Ad3

31 دسمبر تاریخ کے آئینے میں

 1600ء برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام عمل میں آیا۔

1857ء اوٹاوا کو کینیڈا کا دارالحکومت منتخب کیا گیا۔

 1885ء لاہور میں پنجاب پبلک لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔

 1879ء تھامس ایڈیسن نے برسر عام روشنی کے بلب کا مظاہرہ کیا۔

 1904ء پہلی بار نئے سال کا جشن نیویارک، امریکہ میں منایا گیا۔

1909ء نیویارک سے گزرنے والا مین ہٹن بِرج عوام کے لئے کھول دیا گیا۔

 1944ء دوسری عالمی جنگ میں ہنگری نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

 1946ء امریکی صدر ہیری ٹرومین نے باضابطہ طور پر دوسری عالمی جنگ کے اختتام کا اعلان کیا۔

 1999ء روسی صدر بورس یلسن اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

 31 دسمبر 2003ء کو سیرینا ہوٹل، فیصل آباد میں 48 افراد نے 8154 شمعیں جلاکر مشہور دواساز کمپنی سینڈوز کا لوگو بنایا۔ گنیز بک کے مطابق یہ ایک وقت میں سب سے زیادہ شمعیں جلانے کا عالمی ریکارڈ ہے۔

 31 دسمبر1961ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے محکمہ ریلوے کے قیام کے سو سال مکمل ہونے پر دو یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا۔ان میں سے ایک ڈاک ٹکٹ پر سو سال پرانا ریلوے انجن بنا تھا اور پس منظر میں1861ء تحریر تھا جبکہ دوسرے ڈاک ٹکٹ پر جدید ریلوے انجن بنا تھا اور پس منظر میں1961ء تحریر تھا۔

1971ء۔۔پاکستان کی فاتح ہاکی ٹیم کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ کا اجرأ۔اکتوبر 1971ء میں اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد ہونے والا پہلا عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ جیت کر پاکستان نے ہاکی کا گرینڈ سلام حاصل کرلیا کیونکہ اولمپکس اور ایشیائی کھیلوں میں ہاکی کے ٹائٹل پہلے ہی اس کے پاس تھے۔ پاکستان کے اس منفرد اعزاز پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے 31 دسمبر 1971ء کو 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پاکستان ہاکی ٹیم کا لوگو بنا تھا اور World Hockey Champions (Barcelona 1971)کے الفاط تحریر کیے گئے تھے۔   یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر فضل کریم نے ڈیزائن کیا تھا

1975ء میں پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تحفظ جنگلی حیات کے عنوان سے ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا ۔ اس سیریز کے دوسرے دو ڈاک ٹکٹ 31دسمبر1975ء کو جاری ہوئے جن پرجنگلی بکرے URIAL کی تصاویر بنی تھیں۔ 20 پیسے اور تین روپے مالیت کے ان دو یادگاری ڈاک ٹکٹوں ڈیزائن پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر منور احمد نے تیا رکیا تھا۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر  “Protect Wild Life”اور’’URIAL‘‘کے الفاظ طبع کیے گئے تھے

1982۔۔نئی دہلی میں ایشیائی کھیلوں میں کشتی رانی کے شعبے میں فتوحات کے یادگاری ڈاک جاری ہوئے۔ 1982ء میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں نویں ایشیائی کھیلوں کا انعقاد ہوا۔ ان ایشیائی کھیلوں میں پاکستان نے گیارہ تمغے جیتے جن میں تین طلائی، تین نقرئی اور پانچ کانسی کے تمغے شامل تھے۔پاکستان نے جن کھیلوں میں طلائی تمغے جیتے ان میں ہاکی اور کشتی رانی شامل تھے۔ کشتی رانی میں پاکستان نے دو طلائی تمغے جیتے جن میں سے ایک طلائی تمغہ بہرام آواری اور ان کی بیوی گوشپی آواری نے انٹرپرائز کے شعبہ میں جیتا جبکہ دوسرا طلائی تمغہ کیپٹن خالد اختر نے او کے ڈنگھی کے شعبہ میں جیتا۔ کشتی رانی کے مقابلوں میں پاکستان کی اس کامیابی کو منانے کے لیے پاکستان کے محکمہ ڈاک نے 31دسمبر 1983ء کو 60، 60 پیسے مالیت کے دو ڈاک ٹکٹ جاری کیے جن پر کشتیوں کی تصاویر بنی تھیں۔ اورIX  ASIAN GAMES DELHI 1982  کے الفاظ تحریر تھے اور ایشیائی کھیلوں کا لوگو بنا تھا۔ ان میں سے ایک ڈاک ٹکٹ پر ENTERPRISE اور دوسرے پرOK  DINGHY کے الفاظ بھی تحریر  کیے گئے تھے ۔ یہ خوبصورت ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی کارپوریشن کی ڈیزانر محترمہ جبیں سلطانہ نے ڈیزائن کیے تھے۔

31 دسمبر  1984ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے موہن جو ڈاروکے آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے  یونیسکو کی جانب سے چلائی جانے والی مہم کے سلسلے میں دو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے جن میں سے ہر ایک کی مالیت دو روپے تھی۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر موہن جوڈارو کی کھدائی سے برآمد ہونے والی ایک مہر اور ایک مجسمے کی تصاویر بنی تھیں اور SAVE MOENJODARO کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے آرٹسٹ  عادل صلاح الدین اور ایم اے منور نے ڈیزائن کیے تھے۔

 31 دسمبر 1987ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ریڈیو پاکستان کی نئی طرز نشریات کے آغازکے موقع پر 80 پیسے مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ جس پرریڈیو پاکستان کا لوگو بنا تھا اور  نئی طرز نشریات  ریڈیو پاکستان  1987ء کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

 31 دسمبر 1989ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سینٹر آن انٹیگریٹڈ رورل ڈیولپمنٹ فار ایشیا اینڈ پیسیفک کے قیام کی دس سالہ سالگرہ کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر ایک کھیت کی تصویر اورسینٹر آن انٹیگریٹڈ رورل ڈیولپمنٹ فار ایشیا اینڈ پیسیفک کا لوگوشائع کیا گیا تھا اورFIRST DECADE 1979- 1989 (CIRDAP)10th ANNIVERSARY OF CENTRE ON INTEGRATED RURAL DEVELOPMENT FOR ASIA AND PACIFIC کے الفاظ طبع کیے گئے تھے۔تین روپے مالیت کا یہ یادگاری ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

1994ء۔۔ہاکی کے عالمی کپ کی فتح پر یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرأ۔ 4دسمبر 1994ء کو پاکستان نے چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا  ہاکی کے عالمی کپ کی اس یادگارفتح پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے31دسمبر 1994ء کوپانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر عالمی ہاکی کپ کی چاروں ٹرافیوں کی تصویربنی تھی اور انگریزی میں WORLD CUP HOCKEY 1994 کے الفاظ لکھے تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنرجاوید الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔

 31دسمبر 1995ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بلوچستان یونیورسٹی کے قیام کی سلور جوبلی کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر اس یونیورسٹی کی تصویر اور لوگو شائع کیا گیاتھااورانگریزی میں Silver Jubilee UNIVERSITY OF BALUCHISTAN QUETTA 1970-1995 کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت سوا روپے تھی اور اسے الیاس جیلانی نے ڈیزائن کیا تھا۔

 31دسمبر 2010ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اسلام آباد کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پرایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرپارلیمنٹ ہاؤس کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت پانچ روپے تھی اور  اس پر1960-2010 50 GLORIOUS YEARS ISLAMABAD  The Green City CDA کے الفاظ تحریر تھے ۔اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن سی ڈی اے نے فراہم کیا تھا۔

 31 دسمبر 2011ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول، کراچی کے قیام کی ڈیڑھ سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا جس پر اس اسکول کی عمارت کی دو تصاویر شائع کی گئی تھیں۔ اس ڈاک ٹکٹ پر اس کالج کا لوگو بھی بنا تھا اور انگریزی میں ST. PATRICK'S HIGH SCHOOL, KARACHI اور   150 YEARS OF DEDICATED SERVICE TO GOD AND COUNTRY کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت آٹھ روپے تھی اور اسے نوید اعوان نے ڈیزائن کیا تھا۔

 31دسمبر 2014ء کو اُردو کے نامور شاعر خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی سو ویں برسی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جن پر خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی تصویر شائع کی گئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پر اُردو میں خواجہ الطاف حسین حالیؔ کا ایک مشہور شعر ہے: جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جاکر نظر کہاں اورانگریزی میں 100th DEATH ANNIVERSARY MOULANA ALTAF HUSSAIN HALI کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ڈیزائنر عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کی مالیت آٹھ روپے تھی

ولادت :
۔""""""

 695ء عماد الدین محمد بن قاسم، شامی جنرل ، بنو امیہ کا مشہور سپہ سالار اور حجاج بن یوسف کے بھتیجا تھے۔  (وفات: 715ء)

1491ء جیکس کارٹیئر، فرانسیسی مستکشفہ اور جہاز راں (وفات: 1557ء)

 1738ء چارلس کارنوالس, انگریز جرنیل اور سیاست دان، (14 جون 1798ء تا 27 اپریل 1801ء) لارڈ لیفٹیننٹ آئرلینڈ اور (12 ستمبر 1786ء تا 28 اکتوبر 1793ء) تیسرا اور (30 جولائی 1805ء تا 5 اکتوبر 1805ء) ساتواں گورنر جنرل فورٹ ولیم پریزیڈینسی بنگال (وفات: 1805ء)

 1817ء حضرت شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی فاروقی، مسلم صوفی بزرگ، عالم دین ، مرشدوں کے مرشد ، جنت المعلیٰ، مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں دفن ہوئے۔ (وفات: 1896ء)

 1830ء اسماعیل پاشا، مصری سیاستدان ، خدیو مصر جس کے عہد میں نہر سویز تعمیر ہوئی۔ ریلیں نکالی گئیں۔ بینک قائم ہوئے اور تجارت کو جدید طرز پر منظم کیا گیا۔ اسماعیل پاشا نے بحری فوج پربے انداز روپیہ خرچ کیا۔ جس کیوجہ سے حکومت مغربی طاقتوں کی مقروض ہو گئی اور برطانیہ نے دباؤ ڈال کر اس قرضے کے عوص نہر سویز کے حصص خرید لیے مغربی طاقتوں کی سازشوں سے ملک میں بے اطمینانی پھیل گئی۔ چنانچہ 1879ء میں اسماعیل پاشا کو معزول کر دیا گیا۔ (وفات: 1895ء)

 1869ء ہنری ماٹس، فرانسیسی مصور اور مجسمہ ساز (وفات: 1954ء)

 1880ء جارج مارشل جونیئر ، نوبل امن انعام  (1953ء) یافتہ امریکی جرنیل، سیاست دان اور سفارت کار (21 جنوری 1947ء تا 20 جنوری 1949ء) پچاسویں وزیر خارجہ امریکہ (وفات: 1959ء)

 1898ء فاطمہ ابراہیم بمعروف ام کلثوم ، مصری مغنیہ ، گلوکارہ، اداکارہ ، انہیں کوکب الشرق (مشرق کا ستارہ) اور سیدۃ الغناء العربی (عرب موسیقی کی ملکہ) کہا جاتا ہے۔ بہت سے اعزازات ملے۔ سابق شاہ فاروق اول نے انہیں (ذیشان الکمال) الکمال کا اعزاز دیا۔ مصر کی حکومت نے ان کی آواز میں قرآن حکیم کو بھی ریکاڈ کیا۔ ان کی ایک عادت یہ تھی کہ ہمیشہ ان کے ہاتھ میں ایک رومال ہوتا تھا جسے وہ جوش گلوکاری میں لیر لیر کر دیتی تھیں۔ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گلوکاری کی۔ (وفات: 1975ء)

 1925ء شری لال شکلا، بھارتی ادیب و مصنف (وفات: 2011ء)

 1934ء امیر محمد اکرم اعوان، پاکستانی اسکالر، مصنف، شاعر،  مفسر قرآن اور مذہبی پیشوا ہیں جو تنظیم الاخوان کے امیر تھے (وفات: 2017ء)

1935ء سلمان بن عبد العزیز آل سعود، 23 جنوری 2015ء سے سعودی عرب کے ساتویں بادشاہ اور خادم الحرمین الشریفین اور آل سعود کے سربراہ ہیں۔ (25 فروری 1963ء تا 5 نومبر 2011ء) گورنر صوبہ الرياض اور (18 جون 2012ء تا 23 جنوری 2015ء) نواں ولی عہد نائب وزیر اعظم

 1937ء انتھنی ہوپکنز ، امریکی اداکار

 1937ء اورام ہرشکو ، وبل انعام برائے کیمیا (2004ء) یافتہ ہنگرین نژاد اسرائیلی حیاتی کیمیا دان، ماہر تعلیم، استاد جامعہ، محقق

 1942ء اینڈریو جیمز سومرز بمعروف اینڈی سمرز ، برطانوی گٹار نواز، موسیقار، کمپوزر، فوٹوگرافر 

 1943ء کرشنا پنڈت بھانجی بمعروف بین کنگزلی، انگریز اداکار ، وہ 1998ء میں بنی فلم گاندھی میں موہن داس گاندھی کے کردار کے لیے جانے جاتے ہیں۔

 1951ء انور ظہیر جمالی ، حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے وکیل، قانون دان و منصف، (27 اگست 2008ء تا 2 اگست 2009ء) منصف اعطم عدالت عالیہ سندھ اور (10 ستمبر 2015ء تا 30 دسمبر 2016ء) 24 ویں منصف اعظم پاکستان ، آپ کے آباء و اجداد کا تعلق بھارت کے شہر جے پور سے تھا۔ آپ کا گھرانہ ایک مذہبی گھرانا ہے، جس کا سلسلہ نسب قطب الدین احمد ہنسوی سے جا ملتا ہے۔

1953ء یحییٰ ولد حدمین ، موریتانی سیاست دان اور انجینئر ، (21 اگست 2014ء تا 29 اکتوبر 2018ء) 13ویں وزیر اعظم موریتانیہ

 1953ء جین بیڈلر، امریکی اداکارہ اور گلوکارہ

1954ء سید محمود حسین ، بنگلہ دیشی وکیل و منصف 2 فروری، 2018ء سے بائیسویں منصف اعظم (چیف جسٹس) بنگلہ دیش ہیں۔

1956ء کولیِن جے۔ اسٹین بمعروف گرل ان دی باکس ، امریکی خاتون جسے جنسی زیادتی کے لیے اغوا کیا گیا تھا، اسے ”کیمرون اور جِینَس ہوکر“ نامی میاں بیوی نے اغوا کیا تھا۔ اس میاں بیوی نے اسے اغوا کر کے سات سال تک (1977ء سے 1984ء تک) ریڈ بلف، کیلیفورنیا میں واقع اپنے گھر کے ایک ڈبے میں بند رکھا اور چوبیس گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹے کے لیے اسے باہر نکالا جاتا تھا۔ اغوا کے وقت کولیِن اسٹین کی عمر 20 سال تھی۔ اگست 1984ء میں 7 سالہ اذیت ناک زندگی بسر کرنے کے بعد کیمرون کی بیوی جِینَس ہوکر کی مدد سے وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔ 

 1958ء محمد ایاز سومرو ، سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاست دان اور وکیل ، (یکم جون 2013ء تا 20 مارچ 2018ء) ممبر قومی اسمبلی پاکستان رہے۔ (وفات: 2018ء)

1966ء محمد مشتاق قادری عطاری ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے  قاری، نعت خوان اور مبلغ اسلام (وفات: 05 نومبر 2002ء)

1958ء۔۔ اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کا اصل نام مختار احمد تھا اور وہ 31 دسمبر 1958ءکو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے تھے۔ ان کے والد افسر بہزاد بھی کراچی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ عزم بہزاد کی شاعری کا مجموعہ” تعبیر سے پہلے“کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ عزم بہزاد 4 مارچ 2011ءکو اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کراچی میں وفات پاگئے وہ کراچی میں محمد شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی ہجری تاریخ وفات ”تربت عزم بہزاد مرحوم“ اور عیسوی تاریخ وفات ”تربت خلق مجسم عزم بہزاد“ سے نکلتی ہے۔

 پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سٹیج کے معروف فنکار جمشید انصاری کی تاریخ پیدائش  31دسمبر 1942ءہے۔ جمشید انصاری سہارنپور میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور گریجویشن کرنے کے بعد لندن چلے گئے جہاں انہوں نے بی بی سی میں کام بھی کیا اور ٹیلی پروڈکشن کے کورس بھی مکمل کئے۔ 1968ء میں وہ پاکستان واپس آ گئے جہاں انہوں نے ریڈیو پاکستان میں صداکاری کے جوہر دکھانے شروع کئے۔ وہ ایک طویل عرصہ تک ریڈیو پاکستان کے مشہور سلسلے ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ میں اپنی فنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کی آمد کے بعد انہوں نے پی ٹی وی لاہور مرکز کے ڈرامے جھروکے سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا تاہم انہیں اصل شہرت کراچی مرکز سے ملی جہاں انہوں نے حسینہ معین کے لکھے ہوئے سیریلز کرن کہانی، زیر زبر پیش، انکل عرفی اور تنہائیاں میں یادگار کردار ادا کیے۔ ان کے دیگر مزاحیہ سیریلز میں یس سر نو سر، آشیانہ، خزانہ کا راز، رفتہ رفتہ، برگر فیملی، رات ریت اور ہوا، زہے نصیب، ماہ نیم شب اور چاند بابو کے نام سرفہرست ہیں۔ 24اگست 2005ء کو جمشید انصاری طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے اور وہیں مغل پورہ قبرستان حب میں آسودئہ خاک ہیں۔

 پاکستان کے ممتاز دانشور، کالم نگار، دفاعی تجزیہ نگار اور ادیب کرنل (ر) غلام سرور 31دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ وہ انگریزی، اردو اور علوم اسلامی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاک فوج کی ایجوکیشن کور سے وابستگی اختیار کی۔ کرنل (ر) غلام سرور کی تصانیف میں تقدیر امم، مسافر حرم، پطرس ایک مطالعہ، مطالعہ اسلامیات اور ان کی خود نوشت سوانح ’’آئینہ ایام‘‘ کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1982ء میں ستارئہ امتیاز (ملٹری) کے تمغے سے سرفراز کیا۔ کرنل (ر) غلام سرور 21دسمبر 2009ء کو لاہور میں وفات پا گئے

 
وفات :

 1384ء جان وائی کلف، ابتدائی مصلح اور عام انگریزی میں بائبل کا ترجمہ کرنے والا پہلا شخص ، مسیحی پادری، جو جامعہ آکسفرڈ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتا تھا۔ پوپ کے خلاف آواز اٹھائی، اس نے کہا کہ "جو پادری خود گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ لوگوں کو مذہبی تعلیم دیں"۔ اس کی پاداش میں کئی بار اسے نظر بند کیا گیا، مرنے کے بعد سزا دی سنائی گئی کہ اس کی نعش نکال کر اسے آگ لگائی جائے۔ جان وائی کلف سے سب سے زیادہ متاثر جامعہ پریگ کا معلم دینیات جان ہس تھا۔ اس نے جان وکلف کی تعلیم اور پیغام کی خوب اشاعت کی، جس کی وجہ سے اسے زندہ جلا دیا گیا۔ (پیدائش: 1331ء)

 1914ء خواجہ الطاف حسین حالی، ہندوستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر و نقاد (پیدائش: 1837ء)

1975ء۔۔سردار بہادر۔ خان۔پاکستانی سیاست دان۔ موضع ریحانہ ضلع ہزارہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ 1936ء میں سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1943ء-46ء سرحد اسمبلی کے رکن رہے۔ 1948ء میں پاکستان کے وزیرموصلات مقررہوئے۔ 1955ء میں سرحد کے وزیر اعلیٰ اور 1962ء میں قومی اسمبلی کے رکن چنے گئے۔ کچھ عرصہ اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت کی۔ 1968ء میں سیاست سے کنارہ کش ہو گئے

 1997ء بلی ڈو، امریکی اداکارہ (پیدائش: 1903ء)

 1999ء ابو الحسن علی حسنی ندوی بمعروف علی میاں ، بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے خدمات اسلام  (1980ء) یافتہ بھارت سے تعلق رکھنے والے عالم دین، مشہور کتاب " انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" کے مصنف نیز متعدد زبانوں میں پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ (پیدائش: 1914ء)

 2004ء گیرارڈ ڈیبریو، نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1983ء) یافتہ فرانسیسی ماہر اقتصادیات ، ریاضی دان و استاد جامعہ (پیدائش: 1921ء)

تعطیلات و تہوار :

 کرسمس کا ساتواں دن (مغربی مسیحیت)

 1984ء برونئی نے برطانوی تسلط سے مکمل آزادی حاصل کی۔

No comments:

Post a Comment

Welcome

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن

تیرے کاغذاں وچ میں کملا سہی  تیرے سجنڑ سیانڑے ھوسن میں ویکھساں اوکھیاں بنڑیاں وچ  تیرے مونڈھیاں نال کھلوسن توں فکر نہ کر تیرے لگدیاں وچ  تیر...