Ad3

جنوری 23 تاریخ کے حوالے سے



22 جنوری 
تاریخ کے آئینے میں 

آج سال کا 22 واں دن ہے اور ابھی سال ختم ہونے میں 343 دن باقی ہیں ۔

 1760ء جنوبی ہند میں برطانیہ نے فرانسیسی فوج کو ہرا کر وانڈی واش کی جنگ جیتی۔

 1837ء شام میں زلزلے میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

 1890ء کیوبائی باغی ہوسے ماتی نے امریکہ کے نیویارک شہر میں سیاہ فاموں کو آگے بڑھانے کے لئے ’لا لیگا‘ نامی تنظیم قائم کی۔

 1905ء سینٹ پیٹرس برگ میں ’خونی سوموار‘ بغاوت کا آغاز ہوا۔

 1927ء آرسنل ایف سی اور شیفلڈ یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والے فٹبال میچ میں دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ریڈیو پر براہ راست تبصرہ نشر ہوا۔

 1941ء رومانہ میں یہودوں کا پہلا قتل عام ہوا۔

 1942ء دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان نے نیو برٹین کے رابول میں بمباری کی۔

 1946ء امریکہ کے صدر نے ملک کی اہم خفیہ ایجنسی سنٹرل انٹلی جنس (سی آئی اے) قائم کی۔

 1957ء مصر کی نہر سوئس پر قبضہ جمائے بیٹھی اسرائیلی فوجیں بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے سینائی جزیرہ نما سے واپس لوٹیں۔

 1962ء  ریاستہائے متحدہ کی ایک آرگنائزیشن نے کیوبا کی ممبر شپ معطل کر دی۔

 1963ء دہرہ دون میں نابیناؤں کیلئے قومی لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔

 1964ء کینیتھ کونڈا شمالی روڈیشیا کے پہلے وزیراعظم بنے۔

 1970ء بوئنگ 747 نے نیو یارک اور لندن کے مابین پہلی باقاعدہ مسافر پرواز کا آغاز کیا۔

 1972ء برطانیہ، ڈنمارک آئرلیڈ، اور ناروے نے یوروپین اکانومک کمیونٹی (آئی سی) میں شامل ہونے سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کئے۔

 1973ء امریکہ کی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کو منظوری دینے سے متعلق فیصلہ دیا۔

 1973ء نائجریا کے کانو ہوائی اڈے پر جارڈن ایئرلائنس کے بوئنگ 707 طیارے میں آگ لگنے سے 176 افراد کی موت ہو گئی۔

 1982ء شمال امریکی جزیرہ کا 75 فیصد حصہ برف سے ڈھکا۔

 1986ء وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے کیس میں ستونت سنگھ، بلبیر سنگھ اور کیہر سنگھ کو پھانسی دی گئی۔

 1995ء وسطی اسرائیل میں دو فدائین حملہ آوروں نے دھماکے سے خود کو اڑا لیا جس میں 19 اسرائیلیوں کی موت ہو گئی۔

 1999ء آسٹریلیائی مشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کو اڑیسہ میں کچھ لوگوں نے جلا کر مار ڈالا۔

 2003ء اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ القاعدہ اور عراق میں کوئی تعلق نہیں۔

 2005ء سونامی: 2004ء میں بحر ہند میں آنے والے ہولناک زلزلے سے متاثرہ افراد کے لئے برطانیہ کے شہر کارڈف کے ملینیئم اسٹیڈیم میں چیرٹی کانسرٹ کا انعقاد ہوا جس میں متاثرین زلزلہ کے لئے 2 اعشاریہ چار ملین ڈالر کی امدادی رقم جمع کی گئی۔

 2006ء ایوو مولرس بولیویا کے پہلے مقامی صدر منتخب ہوئے۔

 2007ء وسطی بغداد میں دو کار بم دھماکوں میں 88 افراد کی موت ہو گئی۔

22 جنوری 2005 : انجلينا مرکل جرمني کي پہلي خاتون چانسلر منتخب ہوئيں

22 جنوری 1986 : امريکي باکسر مائيک ٹائسن نے ٹريور بيربک کو شکست دے کر سب سے کم عمر ہيوي ويٹ چيمپيئن ہونے کا اعزاز حاصل کيا۔

22 جنوری 1972 : امريکا نے چين سے بائيس سالہ سفري پابندي ختم کي

 22 جنوری 1990:۔ وسیم اکرم نے بیٹ سے کینگروز آسٹریلیا میں دھویا...وسیم اکرم ایک بولنگ آل راؤنڈر تھے مگر اس روز انہوں نے اپنی بیٹنگ پرفارمنس کامظاہرہ اس آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں ہی کیا جہاں پر بڑے بڑے بیٹسمینوں کا حلق خشک ہوجاتا ہے، یہ ایڈیلیڈ میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ تھا جس میں وسیم اکرم نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی، پہلی اننگز میں پاکستان 84 رنز پیچھے تھا اور دوسری باری میں 90رنز پر 5 وکٹیں گرچکی تھیں تاہم وسیم اکرم نے 123 رنز بناکر میچ بچالیا، انہوں نے اپنے کپتان عمران خان کے ساتھ 191 رنز کی شراکت کی۔

22 جنوری 1943 : لبنان نے فرانس سے آزادي حاصل کي

 2009ء امریکہ کے صدر بارک اوبامہ نے کیوبا کی متنازعہ گوانتا نامو جیل کو بند کرنے کا حکم دیا۔

2017ء۔گوجرہ میں ریلوے پھاٹک کھلا ہونے کی وجہ سے شالیمار ایکسپریس نے ایک کار کو ٹکر مار دی ۔6 افراد ہلاک۔

*ولادت*

 1263ء جید عالم دین امام ابن تیمیہ رحمت اللہ علیہ حران (شام) میں پیدا ہوئے۔

 1561ء فرانسس بیکن، انگریز مفکر اور مضمون نگار

1975ء۔ریتو شیو پوری۔بھارتی اداکارہ ۔فلم آنکھیں فیم۔

1972ء۔نمرتا شڈوکر۔بھارتی اداکارہ 

*وفات*

 1666ء مغل حکمراں شاہجہاں کا آگرہ میں 74 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔شاہجہاں برصغیر پاک و ہند میں پانچواں مغل بادشاہ تھا جو 5 جنوری1592 کو پیدا ہوا۔ جہانگیر کی وفات کے بعد مختلف شہزادے دعویٰ شہنشاہی لے کر اُٹھے مگر شاہجہاں اپنی زور و صلاحیت کی بناء پر 1628ء میں تخت نشیں ہوا۔ وہ عظیم ماہر تعمیرات بھی تھا، اُس کے عہد کی تعمیرات کی نظیر ثانی نہیں ملتی۔ قریب 30 سال تخت نشیں رہے اور 1658ءمیں اُنہیں معزول کردیا گیا اور مغلوں کا ایک اور عظیم بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تخت نشیں ہوا۔۔

 1858ء ویر نارائن سنگھ، ہندوستانی آزادی پسند کو پھانسی دی گئی۔

 1901ء ملکہ وکٹوریہ، انگلستان پر تریسٹھ سال تخت نشین رہنے کے بعد 82 سال کی عمر میں بالآخر انتقال کر گئیں۔ (پیدائش: 1819ء)

 1922ء پوپ بنیڈیکٹ پندرہویں

 1981ء اشتیاق حسین قریشی، پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم، معروف مورخ، محقق، ڈراما نویس، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر، کولمبیا یونیورسٹی امریکہ کے 'وزیٹنگ پروفیسر' اور بانی چیئرمین مقتدرہ قومی زبان تھے۔ ان کی تصانیف پاکستان سمیت دنیا کے مشہور جامعات میں پڑھائی جاتیں ہیں۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی 20 نومبر، 1903ء کو پٹیالی، ضلع اٹاوہ، اتر پردیش،  ہندوستان میں پیدا ہوئے۔۔1942ء میں انہوں نے سینٹ اسٹیفن کالج،دہلی سے بی اے، تاریخ اور فارسی میں ایم اے کیا۔ اسی ادارے کے شعبہ تاریخ میں لیکچرار سے ملازمت کی ابتدا کی لیکن فوراً بعد کیمبرج یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کے لیے برطانیہ چلے گئے اور پروفیسر ڈاکٹر وائیٹ ہیڈ جو سخت نظم و نسق کی وجہ سے مشہور تھے کی نگرانی میں The Administration of the sultanate of Delhi (سلطنت دہلی کا نظم حکومت) مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہندوستان واپسی پر دہلی یونیورسٹی میں ریڈر مقرر ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر اور پھر ڈین مقرر ہوئے۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی 22 جنوری، 1981ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی کے گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

 اردو کے نامور انشا پرداز ،شاعر،نقاد، مؤرخ اور ماہر تعلیم محمد حسین آزاد 5جون 1830ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی محمد باقر اردو کے پہلے اخبار نویس تسلیم کیے جاتے ہیں ، انہیں 1857ء کی جنگ آزادی میںانگریزوں نے گولی سے اڑا دیا تھا۔ محمد حسین آزاد نے دہلی کالج سے تعلیم حاصل کی اور شاعری میں استاد ابراہیم ذوق کے شاگرد ہوگئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد وہ لاہور پہنچے اور محکمہ تعلیم میں ملازم ہوگئے۔ 1869ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور 1984ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے۔ 1887ء میں انہیں حکومت شمس العلما کا خطاب عطا کیا۔ اسی دوران 1865ء میں انہوں نے انجمن پنجاب قائم کی اور لاہور میں جدید شاعری کی تحریک کی شمع روشن کی۔ اس انجمن کے اہتمام میں انہوں نے نئے طرز کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے عنوانات پر نظمیں پڑھی جاتی تھیں۔ 1889ء میں بیٹی کی وفات کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اسی عالم میں 22 جنوری 1910ء کو وفات پاگئے۔ آپ لاہور میں کربلا گامے شاہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔ مولانا محمد آزادی کی تصانیف میں آب حیات، نیرنگ خیال، سخن دان فارس، دربار اکبری، جانورستان، قصص ہند اور نگارستان کے نام سرفہرست ہیں۔۔

22 جنوری 1999ء کو اردو کے ایک معروف شاعر رضی اختر شوق کراچی میں وفات پاگئے۔ رضی اختر شوق کا اصل نام خواجہ رضی الحسن انصاری تھا اور وہ 23اپریل 1933ء کو سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد دکن سے حاصل کی اور جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر ریڈیو پاکستان سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے اسٹوڈیو نمبر نو کے نام سے بے شمار خوب صورت ڈرامے پیش کئے۔ رضی اختر شوق جدید لب و لہجے کے شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعوں میں مرے موسم مرے خواب  اورجست کے نام شامل ہیں۔ مرے موسم مرے خواب پر انہیں اکادمی ادبیات پاکستان نے ہجرہ ایواڈ بھی عطا کیا تھا۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک  ہیں ۔


22 جنوری 1998ء کو پاکستان کے نامور خطیب اور شاعر علامہ سید عرفان حیدر عابدی ٹریفک کے ایک حادثے میں خالق حقیقی سے جاملے۔ علامہ سید عرفان حیدر عابدی 1950ء میں خیرپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے تعلیمی مراحل خیرپور، جامشورو اور جامعہ کراچی سے مکمل کئے اور عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے والد اور تایا سے حاصل کی۔ علامہ سید عرفان حیدر عابدی نے 1970ء کی دہائی میں خطیب کی حیثیت سے جو شہرت مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی وہ بہت کم خطیبوں کے حصے میں آتی ہے۔وہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان بھر میں بے انتہا مقبول خطیب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر اور نثر نگار بھی تھے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے اور انہوں نے سندھ میں امامیہ کونسل کے کنوینر کے حیثیت سے بھی دینی و ملی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے چند برس پاکستان ٹیلی وژن سے مجالس شام غریباں سے بھی خطاب کیا۔ وہ کراچی میں مسجد خیرالعمل، انچولی سوسائٹی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
 1992ء علی امینی، ایرانی وزیراعظم
 2008ء ہیتھ لیجر، آسٹریلوی اداکار


No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...