Ad3

دسمبر 20 1971 بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر

جب پاکستان کے پہلے اور اب تک کے آخری سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے سول حیثیت میں اپنا عہدہ سنبھالا جب کہ وہ 81 نشستوں پہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے والا ایک جمہوری سیاست دان تھا۔

ذولفقار علی بھٹو ۔
پاکستان کا چوتھا صدر اور پہلا سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا بانی اور چئیرمین ۔قائد عوام جو کبھی فوجی آمر کو ڈیڈی کہا کرتا تھا ۔

20 دسمبر 1971ء کو صبح پونے گیارہ بجے پی آئی اے کا ایک طیارہ اسلام آباد ایر پورٹ پر اترا۔ اس طیارے میں ذوالفقار علی بھٹو وطن واپس پہنچے۔ وہ ایرپورٹ سے سیدھے ایوان صدر پہنچے جہاں انہوں نے دو گھنٹے تک یحییٰ خان سے مذاکرات کیے‘ شام ساڑھے چار بجے وہ ایوان صدر سے واپس نکلے تو ان کی کار پر صدر پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق یحییٰ‘ بھٹو مذاکرات کے بعد‘ یحییٰ خان عہدہ صدارت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دونوں عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔

غلام اسحق خان نے انتقال اقتدار کی رسوم ادا کیں اور ذوالفقار علی بھٹو نے صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘ دونوں عہدے سنبھال لیے۔

حلف اٹھانے کے بعد رات دس بجے صدر بھٹو نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا ’’ہم اپنی زندگی کے بدترین بحران سے دوچار ہیں‘ ہمیں ٹکڑے جمع کرنے ہیں‘ بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے‘ ہم نیا پاکستان بنائیں گے‘ ایک ایسا پاکستان جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔‘‘ اپنے اس خطاب میں انہوں نے مشرقی پاکستان سے مصالحت‘ سماجی اور اقتصادی انصاف کی ضرورت‘ بیرونی ممالک سے پاکستانی سرمائے کی واپسی‘ عوامی اصلاحات اور نیشنل عوامی پارٹی پر سے پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اسی تقریر میں انہوں نے سابق صدر یحییٰ خان کے ساتھ ساتھ جنرل عبدالحمید خان‘ جنرل ایم ایم پیرزادہ‘ میجر جنرل عمر‘ میجر جنرل خداداد خان‘ میجر جنرل کیانی اور میجر جنرل مٹھا کو فوج سے سبکدوش کرنے اور لیفٹیننٹ جنرل گل حسن کو بری فوج کا قائم مقام کمانڈر انچیف مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

اسی تقریر میں انہوں نے شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے زمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

21 دسمبر 1971 کو بھٹو نے مختلف عہدوں پر تقرریاں کیں۔ انتقال اقتدار کے منتظم غلام اسحق خان‘ شاکر اللہ درانی کی جگہ اسٹیٹ بنک کے گورنر بنا دیے گئے۔ غلام مصطفی کھر کو پنجاب کا‘ ممتاز بھٹو کو سندھ کا، حیات محمد خان شیر پائو کو سرحد کا اور سردار غوث بخش رئیسانی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا اور نور الامین نائب صدر کے عہدے پر فائز کردئیے گئے۔

23 دسمبر 1971ء کو صدر ذوالفقار علی بھٹو کی 10 رکنی کابینہ کے وزرا نے اپنے عہدوں کے حلف اٹھا لیے۔ ان وزرا میں جے اے رحیم‘ میاں محمود علی قصوری‘ جسٹس فیض اللہ کندی‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ غلام مصطفی جتوئی‘ ملک معراج خالد‘ شیخ محمد رشید‘ رانا محمد حنیف‘ عبدالحفیظ پیرزادہ اور راجہ تری دیو رائے شامل تھے۔

26 دسمبر 1971 کو بھٹو حکومت نے چیف جسٹس حمود الرحمان ، جسٹس انوار الحق ، جسٹس طفیل علی عبدالرحمان اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ الطاف قادر پر مشتمل حمود الرحمان کمیشن بنایا جس نے تین سو سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد پہلی رپورٹ 1972 میں اور دوسری رپورٹ 1974 میں پیش کی

29 دسمبر 1971کو غوث بخش رئیسانی صوبہ بلوچستان کے گورنر مقرر کردیے گئے۔

8 جنوری 1972 کو بھٹو حکومت نے جنرل یحییٰ خان( جو سقوطِ مشرقی پاکستان کے وقت بیک وقت صدر، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، وزیرِ دفاع و خارجہ تھے) کو گھر میں نظربند کر دیا ۔

نور الامین اور راجہ تری دیو رائے وہ دو ارکان اسمبلی تھے جو مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے رکن تھے اور عوامی لیگ کے ٹکٹ پر نہیں منتخب ہوئے تھے ورنہ مشرقی پاکستان کی 162 سیٹوں میں سے 160 پہ عوامی لیگ کامیاب ہوئی تھی ۔

ذولفقار علی بھٹو 21 اپریل 1972 تک سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر رہے۔14اپریل1972 کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ 17اپریل 1972 کو عبوری آئین کی منظوری کے ساتھ 21اپریل 1972 کوعبوری آئین کا نفاذ عمل میں آیا اور مارشل لا اٹھا لیا گیا۔

ذولفقار علی بھٹو 13 اگست 1973 تک پاکستان کے صدر مملکت رہے۔21اپریل1971 کو قومی اسمبلی نے 25ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی مقررکی ۔ اس نے یکم اگست 1972 تک آئین تیار کرنا تھا۔ پھر اس معیاد میں 31دسمبر 1972 تک توسیع کر دی گئی۔ اس کمیٹی نے 2 فروری1973 کو آئین کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ 19 اکتوبر1972 تک پارلیمانی رہنماﺅں میں اہم آئینی امور پر سمجھوتہ ہو گیا تھا مگر پھراختلافات پیدا ہو گئے۔ فروری سے مارچ 1973 تک کشیدگی اتنی بڑھی کہ حزبِ اختلاف نے 24مارچ 1973 سے آئین سازی کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ تاہم ،اپریل 1973 میں حزبِ اختلاف کی ترمیمات منظور کر لی گئیں اور بائیکاٹ ختم ہوگیا۔ 10اپریل 1973 کو قومی اسمبلی نے اور 12 اپریل 1973 کو صدرمملکت ذولفقار علی بھٹو نے آئین کی منظوری دی۔ 14اگست1973 کو یہ پانچواں آئین نافذ ہو گیا۔اسی دن ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا ۔

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے۔۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...