Ad3

حرص کے بیوپاری

درویش اپنی جگہ سے اٹھا‘ زمین پر گرے شخص کے قریب آیا‘ ہاتھ سے اس کی کھلی آنکھیں بند کیں‘ بادشاہ کو قریب بلایا اور اس بدنصیب شخص کی لاش دکھا کر بولا’’ بادشاہ سلامت حرص کے بیوپاری کبھی خوش نہیں رہ سکتے‘ یہ شخص مجھ سے بہتر زندگی گزار رہا تھا‘ میرے پاس کپڑوں کا ایک جوڑا‘ لکڑی کے جوتے‘ دو کمبل اور ایک پیالے کے سوا کچھ نہیں ‘ میں شہر سے کوسوں دور پہاڑ پر رہتا ہوں‘ پھل کھاتا ہوں اور ندیوں کا پانی پیتا ہوں لیکن خوش ہوں‘ کیوں؟ کیونکہ میں لالچ نہیں کرتا جبکہ آپ میرے مقابلے میں اس شخص کے اثاثے دیکھئے‘ یہ شخص مجھ سے ہزار درجے بہتر ہو گا‘ اس کے پاس مکان بھی ہو گا‘ بیوی بچے بھی‘ کپڑے بھی‘ سواری بھی‘ دال اناج بھی اور زمین جائیداد بھی لیکن یہ اس کے باوجود زمین پر گر کر مر گیا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ اپنے اندر کے لالچی انسان کو قابو میں نہ رکھ سکا‘ یہ دیوانہ وار خواہشوں کے پیچھے بھاگتا رہا‘ یہ کبھیکسی کو درخواست دے دیتا اورکبھی آپ کو عرضی بھجوا دیتا‘ قسمت نے یاوری کی اس کی لاٹری نکل آئی‘ آپ نے اسے زمین گھیرنے کی اجازت دے دی‘ یہ بھاگا لیکن اس کا لالچ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑا‘ یہ اگر سمجھ دار ہوتا‘ یہ اگر درمیان میں قناعت کر لیتا‘ یہ رک جاتا‘ یہ جو حاصل ہو گیا اس پر اکتفا کر لیتا‘ یہ شکر ادا کرتا اور زندگی کو انجوائے کرنا شروع کر دیتا تو یہ نعمت اس کیلئے کافی ہوتی لیکن یہ لالچ کے گھوڑے سے نہ اترا‘ یہ بھاگتا رہا یہاں تک کہ لالچ نے اس کی جان لے لی‘‘ درویش نے لمبی سانس لی اور بولا ’’ بادشاہ سلامت! حرص اور خوشی دونوں سوتنیں ہیں‘یہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو لالچ کو طلاق دینا ہو گی‘ خوشی خود بخود آپ کے گھر میں بس جائے گی لیکن آپ اگر لالچ کے گھوڑے پر بیٹھ کر خوشی کی تلاش میں سرپٹ بھاگتے رہے تو آپ کا انجام بھی اس شخص جیسا ہو گا‘ آپ بھی عبرت کا رزق بن جائیں گے‘‘ بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے گلوگیر لہجے میں عرض کیا ’’ جناب! بادشاہت حرص کی دلدل ہوتی ہے‘آپ بادشاہ ہوتے ہوئے خود کو لالچ سے کیسے بچا سکتے ہیں‘‘ درویش نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’ اختیار میں اضافہ بادشاہوں کی حرص ہوتی ہے اور جو بادشاہ زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس میں اور زمین پر پڑے اس شخص میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘ آپ اختیارات سمیٹنے کی بجائے اختیارات بانٹنا شروع کر دیں‘ آپ کو خوشی مل جائے گی‘‘۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...