ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ جٰدَلۡتُمۡ عَنۡہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۟ فَمَنۡ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنۡہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اَمۡ مَّنۡ یَّکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۱۰۹﴾
ارے تمہاری بساط یہی تو ہے کہ تم نے دنیوی زندگی میں لوگوں سے جھگڑ کر ان ( خیانت کرنے والوں ) کی حمایت کرلی ! بھلا اس کے بعد قیامت کے دن اللہ سے جھگڑ کر کون ان کی حمایت کرے گا ، یا کون ان کا وکیل بنے گا؟
Here you are - those who argue on their behalf in [this] worldly life - but who will argue with Allah for them on the Day of Resurrection, or who will [then] be their representative?
تفسیر
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ہاں تم وہ لوگ ہو جنھوں نے ان (مجرموں) کی طرف سے دنیا میں تو جھگڑا کرلیا تو قیامت کے دن ان کی طرف سے کون اللہ کے ساتھ جھگڑا کرے گا یا کون ان کا حمایتی ہوگا ؟ (النساء : ١٠٩) -r-nمجادلہ کے معنی ہیں بہت زیادہ جھگڑا کرنا اور وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طرف معاملات سپرد کردیئے جائیں اور محافظ اور حمایتی کو بھی وکیل کہتے ہیں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ دنیا میں تو تم انکی طرف سے جھگڑا کرلو گے لیکن قیامت کے دن اس خائن اور بدیانت کو اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔
No comments:
Post a Comment