1733ء امریکہ کے شہر بوسٹن میں پہلی بار برفانی ریچھ نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔
1778ء برطانوی مہم جو ُ کیپٹن کک نے جزیرہ ہوائی کا سراغ لگایا۔
1896ء امریکہ میں پہلی بار ایکس رے مشین نمائش کے لئے پیش کی گئی۔
1915ء میکسیکو کے کولما۔گوئیڈل زارا میں ہوئے ٹرین حادثہ میں 600 لوگوں کی موت ہو گئی۔
1919ء جنگ عظیم اول: پیرس امن کانفرنس کا آغاز ہوا۔
1930ء رویندر ناتھ ٹیگور گاندھی کے سابرمتی آشرم پہنچے۔
1938ء انڈومان جزیرہ کے پورٹ بلیئر سے سیاسی قیدیوں کا آخری دستہ روانہ ہوا۔
1951ء جھوٹ پکڑنے والی مشین پہلی مرتبہ ہالینڈ میں استعمال میں لائی گئی۔
1960ء امریکہ اور جاپان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔
1962ء امریکہ نے نیواڈا میں نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1967ء امریکہ نے نیواڈا میں ایٹمی تجربہ کیا۔
1967ء شیخ مجیب الرحمان کو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ سازش بعد ازاں "اگرتلا سازش" کے نام سے مشہور ہوئی۔
1968ء سابق سوویت یونین نے نیوکلیائی تجربہ کیا۔
1974ء اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پایا۔
1969ء خلائی طیارہ سویوز ۔5 زمین پر واپس آیا۔
1986ء چوبیسویں خلائی شٹل کولمبیا۔7 زمین پر واپس آئی۔
1988ء جنوب مغربی چین میں طیارہ حادثہ میں 108 لوگوں کی موت ہو گئی۔
1990ء جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی فاروق عبداللہ نے عہدہ چھوڑا۔
1991ء عراق نے اسرائیل پر اسکڈ میزائل داغے۔
1991ء۔۔انٹارکٹیکا میں جناح اسٹیشن کا قیام۔ انٹارکٹیکا دنیا کا پانچواں بڑا براعظم ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین براعظم ہے اور یہاں آبادی کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ اس براعظم میں صرف سائنسی تحقیق ہی کی جاتی ہے۔ پاکستان اس سائنسی تحقیق میں اس وقت شامل ہوا جب پاکستانی سائنسدانوں نے 18 جنوری 1991ء کو یہاں ’’جناح انٹارکٹک ریسرچ اسٹیشن‘‘ قائم کیا۔ انٹارکٹیکا پر سائنسی تجربات اور ریسرچ اسٹیشن قائم کرنے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں اور مہم جوئوں کی ٹیم 12 دسمبر 1990ء کو کراچی سے کولمبیا لینڈ نامی جہاز میں روانہ ہوئی تھی۔ اس ٹیم میں 40 افراد شامل تھے اور یہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی، پاکستان بریہ اور پاکستان بحریہ کی مشترکہ مہم تھی۔ مہم کی قیادت کموڈور وسیم احمد کے ذمہ تھی جن کا تعلق پاکستان بحریہ سے تھا جبکہ مہم کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر ایم ایم ربانی تھے جو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنوگرافی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ 25 جنوری 1991ء کی تاریخ تھی اور جمعہ کا مبارک دن تھا۔ جب قرآن پاک کی تلاوت کے بعد انٹارکٹیکا کی سرزمین پر پاکستان کے قومی ترانے کے ساتھ پاکستان کا قومی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق دن کے ساڑھے گیارہ بجے ٹیم کے قائد کموڈور وسیم احمد نے جناح انٹارکٹک ریسرچ اسٹیشن قائم کرکے اس کی چابیاں مہم کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر ایم ایم ربانی کے سپرد کردیں۔ جناح انٹارکٹک ریسرچ اسٹیشن کے قیام سے پاکستانی سائنسدانوں کے لئے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ سارا سال مختلف موسمیاتی کیفیات مثلاً ہوا کی رفتار، ہوا کا رخ، درجۂ حرارت، نمی کا تناسب، سورج کی روشنی، بارش اور برساتی پانی کے نکاس وغیرہ کا مسلسل مشاہدہ کرسکیں اور یوں انٹارکٹیکا کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرسکیں۔
18جنوری 2012ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے وفاقی کابینہ کے سو ویں اجلاس کے انعقادکے موقع پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی تصویر شائع کی گئی تھی اورانگریزی میں DECEMBER 25, 2011 اورTHE 100th MEETING OF FEDERAL CABINET OF PAKISTAN کے الفاظ تحریر تھے۔ یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھا۔
18جنوری 2005ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے عظیم اہل قلم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا ایک ڈاک ٹکٹ سعادت حسن منٹو کی یاد میں جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر سعادت حسن منٹو کا ایک خوب صورت پورٹریٹ بنا تھا۔ پانچ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ رضا احمدنے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں MEN OF LETTERS اور SAADAT HASAN MANTO 1912 1955 کے الفاظ تحریر تھے۔۔
1995ء پاپ جان پال دوئم نے آسٹریلیا کا سفر شروع کیا۔
1999ء نوبل انعام یافتہ پروفیسر امریتہ سین کو بھارت رتن ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔
2005ء اقوام متحدہ کے زیر انتظام قدرتی آفات سے بچاؤ کی عالمی کانفرنس جاپان میں منعقد ہوئی۔
2016ء۔۔پشاور میں حیات آباد فلائی اوور کا افتتاح عمران خان کے ہاتھوں ہوا۔
2017ء۔۔عدالت میں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے بیان پہ آئینی استثنیٰ مانگ لیا۔
ولادت
1842ء مہادیو گووند راناڈے، ہندو دانشور
وفات
1947ء کندن لال سہگل، کلاسیکل گلوکار بمقام جالندھر
1953ء صفیہ اختر، 'زیر لب' اور 'حرف آشنا' کی مصنفہ اور معروف ترقی پسند شاعر جاں نثار اختر کی اہلیہ
1955ء سعادت حسن منٹو، اردو کے شہرۂ آفاق افسانہ نگار .سعادت حسن منٹو اردو کے بہت بڑے افسانہ نگار ہیں۔ منٹو 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی پھر کچھ عرصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزارا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے اور واپس امرتسر آگئے۔ ابتداء میں انہوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے بعض نہایت کامیاب ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہوگئے جہاں متعدد فلمی رسالوں کی ادارت کی اس دوران متعدد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کئے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔ منٹو کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے جنس کو موضوع بنایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی جنگ آزادی سیاست، انگریزوں کے ظلم وستم اور فسادات کو افسانوں کے قالب میں ڈھال دیا۔انہوں نے بیس برس کی ادبی زندگی مین دو سو سے زیادہ کہانیاں تحریر کیں ان کی حقیقت پسندی، صداقت پروری، جرأت و بے باکی اردو ادب میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔ انہوں نے 18 جنوری 1955ء کو جگر کی بیماری میں لاہور میں وفات پائی۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
1993ء۔۔واصف علی واصف۔واصف علی واصف 15 جنوری 1929ء کو شاہ پورخوشاب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد ملک محمد عارف کا تعلق وہاں کے قدیم اور معزز اعوان قبیلے کی ایک ممتاز شاخ ”کنڈان “سے تھا۔1948ء میں آپ کو ایم اے او کالج لاہورکی ”مجلسِ اقبال“ کے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیااور ایک محفل وہاں بھی جمی۔ چیدہ چیدہ اہلِ علم اور اہلِ قلم اصحاب نے آپ سے مختلف سوالات کیے۔ اس کی روداد روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوئی تو قارئین کی اکثریت نے اصرار کیا کہ واصف صاحب کی تحریر کا کوئی باقاعدہ سلسلہ ہونا چاہیے۔ تب آپ نے نوائے وقت کے لیے کالم لکھنا شروع کیا۔ پہلا کالم ”محبت“ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ندرتِ کلام اور تاثیر کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے دھڑا دھڑ آپ سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور اپنے دینی‘ دنیاوی اور روحانی مسائل کے حل کے لیے آپ کو مستجاب پایا۔واصف علی واصف کا ایک فرمان ہے کہ ”عظیم لوگ بھی مرتے ہیں مگر موت ان کی عظمت میں اضافہ کرتی ہے“ یوں تو آپ نے 18 جنوری 1993ءبمطابق 24 رجب 1415ھ کی سہ پہر کو اس دارِ فانی سے آنکھیں موندھ لی تھیں۔
٭18 جنوری 2002ء کو ٹیلی وژن اور اسٹیج کی معروف فنکارہ یاسمین اسماعیل کراچی میں وفات پاگئیں۔ یاسمین اسماعیل 1949ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا، جن میں انا، راشد منہاس، تنہائیاں اور تپش کے نام سرفہرست تھے۔ وہ اسٹیج کی ایک اچھی ہدایت کارہ بھی تھیں۔ انہوں نے بہت سے غیر ملکی زبانوں کے ڈرامے اردو میں منتقل کرکے اسٹیج پر پیش کئے تھے۔ یاسمین اسماعیل کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
1978ء محمد حسن عسکری، معلم، نقاد، افسانہ نگار اور مترجم ٭18 جنوری 1978ء کو اردو کے نامور نقاد محمد حسن عسکری نے کراچی میں وفات پائی۔ محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ہی انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس یونیورسٹی میں انہوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا اور بعدازاں خود بھی تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ محمد حسن عسکری نے بطور ادیب اپنے کیریئر کا آغاز ماہنامہ ساقی دہلی سے کیا تھا۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی عسکری صاحب کی پہلی تحریر انگریزی سے ایک ترجمہ تھا جو نومبر 1939ء میں شائع ہوا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’محبوبہ ٔ آمون را‘‘ اس کے بعد 1941ء اور 1942ء میں بالترتیب کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شائع ہوئے۔ 1943ء میں فراق گورکھپوری نے ساقی میں ’’باتیں‘‘ کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کیا۔ جب فراق صاحب اس کالم سے دست کش ہوگئے تو دسمبر 1943ء سے یہ کالم عسکری صاحب لکھنے لگے، جنوری 1944ء میں اس کالم کا عنوان جھلکیاں رکھ دیا گیا۔ یہ کالم 1947ء کے فسادات کے تعطل کے علاوہ کم و بیش پابندی سے نومبر 1957ء تک چھپتا رہا۔ قیام پاکستان کے بعد عسکری صاحب نے کچھ عرصہ لاہور میں گزارا۔ پھر وہ کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے ایک مقامی کالج میں انگریزی ادب کے شعبہ سے وابستگی اختیار کی اور اپنی وفات تک اسی شعبے سے وابستہ رہے۔ عسکری صاحب اردو کے ایک اہم افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شائع ہوا۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ ان کی زندگی میں اور ’’جھلکیاں‘‘ ، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ فرانسیسی ادب سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے جس کا ثبوت ان تراجم سے ملتا ہے جو انہوں نے بوولیئر اور ازستاں دال کے ناولوں ’’مادام بواری‘‘ اور ’’سرخ وسیاہ‘‘ کے نام سے کئے ہیں۔ آخری دنوں میں عسکری صاحب مفتی محمد شفیع کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ کررہے تھے جن میں سے ایک جلد ہی مکمل ہوسکی۔ محمد حسن عسکری کراچی میں دارالعلوم کورنگی میں آسودۂ خاک ہیں۔
1978ء بھیم سین سچر، بھارتی پنجاب کے وزیراعلٰی
1996ء این ٹی راما راؤ، آندھرا پردیش کے وزیراعلٰی
2003ء ہری ونش رائے بچن، ہندی شاعر اور بالی وڈ اداکار امیتابھ کے والد
2010ء غلام ربانی آگرو سندھی اور اردو کے ادیب، افسانہ نگار، محقق، بمقام حیدرآباد
18 جنوری 1997۔۔یوم شہادت مولانا ضیاء الرحمن فاروقی ۔آپ کی پیدائش4 مارچ 1953ء خانیوال کی بستی سراجیہ اپنے ننھیاں میں ہوئی۔.آپ کے والد کا نام مولانا محمد علی جانباز تھا جو تحریک تحفظ ختم نبوت کے سرگرم رہنما تھے.آپ کی ولادت کے وقت بھی وہ اسی تحریک سرگرم تھی اور آپ کے والد اسی سلسلے میں سکھر کی مرکزی جیل میں پابند سلاسل تھے۔مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے ابتدائ تعلیم 1958ء میں شروع کی: 1963ء میں پرائمری اول پوزیشن میں پاس کی : 1967ء میں جامعہ رشیدیہ سے حفظ مکمل کیا : 1968ء میں درسی نظام کا آغاز کیا اور 1975ء میں جامعہ خیر المدارس ملتان سے دورہ حدیث مکمل کیا : عصری تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے 1986ء میں بی اے تک حاصل کی :آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جمیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا.1970 کے عام انتخابات میں مفتی محمود کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہے.مفتی محمود کے وزیر اعلی بنے کے بعد آپ نے تین ماہ تک ان کے ساتھ کام کیا.اس کے بعد آپ جمیعت کے صوبائی قائد مقرر ہوئے۔جب کہ دوران طالب علمی جمعیت طلباء اسلام کے پنجاب کے سئینر نائب صدر رہے۔ 1978ء میں جمیعت کی ﺫمہ داریوں سے سبکدوش ہوکر امیر عزیمت کے ساتھ مل کر کاروان اھلسنت بنائی ۔10 فروری 1986ء کو آل پاکستان دفاع صحابہ کانفرنس میں باقاعدہ ناموس صحابہ کے تحفظ کی تحریک سپاہ صحابہ میں شامل ہوۓ:مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی شھادت 22 فروری 1990ء کے بعد سپاہ صحابہ کے سرپرست اعلی بنے اور تا دم شھادت اسی عھدے پر رہے :مولانا ضیاء الرحمن کل 12 مرتبہ گرفتار ہوئے۔پہلی گرفتاری 1973ء میں اس وقت ہوئ جب آپ کی عمر 20 سال تھی: بھٹو کے غیر اسلامی اقدامات کے خلاف تقریر کرنے کے جرم میں ﮈسٹرکٹ جیل ملتان 15 دن تک قید رکھا اس وقت آپ باب العلوم میں طالب علم تھے اور آخری گرفتاری 20 نومبر 1995ء کو ملتان جیل میں ہوئ جو 18 جنوری 1997ء تک مولانا محمد اعظم طارق شہید کے ہمراہ قیدوبند میں گزاری:
آپ کی تمنا تھی کہ ایک اعلی میعار کی جامعہ قائم کی جائے جس کا مقصد ایسے عالم دین تیار کرنا ہوجو دنیا بھر کی غیر مسلم اقوام تک اسلام کا پیغام ان ہی کی زبانوں میں پہنچا سکیں۔ اس ضمن میں آپ نے جامعہ عمر فاروق اسلامیہ کو مزید توسیع دے کرعمر فاروق اسلامی یونیورسٹی قائم کرنے کا اراہ کیا۔ اس مجوزہ درسگاہ کے لئےآپ نے فیصل آباد روڈ پر 42 کنال جگہ بھی حاصل کرلی تھی مگر 20 نومبر 1995 کو آپ کو ایک مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ جس کے باعث یہ عظیم الشان منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا
8 رمضان المبارک 1417ھ بمطابق 18 جنوری 1997 کو بارہ بجے سیشن کورٹ لاہور عدالت کے باہر کھڑی موٹر سائیکل میں نصب بم دھماکہ ہوا آپ اور مولانا اعظم طارق عدالت پیشی کےلئے آرہے تھے کہ اس دھماکے میں مولانا ضیاء الرحمن فاروقی سمیت 33 افراد شہید ہوگئے جب کہ 60 کے قریب زخمی تھے جن میں مولانا اعظم طارق بھی شامل تھے۔
آپ کے پسماندگان میں بھائیوں میں
مولانا عطاء الرحمن :
شہباز فاروقی :
حاجی شفاء الرحمن :
حاجی محمد طیب :
انجینئر طاہر محمود :
حاجی محمد عابد : اور چھوٹی بہن اور
آپ کے چار بیٹے :
ریحان محمود:
عثمان فاروق:
نعمان ضیاء:
سلمان : اور تین بیٹیاں ایک بیوہ اور ہزاروں عاشقان صحابہ شامل ہیں
آپ کا جنازہ پہلے شھداء مسجد لاہور میں مفتی محمد عیسی صاحب کی امامت میں ادا کیا اور پھر سمندری میں تبلیغی جماعت کے رہنماء مفتی زین العابدین صاحب نے پڑھائ اور جھنگ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائ اور جامعہ محمودیہ میں مولانا حق نواز اور ایثار القاسمی شہید کے پہلو میں دفن کیا گیا .
تعطیلات و تہوار
1993ء حقوق انسانی کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ کی یاد میں امریکہ کی تمام ریاستوں میں پہلی بار دن منایا گیا۔
1912 : البانيہ نے ترکی سے آزادی کا اعلان کيا
1956 : مراکش کا يوم آزادی
No comments:
Post a Comment