درویش اپنی جگہ سے اٹھا‘ زمین پر گرے شخص کے قریب آیا‘ ہاتھ سے اس کی کھلی آنکھیں بند کیں‘ بادشاہ کو قریب بلایا اور اس بدنصیب شخص کی لاش دکھا کر بولا’’ بادشاہ سلامت حرص کے بیوپاری کبھی خوش نہیں رہ سکتے‘ یہ شخص مجھ سے بہتر زندگی گزار رہا تھا‘ میرے پاس کپڑوں کا ایک جوڑا‘ لکڑی کے جوتے‘ دو کمبل اور ایک پیالے کے سوا کچھ نہیں ‘ میں شہر سے کوسوں دور پہاڑ پر رہتا ہوں‘ پھل کھاتا ہوں اور ندیوں کا پانی پیتا ہوں لیکن خوش ہوں‘ کیوں؟ کیونکہ میں لالچ نہیں کرتا جبکہ آپ میرے مقابلے میں اس شخص کے اثاثے دیکھئے‘ یہ شخص مجھ سے ہزار درجے بہتر ہو گا‘ اس کے پاس مکان بھی ہو گا‘ بیوی بچے بھی‘ کپڑے بھی‘ سواری بھی‘ دال اناج بھی اور زمین جائیداد بھی لیکن یہ اس کے باوجود زمین پر گر کر مر گیا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ اپنے اندر کے لالچی انسان کو قابو میں نہ رکھ سکا‘ یہ دیوانہ وار خواہشوں کے پیچھے بھاگتا رہا‘ یہ کبھیکسی کو درخواست دے دیتا اورکبھی آپ کو عرضی بھجوا دیتا‘ قسمت نے یاوری کی اس کی لاٹری نکل آئی‘ آپ نے اسے زمین گھیرنے کی اجازت دے دی‘ یہ بھاگا لیکن اس کا لالچ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑا‘ یہ اگر سمجھ دار ہوتا‘ یہ اگر درمیان میں قناعت کر لیتا‘ یہ رک جاتا‘ یہ جو حاصل ہو گیا اس پر اکتفا کر لیتا‘ یہ شکر ادا کرتا اور زندگی کو انجوائے کرنا شروع کر دیتا تو یہ نعمت اس کیلئے کافی ہوتی لیکن یہ لالچ کے گھوڑے سے نہ اترا‘ یہ بھاگتا رہا یہاں تک کہ لالچ نے اس کی جان لے لی‘‘ درویش نے لمبی سانس لی اور بولا ’’ بادشاہ سلامت! حرص اور خوشی دونوں سوتنیں ہیں‘یہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو لالچ کو طلاق دینا ہو گی‘ خوشی خود بخود آپ کے گھر میں بس جائے گی لیکن آپ اگر لالچ کے گھوڑے پر بیٹھ کر خوشی کی تلاش میں سرپٹ بھاگتے رہے تو آپ کا انجام بھی اس شخص جیسا ہو گا‘ آپ بھی عبرت کا رزق بن جائیں گے‘‘ بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے گلوگیر لہجے میں عرض کیا ’’ جناب! بادشاہت حرص کی دلدل ہوتی ہے‘آپ بادشاہ ہوتے ہوئے خود کو لالچ سے کیسے بچا سکتے ہیں‘‘ درویش نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’ اختیار میں اضافہ بادشاہوں کی حرص ہوتی ہے اور جو بادشاہ زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں اور زمین پر پڑے اس شخص میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘ آپ اختیارات سمیٹنے کی بجائے اختیارات بانٹنا شروع کر دیں‘ آپ کو خوشی مل جائے گی‘‘۔
Ad3
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Welcome
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن
تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ تیر...
-
1493ء پوپ ایلکسینڈر ششم نے نئی دنیا کو ہسپانیہ اور پرتگال کے درمیان تقسیم کر دیا۔ 1494ء کرسٹوفر کولمبس جمیکا میں اترے۔ 1780ء مریکی آرٹ و ...
-
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّ...
-
سردیوں میں تِل کے فائدے ہی فائدے ماہرین غذائیت کے مطابق تل بہت توانائی بخش غذاہے ۔ جو گوشت کے خواص رکھتی ہے درحقیقت تِل طاقت حاصل کرنے ا...
-
او سجنڑ زهن توں اوکهے لاهندن🌹 جیهڑے دل اچ گھر کر ویندن🌿 ساری زندگی درد وسردے نئیں🌹 ان...
-
پشاور سے میرے لیے دنداسہ لانا یہ گانا ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں مگر کبھی کسی نے اس بارے میں سوچنے کا تردد نہیں کیا کہ کیا وجہ ہے کہ خاتون...
-
چائے پینا تو اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے مگر کیا کبھی آپ نے سوچا کہ اس سطح پرجو تہہ جم جاتی ہے، وہ کیا ہے اور کیا اسے پی لینا کوئی نقصان تو ن...
-
سر آئی نوں آپ نبھاونڑاں پوندااے بندہ کہیں نوں کے ونج دسے جیہڑے ہرتکلیف دے ضامن ہاۓ اوہا تاڑیاں مار کے ہسے غربت دیاں ڈوگھیاں بھنوراں ...
-
بھانویں جیڈا وی شجر حَسین ھووے تھلو مٹی دی بنیاد ھوندۓ کوٹھے اکثر تگدن ایریاں تے چھت جتنڑاں وی بااعتماد ھوندۓ چنگے خون دے بیلی بندیاں نوں ...
-
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمِّه أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ...
-
ناہیں سچ تے کووڑ دی پرکهہ سجنڑ ہاسے کملے ٹهڈیوں لا دے ہر بشر دی گل تے وس ونجڑاں راہنڑے ذہن اچ شوق وفا دے ڈنگ گزر ویسن تکلیفاں دے راہسی گل...
No comments:
Post a Comment