Ad3

19 دسمبرتاریخ کے آئینے میں

 1941ء دوسری عالمی جنگ کے دوران ایڈولف ہٹلر جرمنی فوج کے سربراہ بنے۔

1943ء بولویا میں فوج نے تختہ پلٹ دیا۔

1950ء گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین نے مردان میں پریمیئر شوگرملز کا افتتاح کیا۔

 1950ء تبت کے مذہبی رہنما دلائی لامہ نے چین کے حملہ کے بعد ہجرت کی۔

 1957ء سوویت یونین اور برطانیہ نے ماسکو اور لندن کے درمیان باقاعدہ ہوائی سروس سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کئے۔

 1961ء پرتگالی کے قبضہ والی ریاستوں گوا، دمن، دیو اور ناگر حویلی ساڑھے چار سو سال کی غلامی کے بعد آزاد ہو گئے۔

 1961ء فرانس کے صدر ڈگاؤلے پھر سے منتخب ہوئے۔

 1965ء فرانس میں چارلس ڈی گال نے صدارتی انتخابات  میں اپنے حریف فرانکوس مٹرینڈ کو شکست دی۔

 1972ء خلائی جہاز اپولو 17 زمین پر لوٹا۔

 1975ء امریکی سینیٹ نے انگولا بائیں بازو مخالف گروپ کو فوجی ساز و سامان کی سپلائی پر روک کے حق میں ووٹ ڈالا۔

 1978ء فرانس نے ایٹمی تجربہ کیا۔

1978ء ایوان کی توہین کے لئے اندرا گاندھی کو ایک ہفتہ کے لئے جیل بھیجا گیا۔

 1978ء برطانیہ اور چین نے ہانگ کانگ میں 1997ء میں چینی انتظامیہ کی واپسی کے لئے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے۔

 1984ء ایک معاہدہ کے مطابق برطانیہ چین کو  ہانگ کانگ 1997ء تک واپس کرنے کے لئے  راضی ہو گیا۔

1984ء برطانیہ اور چین کے درمیان ہانگ کانگ کو خود مختاری دینے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

 1984ء جنرل ضیاءالحق نے پاکستان میں صدارتی ریفرنڈم کروایا۔ یکم دسمبر 1984ء سے جب صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں اچانک ایک عجیب و غریب نوعیت کا ریفرنڈم کروانے کا اعلان کردیا۔ اب وہ اقتدار کے حصول کے لئے بالکل کھل کر سامنے آگئے تھے۔ انہوں نے اپنے اعلان میں کہاکہ 19 دسمبر 1984 کو خود ان پر اور ان کی پالیسیوں پر اعتماد کے لئے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام ریفرنڈم منعقد ہوگا۔ ریفرنڈم پیپر پر درج ذیل سوال پر ہوگا جس کا جواب ووٹروں کو ہاں یا نہ میں دینا ہوگا۔ ’’کیا آپ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے اس عمل کی تائید کرتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کے قوانین کو قرآن حکیم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اسلامی احکامات سے ہم آہنگ کرنے اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لئے شروع کیا ہے اور کیا آپ اس عمل کو جاری رکھنے، مزید استوارکرنے اور منظم اور پرامن طریقہ سے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔ صدر مملکت نے اعلان کیا کہ اس سوال پر عوام کی ہاں کا مطلب موجودہ حکومت پر اعتماد، اس کی پالیسیوں کی تائید اور جنرل ضیاء الحق کو آئندہ پانچ سال کے لئے ملک کا صدر منتخب کرنا ہوگا۔ یہ مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا۔ 19دسمبر 1984ء کو منعقد ہونے والا یہ ریفرنڈم بھی ایک عجیب تماشا تھا۔
 ایم آر ڈی کی جماعتوں نے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی تھی ۔ایم آر ڈی کی تحریک میں قومی عوامی پارٹی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی ۔عوامی نیشنل پارٹی ۔جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن گروپ شامل تھے۔ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر سناٹا چھایا ہوا تھا مگر جب نتیجہ آیا تو صدر ضیاء الحق بھاری اکثریت سے کامیاب ہوچکے تھے۔  
سرکاری نتائج کے مطابق 34,992,425 ووٹرز میں سے 21,750,901 ضیاء الحق کے لئے ووٹ کاسٹ کیا جب کہ 316,918 نے خلاف ووٹ دیا ۔
180,226 مسترد ہو گئے تھے ۔
ووٹنگ کی شرح 62.2 فیصد رہی۔98.5 نے حق میں ووٹ دیا اور 1.5 نے ضیاء الحق کے خلاف ووٹ دیا ۔0 مارچ 1985ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اس ریفرنڈم کے حو الے سے 60پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ اس ڈاک ٹکٹ پر پاکستان کا نقشہ بنا تھا جس پر اردو میں ’’استحکام پاکستان نظام اسلام‘‘ کے الفاظ تحریر تھے ۔ نقشہ کے باہر اردو میں 25 ربیع الاول 1405ھ اور انگریزی میں REFERENDUM  19 DECEMBER  1984 اور OVERWHELMING MANDATE BY THE PEOPLE کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے ۔اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے معروف ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

 1993ء پاکستان کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم  بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کو اغوا  کے ایک معاملے میں قصور وار ٹھہرایا۔

 1993ء گنی میں جنرل لان سانا دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔

 1997ء جنوبی کوریا کے مسٹر کم دائے جنگ نے صدارتی  انتخاب میں فتح حاصل کی۔

 1997ء سنگاپور کا بوئنگ 737 طیارہ انڈونیشیا کے پالی میگرے میں حادثے کا شکار ہوا تمام 104 افراد ہلاک ہو گئے۔

 1998ء امریکی اور برطانوی فوجوں کی عراق پر چار روزہ بمباری کا اختتام ہوا۔

 2001ء نائن الیون کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں لگنے والی آگ پر تین ماہ بعد مکمل طور قابو پایا گیا۔

ولادت :

1768ء نقش دل سلطان ، سلطان سلطنت عثمانیہ عبدالحمید اول کی بیوی اور (28 جولائی 1808ء تا 22 اگست 1817ء) والدہ سلطان بطور محمد ثانی کی ماں تھی۔ (وفات: 1817ء)

 1852ء البرٹ ابراہام مچلسن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1907ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان، فوجی افسر، استاد جامعہ ، انعام کی وجہ ایٹم کو سمجھنے اور پیمائشیات کی ان کی ایجاد طیف بینی کی دریافت کی تھی۔ ان آلات کے سبب انھوں نے روشنی کی رفتار بھی معلوم کی۔ (وفات: 1931ء)

 1873ء رائے بہادر سر اوپیندر ناتھ برہم چاری ، ہندوستانی سائنس دان اور طبیب ۔ انھوں نے 1922ء میں یوریا اسٹبامائن (کاربواسٹبامائڈ) کو بنایا اور اس بات کا تعین کیا کہ پروٹوزوائی لیشمانیا ڈؤنووانی کی وجہ سے ہونے والی بیماری کالا آزار (Visceral leishmaniasis) کے علاج میں یہ دیگر انٹیمونی پر مشتمل مرکبوں کے مقابلے میں ایک مؤثر متبادل ہے۔ ان کے انکشاف کردہ علاج کے ذریعے ہندوستان خاص کر اسام میں ہزاروں زندگیاں بچائی گئیں۔ اسام کے کچھ گاؤں میں کالا آزار کی بیماری کی وجہ سے آبادی گھٹ گئی۔ برہم چاری کے ایجاد کردہ طبی علاج اس وقت کی ایک بڑی کامیابی تھے۔ (وفات: 1946ء)

1880ء فیضی رحمان، برصغیر کے نامور مصور

 1903ء جارج ڈیوڈ سنل ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1980ء) یافتہ امریکی ماہر جینیات، طبیب (وفات: 1996ء)

1915ء ایڈتھ پیاف ، فرانسیسی گلوکارہ (وفات: 1963ء)

 1922ء علی خان عثمان خان بلوچ بمعروف شونیا پالن پوری ، بھارت سے تعلق رکھنے والے گجراتی زبان کے شاعر، مترجم، گجراتی شاعری، سکول ٹیچر (وفات: 1987ء)

 1934ء پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل ، بھارتی وکیل و سیاستدان ، (26 جولائی 2007ء تا 25 جولائی 2012ء ) بھارت کی تیرہویں اور پہلے خاتون صدر۔ 

 1961ء ایرک ایلن کورنیل ، نوبل انعام برائے طبیعیات (2001ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان و استاد جامعہ ۔ انہوں نے یہ انعام اپنے ہم وطن سائنس دان کارل ایڈون ویمین اور جرمن سائنس دان ولف گینگ کٹرلی کے ساتھ بوس آئنسٹائن کنڈنسیشن پر کام کرنے کی وجہ سے حاصل کیا۔

1980ء ایمان علی ، پاکستانی ماڈل، ٹیلی ویژن میزبان، اداکارہ  

 1983ء انکیتا لوخاندی ، بھارتی اداکار، رقاصہ، ماڈل

 1987ء کریم مصطفٰی بنزیما ، فرانسیسی بین الاقوامی فوٹبالر جو ہسپانوی کلب ریال میدرد کے لیے کھیلتا ہے۔ اس کے والدین الجزائری نژاد فرانسیسی شہری ہیں۔
 

1935ء مشفق خواجہ، پاکستانی ادیب شاعر اور کالم نگار، لاہور میں پیدا ہوئے۔
 اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ 19 دسمبر 1935ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ مشفق خواجہ کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا- ان کے والد خواجہ عبدالوحید علامہ اقبال کے ہم جلیس اور کئی علمی کتب کے مصنف تھے جبکہ ان کے چچا خواجہ عبدالمجید اردو کی معروف لغت جامع اللغات کے مؤلف تھے۔ قیام پاکستان کے بعد مشفق خواجہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے 1958ء میں ایم اے کیا۔ 1957ء سے 1973ء تک وہ انجمن ترقی اردو سے وابستہ رہے۔ اس ادارے سے وابستگی نے مشفق خواجہ کی شخصیت کو جلا بخشی اور یوں انہوں نے تن تنہا کئی اہم تحقیقی کارنامے انجام دیئے۔ 1980ء کی دہائی میں مشفق خواجہ نے خامہ بگوش کے قلمی نام سے ادبی کالم نگاری کا آغاز کیا جس نے پورے برصغیر میں دھوم مچادی۔ مشفق خواجہ کی تصانیف اور تالیفات میں قاموس الکتب، خوش معرکہ زیبا، پرانے شاعر نیا کلام، اقبال از احمد دین، غالب اور صفیر بلگرامی، جائزہ مکتوبات اردو، تحقیق نامہ اور کلیات یگانہ کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ابیات کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے ادبی کالموں اور مکاتیب کے کئی مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ٭21 فروری 2005ء کو اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

وفات۔

 975ء ابو تمیم معد المعز لدین اللہ ، دولت فاطمیہ کا (19 مارچ 953ء تا 21 دسمبر 975ء) چوتھا خلیفہ اور اسمعیلیوں کا چودواں امام ، خلیفہ المنصور کا بیٹا ، (پیدائش: 932ء)

 1860ء جیمز براؤن رمسے بمعروف لارڈ ڈلہوزی ، برطانوی سیاستدان ، بیسواں (12 جنوری 1848ء تا 28 فروری 1856ء) گورنر جنرل ہند ، اس کے عہد میں برما اور سکھوں کی دوسری لڑائی ہوئی اور پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔ ڈلہوزی نے ہندوستانی ریاستوں کے الحاق پر بڑی سختی سے عمل کیا۔ ستارہ، جھانسی، ناگپور اور اودھ کے علاوہ کئی اور ریاستیں انگریزی علاقے میں شامل کر لی گئیں۔ بہادر شاہ ظفر آخری مغل بادشاہ کو بھی نوٹس مل گیا کہ وہ شاہی قلعے کا آخری تاجدار ہے۔ الحاق کے اس مسئلے نے ہندوستانی حکمرانوں میں بے چینی کی ایک ایسی لہر پیدا کر دی جو 1857ء کی جنگ آزادی کا اہم سبب بنی۔ لارڈ ڈلہوزی نے رفاہ عامہ کی خاطر محکمہ تعمیرات قائم کیا۔ ڈاک کے دو پیسے کے ٹکٹ جاری کئے۔ ریل اور تار کا سلسلہ بھی اسی کے عہد میں شروع ہوا 1856ء میں خرابی صحت کی بنا پر انگلستان چلا گیا۔ (پیدائش: 1812ء)

1953ء رابرٹ انڈریو ملکین ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1923ء) یافتہ امریکی طبیعیات دان و استاد جامعہ ، اس انعام کی وجہ جس کی وجہ بنیادی بار اور ضیا برقی اثر کی دریافت تھی۔ (پیدائش: 1868ء)

2004ء ہربرٹ سی براون ، نوبل انعام برائے کیمیا (1979ء) یافتہ برطانوئی نژاد امریکی کیمیاءدان و استاد جامعہ ، جنھیں اورگنبوران پر کام کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ (پیدائش: 1912ء)

19دسمبر 1111ء عالم اسلام کے عظیم فلسفی امام غزالی کی تاریخ وفات ہے۔ امام غزالی کا پورا نام ابو حامد محمد الغزالی تھا اور وہ 1059ء میں خراسان کے قریب طوس کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم طوس میں حاصل کی اور پھر نیشاپور آگئے جہاں انہوں نے امام الحرمین ابوالمعالی سے ظاہری اور باطنی علم کی تکمیل کی۔ استاد کی وفات کے بعد نظام الملک طوسی کے پاس پہنچے جنہوں نے انہیں اپنے قائم کردہ مدرسہ بغداد میں صدر مدرس مقرر کردیا۔ امام غزالی نے کچھ عرصے درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے اور پھر فلسفے اور مذہب کے گہرے مطالعے میں مصروف ہوگئے۔ اس مطالعے نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ فلسفہ اور مذہب دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں چنانچہ انہوں نے معاصر فلسفیوں اور قدیم فلسفوں کو چیلنج کیا اور بڑی شدومد کے ساتھ فلسفیانہ نظریات و عقائد کی مخالفت اور اسلام کی حمایت کی ، اسی وجہ سے انہیں حجتہ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔امام غزالی کی تصانیف میں احیائے علوم دین، تہافت الفلاسفہ اور مقاصد الفلاسفہ کے نام سرفہرست ہیں۔  

19 دسمبر 1998ء کو اردو زبان و ادب کے ممتاز استاد، محقق، نقاد اور مصنف ڈاکٹر عبادت بریلوی لاہور میں وفات پاگئے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کا اصل نام عبادت یار خان تھا اور وہ 14 اگست 1920ء کو بریلی (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1942ء میں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے اور 1946ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے تدریس کے شعبے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور لکھنؤ یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور میں اقامت اختیار کی اور اورینٹل کالج لاہور سے منسلک رہے۔ آپ کی تصانیف میں اردو تنقید کا ارتقا، تنقیدی زاویے، غزل اور مطالعۂ غزل، غالب کا فن، غالب اور مطالعۂ غالب، تنقیدی تجربے، جدید اردو تنقید، جدید اردو ادب، اقبال کی اردو نثر اور شاعری اور شاعری کی تنقید کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے سفرناموں میں ارض پاک سے دیار فرنگ تک، ترکی میں دو سال، دیار حبیب میں چند روز اور لندن کی ڈائری کے نام شامل ہیں۔ وہ لاہور میں سمن آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔  

19 دسمبر 2005ء کو پاکستان ٹیلی وژن کی مایہ ناز اداکارہ عذرا شیروانی امریکا میں وفات پاگئیں۔ جہاں وہ ایک طویل عرصے سے اپنے بیٹے کے ساتھ مقیم تھیں۔ عذرا شیروانی نے بے شمار ٹیلی وژن ڈراموں میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے مگر انکل عرفی اور تنہائیاں میں ان کی یادگار پرفارمنس کو ٹی وی ناظرین کبھی فراموش نہ کرسکیں گے۔ وہ ان اداکارائوں میں شامل تھیں جنہیں مدنظر رکھ کر خصوصی کردار تخلیق کئے جاتے تھے۔ عذرا شیروانی امریکا ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...