تحریر : جادا خان
1} اندھیرے سے مراد روشنی کی عدم موجودگی ہوتی ہے.
یہ اکثر پائی جانے والی عام غلط فہمی ہے کہ اندھیرے سے مراد وہ خلاء کا وہ جگہہ یا حصہ ہے جہاں پر روشنی موجود نہیں ہوتی ، اگر ہم بظاہر تاریک خلاء میں کوئی بھی مادی شئے لے جائیں تو وہ اجرام فلکی سے آنے والی روشنی کو منعکس کرنا شروع کردے گی یعنی دراصل اندھیری نظر آنے والی خلاء میں بھی روشنی موجود تھی.
2} زمان و مکان (space - time) سے مراد ایک تنی ہوئی چادر ہے.
زمان و مکان یعنی سپیس ٹائم ایک چادر نہیں ہے جس میں مادہ/انرجی کا وجود خم ڈالتا ہو ، لفظ "خم curvature" اور لفظ "چادر fabric" اصطلاحی ہیں ، چونکہ ہم ضاہری طور پر صرف تین جہتوں کا تخیل کرسکتے ہیں اس لیے زمان و مکان کے خم کو سمجھانے کے لیے لفظ "خمیدہ" کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کے لیے زیادہ موزوں لفظ " خلل " ہے.
3} کوئی بھی مادی شئے اس لیے روشنی کی رفتار کو نہیں پاسکتی کیونکہ روشنی کی رفتار پانے پر اس کا "ماس" لامتناہی ہوجاتا ہے.
اکثر فزکس جانتے والے یہ توجہیہ بیان کرتے دیکھائی دیتے ہیں کہ کوئی بھی مادی شئے روشنی کی رفتار اس لیے نہیں پاسکتی کیونکہ جوں جوں مادی شئے رفتار سے حرکت کرے گی ویسے ویسے اس کا "ماس" بڑھتا جائے گا اور اس کے اس بڑھتے ماس کو مزید حرکت دینے کے لیے مزید سےےمزید تر توانائی درکار ہوگی.
4} اگر کوئی بھی مادی شئے روشنی کی رفتار سے حرکت کرے تو وہ "مادی سے غیر مادی (توانائی) میں تبدیل ہوجائے گی".
اکثر سائنس پڑھنے اور سمجھنے والے افراد یہ غلط فہمی لے بیٹھتے ہیں کہ اگر ہم کسی مادی شئے کو روشنی کی رفتار پر حرکت دیں تو وہ مادی شئے غیر مادی شئے یعنی توانائی میں تبدیل ہوجائے گی.
5} بگ بینگ ایک بہت عظیم "دھماکہ" تھا جو ایک انتہائی چھوٹے سے ذرے کے "پھٹنے" سے ہوا.
"بگ بینگ" سے مراد " " عظیم دھماکہ " " ہرگز نہیں ہے یہ فقط ایک اصطلاح ہے جو ایسے ہی مشہور ہوگئی نہ ہی یہ کسی چھوٹے سے ذرے کے پھٹنے سے ہوا ، بگ بینگ ایک عظیم پھیلاؤ تھا.
6} پانی/کثیف جسم میں روشنی کی رفتار کم/سست جبکہ خلا میں سب سے زیادہ ہوتی ہے .
روشنی کی رفتار ہمیشہ "constant" ہوتی ہے پانی یا کثیف جسم میں روشنی کی رفتار تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ان اجسام میں مختلف اعمال کی وجہ سے روشنی کی حرکت کا وقت بڑھ جاتا ہے یہ عوامل بکھراؤ ، ایٹمی تجازب ، مداروی تجاذب ، انعکاس وغیرہ ہوسکتے ہیں.
7} دریا اس لیے بہتے ہیں کیونکہ زمین ایک کروی گیند نما ہے.
اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دریا اس لیے بہتے ہیں کیونکہ زمین ہر گزرتے فاصلے پر خمیدہ ہوتی جاتی ہے ، اور دریا کا پانی اس خم کی وجہ سے لڑھکتا جاتا ہے.
8} انسان بندروں کی ارتقائی نسل کی ارتقائی اولاد ہیں.
اکثر لوگوں کی جانب سے یہ بات زور و شور سے سننے کو ملتی ہے کہ چونکہ ارتقاء کے مطابق تمام جاندار ایک ہی سادہ جاندار سے ارتقاء پذیر ہوئی ہے اس لیے انسان بندروں سے ارتقاء ہوئے ہیں.
9} آسمان کا نیلا رنگ فضاء میں موجود گیس "اوزون کی تہہ" کی بدولت ہے.
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آسمان ہمیں اس لیے نیلا نظر آتا ہے کیونکہ آسمان میں اوزون کی تہہ کا رنگ نیلا ہوتا ہے ، آسمان کا نیلا نظر آنا فضا میں موجود مختلف گیسوں کے مالیکیولز سے روشنی کے گزر کی وجہ سے نیلی طول موج رکھنے والی موجوں کا سب سے زیادہ بکھراؤ ہے.
10} انسان اپنے دماغ کا فقط دس سے بارہ فیصد حصہ استعمال کرتا ہے .
یہ ایک بہت بڑی عام پائی جانے والی غلط فہمی ہے کہ انسان ہمہ وقت اپنے دماغ کا فقط دس سے بارہ فیصد حصہ استعمال کر رہا ہوتا ہے ، نیز آئن شٹائن کے بارے غلط مشہور ہے کہ اس کا صرف بارہ فیصد دماغ استعمال ہوپایا تھا.
11} حیاتیات کی دنیا میں فقط انسان ہی " ذہین ترین " ہے.
جانداروں میں اکیلے انسان ہی ایسی مخلوق نہیں جو ذہین ترین ہو ، انسان کے علاوہ دوسرے جاندار مثلا ڈولفن ، چمپینزی ، چیونٹی ، کوا اور شہد کی مکھی وغیرہ بھی زہین جاندار ہیں.
12} چاند کا دوسرے رخ کا آدھا نصف کرہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتا ہے۔
چاند بھی اپنے محور کے گرد گھومتا ہے اور اس کی گھومنے کی شرح عین چاند کی زمین کے گرد مدار کی شرح کے برابر ہے اس لیے اس کا ایک رخ ہمیشہ زمین کی طرف رہتا ہے اور اس دوران چاند کی مکمل سطح اوسط 28 دنوں کا دن اور رات حاصل کرتی ہے.
13} زمین کی محوری گردش کے دورانیہ کا حوالہ مقام سورج ہے/زمین چوبیس گھنٹوں میں ایک محوری چکر مکمل کرتی ہے (چوبیس گھنٹوں کا دن ، سائیڈرل ڈے).
14} فوٹان ایک "ذرہ" "particle" ہے.
جیسا کہ تمام عام فہم سائنسی تحاریر میں فوٹان کو بطور ایک "ذرہ" کے ذکر کیا جاتا ہے اس لیے اس عام اصطلاح سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ شاید فوٹان ایک گول انتہائی چھوٹا ذرہ (جیسے ریت کا ذرہ) ہے مگر ایسا نہیں ہے یہ "انرجی کا ایک "packet" گٹھا ہوتا ہے."
15} ایٹم کو آج تک کسی نے بھی نہیں دیکھا.
عام طور پر ایٹم کے بارے یہ تااثر سننے کو ملتا ہے کہ آج تک ایٹم کو حقیقی طور پر نہیں دیکھا جاسکا ، مگر ایٹم کو تجربہ گاہ میں حقیقی طور پر فلما کر اسےدیکھا جاچکا ہے.
16} الیکٹران نیوکلیس کے گرد گول دائرے میں گھومتے ہیں.
اکثر خیال کا جاتا ہے کہ الیکٹران کا نیوکلیس کے گرد مدار گول دائرے میں اور منظم جگہہ میں ہوتا ہے ، الیکٹران نیوکلیس کے گرد کسی بھی ممکنہ مدار اور جہت میں محو گردش پائے جاسکتے ہیں.
17} سائنسی تحقیق کا پہلا مرحلہ ' مفرضہ جات ' بنانے سے شروع ہوتا ہے.
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سائنسی تحقیق کا طریقہ کار مفروضے بنانے سے شروع ہوتا ہے جس میں کسی مظہر کو سمجھنے کے لیے مفروصے پیش کیے جاتے ہیں، سائنسی تحقیق کو شروع کرنے کا پہلا اور لازمی مرحلہ مشاہدات ہیں.
18} سائنسی تحقیق میں "مشاہدات" سے مراد.
اکثر لوگوں کے خیال میں سائنسی تحقیق میں مشاہدات سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ، محسوس کرنا اور مظاہر کو تجربات کے اطلاقی پیراہے میں سے گزارنا ہے ، سائنس میں کچھ ایسے مشاہدات بھی ہوتے ہیں جو خالص ریاضیاتی ہوتے ہیں جنھیں تجربہ گاہ میں تجرباتی پیراہے سے نہیں جانچا جاسکتا .
19} سائنس صرف "تجرباتی" علم ہے.
یہ خیال بھی اکثر پایا جاتا ہے کہ سائنس ایک مخصوص دائرہ کار کا علم ہے جس میں صرف وہ معروضات آتے ہیں جنھیں سائنسی تحقیقی طریقہ کار میں کسی بھی مرحلہ پر صرف "تجربات" کے اطلاقی عمل سے گزارا جاسکے.
20} خلا space ہر چیز ، ہر وجود سے خالی ہونے کا نام ہے.
اکثر لوگ خلا کے بارے یہ ہی سوچتے ہیں کہ شاید خلا وہ مقام یا علاقہ ہے جہاں کوئی بھی مادی و غیر مادی وجود نہیں پایا جاتا ، خلا میں انتہائی کم ترین نسبت پر مادی و غیر مادی وجود بھی پائے جاتے ہیں جو انتہائی قلیل ترین درجے پر ہوتے ہیں جنھیں نظر انداز کردیا جاتا ہے.
21} انسانی آنکھ کے دیکھنے کی صلاحیتی ریزولیوشن (Resolution) 576 میگا پگسلز ہوتی ہے .
یاد رہے میگا پگسل کی اصطلاح مصنوعی ہے اسے قدرتی عوامل کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ، انسانی آنکھ کسی بھی مصنوعی آلہ کی نسبت کہیں بہتر خصوصیات سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے.
22} مرنے سے پہلے تمام جسمانی خلیے اور سیل مردہ ہوجاتے ہیں.
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے پورے جسم کےسارے خلیے اور سیل بے جان ہوتے ہیں اور پھر موت آتی ہے ، ایسا نہیں ہوتا مختلف جانداروں میں طبعی موت کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ اس کے جسم کے سارے خلیے اور سیل ناکارہ ہوں ، طبعی موت کے بعد بھی کئی اعضاء ، خلیے اور سیل کچھ وقت کے لیے زندہ رہتے ہیں.
No comments:
Post a Comment