاب کا مقصد 10 دسمبر 1949ء کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے توثیق کردہ انسانی حقوق کا آفاقی منشور (انگریزی: Universal Declaration of Human Rights) کی یاد تازہ کرنا اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروانا ہے۔ اسے عالمی سطح پر انسانی حقوق کا پہلا اعلان تعبیر کیا جاتا اور اقوامِ متحدہ کی ابتدائی بڑی کام یابیوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ یومِ انسانی حقوق کا رسمی تعین 4 دسمبر 1950ء کو جنرل اسمبلی کے 317ویں اجلاس میں ہوا، جب جنرل اسمبلی نے قرارداد 423(V) پیش کی، جس کے تحت تمام رکن ممالک اور دل چسپی رکھنے والی دیگر تنظیموں کو یہ دن اپنے اپنے انداز میں منانے کی دعوت دی گئی۔عموماً اس دن اعلیٰ سطحی سیاسی کانفرنسوں اور جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے اور تقریبات و نمائش کے ذریعے انسانی حقوق سے متعلقہ مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں۔ روایتی طور پر 10 دسمبر ہی کو انسانی حقوق کے میدان میں پانچ سالہ اقوامِ متحدہ انعام اور نوبل امن انعام بھی دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق سرگرم عمل کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اس دن کو منانے کے لیے کئی خصوصی تقریبات منعقد کرتی ہیں۔جنرل اسمبلی میں منشور کی منظوری کے وقت اسے ’’تمام افراد اور تمام اقوام کے لیے حصولِ مقصد کا مشترک معیار‘‘ قرار دیا گیا۔ اس موقع پر 48 رکن ممالک نے اس کی حمایت کی جب کہ آٹھ ممالک نے حق رائے دہی میں حصہ نہیں لیا©️
No comments:
Post a Comment