Ad3

28 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

1850ء – برما کا شہر رنگون آتشزدگی کے باعث خاکستر ہو گیا۔

1885ء – انڈین نیشنل کانگریس، ہندوستان کی پہلی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ ایلن اوکٹیوین ہیوم، دادابھائی نوروجی، ڈنشا واچا، ومیش چندر بونرجی، سریندرناتھ بینرجی، مونموہن گھوش اورولیم ویڈربرن نے اس کی بنیاد رکھی۔ اپنے قیام کے بعد یہ ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کرنے والی ایک اہم جماعت بن گئی اور تحریک آزادئ ہند کے دوران اس کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد اراکین تھے۔پاکستان کے بانی محمد علی جناح بھی مسلم لیگ میں شمولیت سے قبل اس جماعت میں شامل رہے ہیں جبکہ ہندوستان کی تاریخ کی کئی عظیم شخصیات بھی اس جماعت سے وابستہ رہی ہیں جن میں موہن داس گاندھی،جواہر لعل نہرو، ولبھ بھائی پٹیل، راجندرہ پرساد، خان عبدالغفار خان اور ابو الکلام آزاد زیادہ معروف ہیں۔ ان کے علاوہ سبھاش چندر بوس بھی کانگریس کے سربراہ رہے تھے تاہم انہیں اشتراکی نظریات کی وجہ سے جماعت سے نکال دیا گیا۔بعد آزاد تقسیم کے معروف کانگریسی رہنماؤں میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی معروف ہیں۔1947ء میں تقسیم ہند کے بعد یہ ملک کی اہم سیاسی جماعت بن گئی، جس کی قیادت بیشتر اوقات نہرو-گاندھی خاندان نے کی۔ 15 ویں لوک سبھا (2009ء تا 2013) میں 543 میں سے اس کے 206 اراکین تھے جو تمام جماعتوں میں سب سے زیادہ تھے۔ یہ جماعت بھارت کے سابق حکمران اتحاد یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس کی سب سے ہم رکن ہے۔ یہ بھارت کی واحد جماعت ہے جس نے  تین انتخابات (1999ء، 2004ء، 2009ء) میں 10 کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں۔پارٹی کی موجودہ سربراہ (چیئرپرسن) سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی اطالوی اہلیہ سونیا گاندھی ہیں جبکہ لوک سبھا میں اس کے رہنما ملیکا ارجن کھڑگے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اس کی قیادت غلام نبی آزاد کر رہے ہیں۔کانگریس کو 1975ء میں بھارت میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور 1984ء میں سکھ مخالف فسادات (آپریشن بلیو اسٹار) کے باعث شدید تنقید کا باعث بھی بننا پڑا۔

1895ء – ولہیلم رونٹیگن نے اپنی تحقیق شائع کی جس میں اس نے اشعاع کی نئی قسم ایکس شعاع کی تفصیلات پیش کی۔

2014ء – انڈونیشیا ایئرایشیا پرواز 8501 کو بحیرۂ جاوا میں انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم کے دوران میں گر کر تباہ ہو گئی تھی۔ جہاز پر 162 افراد ہلاک ہوئے۔

1895ء – دنیا کے پہلے فلمی تھیٹر کا پیرس میں افتتاح ہوا. ۔ 

1937ء – نئے دستور کے نفاذ کے بعد آئرلینڈ ری پبلک بنا. ۔ 

1951ء – وزیر اعظم پاکستان خوا جہ ناظم الدین نے واہ آرڈننس فیکٹری کا افتتاح کیا.  اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے موجودہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر پاکستان کے دفاع کو بہت اہمیت حاصل ہے اسی لیے مسلح افواج کی دیکھ بھال اور ان کے لیے بہترین اسلحے کی فراہمی کو دوسرے تمام کاموں پر فوقیت دی گئی ہے۔

1985ء – لبنان کے مسیحی اور مسلمان دھڑوں کے مابین امن معاہدہ طے پایا۔

28 دسمبر 1991 کو وسیم سجاد دوسری مرتبہ سینیٹ کے چیئرمین بنے۔وسیم سجاد پاکستان کے سابق نگراں صدر وسیم سجاد 30 مارچ 1941ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ وہ جسٹس سجاد احمد جان کے صاحبزادے ہیں ۔ وسیم سجاد نے پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی لاء کالج لاہور اور اوکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا تاہم جلد ہی قانون کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور 24 دسمبر 1988ء کو سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 28 دسمبر 1991کو وہ دوسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر منتخب ہوئے۔ 18 جولائی 1993ء کو جب غلام اسحاق خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے پاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کے طور پراگلے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور ایک مرتبہ پھر سینٹ کے چیئر مین کی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ وسیم سجاد 1997 ء میں تیسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین منتخب ہوئے ۔ دسمبر 1997ء میں جب فاروق احمد لغاری اپنے عہدئہ صدارت سے مستعفی ہوئے تو  وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے  ایک مرتبہ پھرپاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر جناب رفیق تارڑ کے صدر منتخب ہونے تک متمکن رہے

 28دسمبر 1958 ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان بوائے اسکاؤٹ جمبوری ، چاٹگام  کے انعقاد کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ۔ یہ ایک پرانا ڈاک ٹکٹ تھا جس پر Pakistan Boy Scout , 2nd National Jamboree, Chitagong , Date 28 Dec.58 کے الفاظ بالا چھاپ کیے گئے تھے۔

 28دسمبر 2001ء کو پاکستان آرڈننس فیکٹری، واہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت چار روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پراس فیکٹری میں تیار ہونے والے اسلحے کی تصویر شائع کی گئی تھی اور انگریزی میں   50 YEARS OF PAKISTAN ORDNANCE FACTORIES کے الفاظ تحریر  کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان آرڈننس فیکٹری، واہ نے فراہم کیا تھا۔

ولادت :

 1083ء ابو الفضل عياض بن موسی بن عياض بن عمرون بن موسی بن عياض السبتی اليحصبی بمعروف قاضی عیاض، مراکش کے ایک مشہور ادیب، مؤرخ، محدث اور مالکی فقیہ (وفات: 1149ء)

1856ء ووڈرو ولسن، نوبل امن انعام (1919ء) یافتہ امریکی استاد جامعہ، وکیل، اکیڈمک، مورخ اور سیاست دان، ریاست کار ، (4 مارچ 1913ء تا 4 مارچ 1921ء) 28ویں صدر امریکہ (وفات: 1924ء)

 1871ء لارڈ پیتھک لارنس، برطانوی سیاستدان ، (جون 1929ء تا 24 اگست 1931ء) برطانوی فنانشل سیکرٹری آف ٹریژری ، 1946ء کے ہندوستانی انتخابات کے بعد حکومت برطانیہ نے ایک مشن جو تین وزراء پر مشتمل تھا، اُسے ہندوستان بھیجا۔ یہ مشن کابینہ مشن پلان یا کیبنٹ مشن پلان، 1946ء کہلاتا ہے۔ اِس مشن میں مسٹر پیتِھک لارنس بھی شامل تھے۔ (وفات: 1961ء)

 1882ء للی ایلس ایلونیس بمعروف للی ایلب ، ڈینش مخنث عورت اور تبدیلی جنس کے لیے کی جانے والی جراحی کی پہلی قابل شناخت شخصیت تھی۔ اس کی پیدائش بطور ایئنار ماگنوس آندریس ویگنر (Einar Magnus Andreas Wegener) ہوئی اور وہ اسی نام کے تحت ایک کامیاب مصور تھا۔ اس دوران وہ للی بن کر بھی سامنے آتا تھا جسے ایئنار کی بہن کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ 1930ء میں کامیابی سے تبدیلی جنس کے بعد اس نے اپنا قانونی نام للی ایلس ایلونیس (Lili Ilse Elvenes) رکھ لیا اور پینٹنگ کرنا مکمل طور پر بند کر دیا۔ للی ایلب کا نام اسے کوپن ہیگن کے صحافی لوئیس لاسن نے دیا۔ وہ بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ کی پیچیدگیوں سے ہلاک ہوئی۔ اس کی سوانح عمری "مرد سے عورت" (Man into Woman)اس کے مرنے کے بعد 1933ء میں شائع ہوئی تھی۔ (وفات: 1931ء)

 1905ء مہاراجکمار آف وزیاناگرام بمعروف وزی ، بھارتی کرکٹ کھلاڑی ،کرکٹ منتظم اور سیاست دان (وفات: 1965ء)

 1922ء سٹین لی، امریکی ناشر, کامکس مصنف، مدیر، صحافی، اسپائڈر مین اور ایکس مین کے کرداروں کے خالق (وفات: 2018ء)

 1932ء خواجہ پرویز ، مایہ ناز پاکستانی فلمی نغمہ ساز غنائی شاعر اور نغمہ نگار (وفات: 2011ء)

 1932ء دھیرو بھائی امبانی، صنعت کار اور ملک کی سب سے بڑی نجی کمپنی رلائنس کے مالک ، شروع میں پیٹرول پمپ پرملازمت کی اس کے بعد عدن چلے گئے۔ اور وہاں سے ان کے مقدر کا ستارہ چمکا۔ (وفات: 2002ء)

 1944ء کیرے میولس، نوبل انعام برائے کیمیا (1993ء) یافتہ امریکی حیاتی کیمیا داں اور فیکلٹی 

 1955ء لیو شیاوبو، نوبل امن انعام (2010ء) یافتہ چینی ادبی ناقد، لکھاری، پروفیسر اور انسانی حقوق کے کارکن (وفات: 2017ء)

 1969ء لینس ٹورویلڈس، فن لینڈی-امریکی کمپیوٹر پروگرامر، لینکس کرنل تیار کیا۔

 1969ء فرح خان علی ، بھارت خاتون جواہرات ساز، جویلری ڈیزائنر اور جیمولوجسٹ

 1979ء برکھا بِشت سین گپتا ، بھارتی فلمی اداکارہ 

 1984ء رچا چڈّھا ، بھارتی فلمی اداکارہ

 1987ء خوان پابلو لیدیزما ، غیر قانونی تجارت منشیات میں ملوث خواریز کارٹل کے عسکری ونگ کا سربراہ 

1998ء محمد اصغر ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی 

1941ء – انتخاب عالم (پاکستانی کرکٹ کھلاڑی)،  انتخاب عالم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 5 دسمبر 1959ء کو آسٹریلیا کے خلاف کھیلا تھا اور انہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ انہوں نے یہ اعزاز جس کھلاڑی کو آئوٹ کرکے حاصل کیا تھا اس کا نام کولن میکڈونلڈ تھا۔ انتخاب عالم نے مجموعی طور پر 47ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا۔ ایک سنچری کی مدد سے 1493 رنز اسکور کیے اور مجموعی طور پر 125 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انتخاب عالم نے 4 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 4وکٹیں حاصل کیں۔ 25 اکتوبر 2008ء کو انہیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا۔

اردو کے نامور ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم‘ مورخ‘ صحافی اور ماہر لسانیات علامہ نیاز فتح پوری  28 دسمبر1884ء  کو فتح پور‘ سہوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء میں انہوں نے ایک ادبی جریدہ نگار جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اردو میں روشن خیالی کا مظہر بن گیا۔ علامہ نیاز فتح پوری قریباً 35 کتابوں کے مصنف تھے جن میں من و یزداں‘ نگارستان‘ شہاب کی سرگزشت‘ جمالستان اور انتقادیات کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں تحریریں‘ نگار میں شائع ہوئیں جنہوں نے اردو میں نت نئے مباحث کو جنم دیا۔ بھارت نے انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز پدمابھوشن عطا کیا تھا۔ ٭24 مئی 1966ء کو علامہ نیاز فتح پوری کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

وفات

 841ء ابونصر بشر بن الحارث بن عبد الرحمن بن عطاء المروزي البغدادي بمعروف بشر حافی ، خلافت عباسیہ کے ماتحت قدیم خراسان ریاستوں میں سے ایک بڑی ریاست مرو (موجودہ ترکمانستان) سے تعلو رکھنے والے عالم و محدث (پیدائش: 769ء)

 1694ء میری دوم ، ملکہ انگلستان، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ (13 فروری 1689ء تا 28 دسمبر 1694ء) ، اپنے شوہر ولیم سوم کے ہمراہ مشترکہ خود مختار ملکہ تھی۔ (پیدائش: 1662ء)

 1887ء سر رابرٹ منٹگمری ، ہندوستان میں ایک برطانوی کرنل ایڈمنسٹریٹر (پیدائش: 1809ء)

 1932ء خواجہ کمال الدین ، پاکستانی وکیل، لاہور احمدیہ تحریک کے رکن اور احمدیہ تحریک کے بارے میں متعدد مطبوعات کے مصنف تھے۔ (پیدائش: 1870ء)

 2016ء ڈیبی رینالڈز ، امریکی فلمی اداکارہ (پیدائش: 1932ء)

٭28 دسمبر 1980ء کو پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر امیر الٰہی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ قیام پاکستان کے بعد وفات پانے والے پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کرکٹر تھے۔ امیر الٰہی نے مجموعی طور پر 6 ٹیسٹ میچ کھیلے ان ٹیسٹ میچوں میں سے پہلا ٹیسٹ میچ انہوں نے بھارت کی طرف سے اور بقیہ پانچ ٹیسٹ پاکستان کی طرف سے کھیلے تھے۔ وہ دنیا کے ان معدودے چند کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔ امیر الٰہی یکم ستمبر 1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ امیر الٰہی نے بھارت کی طرف سے واحد ٹیسٹ میچ 39 سال 102 دن کی عمر میں کھیلا تھا۔ اس ٹیسٹ میں انہوں نے 17 رنز اسکور کئے۔ پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے 5 ٹیسٹ میچوں میں 65 رنز اسکور کئے اور 7وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے کھیلے جانے والے ان کے آخری ٹیسٹ کے آخری دن ان کی عمر 44 سال 105 دن تھی۔

٭28 دسمبر 1997ء کو اردو اور سندھی کے نامور شاعر، دانشور، ماہر قانون اور ماہر تعلیم شیخ ایاز کراچی میں وفات پاگئے۔ شیخ ایاز کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا اور وہ 23 مارچ 1923ء کو شکارپور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ گریجویشن اور قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے 1950ء میں کراچی میں وکالت کا آغاز کیا۔1946ء میں ان کی مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سفید وحشی‘‘ شائع ہوا اس کے بعد ان کی کہانیوں کے کئی اور مجموعے شائع ہوئے جن میں پنھل کان پوئِ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ اسی زمانے میں ان کی شاعری کی بھی دھوم ہوئی۔ ان کی روانی طبع اور برجستگی کو دیکھ کر کئی قادرالکلام اساتذہ بھی حیران رہ گئے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’بھور بھرے آکاس‘‘ 1962ء میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس مجموعہ پر 1964ء میں حکومت نے پابندی لگادی۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’کلھے پاتم کینرو‘‘ 1963ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بھی 1968ء پابندی کی زد میں آگیا۔ شیخ ایاز نے سندھی کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا اور ان کی اردو شاعری کے مجموعے بوئے گل نالۂ دل، کف گلفروش اورنیل کنٹھ اور نیم کے پتے کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کی سندھی شاعری کا ایک اردو ترجمہ بھی ’’حلقہ مری زنجیر کا‘‘ کے نام سے شائع ہواتھا۔ شیخ ایاز کا ایک بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ ایاز کے اس ترجمے کی وساطت سے شاہ لطیف کا پیغام اردوداں طبقے تک بھی پہنچا۔ شیخ ایاز کے کئی نثری کارنامے بھی اہل نظر سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ جن میں ان کی تقاریر کا مجموعہ ’’بقول ایاز‘‘، خطوط کا مجموعہ ’’جے کاک ککوریا کا پڑی‘‘، مضامین کا مجموعہ’’ بھگت سنگھ کھے فانسی‘‘  اور یادداشتوں کے مجموعے ’’کراچی جا ڈینھن ئِ رایتون‘‘ اور ’’ساہیوال جیل جی ڈائری‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔  1976ء میں انہیں سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔وہ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔  

1859ء – لارڈ میکالے، انگریزی مورخ اور سیاست دان، دوران جنگ نائب۔لارڈ میکالے Thomas Babington Macaulay یا 1st Baron Macaulay ایک انگریز تھا جو لارڈ میکالے (25 اکتوبر 1800 – 28 دسمبر 1859) کے نام سے مشہور ہے۔ لارڈ میکالے (Lord Macaulay) ہندوستان 1834ء میں آیا تھا اور گورنر جنرل کی کونسل میں پہلا رکن برائے قانونی امور بنا۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...