کاسنی زمانہ قدیم سے غذا اور دوا کے طور پرمقبول چلی آرہی ہے یورپ میں زیادہ تر خورد (کھائی)جاتی ہے اور وہاں پر جنگلوں میں لگنے والی کاسنی کو امراض تنفس کے علاج میں بڑی مقبولیت حاصل ہے اب بھی جنگلی کاسنی کا شربت syrup of wild chicory کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے جسے بچوں کی کھانسی
کے لئے مفید مانا جاتا ہے پاکستان بھارت بنگلہ دیش میں کاسنی کو جانوروں کے چارے کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے کاسنی کے پتے پھول جڑیں اور بیج دوا کے طور پر استعمال کئیے جاتے ہیں
عربی زبان میں اسے ہند باء اور عرف عام میں "بزر اللہ” کہتے ہیں کیونکہ احادیث میں اس کی کافی زیادہ تعریفیں ملتی ہیں
"احادیث نبوی” صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے
تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوں
اک جگہ پر اور حدیث شریف ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے کاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو مت کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب اس پر جنت کے پانی کے چھنٹے نہ گرتے ہوں
جس نےکاسنی کھا ئیں اور سو گیا اس پر جادو اور زہر بھی اثر انداز نہ ہو گا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے اسے کسی خاص بیماری یا حالات میں تجویز نہیں فرمایا بلکہ اہمیت ہی اس انداز میں بتائی ہے کہ اس کے استعمال میں برکت ہی برکت ہے اس کو جس کیفیت میں بھی استعمال کریں گے برکت ہوگی یہی وجہ ہے کہ اطباء نے اس کو سینکڑوں بیماریوں میں استعمال کروایا اور آج تک ان کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا ہر بیماری میں مفید پایا ہے
اطباء کے مشاہدات اور تجربات
کاسنی کے پتوں کا رس نچوڑ کر بچھو کے کاٹنے پر لگانے سے درد اور ورم ختم ہو جاتا ہے اور اگر آنکھوں میں ڈالا جائے تو سفید موتیا کے لئے مفید ہے کاسنی مزاج کو درست کرتی ہے قبض کرتی ہے ہاتھوں میں جلن کو دور کرتی ہے آنتوں میں جلن کو رفع کرتی ہے معدہ کے لئے بہت مفید ہے
اگر اس کو پکا کر سرکہ کے ساتھ کھایا جائے تو پیٹ کی بیماریوں کے لئے اکسیر کا درجا رکھتی ہے جگر کے سدے کھولنے کے لئے اس کا عرق استمعال کریں کالے یرقان میں اندرونی طور پر آنتوں میں سے خون آتا ہے آنتوں کے پنکچر ہونے سے اگر عرق کاسنی اور مکوہ
کا استعمال کیا جائے تو بہت زیادہ فایدہ ہونے کی قوی امید ہے اس کے پتے چبانے سے منہ سے خون آنے کو روکتا ہے پیٹ میں پانی پڑ جائے اس کے لئے فایدہ مند ہے گردوں اور پیشاب کی نالیوں میں سے رکاوٹ دور کرتی ہے پتھریاں بھی نکالتی ہے گردوں میں سے۔۔۔
کاسنی کے ہرے پتے سرکہ اور صندل ملا کر ماتھے پر لگانے سے گرمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سر درد کو فایدہ مند ہیں گلے کی سوجن کے لئے اس کے پانی میں تھوڑا نمک ملائیں اور غرارے کروائیں
جدید ریسرچ کے مطابق بڑھی ہوئی تلی بخاروں اور اسہال میں مفید ہے پیشاب آور بھی ہے بھوک کی کمی جسمانی کمزوری میں بھی استعمال کروائیں
کے لئے مفید مانا جاتا ہے پاکستان بھارت بنگلہ دیش میں کاسنی کو جانوروں کے چارے کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے کاسنی کے پتے پھول جڑیں اور بیج دوا کے طور پر استعمال کئیے جاتے ہیں
عربی زبان میں اسے ہند باء اور عرف عام میں "بزر اللہ” کہتے ہیں کیونکہ احادیث میں اس کی کافی زیادہ تعریفیں ملتی ہیں
"احادیث نبوی” صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے
تمہارے لیے کاسنی موجود ہے کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب جنت کے پانی کے قطرے اس پر نہ گرتے ہوں
اک جگہ پر اور حدیث شریف ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے کاسنی کھاؤ مگر اسے جھاڑو مت کیونکہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب اس پر جنت کے پانی کے چھنٹے نہ گرتے ہوں
جس نےکاسنی کھا ئیں اور سو گیا اس پر جادو اور زہر بھی اثر انداز نہ ہو گا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے اسے کسی خاص بیماری یا حالات میں تجویز نہیں فرمایا بلکہ اہمیت ہی اس انداز میں بتائی ہے کہ اس کے استعمال میں برکت ہی برکت ہے اس کو جس کیفیت میں بھی استعمال کریں گے برکت ہوگی یہی وجہ ہے کہ اطباء نے اس کو سینکڑوں بیماریوں میں استعمال کروایا اور آج تک ان کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا ہر بیماری میں مفید پایا ہے
اطباء کے مشاہدات اور تجربات
کاسنی کے پتوں کا رس نچوڑ کر بچھو کے کاٹنے پر لگانے سے درد اور ورم ختم ہو جاتا ہے اور اگر آنکھوں میں ڈالا جائے تو سفید موتیا کے لئے مفید ہے کاسنی مزاج کو درست کرتی ہے قبض کرتی ہے ہاتھوں میں جلن کو دور کرتی ہے آنتوں میں جلن کو رفع کرتی ہے معدہ کے لئے بہت مفید ہے
اگر اس کو پکا کر سرکہ کے ساتھ کھایا جائے تو پیٹ کی بیماریوں کے لئے اکسیر کا درجا رکھتی ہے جگر کے سدے کھولنے کے لئے اس کا عرق استمعال کریں کالے یرقان میں اندرونی طور پر آنتوں میں سے خون آتا ہے آنتوں کے پنکچر ہونے سے اگر عرق کاسنی اور مکوہ
کا استعمال کیا جائے تو بہت زیادہ فایدہ ہونے کی قوی امید ہے اس کے پتے چبانے سے منہ سے خون آنے کو روکتا ہے پیٹ میں پانی پڑ جائے اس کے لئے فایدہ مند ہے گردوں اور پیشاب کی نالیوں میں سے رکاوٹ دور کرتی ہے پتھریاں بھی نکالتی ہے گردوں میں سے۔۔۔
کاسنی کے ہرے پتے سرکہ اور صندل ملا کر ماتھے پر لگانے سے گرمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سر درد کو فایدہ مند ہیں گلے کی سوجن کے لئے اس کے پانی میں تھوڑا نمک ملائیں اور غرارے کروائیں
جدید ریسرچ کے مطابق بڑھی ہوئی تلی بخاروں اور اسہال میں مفید ہے پیشاب آور بھی ہے بھوک کی کمی جسمانی کمزوری میں بھی استعمال کروائیں

No comments:
Post a Comment