Ad3

6 جون تاریخ کے آئینے میں

آج سال کا 157 واں دن ہے اور سال ختم ہونے میں ابھی 208 دن باقی ہیں ۔

1967ء اسرائیلی فوج نے غزہ پر قبضہ کیا

1752ء ماسکو میں آ تشزدگی سے اٹھارہ ہزار گھر جل کر راکھ،شہر کا ایک تہائی حصہ تباہ ہوگیا

1974ء فرانس اور ایران نے امن معاہدے پر دستخط کیے

1960ء۔۔ ڈنمارک اور سوئیڈن نے امن معاہدے پر دستخط کیے

2013ء - میاں محمد شہباز شریف تیسری بار پنجاب کے وزیر اعلی منتخب۔

6جون2013ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم اہل قلم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ نامور مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر شفیق الرحمٰن کا ایک خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا۔ آٹھ روپے مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ  عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں MEN OF LETTERSاورSHAFIQ-UR-REHMAN 1920 2000 کے الفاظ تحریر تھے۔

ولادت۔

1875ء۔تھامس مان۔ نوبل انعام یافتہ جرمن مصنف اور تنقید نگار۔وفات۔1955.

1901.ء۔احمد سوئکارنو۔ انڈونیشیا کے پہلے صدر۔تاریخ وفات۔21 جون 1970.
18 اگست 1945 سے لے کر 12 مارچ 1967 تک انڈونیشیا کے صدر رہے۔

1928ء۔۔سنیل دت۔بھارتی اداکار۔پیدائشی نام بلراج دت۔سنجے دت کے والد۔25 مئی 2005 کو انتقال ہوا۔

1943ء۔۔آصف اقبال رضوی۔پاکستانی کرکٹر۔

1988ء۔۔نہیا ککڑ۔بھارتی گلوکارہ۔

وفات

1964ء ـ پروفیسر حامد حسن قادری ( پاکستان کے تاریخ گو شاعر،محقق، مورخ، پروفیسر، نقاد بمقام کراچی

6 جون 1962ء پاکستان کے مشہور سیاست دان اور صحافی میاں افتخار الدین کی تاریخ وفات ہے۔ میاں افتخار الدین 8اپریل 1907ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوںنے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا تھا لیکن 1945ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد میاں صاحب پنجاب کی صوبائی وزارت میں مہاجرین بحالیات کے وزیر رہے لیکن چند ہی ماہ کے بعدوہ وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ سے اختلاف کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ وہ پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے صدر بھی رہے لیکن اپنی نظریات کی بنا پر 17 جون 1950ء کو مسلم لیگ سے خارج کردیئے گئے جس کے بعد نومبر 1950ء میں ا نہوںنے اپنے کچھ ہم خیال دوستوں کے ہمراہ آزاد پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1955ء میں وہ دوسری مرتبہ دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1956ء میں انہوں نے اپنی پارٹی کو نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کردیا۔ میاں افتخار الدین سیاست کے علاوہ صحافت کے میدان بھی بڑے فعال تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ پروگریسو پیپرز کا قیام تھا جس کے زیر اہتمام انہوں نے پاکستان ٹائمز‘ امروز اور لیل و نہار جیسے اخبار و جرائد جاری کیے۔ میاں افتخار الدین نہایت زیرک‘ فعال‘ سیماب صفت اور اپنے موقف پر اڑنے اور لڑنے والے کردار کے مالک تھے۔ اکتوبر 1958ء کے مارشل لاء کے بعد انہیں بے انتہا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اپریل 1959ء میں مارشل لاء حکومت نے ان کے ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ میاں افتخار الدین نے حکومت کے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن ایک مارشل لاء آرڈیننس کے ذریعے اس معاملے میں عدالت کا دائرۂ اختیارختم کردیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد میاں افتخار الدین شدید عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے اور اسی عارضے میں 6 جون 1962ء کو انتقال کرگئے۔ وہ باغبان پورہ لاہور میں اپنے خاندانی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں 

6 جون 1993ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار کمال احمد لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ کمال احمد 1937ء میں گوڑ گانواں (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتداہی سے انہیں موسیقی سے شغف تھا۔ ان کو سب سے پہلے فلم شہنشاہ جہانگیر میں موسیقی دینے کا موقع ملا تاہم ان کی فنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار فلم دیا اور طوفان میں ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد فلموں میں موسیقی دی جن میں رنگیلا، دل اور دنیا، تیرے میرے سپنے، دولت اور دنیا، راول، بشیرا، وعدہ، سلسلہ پیار دا، دلہن ایک رات کی، کندن، محبت اور مہنگائی، عشق عشق، مٹھی بھر چاول، عشق نچاوے گلی گلی، سنگرام، ان داتا اور متعدد فلمیں شامل ہیں۔ کمال احمد نے اپنی بہترین موسیقی پر 6 مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں جن فلموں کی موسیقی ترتیب دینے پر نگار ایوارڈز حاصل ہوا ان کے نام تھے عشق نچاوے گلی گلی، میں جینے نہیں دوں گی، کندن، آسمان، آندھی اور آج کا دور۔ 

پاکستان کے مشہور پہلوان یونس پہلوان کا 6جون1964ء کو گوجرانوالہ میں انتقال ہوا۔یونس خان 30دسمبر1925ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ وہ رستم ہند رحیم پہلوان سلطانی والا کے شاگرد تھے۔ انہوں نے پہلا دنگل 1941ء میں لڑا اور فیض گوجرانوالیہ اور یکہ پہلوان کو یکے بعد دیگرے شکست دی، اگلے برس انہوں نے رستم پنجاب چراغ نائی پہلوان کوہرا کر رستم پنجاب کا خطاب حاصل کیا۔ پھر انہوں نے کیسر پہلوان، ہزارہ سنگھ، گنڈا سنگھ، پورن پہلوان اور کئی دوسرے پہلوانوں کو یکے بعد دیگرے شکست دی۔  1948ء میں انہوں نے منٹو پارک لاہور میں بھولو پہلوان سے مقابلہ کیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 1949ء میں کراچی میں یہ دونوں پہلوان ایک مرتبہ پھر نبرد آزما ہوئے مگر اس مرتبہ بھی بھولو پہلوان کا پلہ بھاری رہا اور وہ یونس پہلوان کو شکست دے کر رستم پاکستان بن گئے۔ یونس پہلوان کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے ستارۂ پاکستان کا خطاب عطا کیا تھا۔ وہ گوجرانوالہ کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

6 جون 2003ء کو پاکستان کے معروف کلاسیکی گلوکار استاد ذاکر علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔ استاد ذاکر علی خان 1945ء میں ضلع جالندھر کے مشہور قصبے شام چوراسی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے مشہور شام چوراسی گھرانے سے تھا۔ وہ استاد نزاکت علی خان، سلامت علی خان کے سب سے چھوٹے بھائی تھے اور اپنے بڑے بھائی اختر علی خان کے ساتھ مل کر گاتے تھے۔ 1958ء میں انہوں نے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان ملتان سے اپنی گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ان کی عمر 12، 13 برس تھی۔ بعدازاں انہیں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں مدعو کیا جاتا رہا۔ انہوں نے بیرون ملک بھی کئی مرتبہ اپنی گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ خصوصاً 1965ء میں کلکتہ میں ہونے والی آل انڈیا میوزک کانفرنس میں ان کی پرفارمنس ان کی بڑی یادگار پرفارمنس سمجھی جاتی ہے، اس پرفارمنس پر انہیں ٹائیگر آف بنگال کا خطاب ملا تھا۔ استاد ذاکر علی خان  نے موسیقی کی مشہور کتاب نورنگ موسیقی تحریر کی تھی۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

تعطیلات و تہوار

1809ء سوئیڈن نے آزادی کا اعلان کیا .

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...