1907ء تشکیل کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا باقاعدہ اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔
1930ء علامہ اقبال کا تاریخی خطبہ الہ آباد جس میں مسلمانانِ ہند کے لئے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔
1947ء محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں پاکستان گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔
1951ء گورنر جنرل غلام محمد نے سندھ اسمبلی تحلیل کر کے گورنر راج نافذ کر دیا۔
1994ء لاہور میں شوکت خانم کینسر اسپتال کا افتتاح ہوا۔
2001ء پیرو میں آتشزدگی سے دوسوچوہتر افراد ہلاک ہو گئے۔
2015ء۔پشاور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کا افتتاح ہوا۔
2016ء۔کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔
29 دسمبر 1972ء کو پاکستان کی کلاسک فلم امرائو جان ادا نمائش کے لیے پیش ہوئی اردو کے نامور ناول نگار مرزا ہادی رسوا کے ناول امرائو جان ادا کی کہانی پر اس سے قبل نخشب جارچوی‘ زندگی یا طوفان‘ ایس ایم یوسف مہندی اور کمال امروہی پاکیزہ کے نام سے فلمیں بنا چکے تھے مگر ہدایت کار حسن طارق نے اپنی فلم میں بڑی حد تک ناول کی اصل کہانی کو برقرار رکھا اور یہی اس کی خوبی تھی۔ حسن طارق کی اس فلم کی کامیابی کے بعد اسی ناول پر بھارت میں ہدایت کار مظفر علی اور ہدایت کار جے پی دتہ نے دو اور فلمیں بنائیں جن میں سے پہلی فلم بہت کامیاب ہوئی جب کہ دوسری فلم بری طرح فلاپ ہوگئی۔ ہدایت کار حسن طارق کی امرائو جان ادا کی فلم ساز ان کی صاحبزادی رابعہ حسن تھیں جب کہ مصنف اور نغمہ نگار سیف الدین سیف اور موسیقار نثار بزمی تھے۔ فلم کی کاسٹ میں رانی‘ شاہد‘ طالش‘ رنگیلا‘ طلعت صدیقی‘ ناہید صدیقی‘ لہری‘ نیر سلطانہ‘ آسیہ‘ زمرد اور ناصرہ شامل تھیں۔ اس فلم کے نغمات بھی بے حد مقبول ہوئے جن میں نور جہاں کا نغمہ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں اور رونا لیلیٰ کے گائے ہوئے نغمات جھومیں کبھی ناچیں کبھی گائیں خوشی سے‘ آپ فرمائیں کیا خریدیں گے‘ کاٹے نہ کٹے رے رتیاں اور نجانے کس لئے ہم پر قیامت ڈھائی جاتی ہے سرفہرست تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ فلم کے سپرہٹ ہونے اور پاکستان کی شاہکار فلموں میں شمار ہونے کے باوجود یہ فلم کوئی نگار ایوارڈ حاصل نہیں کرسکی تھی۔
29دسمبر 1973ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے جذام کے علاج کی دریافت کے سو سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت 20پیسے تھی ۔ اس ڈاک ٹکٹ پر ناروے کے سائنس دان ڈاکٹر گرہارڈ ہنسن کی تصویر شائع کی گئی تھی جنہوں نے اس موذی مرض کا علاج دریافت کیا تھا ۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنرمختار احمد نے ڈیزائن کیا تھا ۔
29 سے 31دسمبر 1988ء کے دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلا م آباد میں جنوب ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تین یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن پر سارک ممالک میں شامل ممالک کے نقشے اور پرچم بنے تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کی مالیت 25روپے ، 50 روپے اور 75 روپے تھی۔ 25 روپے مالیت والے ڈاک ٹکٹ پر SOUTH ASIAN ASSOCIATION FOR REGIONAL COOPERATIONاور 50 روپے اور 75 روپے کے ڈاک ٹکٹ پر SAARC SUMMIT 1988 ISLAMABADکے الفاظ تحریر تھے ۔
29 دسمبر 2015ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے جی پی او، مری کی تزئین نو کے موقع پردس روپے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرجی پی او، مری کی عمارت کی تصویربنی تھی اور انگریزی میں DECEMBER 2015 MURREE GPO کے الفاظ تحریر تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن مغیز خان نے تیار کیا تھا۔
ولادت۔۔
1808ء انڈریو جانسن ، امریکی سیاست دان، فوجی افسر، بردہ دار، ریاست کار ، (4 مارچ 1865ء تا 15 اپریل 1865ء) 16واں نائب صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ اور (15 اپریل ● 1865ء تا 4 مارچ 1869ء) 17واں صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ (وفات: 1875ء)
1910ء رونالڈ کوس ، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1991ء) یافتہ برطانوی ماہر معاشیات، مؤرخ، مصنف، استاد جامعہ (وفات: 2013ء)
1914ء زین العابدین ، بنگلہ دیشی مصور اور مجسمہ ساز (وفات: 1976ء)
1917ء رامانند ساگر ، بھارتی فلم ہدایت کار، منظر نویس، فلم ساز، مصنف (وفات: 2005ء)
1934ء زرینہ بلوچ ، سندھ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی گلوکارہ، استاد، ترجمہ نگار، اداکارہ اور سیاسی کارکن ، عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو کی بیوی (وفات: 2005ء)
1936ء میری ٹائلر مور ، امریکی فلمی اداکارہ
1942ء جتن کھنہ بمعروف راجیش کھنہ ، بھارتی اداکار، فلم پروڈیوسر اور سیاست دان (وفات: 2012ء)
1957ء بروس بیوٹلر، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (2011ء) یافتہ امریکی جینیات دان ، فعلیات دان و پروفیسر
1963ء اولف یالمار کرسترسون ، سوئیڈش سیاستدان ، اکتوبر 2017ء سے وہ سویڈن کے قائد حزب اختلاف اور ماڈریٹ پارٹی کے قائد ہیں۔
1967ء جیمز مکٹیگ ، آسٹریلوی فلمی ہدایت کار
1972ء جویریہ عباسی ، پاکستانی اداکارہ و میزبان
1974ء ٹوینکل کھنہ ، بھارتی فلمی اداکارہ
1982ء عمران خالد ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی
1982ء ایلیسن بری ، امریکی فلمی اداکارہ
29 دسمبر 1976ء پاکستان کے مشہور اسپن بائولر ثقلین مشتاق کی تاریخ پیدائش ہے۔ ثقلین مشتاق لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 8 ستمبر 1995ء کو اور ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 29 ستمبر 1995ء کو کیا تھا۔یہ دونوں میچ انہوں نے سری لنکا کے خلاف کھیلے تھے۔ 1996ء میں ثقلین مشتاق نے 32 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 65 وکٹیں حاصل کرکے ایک کیلنڈر ایر میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ثقلین مشتاق کی ان 65 وکٹوں میں ایک ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی جو انہوں نے 3 نومبر 1996ء کو پشاور میں زمبابوے کے گرانٹ فلاور، جان رینی اور اینڈریو وٹل کو آئوٹ کرکے حاصل کی۔ ثقلین مشتاق دنیا کے پہلے اسپنر تھے جنہوں نے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ہیٹ ٹرک بنانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ثقلین مشتاق کے نئے ریکارڈز کا سلسلہ 1997ء میں بھی جاری رہا۔ 12 مئی 1997ء کو جب انہوں نے آزادی کپ ٹورنامنٹ میں گوالیار کے کیپٹن روپ سنگھ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے کمارا دھرم سینا کو آئوٹ کیا تو وہ دنیا میں سب سے کم عمر، سب سے کم وقت اور سب سے کم میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ثقلین مشتاق نے یہ اعزاز 20 سال 166 دن کی عمر، ایک سال 226 دن کی مدت اور 53 میچ کھیل کر حاصل کیا۔ اس سے قبل سب سے کم میچوں میں سو وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز آسٹریلیا کے ڈینس للی کے پاس تھا جنہوں نے یہ سو وکٹیں 63 میچوں میں حاصل کی تھیں۔ ثقلین مشتاق 2004ء تک کرکٹ کے میدان میں فعال رہے ، اس دوران انہوں نے مجموعی طور پر 49 ٹیسٹ میچ کھیلے اور208 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 169 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی جس میں انہوں نے 288 وکٹیں حاصل
*وفات*
1825ء ژاک لوئس ڈیوڈ ، فرانسیسی مصور، سیاستدان ، جو کلاسیکی اور تعلیمی مصوری بناتا تھا۔ اس کا سب سے اہم کام (1793ء) میں مرات غسل کی پینٹنگ ہے۔ (پیدائش: 1748ء)
1834ء تھامس رابرٹ مالتھس ، ماہر معاشیات، مضمون نگار، ماہر شماریات، ماہر آبادیات، پادری کلیسائے انگلستان، ماہرِ عمرانیات، ریاضی دان ، اُس نے آبادی کے لیے اپنا مشہور نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق جلد یا بدیر قدرت حرکت میں آتی ہے، تباہی اور زلزلوں کے ذریعے آبادی پھر سے وسائل کے مطابق ہو جاتی ہے۔ (پیدائش: 1766ء)
1927ء حاذق الملک حکیم اجمل خان ، ہندوستانی سیاستدان ، طبیب و مصلح.بمقام رام پور (پیدائش: 1868ء)
2004ء جیولیوس ایکزل روڈ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1970ء) یافتہ امریکی ماہر حیاتیاتی کیمیاء (پیدائش: 1912ء)
1985ء۔۔عمران خان کی والدہ شوکت خانم کا انتقال ہوا۔
1986ء ۔٭29 دسمبر 1986ء کو پاکستان کے نامور کلاسیکی موسیقار اور گلوکار استاد چھوٹے غلام علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔ استاد چھوٹے غلام علی خان کا تعلق قصور کے ایک موسیقی دان گھرانے سے تھا جہاں وہ 1910ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تربیت اپنے والد میاں امام بخش سے حاصل کی جو دھرپد انداز گائیکی میں اختصاص رکھتے تھے۔ استاد چھوٹے غلام علی خان خیال، ترانہ، ٹھمری، دادرا اور غزل سبھی یکساں مہارت سے گاتے تھے۔ وہ ایک عرصہ تک لاہور آرٹس کونسل سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے موسیقی کی تربیت کے لئے ایک اکیڈمی قائم کی تھی۔ ان کے شاگردوں میں شاہدہ پروین اور بدرالزماں، قمر الزماں کے نام نمایاں ہیں۔ استاد چھوٹے غلام علی خان کو حکومت پاکستان نے 1985ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ۔
No comments:
Post a Comment