Ad3

آڑو کے فائدے

تقریباً تیس برس پہلے ہمارے ملک میں لمبا اور گول دو قسم کا آڑو پایا جاتا تھاجسکا اب نام و نشان تک نہیں ہے۔دوسرے پھلوں کی طرح اب فارمی آڑو پایا جاتا ہے۔یہ بیضوی شکل کا تقریباً 200 گرام تک وزنی نہایت سرخی مائل زرد رنگ،نازک جسم، خوبصورت روئیں دار، قدرے ترشی کا حامل ہوتا ہے۔اس کی کاشت پہاڑی علاقوں میں دس ہزار فٹ کی بلندی کے علاوہ اب میدانی علاقوں میں بھی ہونے لگی ہے۔ اس کا پودا چھے سے دس فٹ تک بلند جھاڑی دار،پتے ڈھائی تین انچ لمبے اور آگے سے نوک دار ہوتے ہیں۔اس کے گلابی رنگ کے خوبصورت پھول نکلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کا اصل وطن چین تھا لیکن دوہزار سال قبل روم میں کاشت کیا جانے لگا۔آہستہ آہستہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے اور یو ں ہمارے ملک میں بھی کاشت کیا جانے لگا۔ یہ زیادہ ترکوئٹہ میں خوب پھلتا ہے اور وہیں کا آڑو لزت بخش، کم ترش، شیریں اور کثیر الغذا ہے۔ ہری پور اور ہزارہ کی طرف بھی کاشت کیا جاتا ہے لیکن کوئٹہ کا معیار عمدہ ہے۔آم کا موسم ختم ہورہا ہوتا ہے تو آڑو کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ اسے درختوں سے نیم پختہ ہی توڑ لیا جاتا ہے اور لکڑی کی پیٹیوں میں اخبار کے اندر ڈھک دیا جاتا ہے اور یہ چار سے پانچ روز میں پک جاتا ہے۔ اگر اس میں مصالحے کی پُڑیا(کاربورائیڈ)رکھ دی جائے تو 24 گھنٹوں میں پک جاتا ہے جو کہ مضرِ صحت ہے۔ اس کیمیکل والے آڑو کو کھانے سے منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں۔
غذائی اجزاء
اگر آڑو 100 گرام کا ہو تو اس میں درج ذیل غذائی اجزاءپائے جاتے ہیں۔
لحمی اجزاء 100 گرام
نشاستہ دار اجزاء 129 ملی گرام
وٹامن اے 2790 یونٹ
وٹامن بی 3 ملی گرام
وٹامن سی 7 ملی گرام
حرارے 40-50ملی گرام
پوٹاشیم 280 ملی گرام
کیلشیم 16 گرام
فولاد 5 گرام
فاسفورس 23 ملی گرام
اور دیگرریشہ دار اجزاء ترشی اور مٹھاس کے مطابق تھوڑی سی کمی بیشی کے حساب سے پائے جاتے ہیں.
مزاج
اگرترش ہو تو سرد خشک درجہ دوم اور اگرشیریں ہو توسرد تر درجہ دوم ہے۔
مقدار خوراک
کثیر الغذا ہے لیکن 100-400 گرام تک کھایا جاتا ہے۔
فوائد
آنتوں کوترم کرتا ہے ۔
قبض کو دور کرتا ہے۔
مقوی و محرک عضلات ہے۔
دل کو تقویت دیتا ہے۔
معدہ کے عضلاتی حصے کے لئے قوت بخش ہے۔
مسکن جوش خون ہونے کیوجہ سے خون میں سے صفراوی امراض کو دور کرتا ہے۔
عضلات کو قوت دیتا ہے اور ان میں تحریک پیدا کرتا ہے اس لئے بلڈ شوگر اور پیشاب میں شوگر آنے کو مفید ہے۔
انسولین کو عضلات میں ہضم کرکے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
پیٹ کے کیڑوں کے لئے خاص طور پر مفید ہے۔



No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...